TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان - باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان - خلافت و امارت کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of خلافت و امارت کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 113 · 11 Hadith
۔ (۱۲۰۶۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ! لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَۃَ، فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِیتَہَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِلْتَ إِلَیْہَا، وَإِنْ أُعْطِیتَہَا عَنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْہَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلٰییَمِینٍ، فَرَأَیْتَ غَیْرَہَا خَیْرًا مِنْہَا، فَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ، وَکَفِّرْ عَنْ یَمِینِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۹۸)
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمن! حکمرانی یا ذمہ داری طلب نہ کرنا، اگر تجھے تیرے طلب کرنے کے بعد حکمرانی ملی تو تجھے اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر تجھے طلب کرنے کے بغیر حکمرانی ملی تو اس بارے میں تیری مدد کی جائے گی اور جب تو کسی کام پر قسم اٹھائے، اسکے بعد تمہیں معلوم ہو کہ اس کے برعکس کام زیادہ بہتر ہے تو وہ کام کر لینا جو زیادہ بہتر ہو اور اپنے حلف کا کفارہ دے دینا۔
Takhreej
(۱۲۰۶۱) تخریج: اخرجہ البخاری: ۷۱۴۷، ومسلم: ص ۱۴۵۶(انظر: ۲۰۶۲۲)
Explanation
فوائد:… اب اسلامی مملکتوں اور ان کے باسیوں کے مسائل کیسے حل ہوں گے، جبکہ اقتدار کے حصول کیے حریصانِ اقتدار یوں جھپٹ پڑتے ہیں، جیسے ہفتوں کے بھوکے دستر خوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ جب پوری مملکت کا نظام ان کے سپرد کر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت بھی شامل حال نہیں ہو گی تو عوام الناس کے مسائل کیسے حل ہوں گے، ایک تانت نہیں، پورا تانا بانا بگڑ گیا ہے۔ لیکن یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب مسلمانوں کے حالات ناسازگار نہ ہوں اور مستقبل میں زیادہ مسائل پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو تو وہ آدمی مسئولیت کا مطالبہ کر سکتا ہے، جس کا مقصد پرخلوص انداز میں اہل اسلام کی خدمت اور امت مسلمہ کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینا ہو، جبکہ وہ اپنے اندر اتنی صلاحیت اور قابلیت کو محسوس بھی کرتا ہو، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے طویل قحط اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نبٹنے کے لیے وزارت کا سوال کیا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ فَلَمَّا کَلَّمَہ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔ قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَایِنِ الْاَرْضِ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ۔} … اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے لیے خاص کر لوں، پھر جب اس نے اس سے بات کی تو کہا بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانتدار ہے۔اس نے کہا مجھے اس زمین کے خزانوں پر مقرر کر دے، بے شک میں پوری طرح حفاظت کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں ۔ (سورہ ٔ یوسف: ۵۴، ۵۵)
12061
Sahih
۔ (۱۲۰۶۲)۔ وَعَنِ الْحَارِثِ بْنُ یَزِیدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حُجَیْرَۃَ الشَّیْخَیَقُولُ: أَخْبَرَنِی مَنْ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ: نَاجَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃً إِلَی الصُّبْحِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمِّرْنِی، فَقَالَ: ((إِنَّہَا أَمَانَۃٌ وَخِزْیٌ وَنَدَامَۃٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَّا مَنْ أَخَذَہَا بِحَقِّہَا، وَأَدَّی الَّذِی عَلَیْہِ فِیہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۴۵)
ابن حُجیرہ کہتے ہیں:سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سننے والے آدمی نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میںنے ایک رات صبح تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سرگوشیاں کرتا رہا، میںنے باتوں باتوں میں عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے کسی علاقہ کا امیربنادیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ حکمرانی امانت ہے اور قیامت کے دن، شرمندگی، اور رسوائی کا باعث ہوگی، ما سوائے اس آدمی کے، جو اس ذمہ داری کو حق کے ساتھ لے اور اس ضمن میں اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریوںکو ادا کرے۔
Takhreej
(۱۲۰۶۲) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۲۵ (انظر: ۲۱۵۱۳)
Explanation
فوائد:… بہت کم اور خاص لوگ ہیں، جنھوں نے حکمرانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت پائی ہے، وگرنہ اکثریت تو اپنی نا اہلی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے اس منصب کا حق ادا نہ کر سکی۔ قارئین کرام! آپ خود اندازہ لگائیں کہ ہم اپنے اپنے گھروں کے پانچ دس افراد کے اور اداروں کے پرنسپل اور مدیر سو دو سو بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہیں اور جو کروڑوں افراد کی ذمہ داری قبول کر لیتا ہے، وہ کیا کرے گا، الا ما شاء اللہ۔
12062
Sahih
۔ (۱۲۰۶۳)۔ وَعَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِیْ سَالِمٍ الْجَیْشَانِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ! لَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیمٍ، وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِِِِِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۹۶)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابوذر! تو کسی یتیم کے مال پر نگران نہ بننا اور دوآدمیوں کے اوپر امیر نہ بننا۔
Takhreej
(۱۲۰۶۳) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۲۶ (انظر: ۲۱۵۶۳)
12063
Sahih
۔ (۱۲۰۶۴)۔ وعَنِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّکُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَی الْإِمَارَۃِ، وَسَتَصِیرُ حَسْرَۃً وَنَدَامَۃً۔)) قَالَ حَجَّاجٌ: یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، ((نِعْمَتِ الْمُرْضِعَۃُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہٗ: اَنَّالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّکُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَی الْإِمَارَۃِ، وَسَتَصِیرُ نَدَامَۃً وَحَسْرَۃًیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَبِئْسَتِ الْمُرْضِعَۃُ وَنِعْمَتِ الْفَاطِمَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۶۵)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب امارت،حکمرانی کا لالچ کرو گے، لیکن یہ چیز قیامت والے دن بطورِ انجام حسرت اور ندامت ہوئی، یہ دودھ پلانے کے لحاظ سے تو بہت اچھی ہے، لیکن دودھ چھڑانے کی حیثیت میں بہت بری ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عنقریب امارت اور حکمرانی کا لالچ کر وگے، لیکن قیامت کے دن اس کا انجام مذامت اور حسرت ہوگا، یہ دودھ پلاتے ہوئے بہت اچھی اور دودھ چھڑانے کے بعد بہت بری لگتی ہے۔
Takhreej
(۱۲۰۶۴) تخریج: اخرجہ البخاری: ۷۱۴۸ (انظر: ۱۰۱۶۲)
Explanation
فوائد:… امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: ابو الحسن سندھی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: فَنِعْمَتِ الْمُرْضِعَۃُ (دودھ پلانے والی تو اچھی ہوتی ہے) سے مراد زندگی کی حالت ہے، جو امارت تک پہنچاتی ہے اور وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَۃُ (دودھ چھڑانے والی بڑی بری ہوتی ہے) سے مراد وہ حالت ہے، جس میں امارت کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے اور وہ موت ہے، ان دو جملوں کا مفہوم یہ ہوا کہ امارت والوں کی زندگی تو بڑی اچھی ہوتی ہے، لیکن موت بڑی بری ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۵۳۰) دنیا میں سب سے زیادہ ذمہ داریاں وقت کے امیر او رحاکم پر عائد ہوتی ہیں، انھوں نے رعایا کے ہر فرد کی مذہبی ضرورت پوری کرنی ہے، اپنی سلطنت میں قرآن و حدیث کے احکام عملی طور پر نافذ کرنے ہیں، مساجد کی امامت کا عہدہ سنبھالنا ہے، موقع ملے تو فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھنا ہے، ہر گھر کی مالی اور دنیوی ضرورتیں پوری کرنی ہیں، رعایا کی دشمنانِ اسلام سے حفاظت کرنی ہے، اسلام کو پچھلی نسلوںسے منتقل کر کے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے، رعایا کے کسی فرد کو کسی دوسرے فرد پر ظلم کرنے کا موقع نہیں دینا … … غرضیکہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی نیابت اختیار کرنی ہے۔ لیکن یہ ذمہ داریاں کون پوری کرے گا، خصوصا اس دور میں، جہاں عیاشیوں کے لیے عہدوں کے تختوں پر چڑھا جاتا ہے۔ سچ فرمایا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے، کہ امارت و حاکمیت کی گھڑیاں ندامت و حسرت کا سماں پیدا کریں گی، لیکن اس وقت، جب پچھتاوا فائدہ نہیں دے گا۔
12064
Sahih
۔ (۱۲۰۶۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَیْلٌ لِلْأُمَرَائِ، وَیْلٌ لِلْعُرَفَائِ، وَیْلٌ لِلْأُمَنَائِ، لَیَتَمَنَّیَنَّ أَقْوَامٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، أَنَّ ذَوَائِبَہُمْ کَانَتْ مُعَلَّقَۃً بِالثُّرَیَّا،یَتَذَبْذَبُونَ بَیْنَ السَّمَائِ، وَالْأَرْضِ وَلَمْ یَکُونُوا عَمِلُوا عَلٰی شَیْئٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۶۹)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حکمرانوں کے لیے تباہی ہے، ان کے ماتحت افسروںاور کارندوں کے لیے ہلاکت ہے، دنیا میں جن لوگوں کو امین سمجھ کر امانات ان کے سپرد کی گئیں، ان کے لیے ہدایت ہے، یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ کاش ان کے سر کے بال ثریا ستارے کے ساتھ باندھ دئیے جاتے اور یہ آسمان اور زمین کے درمیان لٹکتے رہتے اور یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔
Takhreej
(۱۲۰۶۵) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ الطیالسی: ۲۵۲۳، وابویعلی: ۶۲۱۷، والحاکم: ۴/ ۹۱ (انظر: ۱۰۷۵۹)
Explanation
فوائد:… اربابِ حکومت اور دوسرے عہدیداران اس حدیث کا بدرجۂ اتم مصداق ہیں، انتہائی شاذو نادر شخصیات کے علاوہ ہر کوئی جانبداری اور رشوت خوری میں مبتلا ہے۔ قوم کے خزانوں کے منہ مخصوص ہستیوں کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔
12065
Sahih
۔ (۱۲۰۶۶)۔ وَعَنْہٗبِلَفْظٍآخَرَعَنِالنَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ((وَیْلٌ لِلْوُزَرَائِ لَیَتَمَنّٰی أَقْوَامٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، أَنَّ ذَوَائِبَہُمْ کَانَتْ مُعَلَّقَۃً بِالثُّرَیَّا،یَتَذَبْذَبُونَ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَأَنَّہُمْ لَمْ یَلُوا عَمَلًا۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۶۹)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وزیروں کے لیے ہلاکت ہے، یہ لوگ قیامت کے دن یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کے سر کے بالوں کو ثریا ستارے کے ساتھ لٹکا دیا جاتا اور یہ آسمان و زمین کے درمیان لٹکتے رہتے، لیکن یہ ذمہ داری قبول نہ کرتے۔
Takhreej
(۱۲۰۶۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
12066
Sahih
۔ (۱۲۰۶۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِدُونَ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ أَشَدَّہُمْ کَرَاہِیَۃً لِہٰذَا الشَّأْنِ حَتّٰییَقَعَ فِیہِ۔)) (مسند احمد: ۹۴۰۲)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگوں میں سب سے اچھا اس آدمی کو پاؤگے جو امارت و حکمرانی کو سب سے زیادہ ناپسند کرتا ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس میں پڑ جائے۔
Takhreej
(۱۲۰۶۷) تخریج: اخرجہ البخاری: ۳۴۹۶، ومسلم: ۲۵۲۶ (انظر: ۹۴۱۲)
Explanation
فوائد:… ایسے لوگ امارت کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر اس کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خلفائے راشدین اور عمر بن عبد العزیز جیسی ہستیوں کی سوانح عمریوں سے ان ذمہ داریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
12067
Sahih
۔ (۱۲۰۶۸)۔ عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ، قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مَعِی مِنْ قَوْمِی، قَالَ: فَأَتَیْنَا إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَا وَتَکَلَّمَا فَجَعَلَا یُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ، فَتَغَیَّرَ وَجْہُ النَّبِیِّ صَلَّیاللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَوْ رُئِیَ فِی وَجْہِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَخْوَنَکُمْ عِنْدِی مَنْ یَطْلُبُہُ فَعَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) قَالَ: فَمَا اسْتَعَانَ بِہِمَا عَلٰی شَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۳۷)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری قوم کے دو آدمی میرے ساتھ آئے، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، ان دونوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گفتگو کی اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئولیت کا مطالبہ کیا، ان کی یہ بات سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ مبارک تبدیل ہوگیا یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ناراضی کے آثار آپ کے چہرہ پر دکھائی دینے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ـ: جو آدمی امارت کا طلبگار ہو، میر ے نزدیک تم سب سے بڑھ کر خائن ہے، تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو کسی ذمہ داری پر مامور نہ کیا۔
Takhreej
(۱۲۰۶۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام اخی اسماعیل بن ابی خالد، اخرجہ النسائی فی الکبری : ۵۹۳۱، وابوعوانۃ: ۴/ ۳۵۱ (انظر: ۱۹۵۰۸)
12068
Zaeef
۔ (۱۲۰۶۹)۔ عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ: کُنَّا جُلُوسًا فِی الْمَسْجِدِ، فَمَرَّ عَلَیْنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ، فَقُلْنَا لَہُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ فِی الْفِتْنَۃِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَکُونُ بَعْدِی قَوْمٌ، یَأْخُذُونَ الْمُلْکَ، یَقْتُلُ عَلَیْہِ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔)) قَالَ: قُلْنَا لَہُ: لَوْ حَدَّثَنَا غَیْرُکَ مَا صَدَّقْنَاہُ، قَالَ: فَإِنَّہُ سَیَکُونُ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۱۰)
ثروان بن ملحان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے، ہمارے پاس سے سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گزر ہوا، ہم نے ان سے عرض کیا: آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے فتنہ کے بارے میں کچھ سنا ہو تو ہمیں بیان کریں، انہوں نے کہا: میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے، جو ایک دوسرے کو قتل کر کے حکومت حاصل کریںگے۔ ہم نے ان سے کہا: اگر کوئی دوسرا آدمی ہمیں یہ حدیث بیان کرتا تو ہم اس کی تصدیق نہ کرتے، انہوں نے کہا: ایسا عنقریب ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۰۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ثروان بن ملحان، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۴۵(انظر: ۱۸۳۲۰)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اقتدار کے حریصوں کی زندگیاں اسی انداز میں گزری ہیں۔
12069
Zaeef
۔ (۱۲۰۷۰)۔ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حِینَ بَعَثَنِی إِلَی الشَّامِ: یَایَزِیدُ! إِنَّ لَکَ قَرَابَۃً، عَسَیْتَ أَنْ تُؤْثِرَہُمْ بِالْإِمَارَۃِ، وَذٰلِکَ أَکْبَرُ مَا أَخَافُ عَلَیْکَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ وَلِیَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِینَ شَیْئًا، فَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ أَحَدًا مُحَابَاۃً، فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا حَتّٰییُدْخِلَہُ جَہَنَّمَ، وَمَنْ أَعْطٰی أَحَدًا حِمَی اللّٰہِ، فَقَدْ انْتَہَکَ فِی حِمَی اللّٰہِ شَیْئًابِغَیْرِ حَقِّہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، أَوْ قَالَ: تَبَرَّأَتْ مِنْہُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ))۔ (مسند احمد: ۲۱)
یزید بن ابی سفیان کہتے ہیں: سیدناابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جب مجھے شام کی طرف روانہ کیا تو مجھ سے کہا: اے یزید! وہاں تیری قرابت داری ہے، ہوسکتا ہے تم ذمہ داریاں دینے میں اپنے قرابت داروں کو ترجیح دو، مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا سب چیزوں سے زیادہ اندیشہ ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے امور میں سے کسی امر کا ذمہ دار بنے، پھر وہ اپنی پسند کے پیش نظر کسی کو ان پر حاکم بنائے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ یایوں فرمایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ ختم ہو جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۰۷۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الشیخ من قریش الذی روی عنہ بقیۃ، اخرجہ الحاکم: ۴/ ۹۳ (انظر: ۲۱)
12070
Zaeef
۔ (۱۲۰۷۱)۔ وعَنْ مَسْعُودِ بْنِ قَبِیصَۃَ، أَوْ قَبِیصَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ یَقُولُ: صَلّٰی ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ مُحَارِبٍ الصُّبْحَ، فَلَمَّا صَلَّوْا، قَالَ شَابٌّ مِنْہُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّہُ سَیُفْتَحُ لَکُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُہَا، وَإِنَّ عُمَّالَہَا فِی النَّارِ إِلَّا مَنِ اتَّقَی اللّٰہَ وَأَدَّی الْأَمَانَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۹۷)
مسعود بن قبییصہ یا قبیصہ بن مسعود کہتے ہیں کہ بنو محارب کے اس قبیلہ کے لوگوں نے نمازِ فجر ادا کی، جب وہ نماز پڑھ چکے تو ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عنقریب تمہارے لیے زمین کے مشرق و مغرب کی فتح ہو گی، لیکن خبردار! نگران حکمران جہنم میں جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈر گئے اور امانت ادا کی۔
Takhreej
(۱۲۰۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، شقیق بن حیان ومسعود بن قبیصۃ مجھولان (انظر: ۲۳۱۰۹)
12071
Sahih

Chapters

113
01
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
16 Hadith
02
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
1 Hadith
03
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
5 Hadith
04
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
8 Hadith
05
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
5 Hadith
06
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
3 Hadith
07
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
5 Hadith
08
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
11 Hadith
09
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
3 Hadith
10
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
18 Hadith
11
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
4 Hadith
12
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
5 Hadith
13
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
13 Hadith
14
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
10 Hadith
15
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
4 Hadith
16
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
4 Hadith
17
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
11 Hadith
18
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
9 Hadith
19
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
9 Hadith
20
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
5 Hadith
21
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
2 Hadith
22
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
1 Hadith
23
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
1 Hadith
24
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
4 Hadith
25
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
2 Hadith
26
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
1 Hadith
27
فصل سوم: سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
4 Hadith
28
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
3 Hadith
29
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
1 Hadith
30
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
5 Hadith
31
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
7 Hadith
32
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
7 Hadith
33
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
5 Hadith
34
فصل پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
4 Hadith
35
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
5 Hadith
36
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
1 Hadith
37
فصل: کسریٰ کے خزانوں کی فتح
1 Hadith
38
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مشہور خطاب اور۱۶ھ میں خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
2 Hadith
39
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
1 Hadith
40
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
1 Hadith
41
باب چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
2 Hadith
42
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
1 Hadith
43
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
4 Hadith
44
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
4 Hadith
45
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
1 Hadith
46
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
4 Hadith
47
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
8 Hadith
48
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
2 Hadith
49
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
5 Hadith
50
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
5 Hadith
51
باب سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
2 Hadith
52
فصل: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
1 Hadith
53
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
2 Hadith
54
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
2 Hadith
55
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
3 Hadith
56
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
4 Hadith
57
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
2 Hadith
58
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
2 Hadith
59
فصل پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تاریخ شہادت، ان کی جنازہ، دفن اور مدتِ خلافت کا بیان
7 Hadith
60
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
5 Hadith
61
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
1 Hadith
62
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
20 Hadith
63
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
4 Hadith
64
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
6 Hadith
65
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
3 Hadith
66
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
2 Hadith
67
باب سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات کا بیان
7 Hadith
68
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
5 Hadith
69
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
4 Hadith
70
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
7 Hadith
71
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
2 Hadith
72
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
1 Hadith
73
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
7 Hadith
74
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
12 Hadith
75
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
8 Hadith
76
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
1 Hadith
77
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
4 Hadith
78
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
4 Hadith
79
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
1 Hadith
80
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
2 Hadith
81
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
4 Hadith
82
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
5 Hadith
83
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
5 Hadith
84
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
4 Hadith
85
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
1 Hadith
86
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
1 Hadith
87
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
2 Hadith
88
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
3 Hadith
89
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
1 Hadith
90
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
1 Hadith
91
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
3 Hadith
92
فصل دوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
1 Hadith
93
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
1 Hadith
94
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
3 Hadith
95
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
1 Hadith
96
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
3 Hadith
97
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
1 Hadith
98
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
1 Hadith
99
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
2 Hadith
100
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
1 Hadith
101
فصل: عبید اللہ بن زیاد کا تذکرہ
1 Hadith
102
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
1 Hadith
103
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
2 Hadith
104
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
5 Hadith
105
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
4 Hadith
106
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
1 Hadith
107
مختار ثقفی کا ظہور
4 Hadith
108
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
1 Hadith
109
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
5 Hadith
110
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
3 Hadith
111
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
1 Hadith
112
ولید بن یزید بن عبدالملک کی خلافت
1 Hadith
113
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
2 Hadith
No chapter matched that.