TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2212 جامع ترمزی

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
Chapter: What Has Been Related About The Signs Of The Occurrence Of The Transformation And The Collapse Of The Earth
باب: زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کی علامت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَتَى ذَاكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا ظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلا، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
Imran bin Husain narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: In this Ummah there shall be collapsing of the earth, transformation and Qadhf. A man among the Muslims said: O Messenger of Allah! When is that? He said: When singing slave-girls, music, and drinking intoxicants spread.
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں «خسف»،‏‏‏‏ «مسخ» اور «قذف» واقع ہو گا“ ۱؎، ایک مسلمان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کب ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہو جائیں گے اور شراب خوب پی جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث «عن الأعمش عن عبدالرحمٰن بن سابط عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے، ۲- یہ حدیث غریب ہے۔
2212
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Jami` at-Tirmidhi 2212 In-book reference : Book 33, Hadith 55 English translation : Vol. 4, Book 7, Hadith 2212
صحيح، الصحيحة (1604) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2212
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۰۸۶۴)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : «خسف» : زمین کا دھنسنا، «مسخ» : صورتوں کا تبدیل ہونا، «قذف» : پتھروں کی بارش ہونا۔ اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے “۔

Related Chapters

196
1
Chapter: What has been Related About The Earth Swallowing
باب: زمین دھنسنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: The Earth collapsing
زمین کے دھنسنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
3
Chapter: What Has Been Related About 'All Of The Earth Is A Masjid, Except For The Graveyard And Washroom'
باب: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے علاوہ پوری زمین سجدہ گاہ ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About: Allah Has Angels Who Go About On The Earth
باب: زمین میں اللہ کے گھومنے پھرنے والے فرشتے ہیں
Jam e Tirmazi
5
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
Musnad Ahmad
6
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
(56) CHAPTER. The saying of the Prophet , “The earth has been made for me a Masjid (place for praying) and a thing to purify (to perform Tayammum).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے لیے ساری زمین پر نماز پڑھنے اور پاکی حاصل کرنے ( یعنی تیمم کرنے ) کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
8
(27) CHAPTER. What is said about earthquakes and (other) signs (of the approach of the Day of Judgement).
بھونچال اور قیامت کی نشانیوں کے بیان میں
Sahih Bukhari
9
(2) CHAPTER. What has been said regarding the seven earths.
سات زمینوں کا بیان
Sahih Bukhari
10
(17) CHAPTER. Allah's Statement: “Verily! In the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day, there are indeed signs for men of understading.” (V.3:190)
آیت ( ( ان فی خلق السموات والارض ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
11
(44) CHAPTER. On the Day of Resurrection, Allah will grasp (or hold) the whole (planet of) earth (in His Hand).
اللہ تعالیٰ زمین کواپنی مٹھی میں لے لے گا ۔
Sahih Bukhari
12
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “And it is He Who has created the heavens and the earth in truth…” (V.6:73)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الانعام میں ” اور وہی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا “ ۔
Sahih Bukhari
13
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, Allah grasps the heavens and the earth lest they move away from their places…” (V.35:41)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ فاطر میں یہ فرمان کہ بلاشبہ اللہ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے وہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتے ۔
Sahih Bukhari
14
(27) CHAPTER. What has been said regarding the creation of the heavens, earth and other created beings
آسمانوں اور زمین اور دوسری مخلوق کے پیدا کرنے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
15
Chapter: When Allah Loves A Person. He Commands Jibril To Love Him, And He Loves Him, And The People Of Heaven Love Him, Then He Finds Acceptance On Earth
جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو حکم دیتا ہے تو وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے
Sahih Muslim
16
Chapter: The Disbeliever Seeking Ransom With An Earthful Of Gold
کافر کا اپنے چھٹکارے کے لئے زمین بھر سونے کو طلب کرنا
Sahih Muslim
17
Chapter: The Earth Swallowing Up The Army That Aims To Attack The Ka'bah
بیت اللہ کا رخ کرکے والے لشکر کا زمین میں د ھنس جانا
Sahih Muslim
18
Chapter: The Emergence Of Ad-Dajjal And His Stay On Earth, And The Descent Of 'Eisa Who Will Kill Him. The Death Of The People Of Goodness And Faith, And The Survival Of The Worst Of People, And Their Idol-Worship. The Trumpet Blast, And The Resurrection Of Those Who Are In Their Graves
دجال نکل کر زمین میں رہے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتر کر اسے قتل کریں گے بھلائی اور ایمان والے لوگ رخصت ہو جا ئیں گے۔بدترین لوگ اور شیطان کی پوجا کرنے والے باقی رہ جائیں گے۔ اور صورپھونکا جائے گا اور جوقبروں میں ہیں انھیں اٹھا دیا جائے گا
Sahih Muslim
19
CHAPTER: The Earth Becomes Pure When Dry.
باب: زمین خشک ہو کر پاک ہو جاتی ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
20
(112)Chapter: What Has Been Related About Urine That Touches The Ground
باب: جس زمین پر پیشاب لگ جائے
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Placing The Hands and Planting The Feet During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنے اور دونوں پاؤں کھڑے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Leveling The Grave
باب: قبروں کو زمین کے برابر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Land That Is Owned By Partners When One Of Them Wants To Sell His Share
باب: مشترکہ زمین جس کا حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About One Who Farms A Prople's Land Without Their Permission
باب: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Mentioned About Reviving Barren Land
باب: غیر آباد زمین آباد کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
باب: صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What has been Related About The Inhabitants of Ash-Sham
باب: سر زمین شام کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What has been Related About The Signs Of The Hour
باب: علامات قیامت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Signs of the Dajjal
باب: دجال کی نشانیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Signs of the Coming of The Dajjal
باب: خروج دجال کی نشانیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: Doing Deeds During Fitan, The Land Of Fitan, And The Signs of Fitan
باب: ایسے زمانے کی پیشین گوئی جس میں تھوڑی نیکی بھی باعث نجات ہو گی
Jam e Tirmazi
32
Chapter: The Hadith:
باب: زمین جائیداد نہ بناؤ کہ اس سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Signs Of The Hypocrite
باب: منافق کی پہچان کا بیان
Jam e Tirmazi
34
باب: خراب نام کی تبدیلی کا بیان
Jam e Tirmazi
35
بَاب الْكَبَائِر وعلامات النِّفَاق
کبیرہ گناہوں اور نفاق کی علامتوں کا بیان
Mishkat
36
بَاب إحْيَاء الْموَات وَالشرب
بنجر زمین کو آباد کرنے اور پانی کی باری کا بیان
Mishkat
37
بَابُ الْعَلَامَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ
قبل از قیامت علامتوں اور دجال کے ذکر کا بیان
Mishkat
38
بَاب عَلَامَات النُّبُوَّة
نبوت کی علامتوں کا بیان
Mishkat
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
40
زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
Musnad Ahmad
42
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
Musnad Ahmad
43
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
44
امام اور لوگوں کا دعا کے دوران اپنی اپنی چادریں تبدیل کرنے اور ان کی کیفیت اور وقت کا بیان
Musnad Ahmad
45
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
46
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
47
ہدی کے معیّن جانور کو تبدیل نہ کرنا، اگر وہ نہ پایا جائے، جبکہ وہ اونٹ ہو تو اس کے متبادل سات بکریاں ہوں گی
Musnad Ahmad
48
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
Musnad Ahmad
49
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
Musnad Ahmad
50
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

500
Jam e Tirmazi
169
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمُرُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا مَعَهُمَا . وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَأَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُعْفِيٍّ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ قَيْسٌ أَوْ ابْنُ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي السَّمَرِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَرِهَ قَوْمٌ مِنْهُمُ السَّمَرَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ إِذَا كَانَ فِي مَعْنَى الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا لَا بُدَّ مِنْهُ مِنَ الْحَوَائِجِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَكْثَرُ الْحَدِيثِ عَلَى الرُّخْصَةِ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا سَمَرَ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ .
Umar bin Al-Khattab narrated: Allah's Messenger would talk during the night with Abu Bakr about matters concerning the Muslims while I was with them.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسلمانوں کے بعض معاملات میں سے ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ رات میں گفتگو کرتے اور میں ان دونوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، اوس بن حذیفہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم نے عشاء کے بعد بات کرنے کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے عشاء کے بعد بات کرنے کو مکروہ جانا ہے اور کچھ لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، بشرطیکہ یہ کوئی علمی گفتگو ہو یا کوئی ایسی ضرورت ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو ۱؎ اور اکثر احادیث رخصت کے بیان میں ہیں، نیز نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”بات صرف وہ کر سکتا ہے جو نماز عشاء کا منتظر ہو یا مسافر ہو“۔
Jam e Tirmazi
528
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ حَقٌّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَمَسَّ أَحَدُهُمْ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَالْمَاءُ لَهُ طِيبٌ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَشَيْخٍ مِنْ الْأَنْصَارِ.
Al-Bara bin Azib narrated that : Allah's Messenger said: It is a duty for the Muslims, that they perform Ghusl on Friday, and that each of them wear some of his family's perfume. If he does not find any, then water is a perfume for him.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جمعہ کے دن غسل کریں اور ہر ایک اپنے گھر والوں کی خوشبو میں سے خوشبو لگائے، اگر اسے خوشبو میسر نہ ہو تو پانی ہی اس کے لیے خوشبو ہے“۔ اس باب میں ابوسعید رضی الله عنہ اور ایک انصاری شیخ سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
1424
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ادْرَءُوا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ،‏‏‏‏ فَإِنْ كَانَ لَهُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ،‏‏‏‏ فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ،‏‏‏‏ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعَةَ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَرْفَعْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعَةَ،‏‏‏‏ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَرَوَاهُ وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ،‏‏‏‏ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ،‏‏‏‏ وَرِوَايَةُ وَكِيعٍ أَصَحُّ،‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ أَنَّهُمْ قَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ،‏‏‏‏ وَيَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ،‏‏‏‏ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَأَقْدَمُ.
Narrated 'Aishah: that the Messenger of Allah (ﷺ): Avert the legal penalties from the Muslims as much as possible, if he has a way out then leave him to his way, for if the Imam makes a mistake in forgiving it would be better than making mistake in punishment.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک تم سے ہو سکے مسلمانوں سے حدود کو دفع کرو، اگر مجرم کے بچ نکلنے کی کوئی صورت ہو تو اسے چھوڑ دو، کیونکہ مجرم کو معاف کر دینے میں امام کا غلطی کرنا اسے سزا دینے میں غلطی کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ اس سند سے وکیع نے یزید بن زیاد سے محمد بن ربیعہ کی حدیث کی طرح بیان کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم مرفوع صرف بطریق: «محمد بن ربيعة عن يزيد بن زياد الدمشقي عن الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» ہی جانتے ہیں، ۲- اسے وکیع نے بھی یزید بن زیاد سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن یہ مرفوع نہیں ہے، اور وکیع کی روایت زیادہ صحیح ہے، ۳- یزید بن زیاد دمشقی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، اور یزید بن ابوزیاد کوفی ان سے زیادہ اثبت اور اقدم ہیں، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے اسی طرح مروی ہے، ان تمام لوگوں نے ایسا ہی کہا ہے، ۵- اس باب میں ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2127
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ خَطَبَنَا عَلِيٌّ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، ‏‏‏‏‏‏صَحِيفَةٌ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشْيَاءٌ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ كَذَبَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ فِيهَا:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، ‏‏‏‏‏‏وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرَوَى بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَهُ.
Ibrahim At-Taimi narrated from his father: 'Ali delivered a Khutbah for us in which he said: 'Whoever claims that we have some book to read other than Allah's Book and this paper, which include camel's ages and things related to (relatiation for) wounds, then he has lied. And he said in it: Al-Madinah is sacred, what is between 'Air to Thawr, so whoever introduces in it any innovation or shelters an innovator then upon him is the curse of Allah, the angels, and all people. On the Day of Judgment, Allah will not accept his compulsory nor optional good deeds. And whoever claims someone else to be his father, or claims Wala' for someone other than his Mawali, then upon him is the curse of Allah, the angels, and the people; his compulsory and optional good deeds shall not be accepted. The covenants of the Muslims are one, it covers the rest of them. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Some of them reported it similarly from Al-A'mash, from Ibrahim At-Taimi, from Al-Harith bin Suwaid from 'Ali. [Abu 'Eisa said:] It has been reported through more than one route from 'Ali [from the Prophet (ﷺ)].
یزید بن شریک تیمی کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا اور کہا: جو کہتا ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ - جس کے اندر اونٹوں کی عمر اور جراحات ( زخموں ) کے احکام ہیں - کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹ کہتا ہے ۱؎ علی رضی الله عنہ نے کہا: اس صحیفہ میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیر سے لے کر ثور تک مدینہ حرم ہے ۲؎ جو شخص اس کے اندر کوئی بدعت ایجاد کرے یا بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے، اس پر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نہ کوئی فرض عبادت قبول کرے گا اور نہ نفل اور جو شخص دوسرے کے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے یا اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کو اپنا مالک بنائے اس کے اوپر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اس کی نہ فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل، مسلمانوں کی طرف سے دی جانے والی پناہ ایک ہے ان کا معمولی شخص بھی اس پناہ کا مالک ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے «عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن علي» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث کئی سندوں سے علی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
Jam e Tirmazi
2210
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ أَبُو فَضَالَةَ الشَّامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا فَعَلَتْ أُمَّتِي خَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً حَلَّ بِهَا الْبَلَاءُ ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ الْمَغْنَمُ دُوَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، ‏‏‏‏‏‏وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَطَاعَ الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبَرَّ صَدِيقَهُ وَجَفَا أَبَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ، ‏‏‏‏‏‏وَلُبِسَ الْحَرِيرُ، ‏‏‏‏‏‏وَاتُّخِذَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَرْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ أَوْ خَسْفًا وَمَسْخًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ غَيْرَ الْفَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ عَنْهُ وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ.
Ali bin Abi Talib narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: When my Ummah does fifteen things, the afflictions will occur in it. It was said: What are they O Messenger of Allah? He said: When Al-Maghnam (the spoils of war) are distributed (preferentially), trust is usurped, Zakah is a fine, a man obeys his wife and disobeys his mother, he is kind to his friend and abandons his father, voices are raised in the Masajid, the leader of the people is the most despicable among them, the most honored man is the one whose evil the people are afraid of, intoxicants are drunk, silk is worn (by males), there is a fascination for singing slave-girls and music, and the end of this Ummah curses its beginning. When that occurs, anticipate a red wind, collapsing of the earth, and transformation.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میری امت پندرہ چیزیں کرنے لگے تو اس پر مصیبت نازل ہو گی“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا، اپنے دوست پر احسان کرے اور اپنے باپ پر ظلم کرے، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے، شراب پی جائے، ریشم پہنا جائے، ( گھروں میں ) گانے والی لونڈیاں اور باجے رکھے جائیں اور اس امت کے آخر میں آنے والے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں تو اس وقت تم سرخ آندھی یا زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کا انتظار کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے علی بن ابوطالب کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- ہم فرج بن فضالہ کے علاوہ دوسرے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت کی ہو اور فرج بن فضالہ کے بارے میں کچھ محدثین نے کلام کیا ہے اور ان کے حافظے کے تعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے، ان سے وکیع اور کئی ائمہ نے روایت حدیث کی ہے۔
Jam e Tirmazi
2211
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ الْمُسْتَلِمِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رُمَيْحٍ الْجُذَامِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا اتُّخِذَ الْفَيْءُ دُوَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، ‏‏‏‏‏‏وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، ‏‏‏‏‏‏وَتُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَدْنَى صَدِيقَهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَظَهَرَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، ‏‏‏‏‏‏وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَرْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ وَزَلْزَلَةً وَخَسْفًا وَمَسْخًا وَقَذْفًا، ‏‏‏‏‏‏وَآيَاتٍ تَتَابَعُ كَنِظَامٍ بَالٍ قُطِعَ سِلْكُهُ فَتَتَابَعَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said: When Al-Fai' is distributed(preferentially), trust is a spoil of war, Zakat is a fine, knowledge is sought for other than the(sake of the) religion, a man obeys his wife and disobeys his mother, he is close to his friend and far from his father, voices are raised in the Masajid, tribes are led by their wicked, the leader of the people is the most despicable among them, the most honored man is the one whose evil the people are afraid of, singing slave-girls and music spread, intoxicants are drunk, and the end of this Ummah curses its beginning- then anticipate a red wind, earthquake, collapsing of the earth, transformation, Qadhf, and the signs follow in succession like gems of a necklace whose string is cut and so they fall in succession.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو مال غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، دین کی تعلیم کسی دوسرے مقصد سے حاصل کی جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے، اپنے دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے گا، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، فاسق و فاجر آدمی قبیلہ کا سردار بن جائے، گھٹیا اور رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے گی، گانے والی عورتیں اور باجے عام ہو جائیں، شراب پی جائے اور اس امت کے آخر میں آنے والے اپنے سے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں گے تو اس وقت تم سرخ آندھی، زلزلہ، زمین دھنسنے، صورت تبدیل ہونے، پتھر برسنے اور مسلسل ظاہر ہونے والی علامتوں کا انتظار کرو، جو اس پرانی لڑی کی طرح مسلسل نازل ہوں گی جس کا دھاگہ ٹوٹ گیا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
3067
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdullah: When (the following) was revealed: It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong) (6:82) - That bothered some Muslims, so they said: 'O Messenger of Allah! Which of us has not wronged himself?' He said: 'It is not that, it is only Shirk, have you not heard what Luqman said to his son: O my son! Do not commit Shirk with Allah. Verily Shirk is a tremendous Zulm (wrong) (31:13).'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم ( شرک ) کی آمیزش نہ کی“ ( الأنعام ۸۲ ) ، نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات گراں گزری، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کون ایسا ہے جس سے اپنی ذات کے حق میں ظلم و زیادتی نہ ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( تم غلط سمجھے ) ایسی بات نہیں ہے، اس ظلم سے مراد صرف شرک ہے، کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی تھی؟ انہوں نے کہا تھا: «يا بني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اے میرے بیٹے! شرک نہ کر، شرک بہت بڑا گناہ ہے“ ( لقمان: ۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Mishkat
5450
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اتُّخِذَ الْفَيْءُ دِوَلًا وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا وَتُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ وَأَدْنَى صَدِيقَهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ وَظَهَرَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ وَظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وشُربتِ الخمورُ وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا فَارْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ وَزَلْزَلَةً وَخَسْفًا وَمَسْخًا وَقَذْفًا وَآيَاتٍ تَتَابَعُ كَنِظَامٍ قُطِعَ سِلْكُهُ فَتَتَابَعَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مالِ فے / مالِ غنیمت کو دولت ، امانت کو مال غنیمت اور زکوۃ کو تاوان سمجھا جائے ، علم دینی مقاصد کے علاوہ دنیوی مقاصد کے لیے حاصل کیا جائے ، آدمی اپنی اہلیہ کا اطاعت گزار بن جائے اور اپنی والدہ کی نافرمانی کرے ، وہ اپنے دوست کو مقرب بنائے اور اپنے والد کو دور رکھے ، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں ، قبیلے کا سب سے زیادہ احمق شخص قبیلے کا سردار بن جائے ، قوم کا ذمہ دار و منتظم ان کا سب سے زیادہ رذیل شخص ہو ، آدمی کی اس کے شر کے خوف کی وجہ سے عزت کی جائے ، گانے والیاں اور آلاتِ موسیقی عام ہو جائیں ، شراب نوشی کی جائے ، اور اس امت کے بعد والے لوگ اپنے پہلے لوگوں (یعنی سلف) پر لعن و طعن کریں تو اس وقت تم سرخ آندھیوں ، زلزلوں ، زمین میں دھنسنے ، چہروں کے مسخ ہو جانے ، آسمان سے پتھر برسنے اور دیگر نشانیوں کے اس طرح مسلسل آنے کا انتظار کرو جس طرح ہار کی ڈوری ٹوٹ جائے تو پھر موتی لگاتار گرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Sahih Muslim
3331
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: «يَوْمَ الْقِيَامَةِ» وَزَادَ: «وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ»
A hadith like this has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters, but no mention has been made of the Day of Resurrection. But this addition is made: The protection granted by Muslims is one and must be respected by the humblest of them. And he who broke the covenant made by a Muslim, there is a curse of Allah, of his angels, and of the whole people upon him, and neither an obligatory act nor a supererogatory act would be accepted from him as recompense on the Day of Resurrection.
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، اور انھوں نے " قیامت کے دن " کے الفاظ نہیں کہے اور یہ اضافہ کیا : " اور تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ( جیسا ) ہے ان کا ادنیٰآدمی بھی پناہ کی پیش کش کر سکتا ہے جس نے کسی مسلمان کی امان توڑی اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے ۔ قیامت کے دن اس سے کو ئی بدلہ قبول کیا جا ئے گا نہ کو ئی عذر ۔