TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2184 جامع ترمزی

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 3 in this chapter
Chapter: What has been Related About The Earth Swallowing
باب: زمین دھنسنے کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْمُرْهِبِيِّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يَغْزُوَ جَيْشٌ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ كَرِهَ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Safiyyah narrated The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The people will not finish attacking this House until it is attacked by an army which, when they are at Al-Baida', or a Baida' in the land, it will swallow from the first of them to the last of them, and the middle of them shall not be saved.' I said: 'O Messenger of Allah(s.a.w)! What about those among them who are averse to it?' He said: 'Allah will resurrect them upon what was in their souls(intentions). '
ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ ( اللہ کے ) اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ ایک ایسا لشکر لڑائی کرنے کے لیے آئے گا کہ جب اس لشکر کے لوگ مقام بیدا میں ہوں گے، تو ان کے آگے والے اور پیچھے والے دھنسا دے جائیں گے اور ان کے بیچ والے بھی نجات نہیں پائیں گے ( یعنی تمام لوگ دھنسا دے جائیں گے ) “۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں سے جو ناپسند کرتے رہے ہوں ان کے افعال کو وہ بھی؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کے مطابق انہیں اٹھائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
2184
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Jami` at-Tirmidhi 2184 In-book reference : Book 33, Hadith 27 English translation : Vol. 4, Book 7, Hadith 2184
صحيح، ابن ماجة (4064) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2184
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الفتن ۳۰ (۴۰۶۴) (تحفة الأشراف : ۱۵۹۰۲)

Related Chapters

162
1
Chapter: What Has Been Related About The Signs Of The Occurrence Of The Transformation And The Collapse Of The Earth
باب: زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کی علامت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: The Earth Swallowing Up The Army That Aims To Attack The Ka'bah
بیت اللہ کا رخ کرکے والے لشکر کا زمین میں د ھنس جانا
Sahih Muslim
3
Chapter: The Earth collapsing
زمین کے دھنسنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
4
Chapter: What Has Been Related About 'All Of The Earth Is A Masjid, Except For The Graveyard And Washroom'
باب: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے علاوہ پوری زمین سجدہ گاہ ہے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: The Hadith About the Earth Swallowing An Army At Al-Baida'
باب
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About: Allah Has Angels Who Go About On The Earth
باب: زمین میں اللہ کے گھومنے پھرنے والے فرشتے ہیں
Jam e Tirmazi
7
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
9
(2) CHAPTER. What has been said regarding the seven earths.
سات زمینوں کا بیان
Sahih Bukhari
10
(44) CHAPTER. On the Day of Resurrection, Allah will grasp (or hold) the whole (planet of) earth (in His Hand).
اللہ تعالیٰ زمین کواپنی مٹھی میں لے لے گا ۔
Sahih Bukhari
11
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “And it is He Who has created the heavens and the earth in truth…” (V.6:73)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الانعام میں ” اور وہی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا “ ۔
Sahih Bukhari
12
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, Allah grasps the heavens and the earth lest they move away from their places…” (V.35:41)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ فاطر میں یہ فرمان کہ بلاشبہ اللہ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے وہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتے ۔
Sahih Bukhari
13
(27) CHAPTER. What has been said regarding the creation of the heavens, earth and other created beings
آسمانوں اور زمین اور دوسری مخلوق کے پیدا کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
14
Chapter: When Allah Loves A Person. He Commands Jibril To Love Him, And He Loves Him, And The People Of Heaven Love Him, Then He Finds Acceptance On Earth
جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو حکم دیتا ہے تو وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے
Sahih Muslim
15
Chapter: The Disbeliever Seeking Ransom With An Earthful Of Gold
کافر کا اپنے چھٹکارے کے لئے زمین بھر سونے کو طلب کرنا
Sahih Muslim
16
Chapter: The Emergence Of Ad-Dajjal And His Stay On Earth, And The Descent Of 'Eisa Who Will Kill Him. The Death Of The People Of Goodness And Faith, And The Survival Of The Worst Of People, And Their Idol-Worship. The Trumpet Blast, And The Resurrection Of Those Who Are In Their Graves
دجال نکل کر زمین میں رہے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتر کر اسے قتل کریں گے بھلائی اور ایمان والے لوگ رخصت ہو جا ئیں گے۔بدترین لوگ اور شیطان کی پوجا کرنے والے باقی رہ جائیں گے۔ اور صورپھونکا جائے گا اور جوقبروں میں ہیں انھیں اٹھا دیا جائے گا
Sahih Muslim
17
CHAPTER: The Earth Becomes Pure When Dry.
باب: زمین خشک ہو کر پاک ہو جاتی ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
18
(112)Chapter: What Has Been Related About Urine That Touches The Ground
باب: جس زمین پر پیشاب لگ جائے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Placing The Hands and Planting The Feet During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنے اور دونوں پاؤں کھڑے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: [What Had Been Related] About The Lord Blessed And Exalted Is He, Descending To The Earth's Heaven Every Night
باب: اللہ عزوجل کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Leveling The Grave
باب: قبروں کو زمین کے برابر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Land That Is Owned By Partners When One Of Them Wants To Sell His Share
باب: مشترکہ زمین جس کا حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About One Who Farms A Prople's Land Without Their Permission
باب: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Mentioned About Reviving Barren Land
باب: غیر آباد زمین آباد کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Nabidh Prepared In Earthenware Containers
باب: مٹکے کی نبیذ کا بیان
Jam e Tirmazi
26
باب: صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What has been Related About The Inhabitants of Ash-Sham
باب: سر زمین شام کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: Something Else: The Earth Expelling The Treasures That Are Inside Of It
باب: فتنوں سے متعلق مزید پیش گوئی
Jam e Tirmazi
29
Chapter: 'A Hundred Years Shall Not Pass While A Soul Born Upon The Earth Today Survives'
باب: یہ پیشین گوئی کہ سو سال کے بعد آج کا کوئی آدمی زندہ نہ بچے گا
Jam e Tirmazi
30
Chapter: When The Surface Of The Earth Is Better Than Its Belly, And When It Is Worse
باب: حکمراں جب تک نماز کی پابندی کرے اس کی اطاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: The Hadith:
باب: زمین جائیداد نہ بناؤ کہ اس سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی
Jam e Tirmazi
32
Chapter: Something Else, The Supplication “O Allah, Knower Of The Unseen And The Seen, Originator Of The Heavens And The Earth”
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
33
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Have Directed My Face Towards The One Who Created The Heavens And The Earth”
باب: تہجد میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
34
بَاب إحْيَاء الْموَات وَالشرب
بنجر زمین کو آباد کرنے اور پانی کی باری کا بیان
Mishkat
35
زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
Musnad Ahmad
37
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
Musnad Ahmad
38
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
Musnad Ahmad
39
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
40
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
41
زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
42
تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی پر محمول کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
بے آباد زمین آباد کرنے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
44
جو آدمی درخت لگا کر یا کنواں کھود کر زمین کو آباد کرتا ہے، اس کی حد ملکیت کتنی ہو گی؟
Musnad Ahmad
45
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
Musnad Ahmad
46
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت یا ایک ہاتھ کے برابر ہو
Musnad Ahmad
48
دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
Musnad Ahmad
49
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

23
Sunnan Ibn e Maja
4064
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْمُرْهِبِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صَفْوَانَ،‏‏‏‏ عَنْ صَفِيَّةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يَغْزُوَ جَيْشٌ،‏‏‏‏ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ فَإِنْ كَانَ فِيهِمْ مَنْ يُكْرَهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ .
It was narrated from Safiyyah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “People will not stop attacking this House until an army attacks, until when they are in Baida’, the first and the last of them will be swallowed by the earth, and the middle of them will not be saved.’” I said: “What if there are those among them who were forced (to join the army)?” He said: “Allah will resurrect them according to what is in the hearts.”
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اللہ کے اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہ آئیں گے حتیٰ کہ ایک لشکر لڑنے کے لیے آئے گا، جب وہ لوگ مقام بیداء یا بیداء کی سر زمین میں پہنچیں گے، تو اول سے لے کر اخیر تک تمام زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے، اور ان کے درمیان والے بھی نہیں بچیں گے ۔ میں نے عرض کیا: اگر ان میں سے کوئی ایسا بھی ہو جسے زبردستی اس لشکر میں شامل کیا گیا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں اپنی اپنی نیت کے موافق اٹھائے گا ۔
Mishkat
1742
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: تُوُفِّيَتْ بِنْتٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بن عمر لعَمْرو بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ: أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ» . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ. ثُمَّ حَدَّثَ فَقَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ فَإِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ فَقَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ؟ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ. قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: ادْعُهُ فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يبكي يَقُول: وَا أَخَاهُ واصاحباه. فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؟» فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِك لعَائِشَة فَقَالَت: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ لَا وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَلَكِنْ: إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ. وَقَالَتْ عَائِشَةُ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ: (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وزر أُخْرَى) قَالَ ابْن عَبَّاس عِنْد ذَلِك: وَالله أضح وأبكي. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَمَا قَالَ ابْنُ عمر شَيْئا
عبداللہ بن ابی ملیکہ ؓ بیان کرتے ہیں ، عثمان بن عفان ؓ کی بیٹی مکہ میں وفات پا گئیں تو ہم اس کے جنازہ میں شریک ہونے کے لیے آئے جبکہ ابن عمر ؓ اور ابن عباس ؓ بھی تشریف لائے تھے ، میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا ، عبداللہ بن عمر ؓ نے عمرو بن عثمان سے فرمایا : جبکہ وہ اس کے مقابل تھے ، کیا تم رونے سے منع نہیں کرتے ؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میت کو ، اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے ، عذاب دیا جاتا ہے ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : عمر ؓ اس کا بعض حصہ بیان کیا کرتے تھے ، پھر انہوں (ابن عباس ؓ) نے حدیث بیان کی تو فرمایا : میں عمر ؓ کے ساتھ مکہ سے واپس آیا ، حتیٰ کہ جب ہم بیداء کے قریب پہنچے تو انہوں نے کیکر کے سائے تلے ایک قافلہ دیکھا تو فرمایا : جاؤ دیکھو کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے دیکھا تو وہ صہیب ؓ تھے ، چنانچہ میں نے ان کو بتایا ، تو انہوں نے فرمایا : اس (صہیب ؓ) کو بلاؤ ، میں صہیب ؓ کے پاس گیا تو میں نے کہا : یہاں سے کوچ کرو اور امیرالمؤمنین کے پاس چلو ، پھر جب عمر ؓ کو زخمی کر دیا گیا ، تو صہیب ؓ روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے : آہ بھائی پر کتنا افسوس ہے ! آہ بھائی پر کتنا افسوس ہے ! تو عمر ؓ نے فرمایا : صہیب ! کیا تم مجھ پر روتے ہو ؟ جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میت کو اس کے گھر والوں کی طرف سے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب عمر ؓ فوت ہوئے تو میں نے عائشہ ؓ سے یہ ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا : اللہ عمر ؓ پر رحم فرمائے ، نہیں ، اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے یہ حدیث بیان نہیں کی کہ ’’ میت کو اس کے گھر والوں کی طرف سے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔‘‘ بلکہ ’’ اللہ کافر شخص پر ‘ اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب بڑھا دیتا ہے ۔‘‘ اور عائشہ ؓ نے فرمایا : تمہیں قرآن کافی ہونا چاہیے :’’ کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی ۔‘‘ اس پر ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے ۔ ابن ابی ملیکہ نے فرمایا : ابن عمر ؓ نے کوئی بات نہ کی ۔ متفق علیہ ۔
Mishkat
5456
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلى مكةَ فيأتيه الناسُ من أهل مَكَّة فيخرجوه وَهُوَ كَارِه فيبايعونه بَين الرُّكْن وَالْمقَام يبْعَث إِلَيْهِ بَعْثٌ مِنَ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعَثُ كلب وَيعْمل النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ فِي الْأَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسلمُونَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ام سلمہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بادشاہ کی موت کے وقت اختلاف ہو جائے گا ، اہل مدینہ سے ایک آدمی نکل کر مکہ کی طرف بھاگ کھڑا ہو گا ، اہل مکہ سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے تو وہ اسے (اس کے گھر سے) باہر لائیں گے ، وہ ناپسند کرتا ہو گا ، لیکن وہ رکن (حجرِ اسود) اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی بیعت کریں گے ، شام کی طرف سے (اس سے لڑنے کے لیے) اس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا ، لیکن اس لشکر کو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء پر دھنسا دیا جائے گا ، جب لوگ یہ صورتِ حال دیکھیں گے تو شام کے ابدال (عبادت گزار) اور اعراق کے بہترین اشخاص اس کے پاس آئیں گے تو وہ اس کی بیعت کر لیں گے ، پھر قریش سے ایک آدمی ظاہر ہو گا جس کے ننہال کلب قبیلے سے ہوں گے ، وہ (کلبی) ان (بیعت کرنے والوں) کی طرف ایک لشکر بھیجیں گے تو وہ (بیعت کرنے والے) ان پر غالب آ جائیں گے ، اور یہ کلب کا لشکر ہو گا ، اور وہ (مہدی) ان میں نبی ﷺ کی سنت کے مطابق عمل کریں گے ، اسلام زمین پر ثابت و قائم ہو جائے گا ، وہ سات سال رہیں گے ، پھر وفات پا جائیں گے ، اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Sahih Bukhari
334
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، فَقَالُوا : أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ ، فَقَالَ : حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ : مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ ؟ قَالَتْ : فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَأَصَبْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) We set out with Allah's Apostle on one of his journeys till we reached Al- Baida' or Dhatul-Jaish, a necklace of mine was broken (and lost). Allah's Apostle stayed there to search for it, and so did the people along with him. There was no water at that place, so the people went to Abu- Bakr As-Siddiq and said, Don't you see what `Aisha has done? She has made Allah's Apostle and the people stay where there is no water and they have no water with them. Abu Bakr came while Allah's Apostle was sleeping with his head on my thigh, He said, to me: You have detained Allah's Apostle and the people where there is no water and they have no water with them. So he admonished me and said what Allah wished him to say and hit me on my flank with his hand. Nothing prevented me from moving (because of pain) but the position of Allah's Apostle on my thigh. Allah's Apostle got up when dawn broke and there was no water. So Allah revealed the Divine Verses of Tayammum. So they all performed Tayammum. Usaid bin Hudair said, O the family of Abu Bakr! This is not the first blessing of yours. Then the camel on which I was riding was caused to move from its place and the necklace was found beneath it.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں مالک نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے بتلایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعض سفر ( غزوہ بنی المصطلق ) میں تھے۔ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ایک ہار کھو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہیں ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہر گئے۔ لیکن وہاں پانی کہیں قریب میں نہ تھا۔ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا ”عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کام کیا؟ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو ٹھہرا دیا ہے اور پانی بھی کہیں قریب میں نہیں ہے اور نہ لوگوں ہی کے ساتھ ہے۔“ پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے ہوئے سو رہے تھے۔ فرمانے لگے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام لوگوں کو روک لیا۔ حالانکہ قریب میں کہیں پانی بھی نہیں ہے اور نہ لوگوں کے پاس ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ والد ماجد ( رضی اللہ عنہ ) مجھ پر بہت خفا ہوئے اور اللہ نے جو چاہا انہوں نے مجھے کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ اس وجہ سے میں حرکت بھی نہیں کر سکتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کے وقت اٹھے تو پانی کا پتہ تک نہ تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری اور لوگوں نے تیمم کیا۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا ”اے آل ابی بکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔“ عائشہ ( رضی اللہ عنہا ) نے فرمایا۔ پھر ہم نے اس اونٹ کو ہٹایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے مل گیا۔
Sahih Bukhari
1287
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : قَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ، ثُمَّ حَدَّثَ , قَالَ : صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ , فَقَالَ : اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ ، قَالَ : فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا صُهَيْبٌ , فَأَخْبَرْتُهُ , فَقَالَ : ادْعُهُ لِي فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ , فَقُلْتُ : ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي , يَقُولُ : وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ , وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ .
Ibn `Abbas said, `Umar used to say so. Then he added narrating, I accompanied `Umar on a journey from Mecca till we reached Al-Baida. There he saw some travelers in the shade of a Samura (A kind of forest tree). He said (to me), Go and see who those travelers are. So I went and saw that one of them was Suhaib. I told this to `Umar who then asked me to call him. So I went back to Suhaib and said to him, Depart and follow the chief of the faithful believers. Later, when `Umar was stabbed, Suhaib came in weeping and saying, O my brother, O my friend! (on this `Umar said to him, O Suhaib! Are you weeping for me while the Prophet said, The dead person is punished by some of the weeping of his relatives?
اس پر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی تائید کی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی فرمایا تھا۔ پھر آپ بیان کرنے لگے کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے چلا جب ہم بیداء تک پہنچے تو سامنے ایک ببول کے درخت کے نیچے چند سوار نظر پڑے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا کر دیکھو تو سہی یہ کون لوگ ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا تو صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر جب اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ انہیں بلا لاؤ۔ میں صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس دوبارہ آیا اور کہا کہ چلئے امیرالمؤمنین بلاتے ہیں۔ چنانچہ وہ خدمت میں حاضر ہوئے۔ ( خیر یہ قصہ تو ہو چکا ) پھر جب عمر رضی اللہ عنہ زخمی کئے گئے تو صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ وہ کہہ رہے تھے ہائے میرے بھائی! ہائے میرے صاحب! اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ صہیب رضی اللہ عنہ! تم مجھ پر روتے ہو ‘ تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔
Sahih Bukhari
1693
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ لِأَبِيهِ : أَقِمْ فَإِنِّي لَا آمَنُهَا أَنْ سَتُصَدّ عَنْ البيت ، قَالَ : إِذًا أَفْعَلُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ، فَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عَلَى نَفْسِي الْعُمْرَةَ ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنَ الدَّارِ ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، وَقَالَ : مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ ، ثُمَّ اشْتَرَى الْهَدْيَ مِنْ قُدَيْدٍ ، ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا ، فَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا .
Narrated Nafi`: `Abdullah (bin `Abdullah) bin `Umar said to his father, Stay here, for I am afraid that it (affliction between Ibn Zubair and Al-Hajjaj) might prevent you from reaching the Ka`ba. Ibn `Umar said, (In this case) I would do the same as Allah's Apostle did, and Allah has said, 'Verily, in Allah's Apostle, you have a good example (to follow).' So, I make you, people, witness that I have made `Umra compulsory for me. So he assumed lhram for `Umra. Then he went out and when he reached Al- Baida', he assumed Ihram for Hajj and `Umra (together) and said, The conditions (requisites) of Hajj and `Umra are the same. He, then brought a Hadi from Qudaid. Then he arrived (at Mecca) and performed Tawaf (between Safa and Marwa) once for both Hajj and `Umra and did not finish the lhram till he had finished both Hajj and `Umra.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا (جب وہ حج کے لیے نکل رہے تھے) کہ آپ نہ جائیے کیوں کہ میرا خیال ہے کہ ( بدامنی کی وجہ سے ) آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا جائے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر میں بھی وہی کام کروں گا جو ( ایسے موقعہ پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے“ میں اب تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کر لیا ہے، چنانچہ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نکلے اور جب بیداء پہنچے تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا اور فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں اس کے بعد قدید پہنچ کر ہدی خریدی پھر مکہ آ کر دونوں کے لیے طواف کیا اور درمیان میں نہیں بلکہ دونوں سے ایک ہی ساتھ حلال ہوئے۔
Sahih Bukhari
3672
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَتَى النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالُوا : أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ , وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ , فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ ، فَقَالَ : حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، قَالَتْ : فَعَاتَبَنِي ، وَقَالَ : مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ : وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي , فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ , فَتَيَمَّمُوا ، فَقَالَ : أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ .
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے مالک نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جب ہم مقام بیداء یا مقام ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ایک ہار ٹوٹ کر گر گیا، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش کے لیے وہاں ٹھہر گئے اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ ٹھہرے لیکن نہ اس جگہ پانی تھا اور نہ ان کے پاس پانی تھا۔ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ آپ ملاحظہ نہیں فرماتے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہیں روک لیا ہے۔ اتنے صحابہ آپ کے ساتھ ہیں۔ نہ تو یہاں پانی ہے اور نہ لوگ اپنے ساتھ ( پانی ) لیے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنا سر مبارک میری ران پر رکھے ہوئے سو رہے تھے۔ وہ کہنے لگے، تمہاری وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور سب لوگوں کو رکنا پڑا۔ اب نہ یہاں کہیں پانی ہے اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر غصہ کیا اور جو کچھ اللہ کو منظور تھا انہوں نے کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے۔ میں ضرور تڑپ اٹھتی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے۔ جب صبح ہوئی تو پانی نہیں تھا اور اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم نازل فرمایا اور سب نے تیمم کیا۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے آل ابوبکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے جب اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے ہمیں ملا۔
Sahih Bukhari
4607
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، فَقَالُوا : أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ ، فَقَالَ : حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي ، وَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا سورة المائدة آية 6 ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْر ، قَالَتْ : فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ ، فَإِذَا الْعِقْدُ تَحْتَهُ .
Narrated Aisha: The wife of the Prophet : We set out with Allah's Messenger on one of his journeys, and when we were at Baida' or at Dhat-al-Jaish, a necklace of mine was broken (and lost). Allah's Messenger stayed there to look for it, and so did the people along with him. Neither were they at a place of water, nor did they have any water with them. So the people went to Abu Bakr As-Siddiq and said, Don't you see what `Aisha has done? She has made Allah's Messenger and the people, stay where there is no water and they have no water with them. Abu Bakr came while Allah's Messenger was sleeping with his head on my thigh. He said (to me), You have detained Allah's Messenger and the people where there is no water, and they have no water with them. So he admonished me and said what Allah wished him to say, and he hit me on my flanks with his hand. Nothing prevented me from moving (because of pain! but the position of Allah's Messenger on my thigh. So Allah's Messenger got up when dawn broke and there was no water, so Allah revealed the Verse of Tayammum. Usaid bin Hudair said, It is not the first blessing of yours, O the family of Abu Bakr. Then we made the camel on which I was riding, got up, and found the necklace under it.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش تک پہنچے تو میرا ہار گم ہو گیا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کروانے کے لیے وہیں قیام کیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کیا۔ وہاں کہیں پانی نہیں تھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی پانی نہیں تھا۔ لوگ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے، ملاحظہ نہیں فرماتے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کر رکھا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہیں ٹھہرا لیا اور ہمیں بھی، حالانکہ یہاں کہیں پانی نہیں ہے اور نہ کسی کے پاس پانی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ ( میرے یہاں ) آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک میری ران پر رکھ کر سو گئے تھے اور کہنے لگے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور سب کو روک لیا، حالانکہ یہاں کہیں پانی نہیں ہے اور نہ کسی کے ساتھ پانی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ پر بہت خفا ہوئے اور جو اللہ کو منظور تھا مجھے کہا، سنا اور ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگائے۔ میں نے صرف اس خیال سے کوئی حرکت نہیں کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر رکھے ہوئے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور صبح تک کہیں پانی کا نام و نشان نہیں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو اسید بن حضیر نے کہا کہ آل ابی بکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے مل گیا۔
Sahih Bukhari
4608
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : سَقَطَتْ قِلَادَةٌ لِي بِالْبَيْدَاءِ ، وَنَحْنُ دَاخِلُونَ الْمَدِينَةَ ، فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ ، فَثَنَى رَأْسَهُ فِي حَجْرِي رَاقِدًا ، أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَكَزَنِي لَكْزَةً شَدِيدَةً ، وَقَالَ : حَبَسْتِ النَّاسَ فِي قِلَادَةٍ ، فَبِي الْمَوْتُ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَوْجَعَنِي ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ ، وَحَضَرَتِ الصُّبْحُ ، فَالْتُمِسَ الْمَاءُ فَلَمْ يُوجَدْ ، فَنَزَلَتْ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ سورة المائدة آية 6 الْآيَةَ ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ : لَقَدْ بَارَكَ اللَّهُ لِلنَّاسِ فِيكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ ، مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَرَكَةٌ لَهُمْ .
Narrated Aisha: A necklace of mine was lost at Al-Baida' and we were on our way to Medina. The Prophet made his camel kneel down and dismounted and laid his head on my lap and slept. Abu Bakr came to me and hit me violently on the chest and said, You have detained the people because of a necklace. I kept as motionless as a dead person because of the position of Allah's Messenger ; (on my lap) although Abu Bakr had hurt me (with the slap). Then the Prophet woke up and it was the time for the morning (prayer). Water was sought, but in vain; so the following Verse was revealed:-- O you who believe! When you intend to offer prayer.. (5.6) Usaid bin Hudair said, Allah has blessed the people for your sake, O the family of Abu Bakr. You are but a blessing for them.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میرا ہار مقام بیداء میں گم ہو گیا تھا۔ ہم مدینہ واپس آ رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں اپنی سواری روک دی اور اتر گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک میری گود میں رکھ کر سو رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آ گئے اور میرے سینے پر زور سے ہاتھ مار کر فرمایا کہ ایک ہار کے لیے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے خیال سے میں بےحس و حرکت بیٹھی رہی حالانکہ مجھے تکلیف ہوئی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور صبح کا وقت ہوا اور پانی کی تلاش ہوئی لیکن کہیں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔ اسی وقت یہ آیت اتری «يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة‏» الخ۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے آل ابی بکر! تمہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے باعث برکت بنایا ہے۔ یقیناً تم لوگوں کے لیے باعث برکت ہو۔ تمہارا ہار گم ہوا اللہ نے اس کی وجہ سے تیمم کی آیت نازل فرما دی جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے آسانی اور برکت ہے۔