TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3889 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 29 of 31 in this chapter
بَاب إعداد آلَة الْجِهَاد
آلاتِ جہاد تیار کرنے کا بیان
وَعَنْ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کا پرچم سفید رنگ کا تھا ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
3889
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
حسن ، رواہ الترمذی (۱۶۷۹ وقال : غریب) و ابوداؤد (۲۵۹۲) و ابن ماجہ (۲۸۱۷) ۔

Related Chapters

333
1
بَابُ الْحَذَرِ وَالتَّأَنِّي
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
Mishkat
2
(1) CHAPTER. The superiority of Jihad.
جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں
Sahih Bukhari
3
Chapter: What Has Been Related (About A Man) Who Captures A Slave Woman That Has A Husband, Is It Lawful For Him To Have Relations With Her?
باب: اگر کوئی شخص جہاد میں کسی عورت کو قید کرے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What has been related about the choice
باب: عورت کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے اختیار دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About 'Both The Buyer And The Seller Retain The Option As Long As They Have Not Separated'
باب: بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Option Of The Buyer And The Seller
باب: بائع اور مشتری کی رضا مندی اور اختیار سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Boy Choosing Between His Parents When They Separate
باب: ماں باپ کی جدائی کی صورت میں بچے کو اختیار دئیے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About There Is No Vowing In That Over Which The Son Of Adam Has No Control
باب: جو چیز آدمی کے اختیار میں نہیں اس میں نذر نہیں
Jam e Tirmazi
9
Chapter: The Prohibition Of Attacking If A Masjid Is Seen Or The Adhan Is Heard
باب: جہاد سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Said On The Day Of The Conquest: Verily This Is Not To Be Battled Over After Today
باب: فتح مکہ کے دن فرمان نبوی ”آج کے بعد مکہ میں جہاد نہیں کیا جائے گا“ کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Hour In Which It Is Recommend To Fight
باب: جہاد کے مستحب اوقات کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Exhortation Of The Prophet (saws) Regarding Fighting
باب: جہاد کے سلسلے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی وصیت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Jihad
باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Fasting In The Cause Of Allah
باب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Spending In The Cause Of Allah
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Service In The Cause Of Allah
باب: جہاد میں خدمت کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prepares A Fighter
باب: مجاہد اور غازی کا سامان تیار کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The One Whose Two Feet Became Dusty In The Cause Of Allah
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں غبار آلود قدموں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Dust In Allah's Cause
باب: جہاد کے غبار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About One Who Keeps And Prepares A Horse In The Cause Of Allah
باب: جہاد کی نیت سے گھوڑا پالنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Archery In The Cause Of Allah
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں تیر پھینکنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Standing Guard In The Cause Of Allah
باب: جہاد میں پہرہ دینے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Naval Battles
باب: سمندر میں جہاد کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About One Who Fights For Show And For Worldly Matters
باب: ریا و نمود اور دنیا طلبی کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Going Out In The Morning And The Afternoon In The Cause Of Allah
باب: جہاد میں گزرنے والے صبح و شام کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The People Who Have An Excuse Not To Participate
باب: معذور لوگوں کے لیے جہاد نہ کرنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Benn Related About One Who Goes Out For Battle Abandoning His Parents
باب: ماں باپ کو چھوڑ کر جہاد میں نکلنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related Concerning Being Moderate In Loving And Hating
باب: محبت اور نفرت میں میانہ روی اختیار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What has been Related About 'The Most Virtuous Jihad Is a Just Statement Before A Tyrannical Ruler'
باب: ظالم بادشاہ کے سامنے حق کہنا سب سے بہتر جہاد ہے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About What Suffices A Man From All His Wealth
باب: دنیا میں آدمی کے لیے صرف خادم اور جہاد کے لیے سواری کافی ہے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Accompanying The Believer
باب: مومن کی صحبت اختیار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: کمروں اور محلات میں جنتیوں کا ایک دوسرے کو نظر آنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About I Have Been Ordered To Fight The People Until They Say: La Ilaha Illallah
باب: جب تک لوگ لا إلہ الا اللہ کہنے نہ لگ جائیں اس وقت تک مجھے ان سے جہاد کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے
Jam e Tirmazi
34
باب: مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
35
بَاب الِاعْتِصَام بِالْكتاب وَالسّنة
کتاب و سنت کے ساتھ تمسک اختیار کرنے کا بیان
Mishkat
36
بَاب الْخِيَار
اختیار کا بیان
Mishkat
37
بَاب الْقِتَال فِي الْجِهَاد
جہاد میں قتال (کے اجر و ثواب) کا بیان
Mishkat
38
خاتمہ: بعض صحابہ سے اس چیز کا ثابت ہونا کہ تابعین کے زمانہ میں ہی حالات بگڑ گئے تھے
Musnad Ahmad
39
ان حالات کا بیان جو نماز کو پیش آئے
Musnad Ahmad
40
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
41
جمعہ کے لیے غسل کرنے، اچھے کپڑے پہن کر خوبصورتی اختیار کرنے اور خوشبو لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
42
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
Musnad Ahmad
43
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
Musnad Ahmad
44
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
45
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
Musnad Ahmad
46
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
Musnad Ahmad
47
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
48
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
49
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
Musnad Ahmad
50
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

810
Mishkat
1691
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الطِّفْلُ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ وَلَا يَرِثُ وَلَا يُوَرَّثُ حَتَّى يَسْتَهِلَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: «وَلَا يُورث»
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک پیدا ہونے والا بچہ چیخے نہیں تب تک اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی نہ وہ وارث بنے گا اور نہ ہی اس کی میراث تقسیم ہو گی ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، لیکن انہوں نے یہ ذکرنہیں کیا کہ ’’ اس کی میراث تقسیم نہیں ہو گی ۔‘‘ ضعیف ۔
Mishkat
2155
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ: (آلم تَنْزِيل) و (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ. وَكَذَا فِي شرح السّنة. وَفِي المصابيح
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ، سورۃ السجدہ اور سورۃ الملک پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے ۔ احمد ، ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ شرح السنہ میں بھی اسی طرح ہے ۔ جبکہ مصابیح میں ہے کہ یہ غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ۔
Mishkat
4657
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذا كتب أحدكُم كتابا فليتر بِهِ فَإِنَّهُ أَنْجَحُ لِلْحَاجَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث مُنكر
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی خط لکھے تو وہ اسے خاک آلود کر دے کیونکہ اس طرح کرنے سے کام جلد و آسان ہو جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث منکر ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Mishkat
4770
وَعَنْ جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «إِذَا سَمَّيْتُمْ بِاسْمِي فَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «مَن تسمَّى باسمي فَلَا يَكْتَنِ بِكُنْيَتِي وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي فَلَا يَتَسَمَّ باسمي»
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میرے نام پر نام رکھو تو پھر میری کنیت پر کنیت مت رکھو ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جس نے میرے نام پر نام رکھا تو وہ میری کنیت نہ رکھے ، اور جس نے میری کنیت پر کنیت رکھی تو وہ میرے نام پر نام نہ رکھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و ابوداؤد ۔
Jam e Tirmazi
1679
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَمَّارٍ يَعْنِي:‏‏‏‏ الدُّهْنِيَّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَرِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَرِيكٍ. وقَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شَرِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَالْحَدِيثُ هُوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَالدُّهْنُ بَطْنٌ مِنْ بَجِيلَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ هُوَ عَمَّارُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الدُّهْنِيُّ وَيُكْنَى أَبَا مُعَاوِيَةَ وَهُوَ كُوفِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
Narrated Jabir: The Messenger of Allah (ﷺ) entered Makkah, and his standard was white. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib, we do know of it except as a narration of Yayha bin Adam from Sharik. He said: I asked Muhammad about this Hadith, but he did not know it except as a narration of Yahya bin Adam from Sharik, he said: More than one narrator has narrated to us from Sharik from 'Ammar bin Abu Az-Zubair from Jabir: 'The Prophet (ﷺ) entered Makkah and he was wearing a black 'Imamah.' Muhammad said: This is the Hadith. [Abu 'Eisa said:] Duhn is a branch of Bajilah (the tribe), and 'Ammar ad-Duhni (one of the narrators) is 'Ammar bin Mu'awiyah Ad-Duhni, and his kunyah is Abu Mu'awiyah, he is from Al-Kufah, and he is trustworthy according to the people of Hadith.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا پرچم سفید تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن آدم کی روایت سے جانتے ہیں اور یحییٰ شریک سے روایت کرتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: یحییٰ بن آدم شریک سے روایت کرتے ہیں، اور کہا: ہم سے کئی لوگوں نے «شريك عن عمار عن أبي الزبير عن جابر» کی سند سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور اس وقت آپ کے سر پر کالا عمامہ تھا، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اور ( محفوظ ) حدیث یہی ہے، ۳- «الدهن» قبیلہ بجیلہ کی ایک شاخ ہے، عمار دہنی معاویہ دہنی کے بیٹے ہیں، ان کی کنیت ابومعاویہ ہے، وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں اور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔
Mishkat
100
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ نے آدم ؑ کو ایک مٹھی (بھر مٹی) سے جو اس نے ساری سطح زمین سے حاصل کی تھی ، پیدا فرمایا ۔ آدم ؑ کی اولاد زمین (کی رنگت) کی مناسبت سے پیدا ہوئی ، ان میں سے کچھ سرخ ہیں کچھ سفید اور کچھ کالے اور کچھ سرخ و سفید کے مابین ، کچھ نرم مزاج اور کچھ سخت مزاج ، کچھ بری عادات والے اور کچھ پاکیزہ صفات والے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۴/ ۴۰۰ ح ۱۹۸۱۱) و الترمذی (۲۹۵۵) و ابوداؤد (۴۶۹۳) و صحیحہ ابن حبان (۲۰۸۳) و الحاکم (۲/ ۲۶۱ ، ۲۶۲) ۔
Mishkat
414
وَعَن الرّبيع بنت معوذ: أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَتْ فَمَسَحَ رَأْسَهُ مَا أَقَبْلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ وَصُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً وَفِي رِوَايَةٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي جُحْرَيْ أُذُنَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ الرِّوَايَةَ الأولى وَأحمد وَابْن مَاجَه الثَّانِيَة
ربیع بنت معوذ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے کہا : آپ نے اپنے سر کی اگلی جانب اور پچھلی جانب (پورے سر) کا ، دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک مرتبہ مسح کیا ، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے وضو کیا تو اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں کے سوراخوں میں ڈالیں ۔ ابوداؤد ، ترمذی نے پہلی روایت بیان کی جبکہ احمد اور ابن ماجہ نے دوسری ۔ ضعیف ۔
Mishkat
480
وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ: «مَا فِي إِدَاوَتِكَ» قَالَ: قلت: نَبِيذ. فَقَالَ: «تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ: فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: أَبُو زيد مَجْهُول وَصَحَّ
ابوزید ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جس رات جن آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ تمہاری چھاگل میں کیا ہے ؟‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : نبیذ ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کھجور عمدہ چیز ہے پانی پاک ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، امام احمد ، اور امام ترمذی نے یہ اضافہ نقل کیا : آپ ﷺ نے اس سے وضو فرمایا ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : ابوزید مجہول ہے ۔ ضعیف ۔
Mishkat
521
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ مَعْلُولٌ وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ وَمُحَمَّدًا يَعْنَى الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَا: لَيْسَ بِصَحِيحٍ. وَكَذَا ضعفه أَبُو دَاوُد
مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے غزوہ تبوک کے موقع پر نبی ﷺ کو وضو کرایا تو آپ ﷺ نے موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کیا ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث معلول ہے میں نے ابوزرعہ اور محمد یعنی امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح نہیں اور اسی طرح ابوداؤد نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔