TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا

Chapter 70 of خلافت و امارت کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 70 of 113 · 7 Hadith
۔ (۱۲۳۴۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَلَمَۃَیَقُولُ: رَأَیْتُ عَمَّارًا یَوْمَ صِفِّینَ شَیْخًا کَبِیرًا آدَمَ طُوَالًا آخِذًا الْحَرْبَۃَ بِیَدِہِ وَیَدُہُ تَرْعَدُ، فَقَالَ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَقَدْ قَاتَلْتُ بِہٰذِہِ الرَّایَۃِ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَہٰذِہِ الرَّابِعَۃُ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ ضَرَبُونَا حَتّٰییَبْلُغُوا بِنَا شَعَفَاتِ ہَجَرَ، لَعَرَفْتُ أَنَّ مُصْلِحِینَا عَلَی الْحَقِّ، وَأَنَّہُمْ عَلَی الضَّلَالَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۹۰)
عبداللہ بن سلمہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے: میںنے جنگ صفین کے روز سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے، ان کا رنگ گندمی اور قد طویل تھا، وہ اپنے ہاتھ میں نیزہ تھامے ہوئے تھے اور ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس جھنڈے کے ساتھ ہیں رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں تین جنگیں لڑچکا ہوـں، آج چوتھی جنگ ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگر یہ لوگ ہمیںمار مار کر ہجر کے پہاڑوں کی طرف مار بھگائیں، تب بھی میں جانتا ہوں کہ ہماری اصلاح کرنے والے حق پر اور دوسرے گمراہی کی راہ پر ہیں۔
Takhreej
(۱۲۳۴۳) تخریج: ھذا الاثر اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن سلمۃ المراد الکوفی قد اختلط وسماع عمرو بن مرۃ منہ بعد اختلاطہ، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۲۸۹، وابویعلی: ۱۶۱۰، وابن حبان: ۷۰۸۰ (انظر: ۱۸۸۸۴)
12343
Zaeef
۔ (۱۲۳۴۴)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: مَا زَالَ جَدِّی (یَعْنِیْ خُزَیْمَۃَ بْنَ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) کَافًّا سِلَاحَہُ یَوْمَ الْجَمَلِ حَتّٰی قُتِلَ عَمَّارٌ بِصِفِّینَ، فَسَلَّ سَیْفَہُ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۱۷)
محمد بن عمارہ کہتے ہیں: میرا دادا سیدنا خزیمہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جنگ جمل کے دن اپنا اسلحہ روکے رکھا، یہاں تک کہ جب صفین میں سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہوگئے، تو انہوںنے اپنی تلوار نکالی اور شہید ہونے تک لڑتے رہے، انہوں نے وجہ یہ بیان کی تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک باغی گروہ عمار کوقتل کرے گا۔
Takhreej
(۱۲۳۴۴) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، ابو معشر نجیح بن عبد الرحمن السندی ضعیف، ومحمد بن عمارۃ من رجال التعجیل ، وھو لم یشھد القصۃ، فحدیثنہ ھذا منقطع، اخرجہ الحاکم: ۳/ ۳۹۷، والطبرانی: ۲۷۱۱،وابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۳۰۲ (انظر: ۲۱۸۷۳)
12344
Sahih
۔ (۱۲۳۴۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَیْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُیَدْعُوہُمْ إِلَی الْجَنَّۃِ وَیَدْعُونَہُ إِلَی النَّارِِ۔)) قَالَ: فَجَعَلَ عَمَّارٌ یَقُولُ: أَعُوذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنَ الْفِتَنِ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۸۳)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: افسوس کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، یہ ان کو جنت کی طرف بلائے گا، لیکن وہ اس کو جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ یہ سن کر سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے:میں فتنوں سے رحمان کی پناہ چاہتا ہوں۔
Takhreej
(۱۲۳۴۵) تخریج: اخرجہ البخاری: ۴۴۷، ۲۸۱۲(انظر: ۱۱۸۶۱)
Explanation
فوائد:… جنگ صفین، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مابین ہوئی تھی، اگرچہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ برحق تھے، لیکن سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تابعین کے علاوہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت بھی موجود تھی، تو ان کے حق میں اس ارشادِ نبوی کا کیا مفہوم ہو گا کہ وہ جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے؟ حافظ ابن حجر نے کہا: جواب یہ ہے کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کا گمان یہ تھا کہ وہ جنت کی طرف بلا رہے ہیں، جبکہ وہ مجتہد تھے اور اپنے ظن پر عمل کر رہے تھے، اس لیے ان پر ملامت نہیں کی جا سکتی، مراد یہ ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ اپنے مخالفین کو جنت کے سبب یعنی خلیفہ کی اطاعت کی طرف بلا رہا تھا، جبکہ خلیفہ کی اتباع واجب تھی اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ اپنے مخالفین کو اس کے برعکس یعنی خلیفہ کی بغاوت کی طرف بلا رہے تھے، لیکن ان کو ان کی تاویل کی روشنی میں معذور سمجھا جائے گا۔ (فتح الباری: ۱/ ۵۴۲) آسان لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بغاوت ایک جرم ہے اور ہر جرم جہنم کا سبب ہے، لیکن اگر بغاوت کرنے والا کسی اجتہاد اور تاویل کی روشنی میں اپنی بغاوت کو درست سمجھ رہا ہو تو وہ معذور ہو گا اور اس کے بارے میں صرف یہ کہا جائے گا کہ اس سے خطا ہو گئی ہے۔
12345
Sahih
۔ (۱۲۳۴۶)۔ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ: قَالَ عَمَّارٌ یَوْمَ صِفِّینَ: ائْتُونِی بِشَرْبَۃِ لَبَنٍ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((آخِرُ شَرْبَۃٍ تَشْرَبُہَا مِنَ الدُّنْیَا شَرْبَۃُ لَبَنٍ۔)) فَأُتِیَ بِشَرْبَۃِ لَبَنٍ فَشَرِبَہَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقُتِلَ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۸۶)
ابو بختری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صفین کے روز سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے پاس پینے کے لیے دودھ لاؤ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دنیا کا جو مشروب آخر میں پیو گے، وہ دودھ ہو گا۔ پس ان کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا، انہوں نے وہ پی لیا، اس کے بعد وہ میدان کی طرف بڑھ گئے اور شہید ہوئے۔
Takhreej
(۱۲۳۴۶) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/۳۰۲، والحاکم: ۳/ ۳۸۹، والبیھقی فی الدلائل : ۲/ ۵۵۲، وابویعلی: ۱۶۲۶ (انظر: ۱۸۸۸۰)
12346
Sahih
۔ (۱۲۳۴۷)۔ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ۔)) فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَزِعًا یُرَجِّعُ حَتَّی دَخَلَ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ: مَا شَأْنُکَ؟ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ فَمَاذَا؟ قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ۔)) فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ: دُحِضْتَ فِی بَوْلِکَ أَوَ نَحْنُ قَتَلْنَاہُ؟ إِنَّمَا قَتَلَہُ عَلِیٌّ وَأَصْحَابُہُ، جَائُ وْا بِہِ حَتّٰی أَلْقَوْہُ بَیْنَ رِمَاحِنَا أَوْ قَالَ بَیْنَ سُیُوفِنَا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۳۱)
محمد بن عمروبن حزم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہوئے تو سیدنا عمر و بن حزم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتلایاکہ سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہوگئے ہیں، جبکہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھاکہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمروبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گھبرا گئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہوئے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچ گئے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی حالت دیکھ کر پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہوگئے ہیں، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: عمار قتل ہوگئے تو پھر کیا ہوا؟ سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوفرماتے سنا ہے کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: تم اپنے پیشاب میں پھسلو، کیا ہم نے اس کو قتل کیاہے؟ اسے تو علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھیوں نے مروایا ہے، وہ لوگ انہیں لے آئے اور لا کر ہمارے نیزوں یا تلواروں کے درمیان لا کھڑا کیا۔
Takhreej
(۱۲۳۴۷) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ عبد الرزاق: ۲۰۴۲۷، والحاکم: ۲/ ۱۵۵ وابویعلی: ۷۱۷۵ (انظر: ۱۷۷۷۸)
12347
Sahih
۔ (۱۲۳۴۸)۔ عَنْ أَبِی غَادِیَۃَ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ قَاتِلَہُ وَسَالِبَہُ فِی النَّارِ۔)) فَقِیلَ لِعَمْرٍو: فَإِنَّکَ ہُوَ ذَا تُقَاتِلُہُ، قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: ((قَاتِلَہُ وَسَالِبَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۲۹)
ابو غادیہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہو گئے اور لوگوں نے سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس کی اطلاع دی تو انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو قتل کرنے والا اور ان کے قتل کے بعد ان کے سامان کو قبضہ میں لینے والا جہنم میں جائے گا۔ کسی نے سیدنا عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تم خود بھی تو ان ہی سے لڑ رہے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا کہ رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے قاتل اور ان کا مال قبضہ میں کر لینے والے کے حق میں یہ فرمایا ہے۔
Takhreej
(۱۲۳۴۸) تخریج: اسنادہ قویّ، اخرجہ الحاکم: ۳/ ۳۷۸ (انظر: ۱۷۷۷۶)
12348
Sahih
۔ (۱۲۳۴۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ زِیَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: إِنِّی لَأَسِیرُ مَعَ مُعَاوِیَۃَ فِی مُنْصَرَفِہِ مِنْ صِفِّینَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: یَا أَبَتِ! مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ لِعَمَّارٍ: ((وَیْحَکَیَا ابْنَ سُمَیَّۃَ، تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ؟)) قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو لِمُعَاوِیَۃَ: أَلَا تَسْمَعُ مَا یَقُولُ ہٰذَا؟ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: لَا تَزَالُ تَأْتِینَا بِہَنَۃٍ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاہُ إِنَّمَا قَتَلَہُ الَّذِینَ جَائُ وْا بِہِ۔ (مسند احمد: ۶۴۹۹)
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: جنگ صفین سے واپسی پر میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے درمیان چلا آرہا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابا جان! کیا آپ نے سنا نہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا تھا کہ اے ابن سمیہ! افسوس ایک باغی گروہ تجھے قتل کرے گا۔ سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ سن رہے ہیں کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ ہمیشہ باعث ِ تکلیف بات ہی کرتے ہیں؟ کیا ہم نے اس کو قتل کیا ہے؟ اسے تو ان لوگوں نے قتل کیاہے، جو اسے میدان کارزار میں لے کر آئے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۳۴۹) تخریج: اسنادہ صحییح، اخرجہ النسائی فی خصائص علی : ۱۶۸، والطبرانی فی الکبیر :۱۹/ ۷۵۹، والبزار: ۳۲۸۱ (انظر: ۶۴۹۹)
Explanation
ہے کہ سلف صالحین نے عقائد کے موضوع پر لکھی گئی کتب میں بھی اس حقیقت کو واضح کیا ہے، گویا کہ صحابہ کرام کی عدالت و صداقت کو تسلیم کرنا ہمارے عقیدے کا مسئلہ ہے۔ اس مقام پر بطور مثال صرف عقائد کی دو کتب کا حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ قال ابن الصلاح والنووی: الصحابۃ کلھم عدول وکان للنبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مائۃ الف و اربعۃ عشر الف صحابی عند موتہ والقرآن والاخبار مصرحان بعدالتھم وجلالتھم ولما جری بینھم محامل لا یحتمل ذکرھا ھذا الکتاب۔ (الصوائق المحرقۃ، ابن الحجر الھیثمی: ۲/ ۶۴۰) یعنی: حافظ ابن صلاح اور امام نووی نے کہا: تمام کے تمام صحابہ عادل ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے وقت ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ موجود تھے، قرآن اور روایات ان کی عدالت اور جلالت کی وضاحت کر رہے ہیں اور جو کچھ ان میں واقع ہوا، اس کے کئی احتمالات ہیں، اس کتاب میں ان کو ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ قال ابن حجر: اتفق اھل السنۃ علی ان جمیع الصحابۃ عدول ولم یخالف فی ذالک الا شذوذ من المبتدعۃ۔ (رؤیۃ النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لربہ، محمد بن خلیفۃ التمیمی: ۱/ ۳۵۶) حافظ ابن حجر نے کہا: اہل سنت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں اور اس میں چند بدعتیوں کے علاوہ کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ یہ حقیقت بھی قابل قبول ہے کہ معصومیت صرف انبیاء و رسل کی صفت ہے، لیکن اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ عام امت کی بہ نسبت صحابہ کرام کی نیکی کا معیار اور خطا پر گرفت کا انداز کچھ اور ہے، ہم صرف دو مثالیں دینے پر اکتفا کریں گے۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ: بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَیْرِ عَنْ عَرِیْفِ الْأَنْصَارِ شَیْئٌ، فَھَمَّ بِہٖ فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، فَقَالَ لَہٗ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِسْتَوْصُوْا بِالْأَنْصَارِ خَیْرًا۔ أَوْ قَالَ: مَعْرُوْفًا۔ اِقْبَلُوْا مِنْ مُّحْسِنِھِمْ وَتَجَاوَزُوْا عَنْ مُسِیْئِھِمْ۔)) فَأَلْقٰی مُصْعَبٌ نَفْسَہٗ عَنْ سَرِیْرِہٖ، وَأَلْزَقَ خَدَّہٗ بِالْبِسَاطِ، وَقَالَ: أَمْرُ رَسُوْل ِاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الرَّأْسِ وَالْعَیْنِ، فَتَرَکَہٗ۔ (مسند أحمد: ۳/۲۴۱) علی بن زید کہتے ہیں کہ انصار کے سردار کی طرف سے مصعب بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کوئی (قابل اعتراض) بات پہنچی‘ انھوں نے اسے برا بھلا کہنے کا ارادہ کیا‘ اتنے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگئے اور اسے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا کہ: انصار صحابہ کے ساتھ خیرو بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو‘ ان میں سے نیکی کرنے والے سے حسنِ سلوک کرو اور غلطی کرنے والے سے درگزر کرو۔ (یہ سن کر) سیدنا مصعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنے رخسار کو زمین پر رکھ دیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد سر آنکھوں پر۔ پھر انصاری کو چھوڑ دیا۔ اس حدیث میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کے بارے میں بالعموم اور انصار کے بارے میں بالخصوص ایک قاعدہ کلیہ پیش کر دیا کہ ان کے نیکوکار افراد سے حسنِ سلوک اور احترام و اکرام والا معاملہ کیا جائے اور اگر کسی میں بتقاضۂ بشریت کوئی عیب نظر آئے تو اس کو موضوعِ بحث ہی نہ بنایا جائے اور اس کے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر کے خاموشی اختیار کی جائے‘ ظن غالب یہ ہے کہ ان کی حسنات و خیرات کے سمندر ان کی بشری لغزشوں کے قطروں پر غالب آ جائیں گے۔ سیدنا مصعب بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی احادیث کے سامنے عاجزی و انکساری کا انداز دیکھیں‘ ممکن ہے کہ انہی جذبات کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے دین کو سہارا دینے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دست و بازو بننے کے لئے ان نفوسِ قدسیہ کا انتخاب کیا اور ان کی عیب جوئی کرنے سے منع کر دیا۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَسُبُّوْا اَحَدًا مِنْ اَصْحَابِیْ، فَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَوْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحَدٍ ذَھَبًا، مَا اَدْرَکَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہُ۔)) (صحیح بخاری: ۳۶۷۳، صحیح مسلم: ۲۵۴۰) سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ میں سے کسی کو برا بھلا مت کہو، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ اُن کے خرچ کیے ہوئے ایک مد یا نصف مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ ایک مُدّ کا وزن 525گرام ہوتا ہے، نصف مد کا وزن 262گرام ہوا۔ یہ صحابہ کرام کی نیکیوں کا معیار ہے کہ احد پہاڑ کے برابر کا سونا ان کی صدقہ کی ہوئی گندم، کھجور اور جو کی اس معمولی مقدار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: کَانَ بَیْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ وَبَیْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ کَلَامٌ، قَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ : تَسْتَطِیْلُوْنَ عَلَیْنَا بِاَیَّامٍ سَبَقْتُمُوْنَا بِھَا؟ فَبَلَغَنَاأَنَّ ذٰلِکَ ذُکِرَ لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((دَعُوْا لِيْ أَصْحَابِيْ، فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ اُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَھَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۳/ ۲۶۶) سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے درمیان کچھ بحث تھی، خالد نے عبد الرحمن سے کہا: اگر تم ہم سے پہلے ایمان لے آئے ہو تو اس کی وجہ سے تم ہم پر زبان درازی کیوں کرتے ہو؟ جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری خاطر میرے صحابہ کو چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد پہاڑ یا پہاڑوں کے بقدر سونا بھی (فی سبیل اللہ) خرچ کر دو تو پھر بھی ان کے اعمال (کے مرتبے) تک رسائی حاصل نہیں کر سکو گے۔ سابقین اولین صحابہ کرام نے جس ابتلا و آزمائش کے دور میں اسلام کو سہارا دیا‘ وہ کسی سے مخفی نہیں ہے‘ اس وقت سرے سے اسلام قبول کرنا دل گردے کا کام تھا اور ظالم انسانوں کی دشمنی مول لینے کے مترادف تھا‘ مشکل ساعتوں میں ان ہستیوں نے اسلام کی خدمت کی اور اسے اگلی نسلوں تک پہنچانے کے لئے عظیم کارنامے سرانجام دیئے۔ بعد والوںکی قربانیوں کا ان کے کردار کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ان تین احادیث کو مد نظر رکھا جائے تو درج ذیل امور ہمارے سامنے آتے ہیں: ۱۔ صحابہ کرام سے خطا ہونا ممکن ہے۔ ۲۔ اُن کی خطاؤں پر بحث نہیں کی جا سکتی، بلکہ سرے سے ایسے پہلو کو ہی نظر انداز کر دیا جائے۔ ۳۔ بعد والے لوگوں کی بہ نسبت ان کو ان کی نیکیوںکا اجر و ثواب زیادہ ملے گا۔ اب ہم اپنے اصل موضوع کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ بات تو درست ہے کہ مؤرخین تاریخی واقعات کی چھان بین کے لیے کوئی قواعد و ضوابط وضع نہ کر سکے، جیسا کہ محدثین نے احادیث کی تحقیق کے لیے قوانین مرتب کیے ہیں، اکثر مؤرخین حاطبین لیل نظر آتے ہیں، لیکن ہمارے پاس ان تاریخی معلومات تک تفصیل کے ساتھ رسائی حاصل کرنے کے لیے کوئی اور ذریعہ نہیں ہے، کتب ِ احادیث سے اس قسم کی بعض معلومات انتہائی اختصار کے ساتھ ملتی ہیں۔ ہم نے تمہیدی طور پر آئندہ سطور میں درج ذیل تاریخی کتب کی روشنی میں مشاجرات صحابہ کا خلاصہ بیان کیا ہے، تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ہم کون سے مشاجرات کے بارے میں سلف کا مؤقف بیان کرنا چاہتے ہیں: وقعۃ صفین، نصر بن مزاحم المنقری (م: ۲۱۲ھـ) ، طبع: المؤسسۃ الحدیثۃ للطبع والنشر والتوزیع، س: ۱۳۸۲؁ھـ تاریخ بغداد، الخطیب البغدادی، ابو بکر احمد بن علی، طبع: دار الکتب العلمیۃ بیروت البدایۃ والنھایۃ، ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر (م: ۷۷۴ ؁ھـ) طبع: ھجر للطباعۃ والنشر والتوزیع والاعلان تاریخ اسلام، شاہ معین الدین، طبع: اسلامی اکادمی لاہور، س: ۱۹۹۶؁ء اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں: جمعہ مبارک کے دن ۱۸ ذوالحجہ ۳۵ ھـ کو خلیفہ سوم سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہو گئے، تین دن تک مسند ِ خلافت خالی رہی، اکابر صحابہ میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شخصیت ہی متفق علیہ نظر آ رہی تھی، چنانچہ ایسے ہی ہوا اور سیدنا طلحہ اور سیدنازبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سمیت مہاجرین و انصار سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچے اور یہ درخواست کی کہ خلیفہ کا انتخاب ضروری ہے، ان لوگوں کے اصرار پر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ منصب قبول کیا۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے سب سے اہم مرحلہ قاتلین عثمان سے قصاص لینا تھا، لیکن کچھ اسباب کی بنا پر وہ ایسا نہیں کر پا رہے تھے، بہرحال عوام الناس سمیت اکابر صحابہ تک اس قدر قصاص چاہتے تھے کہ ان کی نظر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مجبوریوں پر نہیں پڑتی تھی، اس کے ساتھ ساتھ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عہد عثمانی کے اکثر عمال خصوصا والیٔ شام سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مخالف تھے، اس لیے انھوں نے مسند ِ خلافت پر قدم رکھتے ہی ان سب کو معزول کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن سیاست و تدبر کے مالک سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سمیت آپ کے عاقبت اندیش خیر خواہوں نے اس چیز کی مخالفت کی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کسی کا مشورہ قبول نہ کیا اور ۳۶ ھـ میں عثمانی عمال کو معزول کر کے ان کی جگہ نئے عمال کا تعین کر دیا، اس سلسلے میں سیدنا سہیل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو والیٔ شام مقرر کیا گیا، چنانچہ وہ شام روانہ ہو گئے۔ سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک مدبر حکمران تھے اور بیس بائیس سال سے بڑے اثرو رسوخ کے ساتھ شام کی ولایت پر فائز تھے، یقینا ان کو معزول کرنا آسان نہ تھا۔ یہی کچھ ہوا اور انھوں نے سیدنا سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو شام کی حدود میں داخل ہی نہ ہونے دیا اور تبوک سے ہی واپس کر دیا۔ سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شہادت ِ عثمان کو موضوع بنا کر اور مختلف اسباب کے ذریعے شام کے مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے میں کامیاب ہو گئے، نتیجتاً ساٹھ ہزار لوگوں نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قصاص لینے کا عہد کر لیا۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سارے حقائق کا علم ہوا اور انھوں نے سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مقابلہ کرنے کے لیے تیاریاں شروع کر دیں، یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کی تلواریں آپس میں بے نیام ہونے لگی تھیں،یہی وجہ تھی کہ کئی صحابہ شرکت کے بارے میں متردد تھے، بہتوں نے مخالفت کی اور غیر جانبدار رہے۔ مصالحت کی خواہشات کے ساتھ ساتھ صلح صفائی کے لیے عملی کوشش بھی کی گئی، تردّد اور تذبذب کی کیفیات بھی موجود تھیں، بیچ میں سبائیوں کی فتنہ انگیزیاں بھی کار فرما تھیں، نتیجتاً امت ِ مسلمہ کو جنگ جمل اور جنگ صفین کی صورت میں ایسی زبردست آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، کہ آج تک ان کا اثر جاری ہے، (العیاذ باللہ)۔ اس کے بعد بھی سیدنا علی اور سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی ایک دوسرے کے علاقے پر قبصہ کرنے کی کشمکش جاری رہی، بالآخر فریقین میں صلح بھی ہو گئی تھی، بہرحال سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا پورا زمانہ خانہ جنگیوں میں گزر گیا، اندرونی جھگڑوں سے فرصت نہ ملنے کی وجہ سے بیرونی فتوحات کی طرف توجہ کرنے کا موقع ہی نہ ملا، تاہم سیستان اور کابل میں بعض فتوحات حاصل ہوئیں اور ۳۸ ھـ میں بحری راستہ سے کوہ کن پر حملہ ہوا، بالآخر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ زخمی ہونے کے تیسرے دن ۲۰ رمضان ۴۰ ھـ کو دار فانی سے روانہ ہو گئے۔ ان کے بعد اسی مہینے میں سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کی گئی، جو بڑے نرم خو، متحمل مزاج، صلح جو اور امن پسند تھے اور جنگ و جدل سے طبعی طور پر نفرت رکھتے تھے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے بعد سیدناامیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو عالم اسلام پر حکومت کرنے کی دیرینہ تمنا پوری کرنے کے موقع ملا، چنانچہ انھوں نے عراق پر فوج کشی کر دی، جب سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو شامی فوج کی پیش قدمی کی خبر ملی تو آپ نے قیس بن سعد انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بارہ ہزار فوج کے ساتھ مقابلہ کے لیے آگے بھیج دیا اور خود ان کے عقب میں روانہ ہو گئے، اگرچہ عراقی فوج کی غداری کی مثالیں بھی موجود ہیں، لیکن جان نثاروں کی تعداد بھی معقول تھی، اصل بات یہ تھی کہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسلمانوں کے خون کی قیمت پر خلافت نہیں خریدنا چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے چند شرائط پر ربیع الاول ۴۱ ؁ھـ کو سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں دست برداری کا اعلان کر دیا، اس طرح آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدت ِ خلافت چھ ماہ بنتی ہے۔ اس دست برداری سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی درج ذیل پیشین گوئی پوری ہوئی: حسن بصری کہتے ہیں: لما سار الحسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما الی معاویۃ بالکتائب، قال عمرو بن العاص لمعاویۃ: اری کتیبۃ لا تُوَلِّی حتی تُدْبَر اخراھا۔ قال معاویۃ: من لذراری المسلمین؟ فقال: انا، فقال عبد اللہ بن عامر وعبد الرحمن بن سمرۃ: نلقاہ فنقول لہ: الصلح، قال الحسن: ولقد سمعت ابا بکرۃ قال: بینا النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یخطب جاء الحسن، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِبْنِیْ ھٰذَا سَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰہُ اَنْ یُّصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (صحیح بخاری: ۷۱۰۹ )
12349
Sahih

Chapters

113
01
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
16 Hadith
02
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
1 Hadith
03
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
5 Hadith
04
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
8 Hadith
05
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
5 Hadith
06
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
3 Hadith
07
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
5 Hadith
08
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
11 Hadith
09
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
3 Hadith
10
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
18 Hadith
11
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
4 Hadith
12
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
5 Hadith
13
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
13 Hadith
14
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
10 Hadith
15
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
4 Hadith
16
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
4 Hadith
17
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
11 Hadith
18
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
9 Hadith
19
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
9 Hadith
20
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
5 Hadith
21
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
2 Hadith
22
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
1 Hadith
23
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
1 Hadith
24
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
4 Hadith
25
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
2 Hadith
26
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
1 Hadith
27
فصل سوم: سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
4 Hadith
28
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
3 Hadith
29
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
1 Hadith
30
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
5 Hadith
31
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
7 Hadith
32
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
7 Hadith
33
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
5 Hadith
34
فصل پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
4 Hadith
35
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
5 Hadith
36
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
1 Hadith
37
فصل: کسریٰ کے خزانوں کی فتح
1 Hadith
38
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مشہور خطاب اور۱۶ھ میں خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
2 Hadith
39
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
1 Hadith
40
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
1 Hadith
41
باب چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
2 Hadith
42
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
1 Hadith
43
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
4 Hadith
44
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
4 Hadith
45
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
1 Hadith
46
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
4 Hadith
47
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
8 Hadith
48
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
2 Hadith
49
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
5 Hadith
50
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
5 Hadith
51
باب سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
2 Hadith
52
فصل: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
1 Hadith
53
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
2 Hadith
54
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
2 Hadith
55
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
3 Hadith
56
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
4 Hadith
57
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
2 Hadith
58
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
2 Hadith
59
فصل پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تاریخ شہادت، ان کی جنازہ، دفن اور مدتِ خلافت کا بیان
7 Hadith
60
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
5 Hadith
61
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
1 Hadith
62
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
20 Hadith
63
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
4 Hadith
64
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
6 Hadith
65
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
3 Hadith
66
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
2 Hadith
67
باب سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات کا بیان
7 Hadith
68
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
5 Hadith
69
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
4 Hadith
70
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
7 Hadith
71
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
2 Hadith
72
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
1 Hadith
73
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
7 Hadith
74
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
12 Hadith
75
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
8 Hadith
76
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
1 Hadith
77
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
4 Hadith
78
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
4 Hadith
79
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
1 Hadith
80
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
2 Hadith
81
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
4 Hadith
82
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
5 Hadith
83
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
5 Hadith
84
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
4 Hadith
85
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
1 Hadith
86
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
1 Hadith
87
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
2 Hadith
88
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
3 Hadith
89
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
1 Hadith
90
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
1 Hadith
91
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
3 Hadith
92
فصل دوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
1 Hadith
93
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
1 Hadith
94
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
3 Hadith
95
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
1 Hadith
96
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
3 Hadith
97
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
1 Hadith
98
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
1 Hadith
99
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
2 Hadith
100
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
1 Hadith
101
فصل: عبید اللہ بن زیاد کا تذکرہ
1 Hadith
102
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
1 Hadith
103
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
2 Hadith
104
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
5 Hadith
105
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
4 Hadith
106
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
1 Hadith
107
مختار ثقفی کا ظہور
4 Hadith
108
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
1 Hadith
109
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
5 Hadith
110
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
3 Hadith
111
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
1 Hadith
112
ولید بن یزید بن عبدالملک کی خلافت
1 Hadith
113
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
2 Hadith
No chapter matched that.