۔ (۱۲۹۲۶)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رضی اللہ عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِیْفَۃٍ فَیَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ ھَارِبًا اِلٰی مَکَّۃَ، فَیَاْتِیْہِ نَاسٌ مِنْ اَھْلِ مَکَّۃَ فَیُخْرِجُوْنَہُ وَھُوَ کَارِہٌ فَیُبَایِعُوْنَہُ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ، فَیَبْعَثُ اِلَیْہِمْ جَیْشٌ مِنَ الشَّامِ فَیُخْسَفُ
بِہِمْ بِالْبَیْدَائِ فَاِذَا رَاَی النَّاسُ ذٰلِکَ اَتَتْہُ اَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ الْعِرَاقِ فَیُبَایِعُوْنَہُ ثُمَّ یَنْشَاُ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، اَخْوَالُہُ کَلْبٌ فَیَبْعَثُ اِلَیْہِ الْمَکِیُّ بَعْثًا، فَیَظْہَرُوْنَ عَلَیْہِمْ وَذٰلِکَ بَعْثُ کَلْبٍ وَالْخَیْبَۃُ لِمَنْ لَّمْ یَشْہَدْ غَنِیْمَۃَ کَلْبٍ فَیَقْسِمُ الْمَالَ وَیَعْمَلُ فِی النَّاسِ سُنَّۃَ نَبِیِّہِمْ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَیُلْقِی الْاِسْلَامَ بِجِرَانِہِ اِلَی الْاَرْضِ، یَمْکَثُ تِسْعَ سِنِیْنَ۔))وَفِیْ رِوَایَۃٍ ((سَبْعَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۲۴)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک خلیفہ) کی وفات کے موقع پر لوگ اختلاف میں پڑ جائیں گے، اتنے میں ایک آدمی مدینہ منورہ سے فرار ہو کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آکر اسے باہر نکالیں گے اور حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، جبکہ وہ اس چیز کو ناپسند کر رہا ہو گا، ان کے مقابلہ کے لیے شام کی طرف سے ایک لشکر چلے گا، لیکن جب وہ بیداء مقام پر پہنچے گا تو اسے وہیں زمین پر دھنسا دیا جائے گا، جب لوگ یہ صورت حال دیکھیں گے تو ملک شام کے صلحاء اور عراق کی فوجیں آکر اس کی بیعت کریں گے، پھر قریش میں سے ایک ایسا آدمی اٹھے گا، جس کے ماموں بنو کلب کے لوگ ہوں گے، مکہ مکرمہ والا آدمی اس کے مقابلے کے لیے ایک دستہ بھیجے گا اور یہ ان پر غالب آ جائیں گے، یہ بنو کلب کا لشکر ہوگا، ناکامی ہے ان لوگوں کے لیے، جو بنوکلب کی غنیمت میں حاضر نہیں ہوں گے، پھر وہ حاکم لوگوں میں مال تقسیم کرے گا اور لوگوں میں نبی کی سنت کے مطابق عمل رائج کرے گا اور دینِ اسلام کو زمین پر برپا اور مضبوط کرے گا، اور نویا سات برس تک ٹھہرے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۲۶) تخریج: حدیث ضعیف لابھام صاحب ابی خلیل، ولاضطراب قتادۃ فیہ، أخرجہ ابوداود: ۴۲۸۸ (انظر: ۲۶۶۸۹)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے اور اگلی روایات میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ان کا مصداق امام مہدی ہوں گے۔
لیکن امام ابوداود نے اس قسم کی احادیث کا اپنی سنن میں کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے، امام طیبی نے کہا: اس خلیفہ سے مراد امام مہدی ہیں، کیونکہ امام ابوداود نے ان احادیث کو کتاب المھدی میں ذکر کیا ہے۔
12926
Zaeef