۔ (۱۲۳۴۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَلَمَۃَیَقُولُ: رَأَیْتُ عَمَّارًا یَوْمَ صِفِّینَ شَیْخًا کَبِیرًا آدَمَ طُوَالًا آخِذًا الْحَرْبَۃَ بِیَدِہِ وَیَدُہُ تَرْعَدُ، فَقَالَ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَقَدْ قَاتَلْتُ بِہٰذِہِ الرَّایَۃِ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَہٰذِہِ الرَّابِعَۃُ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ ضَرَبُونَا حَتّٰییَبْلُغُوا بِنَا شَعَفَاتِ ہَجَرَ، لَعَرَفْتُ أَنَّ مُصْلِحِینَا عَلَی الْحَقِّ، وَأَنَّہُمْ عَلَی الضَّلَالَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۹۰)
عبداللہ بن سلمہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے: میںنے جنگ صفین کے روز سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے، ان کا رنگ گندمی اور قد طویل تھا، وہ اپنے ہاتھ میں نیزہ تھامے ہوئے تھے اور ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس جھنڈے کے ساتھ ہیں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تین جنگیں لڑچکا ہوـں، آج چوتھی جنگ ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگر یہ لوگ ہمیںمار مار کر ہجر کے پہاڑوں کی طرف مار بھگائیں، تب بھی میں جانتا ہوں کہ ہماری اصلاح کرنے والے حق پر اور دوسرے گمراہی کی راہ پر ہیں۔
Takhreej
(۱۲۳۴۳) تخریج: ھذا الاثر اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن سلمۃ المراد الکوفی قد اختلط وسماع عمرو بن مرۃ منہ بعد اختلاطہ، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۲۸۹، وابویعلی: ۱۶۱۰، وابن حبان: ۷۰۸۰ (انظر: ۱۸۸۸۴)
12343
Zaeef