TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4108 صحیح بخاری

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 12 of 20 in this chapter
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَوْسَاتُهَا تَنْطُفُ , قُلْتُ : قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ , فَقَالَتْ : الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ , فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ , قَالَ : مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ , قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ : فَهَلَّا أَجَبْتَهُ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ , فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِكُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ , فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ , قَالَ حَبِيبٌ : حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ . قَالَ مَحْمُودٌ : عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : وَنَوْسَاتُهَا .
Narrated `Ikrima bin Khalid: Ibn `Umar said, I went to Hafsa while water was dribbling from her twined braids. I said, 'The condition of the people is as you see, and no authority has been given to me.' Hafsa said, (to me), 'Go to them, and as they (i.e. the people) are waiting for you, and I am afraid your absence from them will produce division amongst them.' So Hafsa did not leave Ibn `Umar till we went to them. When the people differed. Muawiya addressed the people saying, 'If anybody wants to say anything in this matter of the Caliphate, he should show up and not conceal himself, for we are more rightful to be a Caliph than he and his father. On that, Habib bin Masalama said (to Ibn `Umar), Why don't you reply to him (i.e. Muawiya)? `Abdullah bin `Umar said, I untied my garment that was going round my back and legs while I was sitting and was about to say, 'He who fought against you and against your father for the sake of Islam, is more rightful to be a Caliph,' but I was afraid that my statement might produce differences amongst the people and cause bloodshed, and my statement might be interpreted not as I intended. (So I kept quiet) remembering what Allah has prepared in the Gardens of Paradise (for those who are patient and prefer the Hereafter to this worldly life). Habib said, You did what kept you safe and secure (i.e. you were wise in doing so).
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ‘ انہیں معمر بن راشد نے ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور معمر بن راشد نے بیان کیا کہ مجھے عبداللہ بن طاؤس نے خبر دی ‘ ان سے عکرمہ بن خالد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ ‘ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا موقع پر نہ پہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے۔ آخر حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر عبداللہ رضی اللہ عنہ گئے۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے۔ یقیناً ہم اس سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنے لنگی کھولی ( جواب دینے کو تیار ہوا ) اور ارادہ کر چکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آ گئیں جو اللہ تعالیٰ نے ( صبر کرنے والوں کے لیے ) جنت میں تیار کر رکھی ہیں۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لیے گئے ‘ آفت میں نہیں پڑے۔ محمود نے عبدالرزاق سے ( «نسواتها‏.» کے بجائے لفظ ) «ونوساتها‏.» بیان کیا ( جس کے معنی چوٹی کے ہیں جو عورتیں سر پر بال گوندھتے وقت نکالتی ہیں ) ۔
4108
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

254
1
(79) CHAPTER. The Ghazwa of Tabuk, which is also called Ghazwa AI-Usrah (i.e., the battle of hardship).
غزوہتبوک کا بیان ، اس کا دوسرا غزوہ عسرت یعنی ( تنگی کا غزوہ ) بھی ہے ۔
Sahih Bukhari
2
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
Sahih Bukhari
3
Chapter: The Battle of Al-Ahzab (The Confederates), also known as Al-Khandaq (The Ditch)
غزوہ احزاب اور وہی غزوہ خندق ہے
Sahih Muslim
4
Chapter: What Has Been Related About Those Who Deal In Trade And What The Prophet (S) Called Them
باب: تاجروں کا ذکر اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ان کے نام رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: The Reign of a Man among the Mawali called Jahjah
باب: جہجاہ نامی غلام کی حکمرانی کے بارے میں پیش گوئی
Jam e Tirmazi
6
(3) CHAPTER. Al-Madina is also called Taba.
مدینہ کا ایک نام طابہ بھی ہے
Sahih Bukhari
7
(103) CHAPTER. Concealing the true destination of a Ghazwa by using an equivocation which indicates apparently that one is going to a different destination; and the preference of Thursday for journeys (by the Prophet (p.b.u.h)).
لڑائی کا مقام چھپانا ( دوسرا مقام بیان کرنا ) اور جمعرات کے دن سفر کرنا
Sahih Bukhari
8
(29) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Ar-Raji, Ril, Dhakwan and Bir Mauna.
غزوہ رجیع کا بیان
Sahih Bukhari
9
(32) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Dhat-ur-Riqa.
غزوہ ذاتالرقاع کا بیان
Sahih Bukhari
10
(33) CHAPTER. The Ghazwa of Banu Al-Mustaliq which belongs to the tribe of Khuzaa. It is also called the Ghazwa of Al- Muraisi.
غزوہ بنو المصطلق کا بیان جو قبیلہ بنو خزاعہ سے ہوا تھا اور یہی غزوہ مریسیع ( بھی کہلاتا ) ہے
Sahih Bukhari
11
Chapter: Al-Madinah eliminates its Dross and it is also called Tabah, and Taibah
مدینہ اپنے میل کچیل (شریر لوگوں)کو نکال دیتا ہے اور اس کا نام طابہ (پاک کرنے والا )اور طیبہ (پاکیزہ )ہے
Sahih Muslim
12
Chapter: The Battle of Al-Ahzab (The Confederates)
غزوہ احزاب
Sahih Muslim
13
Chapter: Everything that is taken from the date palm or grape vine and steeped is called Khamr
(پہلے مرحلے میں) جو بھی نبیذ بنائی جاتی ہے،کھجور سے ہو یا انگور سے(خمیر اٹھنے کے بعد) اسی کا نام شراب ہے
Sahih Muslim
14
CHAPTER: Can A Mare Be Called A (Faras ) Horse?
باب: کیا گھوڑی کا نام فرس رکھا جائے گا ؟
Sunnan Abu Dawood
15
Chapter: What Has Been Related About 'When Supper Is Present And The Iqamah Is Called For Salat Then Begin With Supper'
باب: شام کا کھانا حاضر ہو اور نماز کھڑی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لو
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About 'When The Iqamah Has Been Called For Salat Then There Is No Salat But The Obligatory'
باب: جب جماعت کھڑی ہو جائے تو فرض کے سوا کوئی نماز جائز نہیں ہے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Hands No Being Cut In Battles
باب: دوران جنگ چور کے ہاتھ نہ کاٹے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Kills Someone In Battle, Then His Goods Are His
باب: کافر کا قاتل مقتول کے سامان کا حقدار گا
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Number Of Companions Who Participated In The Battle Of Badr
باب: اہل بدر کی تعداد کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Said On The Day Of The Conquest: Verily This Is Not To Be Battled Over After Today
باب: فتح مکہ کے دن فرمان نبوی ”آج کے بعد مکہ میں جہاد نہیں کیا جائے گا“ کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Naval Battles
باب: سمندر میں جہاد کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Benn Related About One Who Goes Out For Battle Abandoning His Parents
باب: ماں باپ کو چھوڑ کر جہاد میں نکلنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Battles Of The Prophet (saws) And How Many There Were
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے غزوات کا ذکر اور ان کی تعداد کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About: When Kisra is Ruined There Will Be No Kisra After him
باب: کسریٰ کی ہلاکت کے بعد کوئی دوسرا کسریٰ نہیں ہو گا
Jam e Tirmazi
25
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان: «من رآني في المنام فقد رآني» کا بیان
Jam e Tirmazi
26
باب: نومولود کا نام جلد رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
باب: پسندیدہ ناموں کا بیان
Jam e Tirmazi
28
باب: ناپسندیدہ ناموں کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: خراب نام کی تبدیلی کا بیان
Jam e Tirmazi
30
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
31
بَاب أَسمَاء الله تَعَالَى
اللہ تعالیٰ کے ناموں کا بیان
Mishkat
32
بَابُ الْكِتَابِ إِلَى الْكُفَّارِ وَدُعَائِهِمْ إِلَى الْإِسْلَامِ
کفار کے نام خط لکھنے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے کا بیان
Mishkat
33
بَاب الْأَسَامِي
ناموں کا بیان
Mishkat
34
سیدنا ابو رزین عقیلی ؓ، جن کا نام لقیط بن عامر تھا، کی آمد کا بیان
Musnad Ahmad
35
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
Musnad Ahmad
36
جس مستحاضہ کی عادت بھی نامعلوم ہو اور وہ خون میں تمیز بھی نہ کر سکتی ہو، وہ کیا کرے؟
Musnad Ahmad
37
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
38
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
Musnad Ahmad
41
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے محبوب نام
Musnad Ahmad
42
حسین نام رکھنے کی رغبت دلانا اور بعض فرشتوں کے ناموں کا بیان
Musnad Ahmad
43
محمد نام رکھنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
44
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
Musnad Ahmad
45
حرام اور مکروہ نام
Musnad Ahmad
46
معلومیا نامعلوم چیزمیں صلح کے جائز ہونے اوردونوں صورتوں میں ہو جانے والی کمی بیشی کو معاف کردینے کا بیان
Musnad Ahmad
47
اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے
Musnad Ahmad
48
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
49
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
حمل کی وجہ سے لعان کرنے کا مسئلہ اور اس شخص کا بیان جو مرد کا نام لے کر اپنی بیوی پر تہمت لگاتا ہے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

5
Mishkat
1147
عَن عبيد الله بن عبد الله بن عتبَة قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: «أصلى النَّاس؟» قُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» قَالَتْ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ» . قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ. فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وجد من نَفْسِهِ خِفَّةً وَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ قَالَ: «أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ» فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَاعد. قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثتنِي بِهِ عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قلت لَا قَالَ هُوَ عَليّ رَضِي الله عَنهُ
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ، میں عائشہ ؓ کے پاس گیا اور عرض کیا : کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے مرض کے متعلق مجھے کچھ بتائیں گی ؟ انہوں نے فرمایا : کیوں نہیں ، فرمایا : جب نبی ﷺ بیمار ہوئے تو آپ نے پوچھا :’’ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، نہیں ، اللہ کے رسول ! وہ تو آپ کا انتظار کر رہے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے ٹب میں پانی ڈالو ۔‘‘ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم نے پانی ڈال دیا تو آپ نے غسل فرمایا ، آپ نے اٹھنے کا قصد کیا تو آپ پر غشی طاری ہو گئی ، پھر افاقہ ہوا تو فرمایا :’’ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! نہیں ، وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے لیے ٹب میں پانی ڈالو ۔‘‘ آپ نے بیٹھ کر غسل فرمایا ، پھر اٹھنے کا قصد کیا تو آپ پر غشی طاری ہو گئی ، پھر افاقہ ہوا تو فرمایا :’’ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں ۔‘‘ ہم نے عرض کیا ، نہیں اللہ کے رسول ! اور لوگ مسجد میں کھڑے نماز عشاء کے لیے نبی ﷺ کے منتظر تھے ، نبی ﷺ نے ابوبکر ؓ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، قاصد ان کے پاس آیا اور اس نے کہا ، رسول اللہ ﷺ آپ کو حکم فرما رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ابوبکر ؓ نے ، جو کہ رقیق قلب تھے ، فرمایا : عمر ! آپ نماز پڑھائیں ، تو عمر ؓ نے انہیں فرمایا : آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں ، ابوبکر ؓ نے ان ایام میں نماز پڑھائی ، پھر نبی ﷺ نے اپنی طبیعت میں بہتری محسوس کی تو آپ دو آدمیوں ، ان میں سے ایک عباس ؓ تھے ، کے سہارے نماز ظہر کے لیے تشریف لائے جبکہ ابوبکر ؓ نماز پڑھا رہے تھے ، جب ابوبکر ؓ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے ، لیکن نبی ﷺ نے انہیں پیچھے نہ ہٹنے کا اشارہ فرمایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو ۔‘‘ انہوں نے آپ کو ابوبکر ؓ کے پہلو میں بٹھا دیا ، اور نبی ﷺ نے بیٹھ کر نماز ادا کی ۔ عبیداللہ بیان کرتے ہیں ، میں عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس گیا ، تو میں نے انہیں کہا : کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان کروں جو عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے مرض کے متعلق مجھے بیان کی ہے ، انہوں نے فرمایا : بیان کرو ، میں نے ان سے مروی حدیث انہیں بیان کی تو انہوں نے اس حدیث میں سے کسی چیز کا انکار نہ کیا ، البتہ انہوں نے یہ پوچھا : کیا انہوں نے عباس ؓ کے ساتھ دوسرے آدمی کے نام کے بارے میں تمہیں بتایا تھا ؟ میں نے کہا : نہیں ، انہوں نے فرمایا : وہ علی ؓ تھے ۔ متفق علیہ ۔
Sahih Bukhari
687
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : بَلَى ، ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَصَلَّى النَّاسُ ، قُلْنَا : لَا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ ، قَالَ : ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ، قَالَتْ : فَفَعَلْنَا ، فَاغْتَسَلَ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَلَّى النَّاسُ ، قُلْنَا : لَا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ، قَالَتْ : فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّى النَّاسُ ، قُلْنَا : لَا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ، فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّى النَّاسُ ، فَقُلْنَا : لَا ، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَام لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا ، يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ ، قَالَ : أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ ، فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ يَأْتَمُّ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ : أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا ، فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : هُوَ عَلِيُّ .
Narrated 'Ubaidullah Ibn `Abdullah bin `Utba: I went to `Aisha and asked her to describe to me the illness of Allah's Apostle. `Aisha said, Yes. The Prophet became seriously ill and asked whether the people had prayed. We replied, 'No. O Allah's Apostle! They are waiting for you.' He added, 'Put water for me in a trough. `Aisha added, We did so. He took a bath and tried to get up but fainted. When he recovered, he again asked whether the people had prayed. We said, 'No, they are waiting for you. O Allah's Apostle,' He again said, 'Put water in a trough for me.' He sat down and took a bath and tried to get up but fainted again. Then he recovered and said, 'Have the people prayed?' We replied, 'No, they are waiting for you. O Allah's Apostle.' He said, 'Put water for me in the trough.' Then he sat down and washed himself and tried to get up but he fainted. When he recovered, he asked, 'Have the people prayed?' We said, 'No, they are waiting for you. O Allah's Apostle! The people were in the mosque waiting for the Prophet for the `Isha prayer. The Prophet sent for Abu Bakr to lead the people in the prayer. The messenger went to Abu Bakr and said, 'Allah's Apostle orders you to lead the people in the prayer.' Abu Bakr was a softhearted man, so he asked `Umar to lead the prayer but `Umar replied, 'You are more rightful.' So Abu Bakr led the prayer in those days. When the Prophet felt a bit better, he came out for the Zuhr prayer with the help of two persons one of whom was Al-`Abbas. while Abu Bakr was leading the people in the prayer. When Abu Bakr saw him he wanted to retreat but the Prophet beckoned him not to do so and asked them to make him sit beside Abu Bakr and they did so. Abu Bakr was following the Prophet (in the prayer) and the people were following Abu Bakr. The Prophet (prayed) sitting. 'Ubaidullah added I went to `Abdullah bin `Abbas and asked him, Shall I tell you what Aisha has told me about the fatal illness of the Prophet?' Ibn `Abbas said, 'Go ahead. I told him her narration and he did not deny anything of it but asked whether `Aisha told me the name of the second person (who helped the Prophet ) along with Al-Abbas. I said. 'No.' He said, 'He was `Ali (Ibn Abi Talib).
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں زائدہ بن قدامہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے خبر دی، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے کہا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا، کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی حالت آپ ہم سے بیان کرتیں، ( تو اچھا ہوتا ) انہوں نے فرمایا کہ ہاں ضرور سن لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے عرض کی جی نہیں یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظام کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لیے ایک لگن میں پانی رکھ دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر آپ اٹھنے لگے، لیکن آپ بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش ہوا تو پھر آپ نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کی نہیں، یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) فرمایا کہ لگن میں میرے لیے پانی رکھ دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے پھر پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل فرمایا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی لیکن ( دوبارہ ) پھر آپ بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش ہوا تو آپ نے پھر یہی فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ لگن میں پانی لاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی، لیکن پھر آپ بیہوش ہو گئے۔ پھر جب ہوش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لوگ مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے بیٹھے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیجا اور حکم فرمایا کہ وہ نماز پڑھا دیں۔ بھیجے ہوئے شخص نے آ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نماز پڑھانے کے لیے حکم فرمایا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے۔ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نماز پڑھاؤ، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ آخر ( بیماری ) کے دنوں میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا تو دو مردوں کا سہارا لے کر جن میں ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ظہر کی نماز کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے انہیں روکا کہ پیچھے نہ ہٹو! پھر آپ نے ان دونوں مردوں سے فرمایا کہ مجھے ابوبکر کے بازو میں بٹھا دو۔ چنانچہ دونوں نے آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بازو میں بٹھا دیا۔ راوی نے کہا کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی کر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ رہے تھے۔ عبیداللہ نے کہا کہ پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں گیا اور ان سے عرض کی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں جو حدیث بیان کی ہے کیا میں وہ آپ کو سناؤں؟ انہوں نے فرمایا کہ ضرور سناؤ۔ میں نے یہ حدیث سنا دی۔ انہوں نے کسی بات کا انکار نہیں کیا۔ صرف اتنا کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کا نام بھی تم کو بتایا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔
Sahih Muslim
936
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا: لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» فَقُلْنَا لَا، وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، قَالَتْ: فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ، لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَقَالَ لَهُمَا: «أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ» فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَاتِ فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ: لَا. قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ
Ubaidullah b. Abdullah reported: I visited 'A'isha and asked her to tell about the illness of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). She agreed and said: The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was seriously ill and he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: Put some water in the tub for me. We did accordingly and he (the Holy Prophet) took a bath;and, when he was about to move with difficulty, he fainted. When he came round, he again said: Have the people said prayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) again said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bag, but when he was about to move with difficultyhe fainted. When he came round, he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bath and he was about to move with difficulty when he fainted. When he came roundhe said: Have the people saidprayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. She ('A'isha) said: The people were staying in the mosque and waiting for the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to lead the last (night) prayer. She ('A'isha) said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent (instructions) to Abu Bakr to lead the people in prayer. When the messenger came, he told him (Abd Bakr): The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has ordered you to lead the people in prayer. Abu Bakr who was a man of very tenderly feelings asked Umar to lead the prayer. 'Umar said: You are more entitled to that. Abu Bakr led the prayers during those days. Afterwards the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) felt some relief and he went out supported by two men, one of them was al-'Abbas, to the noon prayer. Abu Bakr was leading the people in prayer. When Abu Bakr saw him. he began to withdraw, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) told him not to withdraw. He told his two (companions) to seat him down beside him (Abu Bakr). They seated him by the side of Abu Bakr. Abu Bakr said the prayer standing while following the prayer of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and the people Bald prayer (standing) while following the prayer of Abu Bakr. The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was seated. Ubaidullah said: I visited 'Abdullah b. 'Abbas, and said: Should I submit to you what 'A'isha had told about the illness of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ )? He said: Go ahead. I submitted to him what had been transmitted by her ('A'isha). He objected to none of it, only asking whether she had named to him the man who accompanied al-'Abbas. I said: No. He said: It was 'Ali.
موسیٰ بن ابی عائشہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا : کیا آپ مجھے رسول اللہﷺ کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! جب ( بیماری کے سبب ) نبی ( کے حرکات وسکنات ) بوجھل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول! نہیں ، وہ سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے پانی رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ نے اٹھنے کی کوشش کی تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، پھر آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھی لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کے منتظر ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ اٹھنے لگے توآپ پر غشی طاری ہو کئی ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر اٹھنے لگے تو بے شہوش ہو گئے ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ رسول اللہﷺ کا انتظار کرر ہے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لوگ مسجد میں اکٹھے بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہﷺ کا انتظار کر رہے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر رسول اللہﷺ نے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ پیغام لانے والا ان کے پاس آیا اور بولا : رسول اللہﷺ آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا ، اور وہ بہت نرم دل انسان تھے : عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : آپ ہی اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ان دنوں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر یہ ہوا کہ رسول اللہﷺ نے کچھ تخفیف محسوس فرمائی تو دو مردوں کا سہارا لے کر ، جن میں سے ایک عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھے ، نماز ظہر کے لیے نکلے ، ( اس وقت ) ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، جب ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ، اس پر نبیﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور آپ نے ان دونوں سے فرمایا : ’’ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو ۔ ‘ ‘ ان دونوں نے آپ کو ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پہلو میں بٹھا دیا ، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہو کر نبیﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور نبیﷺ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والے راوی ) عبید اللہ نے کہا : پھر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی : کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش نہ کروں ، جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا : لاؤ ۔ تو میں نے ان کے سامنے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پیش کی ، انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا ، ہاں! اتنا کہا : کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے تمہیں اس آدمی کا نام بتایا جو عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : وہ حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھے ۔
Silsila Sahih
1430
عَنْ أَبِي أُمَامَة الْبَاهِلِيّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُوْل: أَتَانِي رَجُلَانِ ، فَأَخَذَا بِضَبْعِي ، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا: اصْعُدْ. فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيْقُهُ . فَقاَلاَ: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ. فَصَعَدْتُّ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاء الْجَبَل، إِذَا أَنا بِأَصْواَتٍ شَدِيْدَةٍ ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَات ؟ قَالُوا: هَذاَ عَوَاءُ أَهْلِ النَّار ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلِّقِيْنَ بِعَرَاْقِيْبِهِمْ مُشَقَّقَة أَشْدَاقُهُمْ تَسِيْلُ أَشْدَاْقُهُمْ دَمًا ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاء الَّذِين يُفْطِرُوْنَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِم ،فَقَالَ: خَابَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصَارَى فَقَالَ سُلَيْمَانِ: مَا أَدْرِي أَسِمعَهُ أَبُو أُمَامَةَ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمْ شَيْءٌ مِنْ رَأْيِہ؟! ثُمَّ انْطَلَقَا بِي ، فَإِذَا بِقَوْم أَشَدّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا ، وَأَنْتَنِهِ رِيْحًا ، وَأَسْوَئِهِ مَنْظَرًا ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: هَؤُلاَءِ قَتْلَى الكُفَّارِ .ثُمَّ انْطَلَقَا بِي فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدَّ شَيْءٍ وَأَنْتَنِهِ رِيحًا، كَأَنَّ رِيْحَهُمْ المَرَاحِيْضُ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاء؟ قَالَ: هَؤُلاَءِ الزّانُوْنَ وَالزَّوَانِي ، ثُمَّ انْطَلَقَا بِي ، فَإِذَا انا بِنَسَاءٍ تَنْهَشُ ثُدِيَّهُنّ الْحَيَّاتُ ، قُلْتُ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ؟ قِيْل : هَؤُلَاء اللَّاتِي يَمْنَعْنَ أَوْلَادَهُنَّ أَلْبَانَهُنَّ ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي ، فَإِذَا أَناَ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْن نَهْرَيْنِ ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالاَ : هَؤُلَاءِ ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِيْن ، ثُمَّ أشَرَفَا بِي شَرَفًا ، فَإِذَا أَناَ بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ يَشْرَبُون مِنْ خَمرٍ لَهُمْ ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالُوْا: هَؤُلَاءِ جَعْفَرُ وَزَيْدُ وَابْنُ رَوَاحَةَ . ثُمَّ أشْرَفَا بِي شَرَفًا آخَر، فَإِذَا أَناَ بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَذاَ إِبْرَاهِيْم ، وَمُوسَى ، وَعِيسَى وَهَم يَنْتَظِرُونَكَ .
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ كہتےہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے میرے بازؤوں سے مجھے پكڑا اورایك خوفناک پہاڑ كے پاس لے آئے۔ كہنے لگے: اس پر چڑھئے، میں نے كہا: مجھ میں اتنی طاقت نہیں۔ انہوں نے كہا: ہم آپ كی مدد كرتے ہیں۔ میں اوپر چڑھ گیا اور پہاڑ كی چوٹی پر پہنچ گیا۔ اچانك میں نے شدید چیخ و پكار سنی ، میں نے كہا: یہ كیسی آواز یں ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ جہنمیوں كی آہ و بكا ہے، پھر وہ مجھے لے كر چل پڑے، میرے سامنے كچھ لوگ آئےجو الٹے لٹکے ہوئے تھے ، ان كی باچھیں چیری ہوئی تھیں، ان كی باچھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا : یہ كون لوگ ہیں؟انہوں نے کہا : یہ روزے كا وقت ہونے سے پہلے ہی روزہ افطار كر لیا كرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: یہودونصاریٰ ہلاك ہو گئے۔ سلیمان نے كہا: مجھے نہیں معلوم كہ یہ جملہ ابو امامہ نے آپ سے سنا ہے یا ان كی اپنی رائے ہے۔ پھر وہ( مجھے) لے كر ایسی قوم كے پاس گئے جن كے پیٹ پھولے ہوئے تھے، انتہائی بدبو اٹھ رہی تھی اور سیاہ ہو چكے تھے۔ میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ كفار كے مقتولین ہیں، پھر وہ مجھے لے كر ایسی قوم كے پاس گئے، جو پھولے ہوئے تھے ، گویا ان كی بدبو پاخانے كی طرح تھی، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا كہ زانی مرد اور عورتیں ہیں۔ پھر مجھے لے كر ایسی عورتوں كے پاس گئے جن كے پستانوں كو سانپ ڈس رہے تھے۔ میں نے پوچھا : ان كا كیا معاملہ ہے؟ اس نے كہا : یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچوں كو دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ پھر مجھے لے كرایسے بچوں كے پاس گئے جو دو نہروں كے درمیان كھیل رہے تھے ، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ مومنین کی (بچپن میں فوت ہوجانے والی) اولاد ہیں۔ پھر مجھے ایك اونچی جگہ لے گئے۔ میں نے تین آدمیوں كی ٹولی دیكھی جو شراب سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں نے پوچھا : یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا: جعفر، زیداورابنِ رواحہ رضی اللہ عنہم ہیں پھر مجھے ایك دوسرے ٹیلے پر لے گئے۔ میں نے تین آدمی دیكھے، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا: یہ ابراہیم،موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام ہیں جو آپ كے منتظر ہیں۔
Sunnan Nisai
835
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قال:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَصَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا:‏‏‏‏ لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ:‏‏‏‏ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَصَلَّى النَّاسُ قُلْنَا:‏‏‏‏ لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ:‏‏‏‏ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الثَّالِثَةِ مِثْلَ قَوْلِهِ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ صَلِّ بِالنَّاسِ فَجَاءَهُ الرَّسُولُ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَجَاءَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَأَمَرَهُمَا فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ فَحَدَّثْتُهُ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هُوَ عَلِيٌّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ.
It was narrated that 'Ubaidullah bin 'Abdullah said: I entered upon Aisha and said: 'Will you not tell me about the sickness of the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'When the Messenger of Allah (ﷺ), became seriously ill, he said: Have the people prayed? We said: No, they are waiting for you, 0 Messenger of Allah (ﷺ) He said: Put some water in a tub for me. We did that and he performed Ghusl, then he tried to get up but he fainted. Then he came to us and said: Have the people prayed? We said: No, they are waiting for you, 0 Messenger of Allah (ﷺ). He said: Put some water in a tub for me. We did that and he performed Ghusl, then he tried to get up but he fainted. Then for the third time he said the same thing. She said: The people were in the Masjid, waiting for the Messenger of Allah (ﷺ) to lead the prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) sent word to Abu Bakr, telling him to lead the people in prayer, so the messenger came to him and said: The Messenger of Allah (ﷺ) is telling you to lead the people in prayer. Abu Bakr was a tenderhearted man, he said: 0 'Umar. lead the in prayer. But ('Umar) said: You have more right to that. So Abu Bakr led them in prayer during those days. When the Messenger of Allah (ﷺ) felt a little better, he came with the help of two men, one of whom was Al-'Abbas, to pray Zuhr. When Abu Bakr saw him, he wanted to step back, but the Messenger of Allah (ﷺ) gestured to him not to step back. He told them (the two men) to seat him beside Abu Bakr, and Abu Bakr started to pray standing. The people were following the prayer of Abu Bakr and the Messenger of Allah (ﷺ) was praying sitting. ' I ('Ubaidullah) entered upon Ibn Abbas and said 'Shall I not tell you what Aisha narrated to me about the sickness of the Messenger of Allah (ﷺ)?' He said: 'Yes.' So I told him and he did not deny any of it, but he said: 'Did she tell you the name of the man who was with Al-'Abbas?' I said: 'No.' He said: 'That was Ali, may Allah honor his face. '
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا حال نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی شدت بڑھ گئی، تو آپ نے پوچھا:  کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟  تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر اٹھنے چلے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:  کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟  تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے چلے تو پھر بیہوش ہو گئے، پھر تیسری بار بھی آپ نے ایسا ہی فرمایا، لوگ مسجد میں جمع تھے، اور عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہلوا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو قاصد ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی تھے، تو انہوں نے  ( عمر رضی اللہ عنہ سے )  کہا: عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھا دو، تو انہوں نے کہا: آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؛ چنانچہ ان ایام میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندر ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے  ( ان دونوں میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے )  نماز ظہر کے لیے آئے، تو جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں، اور ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ان کے بغل میں بٹھا دیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے، لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صلاۃ کی اقتداء کر رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے۔  ( عبیداللہ کہتے ہیں )  میں ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا میں آپ سے وہ چیزیں بیان نہ کر دوں جو مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں! ضرور بیان کرو، تو میں نے ان سے سارا واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار نہیں کیا، البتہ اتنا پوچھا: کیا انہوں نے اس شخص کا نام لیا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: وہ علی  ( کرم اللہ وجہہ ) تھے۔