قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Book 163 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 163 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 198 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! فلاں عورت کی نماز، روزے اور صدقے کی تو بڑی مشہوری ہے، لیکن وہ زبان سے اپنے ہمسائیوں کو تکلیف دیتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت کے بارے یہ بات تو کہی جاتی ہے کہ اس کے روزوں، صدقے اور نماز کی مقدار کم ہے، وہ صرف پنیر کے ٹکڑوں کا صدقہ کرتی ہے، البتہ وہ ہمسائیوں کو تکلیف نہیں دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن سب سے پہلے دو جھگڑا کرنے والے دو ہمسائے ہوں گے۔
فوائد:… ہمسائیوں کے حقوق بہت زیادہ ہیں، جبکہ ان کی ادائیگی کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔ نیک پڑوسی جنت ہے، لیکن برا پڑوسی قیامت سے پہلے ایک قیامت ہے، لیکن نیک بنے کون؟
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اپنی مستقل) قیام گاہ کے پڑوسی کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ اگر آدمی مسافر ہو تو وہ (برے پڑوسی) سے جب چاہے جدا ہو سکتا ہے۔
Takhreej
(۹۷۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۱۰ (انظر: ۷۸۷۸)
Explanation
فوائد:… نیک پڑوسی اللہ تعالیٰ کی نعمت ِ عظمی ہے، اس سے نہ صرف آدمی کو ذہنی سکون ملتا ہے، بلکہ اس کی عزتیں محفوظ رہتی ہے، کیونکہ نیک پڑوسی دوسرے پڑوسیوں کا بھی رکھوالا ہوتا ہے، اس کے برعکس برے پڑوسی کے نقصانات اور نحوستیں عیاں ہیں، اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا چاہئے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کے مصداق کے مطابق سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کییہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا پڑھتے تھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ یَوْمِ السُّوْئِ، وَمِنْ لَیْلَۃِ السُّوْئِ، وَمِنْ سَاعَۃِ السُّوْئِ، وَمِنْ صَاحِبِ السُّوْئِ، وَمِنْ جَارِ السُّوْئِ فِیْ دَارِ الْمُقَامِ۔ … اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں برے دن سے، بری رات سے، بری گھڑی سے، برے ساتھی سے اور مستقل قیام گاہ کے برے پڑوسی سے۔ (صحیحہ: ۱۴۴۳ کے تحت۔ بحوالہ طبرانی)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ آدمی مؤمن نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ آدمی صاحب ِ ایمان نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہمسایہ کہ جس کے شرور سے اس کے ہمسائے امن میں نہ ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا شر۔
Takhreej
(۹۷۰۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۱۱، والبزار: ۲۱، وابویعلی: ۴۱۸۷، وابن حبان: ۵۱۰ (انظر: ۱۲۵۶۱)
Explanation
فوائد:… انسان کی عزت و حرمت، مال و دولت اور جان و جیون کو دوسرے انسان کے شرّ سے بچانے کے لیے اسلام نے بہت سخت قوانین وضع کئے ہیں۔ انسانیت کے احترام کا اس سے بڑا لحاظ کیا ہو سکتا ہے کہ صرف پڑوس کی بنا پر اسے حسنِ سلوک کا اوّلین مستحق ٹھہرا دیا جائے اور تحائف و ہدایا کا پہلا حقدار قرار دیا جائے۔ اس سے بڑی بشارت کیا ہو سکتی ہے کہ پڑوسیوں کے حق میں بہتری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں آدمی کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہو جائے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ بندہ جنت میں نہیں جائے گا، جس کے ہمسائے اس کے شرّ سے محفوظ نہ ہوں۔
Takhreej
(۹۷۰۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۲۳ (انظر: ۳۸۰۸)
Explanation
فوائد:… اگر کوئی ہمسایہ اپنے کسی ہمسائے کی بدسلوکی کی وجہ سے تنگ ہے تو اس میں مرکزی کردار ظالم کی زبان کا ہو گا، اس حدیث میں پڑوسی کی خیرو بھلائی کو کامیابی و کامرانی کا معیار قرار دیا گیا ہے، وہ اس طرح کہ ایمان کی بنیاد دل کیراستی پر ہے، دل کی درستی کا دارمدار زبان کی اصلاح پر ہے اور زبان کے خیر و شرّ کا تعلق پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک یا بدسلوکی سے ہے۔
۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب میں نیکی کروں اور جب میں برائی کروں تو مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ میں نے نیکییا برائی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے پڑوسیوں کو یوں کہتا سنے کہ تو نے نیکی ہے، تو تونے نیکی کی ہو گی اور جب ان کو یوں کہتا سنے کہ تو نے برائی کی ہے تو تو نے برائی کی ہو گی۔
فوائد:… اس آدمی کے سوال کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ کوئی ایسا کام کرے، جس کا شرعی حسن یا قباحت مخفی ہو، تو اسے ایسے کام کے بارے میں کیسے علم ہو گا کہ وہ اچھا ہے یا برا ہے، کیونکہ شریعت میں واضح طور پر جن امور کو نیکی اور جن امور کو برا قرار دیا گیا ہے، اس کے بارے میں لوگوں کی رائے کی کوئی ضرورت نہیں۔ نیز ایسے کام کو اچھا یا برا کہنے والے لوگ سلیم الفطرت اور نیکو کار ہونے چاہئیں، جو نیکی و بدی میں شریعت کا مزاج سمجھتے ہوں۔
بنو سدوس کے دیسم نام ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا بشیر بن خصاصیہ سے کہا، یہ ان کا نام نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا تھا، بہرحال ہم نے کہا: بنوتمیم کے کچھ لوگ ہمارے ہمسائے ہیں، ہماری جو بکری ریوڑ سے دور ہو جائے، وہ اس کو لے جاتے ہیں، پھر جب ہمارے پاس ان کے مالوں میں بعض چیزیں آتی ہیں تو ہم ان پر قبضہ کر لیں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔
۔ عبادہ بن نُسی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رونے لگے، کسی نے ان سے کہا: تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ یاد آ گئی تھی، اس لیے رونے لگ گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میں اپنی امت پر شرک اور مخفی شہوت کے بارے میں ڈرتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خبردار! وہ سورج، چاند، پتھراور بت کی عبادت نہیں کرے گی، وہ اپنے اعمال کے ذریعے ریاکاری کریں گے اور مخفی شہوت یہ ہے کہ بندہ صبح کو روزہ رکھے، پھر اس کی کوئی شہوت اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ روزہ توڑ دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۷۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف جدّا، عبد الواحد بن زید البصری متروک الحدیث، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۰۵ (انظر: ۱۷۱۲۰)
Explanation
فوائد:… دکھاوے، تصنع، عدم خلوص، نفاق، نمود و نمائش اور شہرت طلبی جیسے امورِ خبیثہ کو سامنے رکھ کر کوئی ایسا کام کرنا، جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حصول کے لیے سرانجام دیا جاتا ہے، اسے ریاکاری کہتے ہیں۔
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمُ الشِّرْکُ اْلأَصْغَرُ۔)) قَالُوْا: وَمَا الشِّرْکُ الأَصْغَرُ؟ قال: ((اَلرِّیَائُ،یقولُ اللّٰہُ عزَّ وجلَّ لِأَصْحَابِ ذَالِکَ یومَ القِیامَۃِ إِذَا جَازٰی النَّاسَ: اِذْھَبُوْا إِلٰی الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تُرَاؤُوْنَ فِی الدُّنْیَا، فَانْظُرُوْا ھَلْ تَجِدُوْنَ عِنْدَھُمْ جَزَائً؟)) … مجھے تمھارے حق میں سب سے زیادہ ڈر شرکِ اصغر کا ہے ۔ صحابہ نے عرض کی: شرکِ اصغر کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ریاکاری کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن جب لوگوں کو بدلہ دے گا تو ریاکاروں سے کہے گا: ان ہستیوں کی طرف چلے جاؤ، جن کے سامنے دنیا میں ریاکاری کرتے تھے اور دیکھ آؤ کہ آیا ان کے پاس کوئی بدلہ ہے؟ (أحمد: ۵/۴۲۸و۴۲۹، صحیحہ: ۹۵۱)
امام مبارکپوریl نے کہا: لوگوں کو دکھانے کی خاطر عبادت کا اظہار کرنا، تاکہ لوگ اس عبادت گزار کی تعریف کریں۔ جبکہ امام غزالیl نے کہا: ریاکاری کا اصل معنی لوگوں کو محمود اور قابل تعریف خصائل دکھا کر ان کے دلوں میں مقام حاصل کرنا ہے، تو ریاکاری کی تعریفیہ ہوئی کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کے امور سر انجام دینا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۷۹)
ریاکار عارضی طور پر لوگوں کی نظروں میں تو متقی اور پارسا بن جاتا ہے، لیکن اپنے عمل کو برباد اور اس کے اجر کو ضائع کر دیتا ہے، یہ ریاکاری کی شناعت و قباحت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی عبادات میں اخلاص پیدا کریں اور ریاکاری، خوشامد اور چاپلوسی جیسے غیر اخلاقی امور سے مکمل اجتناب کریں۔
شرک اکبر اور شرک صریح کا مرتکب دائمی جہنمی ہے۔ ریاکاری جیسا شرک اصغر قابل معافی جرم ہے، اگر معاف نہ ہوا تو اس کی سزا بھگتنے کے لیے عارضی طور پر جہنم میں جانا پڑے گا۔
آج کل مقابلہ بازی کا دور ہے اور ہمارے ہاں کئی اعمال کی بنیاد دوسرے کو دکھانے اور اپنے آپ کو ظاہر کرنے پر ہے، مثلا نمازِ جنازہ میں شرکت، کسی کی دعوت کرنا یا کسی کی دعوت قبول کرنا، کسی سے حسن اخلاق سے پیش آنا، یہ امور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لیے نہیں، بلکہ ذاتی دوستی و دشمنی کی بنا پر سر انجام دیئے جا رہے ہیں۔
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابی سعید بن ابو فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: جس بندے نے اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیا، لیکن اس نے اس میں کسی اور کو بھی شریک کر دیا تھا تو وہ اُسی غیر اللہ کے پاس اس کا ثواب تلاش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں: میں شریکوں میں شرک سے سب سے بڑھ کر غنی ہوں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں شرکاء میں بہترین شریک ہوں، جو میرے لیے عمل کرتا ہے اور پھر اس میں میرے غیر کو بھی شریک کر لیتا ہے تو میں اس سے بری ہو جاتا ہوں اور وہ اسی کے لیے ہو جاتا ہے، جس کو وہ شریک کرتا ہے۔
۔ ابن غنم کہتے ہیں: جب میں اور سیدنا ابو درداء جابیہ کی مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ملے، انھوں نے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ اور دائیں ہاتھ سے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا اور ہمارے درمیان چلنے لگے، ہم سرگوشی کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہم کس چیز میں سرگوشی کر رہے تھے، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم میں سے ایک کییا دونوں کی عمر لمبی ہو گئی تو ممکن ہے کہ تم یہ دیکھو کہ درمیانے قسم کے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا ایک آدمی ہو گا، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان کے مطابق قرآن مجید پڑھے گا، پھر وہ اس کو بار بار پڑھے گا اور اس کو ظاہر کرے گا اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے گا اور اس کے احکام کا پابند رہے گا، لیکن پھر بھی وہ تمہارے پاس اتنی خیر لائے گا، جتنی کہ مردار گدھے کا سر لاتا ہے، (یعنی وہ آدمی ذرا برابر خیر و بھلائی لے کر نہیں آئے گا)۔ ہم اسی اثنا میں تھے کہ سیدنا شداد بن اوس اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئے، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس چیز کا ہے، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مخفی شہوت اور شرک ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ! بخشنا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ شیطان اس چیز سے ناامید ہو گیا ہے کہ جزیرۂ عرب میں اس کی عبادت کی جائے؟ البتہ مخفی شہوت کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی شہوات ہوتی ہیں، ان کا تعلق عورتوں سے اور ان کی شہوات سے ہوتا ہے، لیکن شداد! یہ شرک کیا چیز ہے، جس کے بارے میں تم ہمیں ڈرا رہے ہو؟ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا اس کے بارے میں تم مجھے بتلاؤ کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی کی خاطر نماز پڑھ رہا ہو، یا روزہ رکھ رہا ہو، یا صدقہ کر رہا ہو، کیا اس کے بارے میںتمہاری رائے یہی ہے کہ اس نے شرک کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! جس آدمی نے کسی آدمی کو دکھانے کے لیے نماز پڑھی،یا روزہ رکھا، یا صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھی، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے روزہ رکھا، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے صدقہ کیا، اس نے شرک کیا۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کیااس طرح نہیں ہو گا کہ اس کے وہ اعمال دیکھے جائیں جو اس نے خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے کیے ہوں اور ان کو قبول کر لیا جائے اور شرکیہ اعمال کو چھوڑ دیا جائے؟ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے میرے ساتھ شرک کیا، میں اس کا سب سے بہترین قسیم اور حصہ دار ہوں، جس نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرایا تو اس آدمی کے اعمال کی ساری جمع پونجی، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، اس کے اس ساجھی کے لیے ہو جائے گی، جس کے ساتھ وہ شرک کرے گا اور میں (اللہ) اس سے غنی ہوں گا۔
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مشہور کر دے گا اور جس نے (خلافِ حقیقت) نیکی کا اظہار کرنا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کا اظہار کروا دے گا۔
فوائد:… طلبی، ریاکاری، نمودو نمائش اور دکھلاوے جیسی چیزوں کا طلبگار ہونا انتہائی کمینگی اور گھٹیا پن ہے ۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو دنیا میں ان کی خواہش کے مطابق مشہور کر دیتے ہیں، پھر ان کی باتیں بھی سنی جاتی ہیں اور عزت تو عزت، ان کی چاپلوسی اور خوشامد تک کی جاتی ہے، لیکن میدانِ حشر میں ذلیل ہو جائیں گے، شہرت سے مراد روزِ قیامت کی ذلت بھی ہو سکتی ہے، یعنی قیامت کے روز ان کو لوگوں کے سامنے ذلیل کیا جائے گا، اس طرح سے ان کی شہرت ہو جائے گی اور ہر ایک پر ان کا معاملہ واضح ہو جائے گا۔
مومن کو چاہئے کہ اپنے عمل میں خلوص پیدا کرے اور اس معاملے میں اچھی خاصی فکر پیدا کرے، امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مَا عَالَجْتُ شَیْئًا اَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ نِیَّتِیْ، لِاَنَّھَا تَتَقَلَّبُ عَلَیَّ۔ … میں نے کسی چیز کا علاج نہیں کیا، جو میرے لیے سب سے زیادہ مشکل ہو، ما سوائے نیت کے، یہ نیت تو مجھ پر الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔
یہ اتنے بڑے امام کی فکر اور رائے ہے، ہم کیسے فرق کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو، آمین۔ مزید ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۸۸۴)
۔ سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ریاکای اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا اظہار کروا دے گا اور اس کو مشہور کر دے گا۔
۔ عبد اللہ بن عوف کنانی، جو کہ عمر بن عبد العزیزi کی طرف سے رملہ پر عامل تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عبد الملک بن مروان کے پاس موجود تھا، اس نے عمرو بن سعید بن عاص کے قتل والے دن بشیر بن عقربہ جہنی سے کہا: اے ابو الیمان! آج مجھے تیرے کلام کی ضرورت پڑ گئی ہے، لہٰذا اٹھو اور کوئی بات کرو، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جو خطاب کرنے کے لیے کھڑا ہوا، جبکہ کا اس کا مقصد صرف ریاکاری اور شہرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ریاکاری اور شہرت والے مقام پر کھڑا کرے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کے سامنے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مخلوق کے سامنے مشہور کر دے گا، لیکن پھر اس کو گھٹیا اور حقیر کر دے گا۔ پھر سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔
Takhreej
(۹۷۱۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۶۵۰۹)
Explanation
فوائد:… ریا کار آدمی دنیا میں بھی سلیم الفطرت اور متقی مومنوں کے نزدیک گھٹیا سمجھا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی مومنوں کے دلوں میں اس کی حقیقی محبت پیدا نہیں ہونے دیتے۔
۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: جب لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ارد گرد سے بکھر گئے تو اہل شام کے ایک ناتل نامی آدمی نے کہا: محترم! ہمیں کوئی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے روز سب سے پہلے ان (تین قسم کے) افراد کا فیصلہ کیا جائے گا: (۱)جس آدمی کو شہید کیا گیا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا: تو کیا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا،حتی کہ شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھو ٹ بول رہا ہے، تو نے تو اس لئے جہاد کیا تھا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے اور ایسے (دنیا میں) کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۲) علم سیکھنے سکھانے اور قرآن مجید پڑھنے والا آدمی، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ اقرار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیری خاطر علم سیکھا سکھایا اور تیرے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، حصولِ علم سے تیرا مقصدیہ تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا کہ قاری کہا جائے، سو ایسے تو کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۳)وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے خوشحال و مالدار بنایا اور اسے مال کی تمام اقسام عطا کیں، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کروائے گا ، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: جن مصارف میں خرچ کرنا تجھے پسند تھا، میں نے ان تمام مصارف میں تیرے لئے خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تیرا خرچ کرنے کا مقصد تو یہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے او روہ تو کہہ دیا گیا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم ہو گا، جس کے مطابق اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
Takhreej
(۹۷۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۰۵ (انظر: ۸۲۷۷)
Explanation
فوائد: …معلوم ہوا کہ ریاکاروں کا سخت محاسبہ ہو گا۔ شریعت ِ اسلامیہ کا تقاضا ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا، چاہے بظاہر وہ عمل کتنا بڑا ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ریاکاری کی وجہ سے اس پر ثواب ملنے کی بجائے، عذاب ہو گا اور ایسا نیکوکار جنت کے بجائے جہنم میں جائے گا۔
معلوم ہوا کہ ہر نیک عمل کرنے اور ہر برائی سے بچنے سے پہلے اس چیز کا تعین کر لیا جائے کہ اس عمل کا مقصود کیا ہے، اگر مقصود اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو راضی کرنا ہو تو سرے سے وہ لوگوں کے سامنے نہ کیا جائے، نیز اللہ تعالیٰ سے خلوصِ نیت کی بکثرت دعا کی جائے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانے کی باریاں مقرر کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزارتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی ضرورت پڑتی تھی اور رات کو کوئی معاملہ پیش آتا تھا تو ہمیں اٹھا دیتے تھے، اس طرح ثواب کی خاطر آنے والوں اور باری والوں کی تعداد بڑھ جاتی تھی، ایک رات ہم گفتگو کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: یہ سرگوشی ہو رہی ہے؟ میں نے تم کو سرگوشی سے منع نہیں کیا تھا؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور دجال سے ڈرتے ہوئے اس کی بات کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دے دوں، جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خوف والی ہے؟ ہم نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شرکِ خفی،یعنی کسی آدمی کے مرتبے کی خاطر عمل کرنا۔
Takhreej
(۹۷۱۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف کثیر بن زید الاسلمی وربیح بن عبد الرحمن، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۰۴ (انظر: ۱۱۲۵۲)
Explanation
فوائد:… مسیح دجال کی آزمائش جسمانی ہو گی، ابدی اور سرمدی سعادت کے لیے صبر کے ذریعے اس کو برداشت کرنا ممکن ہو گا، لیکن شرکِ خفی اور ریاکاری جیسی آزمائش کا نتیجہ دنیا میں بے چینی اور آخرت میں خسارہ ہے۔
۔ سیدنا ابن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کام کے لیے نکلے، جب مجھے دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑ لیا، پس ہم چل پڑے اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند تلاوت کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ یہ ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ قرآن کی بلند آواز سے تلاوت کر رہا ہے، (بھلا اس میں کیا حرج ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا: تم اس دین کو غلبے کے ساتھ نہیں پا سکتے۔ وہ کہتے ہیں: پھر ایکرات کو ایسے ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی ضرورت کے لیے نکلے، جبکہ میں ہی پہرہ دے رہا تھا، (اسی طرح) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا (اور ہم چل پڑے) اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ اب کی بار میں نے کہا: قریب ہے کہ یہ شخص ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (میرا ردّ کرتے ہوئے) فرمایا: ہر گز نہیں،یہ تو بہت توبہ کرنے والا ہے۔ جب میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبد اللہ ذو االبجادین تھے۔
فوائد:… بلا شک و شبہ از روئے شریعت نماز میں بآوازِ بلند قرآن مجید کی تلاوت کرنا درست ہے، جیسا کہ اس حدیث کے دوسرے حصے سے بھی ثابت ہو رہا ہے۔ اس حدیث کے پہلے حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس شخص میں ریاکاری کا امکان ظاہر کیا ہے، یقینایہ قرائن یا بصیرتیا وحی کی بنا پر تھا، کیونکہ جب آپ کے ساتھی سیدنا ابن ادرع نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سابقہ حدیث کو نمونہ بناتے ہوئے یہی بات سیدنا عبد اللہ ذو البجادین کے بارے میں کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ردکر دیا، حالانکہ دونوں بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔
ہاں پہلے شخص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ کہنا کہ تم اس دین کو غلبے کے ساتھ اس دین کو نہیں پا سکتے۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یا تو ایسے مقام پر کھڑا تھا کہ اس کے عمل کا بہت زیادہ اظہار ہو رہا تھا اور یہ چیز ریاکاری کا سبب بن سکتی ہے یابہت طویل قیام کر رہا تھا یا اس کی آواز بہت زیادہ بلند تھی، اس طرح وہ اعتدال اور میانہ روی سے آگے بڑھ رہا تھا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم کسی شخص پر ریاکاری کا الزام نہیں لگا سکتے، دونوں آدمی بلند آواز سے تلاوت کر رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کے بارے میں ریاکاری کے شبہ کا اظہار کر دیا، جبکہ دوسرے کے بارے میں کلمۂ خیر کہا۔ ہاں لوگوں کو غلوّ اور افراط سے بچنے کی اور اعتدال کے ساتھ عبادت کرنے کی تلقین کرنی چاہیے۔
اگرچہ آج کل تبصرے کا دور ہے، بری تو بری، دوسروں کی اچھی خصلتوں پر بھی ناقدانہ تبصرہ کیا جاتا ہے یا اچھے شخص کی کمی کوتاہیوں کو ہوا دے کر تبصرہ نگار بزعم خود اپنے آپ کو انسانِ کامل خیال کرتا ہے۔ ایک مسجد کی انتظامیہ کا ایک فرد مسجد کے خادم پر اس بنا پر تبصرہ کر رہا تھا کہ وہ فجر کی اذان بغیر وضو کے دے دیتاہے، میں نے اس سے پوچھا کہ آپ خود نمازِ فجر ادا کرتے ہیں؟ جناب نے منفی میں جواب دیا۔ ہائے خرابی! نماز سے محروم شخص اس بندۂ خدا پر نقد کر رہا ہے، جو فجر کی اذان دیتا ہے اور لوگوں کو باجماعت نمازِ فجر پڑھاتا ہے۔ جرم ہے بغیر وضو کے اذان دینا، جو شریعت میں سرے سے غلطی ہی نہیں ہے، اگرچہ افضل عمل یہی ہے کہ طہارت کا اہتمام کیا جائے۔
قارئین کرام! التماس یہ ہے کہ اگر کسی شخص میں نیکی کے آثار پائے جاتے ہیں تو ان کو قبول کرنا چاہیے اور اس بنا پر اس کی قدر کرنی چاہیے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر ایمان ہو گا اور وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں ، سر پر تیل لگا ہوا ہو، میرے جوتے کا تسمہ نیاہو، پھر اس نے مزید کچھ اشیا کا ذکر بھی کیا،یہاں تک کہ کوڑا لٹکانے کے حلقے کی بات کی، تو کیایہ چیزیں تکبر سے ہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو جمال ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظر حقارت دیکھا جائے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا ہو کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو تو جنت اس کے لیے اس قدر بھی حلال نہیں ہو گی کہ وہ اس کی خوشبو پا سکے یا اس کو دیکھ سکے۔ قریش کے ابو ریحانہ نامی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں تو حسن و جمال کو پسند کرتا ہوں، …۔ پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔
۔ سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تکبر میں سے کوئی چیز جنت میں داخل نہیں ہو گی۔ ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں تو پسند کرتا ہوں کہ اپنے کوڑے کے دھاگے یا چمڑے اور اپنے جوتے کے تسمے کے ساتھ جمال حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتاہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظرِ حقارت دیکھا جائے۔ حَبْلَان سے مراد کوڑے کا چمڑا یا دھاگہ ہے اور جوتے کا تسمہ ہے۔
Takhreej
(۹۷۱۹) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: بعینیہ ، وھذا اسناد ضعیف، لجھالۃ عبد الرحمن بن حوشب، وجھالۃ ثوبان ابن شھر (انظر: ۱۷۲۰۷)