TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3538 سنن ابن ماجہ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 6 in this chapter
نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ زِرٍّ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا،‏‏‏‏ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ .
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The omen is polytheistic deed and anyone of us may think he sees an omen but Allah will dispel it by means of relying upon Him.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے ۱؎ اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا ۱؎۔
3538
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 31, Hadith 3538 Arabic reference : Book 31, Hadith 3667
Conclusion
تخریج
«سنن ابی داود/الطب ۲۴ (۳۹۱۰)، سنن الترمذی/السیر ۴۷ (۱۶۱۴)، تحفة الأشراف (۹۲۰۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۸۹،۴۳۸،۴۴۰)
Explanation
شرح و تفصیل
یعنی اللہ کے اوپر بھروسہ کرنے سے یہ وہم جاتا رہے گا، انسان کو چاہئے کہ اگر ایسا وہم کبھی دل میں آئے، تو اس کو بیان نہ کرے، اور منھ سے نہ نکالے،اور اللہ پر بھروسہ کرے، جو وہ چاہے وہ ہو گا، امام بخاری نے کہا: سلیمان بن حرب کہتے تھے کہ میرے نزدیک یہ قول: «ومامنا۔۔۔» اخیر تک ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، بلکہ اکثر حفاظ نے اس کو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کلام کہا ہے۔

Related Chapters

251
1
(44) CHAPTER. Al-Fal (good omen).
نیکفال لینا کچھ برا نہیں ہے
Sahih Bukhari
2
Chapter: What Has Been Related About At-Tiyarah (Bad Omens)
باب: بدشگونی اور بدفالی کا بیان
Jam e Tirmazi
3
موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
4
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
5
بیماری کا متعدی ہونا، بدشگونی لینا، اچھی فال لینا، طاعون اور اچانک موت بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کا بیان
Musnad Ahmad
6
(2) CHAPTER. If a person attests the honourable record of a witness by saying, I do not know except good about him.
اگر ایک شخص دوسرے کے نیک عادات و عمدہ خصائل بیان کرنے کے لئے اگر صرف یہ کہے کہ ہم تو اس کے متعلق اچھا ہی جانتے ہیں یا یہ کہے کہ میں اس کے متعلق صرف اچھی بات جانتا ہوں ۔
Sahih Bukhari
7
Chapter: The permissibility of using things that help in hunting and pursuing the enemy, but throwing small pebbles is disliked
شکار میں اور دشمن(کو نشانہ بنانے) کے لئے کسی چیز سے مدد لینا جائز ہے۔اور کنکریاں مارنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
8
Chapter: It is disliked to breathe into the vessel, and it is recommended to take three breaths, outside the vessel
پانی کے برتن کے اندر سانس لینامکروہ ہے اور برتن سے باہر تین مرتبہ سانس لینا مستحب ہے
Sahih Muslim
9
Chapter: It Is Recommended To Change Bad Names To Good Names, And To Change The Name Barrah To Zainab, Juwayriyah And The Like
تین برے ناموں کو اچھے ناموں سے بدلنا اوربرہ( ہر طرح سے نیک) کا نام بدل کر زینب اور جویریہ جیسا نام رکھ لینا مستحب ہے
Sahih Muslim
10
Chapter: The Plague, Ill Omens, Soothsaying And The Like
طاعون ،بدفالی اور کہانت وغیرہ (کا حکم)
Sahih Muslim
11
(14)Chapter: What Has Been Related Regarding] What Is Disliked For One to use for Istinja
باب: کن کن چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
12
(54)Chapter: [What Has Been Related] About Sprinkling Water On The Urine Of Young Boy Before (He reaches The Age That) He Eats Food
باب: دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر پانی چھڑک لینا کافی ہے
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About: For Whom Charity Is Not Lawful
باب: زکاۃ لینا کس کس کے لیے جائز نہیں؟
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Intercede In Legal Punishments
باب: حد میں سفارش کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Eat Masburah
باب: بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Is Disliked For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Eat From The Sacrificial Meat Beyond Three Days.
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: About It being Disliked To Sell The Spoils Of War Until It Has Been Distributed
باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Have Intercourse With Pregnant Female Prisoners
باب: حاملہ قیدی عورتوں سے جماع کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About What Is Lawful From The Wealth Of Ahl Adh-Dhimmah
باب: ذمی کے مال سے کتنا لینا جائز ہے؟
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Ishtimal As-Samma' And Al-Ihtiba'
باب: بدن کو پورے طور پر کپڑا سے لپیٹ لینا اور چوتڑ کے بل کپڑا لپیٹ کر بیٹھنا دونوں منع ہے​
Jam e Tirmazi
23
Chapter: Also About That
باب: ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
24
Chapter: Which Of The People Is The Best And Which Of Them Is The Worst
باب: لمبی عمر والا اچھے اعمال کے ساتھ سب سے اچھا آدمی ہے اور برے کام کے ساتھ سب سے برا​
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Gesture With Hand When Giving Salam
باب: ہاتھ کے اشارے سے سلام کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Return From A Night Journey to Ones Family At Night
باب: بیوی کے پاس سفر سے رات میں واپس آنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Say: Alaikas-Salam When Initiating The Greeting
باب: بات چیت کی ابتداء «علیک السلام» سے کہہ کر مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Kissing The Hand And The Feet
باب: ہاتھ پیر کا بوسہ لینا (کیسا ہے؟)
Jam e Tirmazi
29
باب: کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھ جانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
30
باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
31
باب: پیٹ کے بل (اوندھے منہ) لیٹنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
32
باب: خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے
Jam e Tirmazi
33
باب: زعفران اور خلوق کا استعمال مردوں کے لیے مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
34
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا نام اور آپ کی کنیت دونوں ایک ساتھ رکھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
35
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
Musnad Ahmad
36
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
37
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
Musnad Ahmad
38
ان ایام کا بیان کہ جن میں روزہ رکھنا مستحب یا مکروہ ہے
Musnad Ahmad
39
ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
40
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
Musnad Ahmad
41
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
Musnad Ahmad
42
ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
Musnad Ahmad
43
حرام اور مکروہ نام
Musnad Ahmad
44
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
45
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
Musnad Ahmad
46
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
47
کھڑے ہو کر اور ٹیک لگا کرکھانا کھانے کے مکروہ ہونے کا حکم
Musnad Ahmad
48
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
Musnad Ahmad
49
برتن میں سانس لینا اور پھونک مارنا منع ہے
Musnad Ahmad
50
پانی پینے کے دوران برتن سے باہر تین سانس لینا مستحب ہے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

859
Sahih Muslim
4491
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ
This hadith has been narrated on the authority of 'Abd al-Rahman b. Abu Bakra through another chain of transmitters.
ہشیم ، حماد بن سلمہ ، سفیان ، محمد بن جعفر ، شعبہ اور زائدہ سب نے عبدالملک بن عمیر سے ، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جس طرح ابوعوانہ کی حدیث ہے
Sahih Muslim
4508
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، إِلَّا حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَزَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، «فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعَدَدِهَا وَوِعَائِهَا وَوِكَائِهَا، فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ»، وَزَادَ سُفْيَانُ فِي رِوَايَةِ وَكِيعٍ: «وَإِلَّا فَهِيَ كَسَبِيلِ مَالِكَ»، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ: «وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا
This hadith has been narrated on the authority of Salama b. Kuhail through different chains of transmitters. In their ahadith, it is three years, except in the hadith of Hammid b. Salama it is two years or three years. In the hadith transmitted on the authority of Sufyan and Zaid b. Abu Unaisa and Hammid b. Salama (the words are): If someone comes and informs you about the number (of articles) of the bag and the straps, then give that to him. Sufyan has made this addition in the narration of Waki': Otherwise it is like your property. And in the narration of Ibn Numair the words are: Otherwise make use of that.
قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ۔ ابن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، وکیع اور عبداللہ بن نمیر نے سفیان سے روایت کی ۔ محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں عبداللہ بن جعفر رَقی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ بن عمر نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی ۔ عبدالرحمٰن بن بشر نے کہا : ہمیں بہز نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی ، ان سب ( اعمش ، سفیان ، زید بن ابی انیسہ اور حماد بن سلمہ ) نے سلمہ بن کہیل سے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔ حماد بن سلمہ کے سوا ، ان سب کی حدیث میں تین سال ہیں اور ان ( حماد ) کی حدیث میں دو یا تین سال ہیں ۔ سفیان ، زید بن ابی انیسہ اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے : " اگر کوئی ( تمہارے پاس ) آ کر تمہیں اس کی تعداد ، تھیلی اور بندھن کے بارے میں بتا دے تو وہ اسے دے دو ۔ " وکیع کی روایت میں سفیان نے یہ اضافہ کیا : " ورنہ وہ تمہارے مال کے طریقے پر ہے ۔ " اور ابن نمیر کی روایت میں ہے : " اور اگر نہیں ( آیا ) تو اسے فائدہ اٹھاؤ
Jam e Tirmazi
306
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ،‏‏‏‏ وَأَبِي بَرْزَةَ،‏‏‏‏ وَأُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الصُّبْحِ ب:‏‏‏‏ الْوَاقِعَةِ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مِنْ سِتِّينَ آيَةً إِلَى مِائَةٍ وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَرَأَ:‏‏‏‏ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَرُوِي عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَنِ اقْرَأْ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ قَالَ:‏‏‏‏ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَابْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ.
Qutbah bin Malik narrated: I heard Allah's Messenger reciting for Fajr: And tall date palms in the first Rak'ah.
قطبہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فجر میں پہلی رکعت میں «والنخل باسقات» پڑھتے سنا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قطبہ بن مالک کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمرو بن حریث، جابر بن سمرہ، عبداللہ بن سائب، ابوبرزہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فجر میں سورۃ الواقعہ پڑھی، ۴- یہ بھی مروی ہے کہ آپ فجر میں ساٹھ سے لے کر سو آیتیں پڑھا کرتے تھے، ۵- اور یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے «إذا الشمس كورت» پڑھی، ۶- اور عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ فجر میں طوال مفصل پڑھا کرو ۱؎، ۷- اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
850
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُ بِسِيَاطِنَا وَعِصِيِّنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كُلُوهُ فَإِنَّهُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْمُهَزِّمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الْمُهَزِّمِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلْمُحْرِمِ أَنْ يَصِيدَ الْجَرَادَ وَيَأْكُلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَى بَعْضُهُمْ عَلَيْهِ صَدَقَةً إِذَا اصْطَادَهُ وَأَكَلَهُ.
Abu Hurairah narrated: We went with the Messenger of Allah during Hajj or Umrah and we encountered a swarm of locusts. We began striking at them with our whips and set our staffs, and the Prophet said: Eat it, for indeed it is game of the sea.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آ گیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوالمھزم کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، ۲- ابوالمہزم کا نام یزید بن سفیان ہے۔ شعبہ نے ان میں کلام کیا ہے، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو ٹڈی کا شکار کرنے اور اسے کھانے کی رخصت دی ہے، ۴- اور بعض کا خیال ہے کہ اگر وہ اس کا شکار کرے اور اسے کھائے تو اس پر فدیہ ہے۔
Jam e Tirmazi
1281
أَخْبَرَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ إِلَّا كَلْبَ الصَّيْدِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الْمُهَزِّمِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَضَعَّفَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ أَيْضًا.
Narrated Abu Al-Muhazzim: From Abu Hurairah who said: The price of a dog was prohibited, except for the hunting dog. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is not correct from this route. Abu Al-Muhazzim's name is Yazid bin Sufyan, and Shu'bah bin Al-Hajjaj criticized him and graded him weak. Similar to this has been reported from Jabir, from the Prophet (ﷺ), but its chain is also not correct.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کتے کی قیمت سے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) منع فرمایا ہے سوائے شکاری کتے کی قیمت کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے صحیح نہیں ہے، ۲- ابومہزم کا نام یزید بن سفیان ہے، ان کے سلسلہ میں شعبہ بن حجاج نے کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے، ۳- اور جابر سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اور اس کی سند بھی صحیح نہیں ہے ( دیکھئیے الصحیحۃ رقم: ۲۹۷۱ ) ۔
Sahih Muslim
1
وَاعْلَمْ وَفَّقَكَ اللهُ تَعَالَى أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ عَرَفَ التَّمْيِيزِ بَيْنَ صَحِيحِ الرِّوَايَاتِ وَسَقِيمِهَا، وَثِقَاتِ النَّاقِلِينَ لَهَا مِنَ الْمُتَّهَمِينَ، أَنْ لَا يَرْوِيَ مِنْهَا إِلَّا مَا عَرَفَ صِحَّةَ مَخَارِجِهِ، وَالسِّتَارَةَ فِي نَاقِلِيهِ، وَأَنْ يَتَّقِيَ مِنْهَا مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ أَهْلِ التُّهَمِ وَالْمُعَانِدِينَ مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ‘وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الَّذِي قُلْنَا مِنْ هَذَا هُوَ اللَّازِمُ دُونَ مَا خَالَفَهُ، قَوْلُ اللهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: 6]، وَقَالَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: 282]، وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: 2]، فَدَلَّ بِمَا ذَكَرْنَا مِنْ هَذِهِ الْآيِ أَنَّ خَبَرَ الْفَاسِقِ سَاقِطٌ غَيْرُ مَقْبُولٍ، وَأَنَّ شَهَادَةَ غَيْرِ الْعَدْلِ مَرْدُودَةٌ، وَالْخَبَرُ وَإِنْ فَارَقَ مَعْنَاهُ مَعْنَى الشَّهَادَةِ فِي بَعْضِ الْوُجُوهِ، فَقَدْ يَجْتَمِعَانِ فِي أَعْظَمِ مَعَانِيهِمَا، إِذْ كَانَ خَبَرُ الْفَاسِقِ غَيْرَ مَقْبُولٍ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَمَا أَنَّ شَهَادَتَهُ مَرْدُودَةٌ عِنْدَ جَمِيعِهِمْ، وَدَلَّتِ السُّنَّةُ عَلَى نَفْيِ رِوَايَةِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْأَخْبَارِ كَنَحْوِ دَلَالَةِ الْقُرْآنِ عَلَى نَفْيِ خَبَرِ الْفَاسِقِ وَهُوَ الْأَثَرُ الْمَشْهُورُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ». حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَيْضًا، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ
Know - may Allah, exalted is He, grant you success – that what is obligatory upon everyone who is aware of the distinction between the Sahīh transmissions and their weak, the trustworthy narrators from those who stand accused, is to not transmit from them except what is known for the soundness of its emergence and the protection of its narrators; and that they fear what may be from those accused (of deficiency in narrating) and the stubborn people of innovation. The proof that what we have said is required above what opposes it is in the verse: {Oh you who believe! If a sinful person comes to you with news, then verify it lest you afflict people through ignorance then you become sorry about what you did}[al-Hujurāt: 6]; and the verse: {… from whom you are pleased with from the witnesses}[al-Baqarah: 282] and the verse: {And let two who possess integrity among you bare witness}[at-Talāq: 2]. Thus it demonstrates what we mentioned from these two verses that the report of the sinful is dropped and not accepted, and that the testimony [Shahādah] of one who does not possess integrity is rejected, and the report [Khabar] as well- even though its significance is separated from the meaning of testimony in some respects, they are in agreement regarding the overall conditions they share since the report of the sinful is not acceptable according to Ahl ul-Ilm just as his testimony is rejected according to all of them . The Sunnah demonstrates the prohibition of transmitting abominable transmissions just as in the example from the Qur’ān regarding the prohibition of the report of the sinful. There is a famous narration on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, that: ‘Whoever relates on my authority a narration while aware that it is a lie, then he is one of the liars’ . Abū Bakr ibn Abī Shaybah narrated it to us that Wakī narrated to us, on authority of Shu’bah, on authority of al-Hakam, on authority of Abd ir-Rahman ibn Abī Laylā, on authority of Samurah bin Jundab. And also Abū Bakr ibn Abī Shaybah narrated to us, that Wakī narrated to us, on authority of Shu’bah and Sufyān, on authority of Habīb, on authority of Maymūn ibn Abī Shabīb, on authority of al-Mughīrat ibn Shu’bah, they both said that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said the same thing.
جان تو! اللہ تجھ کو توفیق دے جو شخص صحیح اور ضعیف حدیث میں تمیز کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور ثقہ (‏‏‏‏معتبر) اور متہم (‏‏‏‏جن پر تہمت لگی ہو کذب وغیرہ کی) راویوں کو پہچانتا ہو اس پر واجب ہے کہ نہ روایت کرے مگر اس حدیث کو جس کے اصل کی صحت ہو اور اس کے نقل کرنے والے وہ لوگ ہوں جن کا عیب فاش نہ ہوا ہو، اور بچے ان لوگوں کی روایت سے جن پر تہمت لگائی ہے یا جو عناد رکھتے ہیں اہل بدعت میں سے۔ اور دلیل اس پر جو ہم نے کہا: یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ جا پڑو کسی قوم پر نادانی سے پھر کل کو پچھتاؤ اپنے کیے ہوئے پر“۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور گواہ کرو دو مردوں کو یا ایک مرد اور دو عورتوں کو جن کو تم پسند کرتے ہو“ (گواہی کیلئے یعنی جو سچے اور نیک معلوم ہوں) اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے گواہ کرو دو شخصوں کو جو عادل ہوں“ تو ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ فاسق کی بات بے اعتبار ہے اور اسی طرح حدیث شریف سے یہ بھی بات معلوم ہوتی ہے کہ منکر روایت کا بیان کرنا (جس کے غلط ہونے کا احتمال ہو) درست نہیں جیسے قرآن سے معلوم ہوتا ہے اور وہ حدیث وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ شہرت منقول ہے کہ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔“ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی اسناد سے روایت کیا سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یعنی وہی حدیث جو اوپر گزری کہ جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ سمجھتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے)۔
Sahih Muslim
128
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ. وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ» بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ ، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ}
Abu Malik narrated on the authority of his father that he heard the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: He who held belief in the unity of Allah, and then narrated what has been stated above.
ابو زبیر نے حضر ت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ لااله الا الله کے قائل ہو جائیں ، جب وہ لا اله الا الله کےقائل ہو جائیں گے تو انہوں نے میری طرف سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے ، الا یہ کہ اس ( کلمے کے ) حق کا ( تقاضا ) ہو ، اور ان کاحساب اللہ کے سپرد ہے ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے ( یہ آیت ) تلاوت فرمائی : ’’ آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں ، آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہیں ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
177
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ - وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ - قَالَ: أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ. فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ: قَدْ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ».
It is narrated on the authority of Tariq b. Shihab: It was Marwan who initiated (the practice) of delivering khutbah (address) before the prayer on the 'Id day. A man stood up and said: Prayer should precede khutbah. He (Marwan) remarked, This (practice) has been done away with. Upon this Abu Sa'id remarked: This man has performed (his duty) laid on him. I heard the Messenger of Allah as saying: He who amongst you sees something abominable should modify it with the help of his hand; and if he has not strength enough to do it, then he should do it with his tongue, and if he has not strength enough to do it, (even) then he should (abhor it) from his heart, and that is the least of faith.
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث سنائی ، نیز محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے اورانہیں شعبہ نے حدیث سنائی ، ان دونوں ( سفیان اور شعبہ ) نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی ، الفاظ ابو بکر بن ابی شیبہ کے ہیں ۔ طارق بن شہاب نے کہا کہ پہلا شخص جس نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبے کا آغاز کیا ، مروان تھا ۔ ایک آدمی اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا : ’’نما ز خطبے سے پہلے ہے ؟ ‘ ‘ مروان نے جواب دیا : جو طریقہ ( یہاں پہلے ) تھا ، وہ ترک کر دیا گیا ہے ۔ اس پر ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس انسان نے ( جس سے صحیح بات کہی تھی ) اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ تم میں سے جوشخص منکر ( ناقابل قبول کام ) دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ ( قوت ) سے بدل دے اوراگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے ( اسے برا سمجھے اور اس کے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے ) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
330
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللهُ} [البقرة: 284]، قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا قَالَ: فَأَلْقَى اللهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة: 286] قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة: 286] قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ {وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا} [البقرة: 286] قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ
It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas: When this verse: Whether you disclose that which is in your mind or conceal it, Allah will call you to account according to it (ii 284), there entered in their minds something (of that fear) such as had never entered their hearts (before). The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: Say: We have heard and obeyed and submitted ourselves. He (the reporter) said: Allah instilled faith in their hearts and He revealed this verse: Allah burdens not a soul beyond its capacity. It gets every good that it earns and it suffers every ill that it earns. Our Lord, call us not to account if we forget or make a mistake. He the (Lord) said: I indeed did it. Our Lord! do not lay on us a burden as Thou didst lay on those before us. He (our Lord) said: I indeed did it. And pardon us, have mercy on us. Thou art our Protector (ii. 286). He said: I indeed did it.
حضرت ابن عبا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے ، اس کو ظاہر کر دیا چھپاؤ ، اللہ اس پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا ۔ ‘ ‘ ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : اس سے صحابہ کے دلوں میں ایک چیز ( شدید خوف کی کیفیت کہ احکام الہٰی کے اس تقاضے پر عمل نہ ہو سکے گا ) در آئی جو کسی اور بات سے نہیں آئی تھی ۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ کہو : ہم نے سنا او رہم نے اطاعت کی او رہم نے تسلیم کیا ۔ ‘ ‘ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس پر اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ اسی کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر ( وبال ) پڑتا ہے ( اسی پر برائی کا ) جس کا اس نے ارتکاب کیا ۔ اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہماری مؤاخذہ نہ کرنا ۔ ‘ ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ۔ ’’ اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے ۔ ‘ ‘ فرمایا : میں ایسا کر دیا ۔ ’’ہمیں بخش دے او رہم پر رحم فرما ، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے ۔ ‘ ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ۔