TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان

Chapter 18 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 18 of 43 · 6 Hadith
۔ (۱۲۹۲۶)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِیْفَۃٍ فَیَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ ھَارِبًا اِلٰی مَکَّۃَ، فَیَاْتِیْہِ نَاسٌ مِنْ اَھْلِ مَکَّۃَ فَیُخْرِجُوْنَہُ وَھُوَ کَارِہٌ فَیُبَایِعُوْنَہُ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ، فَیَبْعَثُ اِلَیْہِمْ جَیْشٌ مِنَ الشَّامِ فَیُخْسَفُ بِہِمْ بِالْبَیْدَائِ فَاِذَا رَاَی النَّاسُ ذٰلِکَ اَتَتْہُ اَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ الْعِرَاقِ فَیُبَایِعُوْنَہُ ثُمَّ یَنْشَاُ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، اَخْوَالُہُ کَلْبٌ فَیَبْعَثُ اِلَیْہِ الْمَکِیُّ بَعْثًا، فَیَظْہَرُوْنَ عَلَیْہِمْ وَذٰلِکَ بَعْثُ کَلْبٍ وَالْخَیْبَۃُ لِمَنْ لَّمْ یَشْہَدْ غَنِیْمَۃَ کَلْبٍ فَیَقْسِمُ الْمَالَ وَیَعْمَلُ فِی النَّاسِ سُنَّۃَ نَبِیِّہِمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیُلْقِی الْاِسْلَامَ بِجِرَانِہِ اِلَی الْاَرْضِ، یَمْکَثُ تِسْعَ سِنِیْنَ۔))وَفِیْ رِوَایَۃٍ ((سَبْعَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۲۴)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ) کی وفات کے موقع پر لوگ اختلاف میں پڑ جائیں گے، اتنے میں ایک آدمی مدینہ منورہ سے فرار ہو کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آکر اسے باہر نکالیں گے اور حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، جبکہ وہ اس چیز کو ناپسند کر رہا ہو گا، ان کے مقابلہ کے لیے شام کی طرف سے ایک لشکر چلے گا، لیکن جب وہ بیداء مقام پر پہنچے گا تو اسے وہیں زمین پر دھنسا دیا جائے گا، جب لوگ یہ صورت حال دیکھیں گے تو ملک شام کے صلحاء اور عراق کی فوجیں آکر اس کی بیعت کریں گے، پھر قریش میں سے ایک ایسا آدمی اٹھے گا، جس کے ماموں بنو کلب کے لوگ ہوں گے، مکہ مکرمہ والا آدمی اس کے مقابلے کے لیے ایک دستہ بھیجے گا اور یہ ان پر غالب آ جائیں گے، یہ بنو کلب کا لشکر ہوگا، ناکامی ہے ان لوگوں کے لیے، جو بنوکلب کی غنیمت میں حاضر نہیں ہوں گے، پھر وہ حاکم لوگوں میں مال تقسیم کرے گا اور لوگوں میں نبی کی سنت کے مطابق عمل رائج کرے گا اور دینِ اسلام کو زمین پر برپا اور مضبوط کرے گا، اور نویا سات برس تک ٹھہرے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۲۶) تخریج: حدیث ضعیف لابھام صاحب ابی خلیل، ولاضطراب قتادۃ فیہ، أخرجہ ابوداود: ۴۲۸۸ (انظر: ۲۶۶۸۹)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے اور اگلی روایات میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ان کا مصداق امام مہدی ہوں گے۔ لیکن امام ابوداود نے اس قسم کی احادیث کا اپنی سنن میں کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے، امام طیبی نے کہا: اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہیں، کیونکہ امام ابوداود نے ان احادیث کو کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے۔
12926
Zaeef
۔ (۱۲۹۲۷)۔ وَعَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْقِبْطِیَۃِ قَالَ: دَخَلَ الْحٰرِثُ بْنُ اَبِیْ رَبِیْعَۃَ وَعَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَفْوَانَ وَاَنَا مَعَہُمَا عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ: فَسَاَلَاھَا عَنِ الْجَیْشِ الَّذِیْیُخْسَفُ بِہٖوَکَانَذٰلِکَفِیْ اَیَّامِ ابْنِ الزُّبَیْرِ فَقَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَعُوْذُ عَائِذٌ بِالحِجْرِ فَیَبْعَثُ اللّٰہُ جَیْشًا فَاِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ خُسِفَ بِہِمْ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ بِمَنْ اُخْرِجَ کَارِھًا؟ قَالَ: ((یُخْسَفُ بِہٖمَعَہُمْوَلٰکِنَّہُیُبْعَثُ عَلٰی نِیَّتِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) فَذَکَرَتُ ذٰلِکَ لِاَبِیْ جَعْفَرٍ فَقَالَ: ھِیَ بَیْدَائُ الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۲۰)
عبید بن قبطیہ کہتے ہیں: حارث بن ابی ربیعہ اور عبد اللہ بن صفوان، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے، میں بھی ان کے ہمراہ تھا، انھوں نے سیدہ سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا،یہ سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت کی بات تھی، سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک پناہ طلب کرنے والا حطیم میں پناہ لے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے کے لیے ایک لشکر بھیجے گا، لیکن جب وہ بیداء میں پہنچے گا تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بندے کا کیا بنے گا، جو مجبوراً ان کے ساتھ آئے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے بھی انہی کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، البتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھا دیا جائے گا۔ جب میں نے یہ حدیث ابو جعفر سے ذکر کی تو انھوں نے کہا کہ اس سے مدینہ والا بیداء مراد ہے۔
Takhreej
(۱۲۹۲۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۸۲، وابوداود!: ۴۲۸۹ (انظر: ۲۶۴۸۷)
12927
Sahih
۔ (۱۲۹۲۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یُوْنُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَا: ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ سَلِمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ اُمَّ سَلَمَۃَ (قَالَ حَسَنٌ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ) قَالَتْ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُضْطَجِعًا فِیْ بَیْتِیْ اِذِ احْتَفَزَ جَالِسًا وَھُوَ یَسْتَرْجِعُ فَقُلْتُ: بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ مَا شَاْنُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَسْتَرْجِعُ؟ قَالَ: ((جَیْشٌ مِّنْ اُمَّتِیْیَجِیْئُوْنَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ یَؤُمُّوْنَ الْبَیْتَ لِرَجُلٍ یَمْنَعُہُ اللّٰہُ مِنْہُمْ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِالْبَیْدَائِ مِنْ ذِی الْحُلَیْفَۃِ خُسِفَ بِہِمْ وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!: کَیْفَیُخْسَفُ بِہِمْ جَمِیْعًا وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی؟ فَقَالَ: ((اِنَّ مِنْہُمْ مَنْ جُبِرَ، اِنَّ مِنْہُمْ مَنْ جُبِرَ۔)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۶۷۵۷)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، اچانک تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے لگ گئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا بات ہوئی کہ آپ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میری امت کا ایک لشکر شام کی طرف سے آئے گا، وہ ایک ایسے آدمی کے مقابلہ کے لیے آئیں گے کہ جس کی حفاظت کرنے والا اللہ تعالیٰ ہو گا، جب یہ لشکر ذوالحلیفہ کے قریب بیدائ مقام پر پہنچے گا تو اس میں شامل تمام افراد کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، البتہ ان کا زمین سے اٹھنا مختلف انداز میں ہوگا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوگا کہ سب افراد کو دھنسا تو دیا جائے گا، لیکن ان کا زمین سے اٹھنا ایک دوسرے سے مختلف ہو گا؟آپ نے فرمایا: ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے، جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا، ان میں بعض افراد ایسے بھی ہوں گے جنہیں مجبور کیا گیا ہوگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا۔
Takhreej
(۱۲۹۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ لاضطراب حماد بن سلمۃ فیہ، أخرجہ ابو یعلی: ۶۹۳۷ (انظر: ۲۶۲۲۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا صحیح سیاق درج ذیل ہے: عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، یَقُولُ: حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَتْ: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ، إِذْ ضَحِکَ فِی مَنَامِہِ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! مِمَّ ضَحِکْتَ؟ قَالَ: ((إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِی یَؤُمُّونَ ہٰذَا الْبَیْتَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ، قَدْ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْبَیْدَاء َ، خُسِفَ بِہِمْ، مَصَادِرُہُمْ شَتّٰی، یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ عَلٰی نِیَّاتِہِمْ۔)) قُلْتُ: وَکَیْفَ یَبْعَثُہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی نِیَّاتِہِمْ وَمَصَادِرُہُمْ شَتّٰی؟ قَالَ: ((جَمَعَہُمُ الطَّرِیقُ، مِنْہُمُ الْمُسْتَبْصِرُ، وَابْنُ السَّبِیلِ، وَالْمَجْبُورُ یَہْلِکُونَ مَہْلِکًا وَاحِدًا، وَیَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّی۔)) …سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوئے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیند کے اندر ہی مسکرا پڑے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے مسکرانے کی کیا وجہ تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ کا قصد کریں گے، ایک ایسے قریشی آدمی کی خاطر، جس نے حرم میں پناہ لی ہو گی، جب وہ بیداء مقام پر پہنچیں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا، لیکن ان کے نکلنے کے مقامات علیحدہ علیحدہ ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ میں نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے اور ان کے نکلنے کے مقامات الگ الگ ہوں (جبکہ ان کی ہلاکت گاہ ایک ہی ہو گی)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دراصل وہ ایک راستے پر اکٹھے ہوں گے، جبکہ ان میں سے کسی کا معاملہ تو واضح ہو گا، کوئی مسافر ہو گا اور کوئی مجبور ہو گا، اس لیے وہ سارے ایک مقام پر ہلاک تو ہو جائیں گے، لیکن وہ الگ الگ مقامات سے نکلیں گے۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۸، وأخرجہ مسلم بنحوہ: ۲۸۸۴)
12928
Zaeef
۔ (۱۲۹۲۹)۔ وَعَنْ اُمَیَّۃَ بْنِ صَفْوَانَ یَعْنِی ابْنَ عَبْدَاللّٰہِ بِنِ صَفْوَانَ عَنْ جَدِّہٖعَنْحَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَؤُمَّنَّ ہٰذَا الْبَیْتَ جَیْشٌیَغْزُوْنَہُ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِالْبَیْدَائِ خُسِفَ بِاَوْسَطِہِمْ فَیُنَادِیْ اَوَّلُھُمْ وَآخِرُھُمْ فَلَایَنْجُوْ اِلَّا الشَّرِیْدُ الَّذِیْیُخْبِرُ عَنْہُمْ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: کَذَا وَاللّٰہِ! مَاکَذَبَتُ عَلٰی حَفْصَۃَ وَلَا کَذَبَتْ حَفْصَۃُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷۶)
سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک لشکر بیت اللہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کر کے اِدھر کو روانہ ہوگا، جب وہ بیداء کے مقام پر ہوں گے تو ان کے درمیان والوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، ان کے شروع والے اور آخر والے، سب ایک دوسرے کو پکارنے لگیں گے، لیکن کوئی بھی بچ نہیں سکے گا، ماسوائے اس آوارہ کے، جو دھنسنے والوں کے بارے میں دوسرے لوگوں بتلائے گا۔ ایک راوی نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ نہیں بولا۔
Takhreej
(۱۲۹۲۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۸۳ (انظر: ۲۶۴۴۴)
12929
Sahih
۔ (۱۲۹۳۰)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ حَفْصَۃَ ابْنَۃِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَاْتِیْ جَیْشٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ یُرِیْدُوْنَ رَجُلًا مّنْ اَھْلِ مَکَّۃَ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِالْبَیْدَائِ خُسِفَ بِہِمْ فَرَجَعَ مَنْ کَانَ اَمَامَہُمْ لِیَنْظُرَ مَا فَعَلَ الْقَوْمُ فَیُصِیْبُہُمْ مِثْلُ مَا اَصَابَہُمْ۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَیْفَ بِمَنْ کَانَ مِنْہُمْ مُسْتَکْرَھًا؟ قَالَ: ((یُصِیْبُہُمْ کُلَّہُمْ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ کُلَّ امْرِیئٍ عَلٰی نِیَّتِہٖ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۹۰)
سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشرق کی طرف سے ایک لشکر آئے گا، ان کا ارادہ مکہ کے ایک آدمی پر حملہ کرنے کا ہو گا، جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، آگے بڑھ جانے والے لوگ واپس پلٹ پڑیں گے تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ پچھلے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہے، اتنے میں وہ بھی اسی مصیبت میں پھنس جائیں گے، میں (حفصہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ان میں جن لوگوں کو مجبوراً لایا گیا ہوگا، ان کا کیا بنے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ سب دھنسا دئیے جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ہر فرد کو اس کی نیت کے مطابق اٹھائے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۳۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف سلمۃ بن الفضل الابرش، ولعنعنۃ محمد بن اسحاق، ولجھالۃ عبد الرحمن بن موسی، أخرجہ البخاری فی التاریخ الاوسط : ۱/۱۴۳(انظر: ۲۶۴۵۸)
12930
Zaeef
۔ (۱۲۹۳۱)۔ وَعَنْ صَفِیَّۃَ اُمِّ الْمُوْمِنِیْنَ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((لَا یَنْتَہِی النَّاسُ عَنْ غَزْوِ ہٰذَا الْبَیْتِ حَتّٰییَغْزُوْہُ جَیْشٌ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ خُسِفَ بِاَوَّلِھِمْ وَآخِرِ ھِمْ وَلَمْ یَنْجُ اَوْسَطُہُمْ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ الْمُکْرَہَ مِنْہُمْ؟ قَالَ: ((یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ عَلٰی مَا فِیْ اَنْفُسِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۹۵)
ام المومنین سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ اس بیت اللہ پر چڑھائی کرتے رہنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ اسی طرح کا ایک لشکر یہی ارادہ کر کے چلے گا، لیکن جب وہ بیداء کے مقام تک پہنچیں گے توان کے شروع والے، آخر والے سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور درمیان والے بھی نہیں بچ سکیں گے۔ سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو مجبوراً آئے ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ ان کو ان کے دلوں کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۳۱) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: لاینتھی الناس عن غزو ھذا البیت ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابن صفوان، واختلف علیہ فیہ، أخرجہ ابویعلی: ۷۰۶۹، ۷۱۱۶ (انظر: ۲۶۸۵۸)
12931
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.