TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Book 163 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 163 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 198 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

198 Hadith · 23 Chapters
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۲۰)۔ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ اَصْرَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ : مَاتَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الصُّفَّۃِ، فَقِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَرَکَ دِیْنَارًا اَوْ دِرْھَمًا، فَقَالَ: ((کَیَّتَانِ، صَلُّوْا عَلَی صَاحِبِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۵)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی گئی کہ اے اللہ کے رسول! وہ تو ایک دیناریا ایک درہم چھوڑ کر فوت ہوا ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں، تم خود اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔
Takhreej
(۹۸۲۰) تخریج: حدیث حسن لغیرہ (انظر: ۱۱۵۵)
Explanation
فوائد:… جہاں میراث کے قوانین مقرر ہیں، وہاں قریب الموت آدمی کے لیےیہ حد بندی بھی کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے مال کے ایک تہائی حصہ سے زیادہ وصیت نہیں کر سکتا ہے، اگر وہ اس مقدار سے زیادہ وصیت کرتا ہے تو اسے ردّ کر دیا جائے گا اور مال اس کے ورثا ء میں تقسیم کیا جائے گا، نیز شریعت کی روشنی میں کسی کو یہ حق بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی وارث کے حق میں وصیت کرے۔ تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہوا؟ جواباً شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس آدمی کے بارے میں دو تین دیناروں کی وجہ سے اتنی سخت وعید بیان فرمائی ہے، معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس وعید کا بیچ میںکوئی اور سبب ہو گا، اس کا اظہار صرف دیناروں کی بنا پر نہیں کیا گیا، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ میت مال کی اتنی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے آگ کا حقدار نہیں ٹھہرتا ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک طرف تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ترکہ چھوڑ جانے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فرمایا: اگر تو (اپنے ترکہ کے ذریعے) اپنے وارثوں کو غنی کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس حال میں چھوڑ جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلاتے پھریں۔ (بخاری، مسلم) اسی طرح جب نجدی نے زکوۃ کا مسئلہ سنا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: کیا زکوۃ کے علاوہ بھی میرے مال میںکوئی حق ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، ہاں اگر تم نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہو (تو کر سکتے ہو)۔ (بخاری، مسلم) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مالدار زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اسی حالت میں اس کو موت بھی آسکتی ہے۔ اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں جو زندگی میں مال و دولت جمع کرنے اور صاحب ِ مال کے فوت ہونے کے بعد اس کو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینے پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے: بَابُ مَنْ اَدَّیٰ زَکَاتَہٗفَلَیْسَ بِکَنْزٍ؛ لِقَوْلِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ …)) … زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال وہ خزانہ نہیں رہتا (جس کی مذمت کی گئی ہے) کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلہ پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی… اس بحث کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ اِس آدمی نے مال سے متعلقہ حقوق کی ادائیگی صحیح طور پر نہ کی ہو، مثلا اہل و عیال پر خرچ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو لباس پہنانا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی مال کے باوجود فقر و فاقے کا اظہار کرتا ہو، جیسا کہ علقمہ مزنی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ، مسجد میں رات گزارتے تھے، ان میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا ازار کھولا گیا تواس میں سے دو دینار نکلے، جن کو دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو داغ ہیں۔ (مصنف عبد الرزاق: ۱/ ۴۲۱/ ۱۶۴۹) اور اس احتمال کا بھی امکان ہے کہ یہ شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ (صحیحہ: ۳۴۸۳) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال سے متعلقہ تمام حقوق ادا کرے اور حلال ذرائع سے مال جمع کرے، وگرنہ وہ اس وعید کا مستحق قرار پائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دینار میں ساڑھے چار ماشے سونا ہوتا ہے۔
9820
Sahih
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۲۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَعْضِ جَسَدِیْ، فَقَالَ: ((یَاعَبْدَ اللّٰہِ! کُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ، وَاعْدُدْ نَفْسَکَ فِیْ الْمَوْتٰی۔)) (مسند احمد: ۴۷۶۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے جسم کے ایک حصے کو پکڑا اور فرمایا: اے عبدا للہ! دنیا میں ایسے ہو جا، جیسے تو اجنبییا مسافر ہے اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر۔
Takhreej
(۹۸۲۱) تخریج: صحیح لغیرہ ، أخرجہ الترمذی: ۲۳۳۳، وابن ماجہ: ۴۱۱۴، وقولہ کن فی الدنیا کأنک غیریب او عابر سبیل أخرجہ البخاری: ۴۶۱۶ (انظر: ۴۷۶۴)
Explanation
فوائد:… ذہن نشین رہے کہ یہ مثال اس دور میں پیش کی گئی جب سفر کرنے کا سب سے بڑا سبب اونٹ، گھوڑے، خچر اور گدھے تھے، یہ سواریاں دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مہینوں کی مسافتیں پیدل طے کرنا پڑتی تھیں۔ بحری سفر کرنے والے کشتیاںیا پانی میں نہ ڈوبنے والی کوئی چیز استعمال کیا کرتے تھے۔ دور دور کے سفروں میں سرائے اور ہوٹلوں کی سہولتیں دستیاب نہ تھیںیا بہت کم تھیں۔ مسافروں کو بعض سفروں میںپینے کا پانی بھی اپنے ہمراہ اٹھانا پڑتا تھا۔ پڑاؤ کے دوران چٹانوں، ریت اور مٹی پر سونا پڑتا تھا۔ پگڈنڈیوں، صحراؤں اور کچی سڑکوں پر مشتمل راستے ہوتے تھے، بلکہ بسا اوقات مسافروں کو راستہ بھی خود ایجاد کرنا پڑتاتھا۔ یہ انداز سفر اور طرزِ حیات عہدِ قدیم سے اس سائنسی دور، جس کی ابتدا تقریباً دو صدیاں پہلے ہوئی، تک جاری رہا۔ احادیث ِ مبارکہ کی روشنی میں مستقبل میں جس دور کی پیشین گوئی کیگئی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ بالآخر یہ جدید دور ختم ہو جائے اور از سرِ نو پرانے والا دیسی زمانہ شروع ہو جائے گا۔ ممکن ہے کہ موجودہ ترقییافتہ دور میں ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں اور عمدہ لائنوں اور شاہراہوں پر ریل گاڑیوں، بسوں اور موٹر کاروں کے ذریعے سفر کرنے والے اور دورانِ سفر جگہ جگہ پر عمدہ ریسٹورینٹ، سرائے اور ہوٹلیں پانے والے اس مثال کی دقت اور مقصود کو نہ سمجھ پائیں۔ اگرچہ آج بھی مسافر تھوڑا سا سازو سامان اور معمولی نقدی کے ہمراہ سفر کرنے کا قائل ہے، ہر کوئی اپنے شہر تک پہنچنے کے لیے جلدی کرتا ہے، ایک سیٹ پر بیٹھنے والے مسافر ایک دوسرے سے مانوس نہیں ہوتے، ہر مسافر دوسرے ہر فرد سے خوف اور وحشت محسوس کرتا ہے، ہر کسی کو ڈاکوؤں، چوروں اور حادثات کا خطرہ ستائے رکھتا ہے اور انہی وجوہات کی بنا پر دورانِ سفر اچھے اور صاف ستھرے لباس ، وضع قطع اور میک اپ وغیرہ کرنے پر وہ توجہ نہیں دی جاتی، جس کا اہتمام حضر میں کیا جاتا ہے، بلکہ بعض خواتین و حضرات کو دیکھا گیا ہے کہ وہ سفر کے دوران حال و بے حال اور اپنے آپ سے تنگ ہوتے ہیں، لیکن جونہی ان کی منزل قریب آ رہی ہوتی ہے، وہ اپنے لباس اور جسم کو سنوارنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں یہی نقطہ سمجھایا گیا کہ کسی مسافر کا دل سفر میں ، وہ جیسا بھی ہو، نہیں لگتا، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی پوری زندگی کو ایک دنیا کا ایک سفر سمجھیں اور اس سفر میں دل نہ لگائیں اور اس کو قرآن و حدیث کی ہدایات کے مطابق عبور کر کے اپنے اصلی وطن جنت تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ حافظ ابن حجرl نے کہا: اَوْ بمعنی بَلْ ہے، یعنی: دنیا میں اس طرح ہو جاؤ کہ گویا کہ تم اجنبی ہو، بلکہ مسافر ہو۔ یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عابد و زاہد کو پہلے اس اجنبی اور پردیسی سے تشبیہ دی، جس کی کوئی جائے پناہ اور گھر نہیں ہوتا، پھر بات کو آگے بڑھایا اور مسافر سے تشبیہ دی، کیونکہ بسا اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ اجنبی آدمی کو پر دیس میں رہائش کے لیے کوئی نہ کوئی گھر مل ہی جاتا ہے، لیکن جس مسافر نے دور دراز علاقوں کا سفر طے کرنا ہو، جبکہ اس کے راستے میں ہلاکت گاہ وادیاں، بے آب و گیاہ مہلِک صحرا اور ڈاکو اور چور بھی ہوں، تو اس کی صورتحال یہ ہو گی کہ وہ دورانِ سفر کہیں بھی لمحہ بھر کے لیے قیام نہیں کرے گا، اسی لیے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہا کرتے تھے: اگر شام ہو جائے تو صبح کی انتظار نہ کیا کر اور اگر صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کیا کر اور بیماری کے لیے اپنی صحت میں سے اور موت کے لیے اپنی زندگی میں سے کچھ لے لے۔ نیز وہ یہ بھی کہا کرتے تھے: اپنے آپ کو قبرستان والے مردوں میں شمار کر۔ معنییہ ہوا: اے مسافر! چلتا رہ اور سست نہ پڑ، اگر تو نے سستی کی توراستے میں ہی رہ جائے گا، مہلک وادیوں میں ہلاک ہو جائے گا (اور اپنی منزل مقصود تک نہ پہنچ پائے گا)۔ ابن بطال نے کہا: اجنبی اور پردیسی آدمی دوسرے لوگوں سے بے تکلفی اختیار نہیں کرتا، بلکہ وہ ان سے وحشت زدہ ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو کم تر اور خوفزدہ محسوس کرتا ہے۔ مشکل ہی ہے کہ دورانِ سفر اسے کوئی ایسا آدمی مل جائے، جس سے وہ مانوس ہو جائے۔ یہی معاملہ مسافر کا ہے کہ وہ اپنی قوت و طاقت کے مطابق سفر پر روانہ ہوتا ہے، اپنے ساتھ کم سے کم وزن والا سامان لے کر جاتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس اتنا زادِ راہ اور سواری ہونی چاہیے کہ وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ (یہی معاملہ مومن کا ہے کہ وہ دنیا میں زیادہ بے تکلفی اختیار نہ کرے، اس سے زیادہ مانوس نہ ہو، اس کے پاس اتنا زادِ راہ اور سامانِ دنیا ہونا چاہیے کہ کسی کے سامنے دست ِ سوال پھیلائے بغیر دنیا کے ایام بیت جائیں)۔ اس مثال سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنی چاہیے اور گزر بھر، ضرورت بھر اور بقدر کفاف چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جس طرح مسافر کوصرف اتنے ساز و سامان اور زادِ راہ کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس سے اس کا سفر طے ہو جائے اور وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے، اسی طرح مومن کو اتنے دنیوی سازو سامان کا اہتمام کرنا چاہیے کہ اس کی دنیا کا سفر طے ہو جائے۔ دوسرے شارحین نے کہا: یہ حدیث دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے، اس کو حقیر سمجھنے اور اس میں ضرورت بھر اسبابِ زندگی پر قناعت کرنے کی بنیاد ہے۔ امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ دنیا کی طرف جھکاؤ اختیار نہ کرو، اس کو اپنا (مستقل) وطن نہ سمجھو ، اس میںاپنی بقا کے بارے میں مت سوچو اور اس سے اتنا تعلق رکھو، جتنا کہ کسی دوسرے وطن میں پردیسی آدمی کا ہوتا ہے۔ بعض نے کہا: مسافر اپنے وطن تک پہنچنے کے لیے راستے پر چل رہا ہوتا ہے۔ دنیا میں بندہ بھی اس آدمی کی طرح ہے، جس کو اس کے آقا نے کسی حاجت کے لیے دوسرے وطن میں بھیجا ہو، اس کی صورتحال یہ ہوتی ہے کہ وہ حاجت پوری کر کے اپنے وطن کی طرف لوٹنے میں جلدی کرتا ہے اور کسی دوسری غیر متعلقہ چیز میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا، (یہی معاملہ مومن کا ہے کہ اس کے آقا یعنی ربّ تعالیٰ نے اسے دنیا میں توشۂ آخرت کی تیاری کے لیے بھیجا، اسے چاہیے کہ اپنی زندگی کے دورانیے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال ذخیرہ کرے اور پھر یہاں سے روانہ ہو کر اپنے آقا کے پاس پہنچ جائے)۔ کسی نے کہا: اس حدیث کا مرادی معنییہ ہے کہ جس طرح پردیسی آدمی غیر وطن میں عارضی سکونت اختیار کرتا ہے،اپنے مقصد کی تکمیل کی کوشش میں رہتا ہے اور اس کا دل اپنے وطن کے ساتھ معلّق رہتا ہے اور واپس جانے کی سوچتا رہتا ہے۔ یہی معاملہ مومن کا ہے کہ وہ دنیا میں آخرت کی ضروریات پوری کرنے اور اپنے اصل وطن (جنت) کی طرف لوٹ جانے کی سوچ میں رہے۔ یا جس طرح مسافر کسی سرائے میں مستقل سکونت اختیار نہیں کرتا، بلکہ اپنے شہر پہنچنے کے لیے سفر جاری رکھتا ہے، اسی طرح مومن دنیا میں اپنے وطن جنت تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اعمال صالحہ کا سفر جاری رکھتا ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۲۸۱) اللہ تعالیٰ شارحین احادیث ِ نبویہ کی مساعی ٔ جمیلہ قبول فرمائے اور ان پر رحمت نازل فرمائے۔ (آمین)
9821
Sahih
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اَعْرَابِیًّا غَزَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْبَرَ فَاَصَابَہُ مِنْ سَھْمِہِ دِیْنَارَانِ، فاَخَذَھُمَا الْاَعْرِابِیُّ فَجَعَلَھُمَا فِیْ عَبَائَ تِہِ وَخَیَّطَ عَلَیْھِمَا وَلَفَّ عَلَیْھِمَا، فَمَاتَ الْاَعْرَابِیُّ، فَوَجََدُوْا الدِّیْنَارَیْنِ، فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((کَیَّتَانِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۶۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو نے غزوۂ خیبر کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میںجہاد کیا، جب اس کو اپنے حصے کے دو دینار ملے تو اس نے ان کو اپنی چادر میں رکھا اور سلائی کر کے لپیٹ دیا اور پھر وہ بدّو فوت ہو گیا، جب لوگوں کو اس کے دینار ملے اور انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں۔
Takhreej
(۹۸۲۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، والاحادیث فی ھذا المعنی ثابتۃ،منھا الحدیث الآتی (انظر: ۸۶۷۸)
9822
Zaeef
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۲۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَحِقَ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبْدٌ اَسْوَدُ فَمَاتَ فَاُوْذِنَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اُنْظُرُوْا ھَلَ تَرَکَ شَیْئًا؟)) فَقَالُوْا: تَرَکَ دِیْنَارَیْنِ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیَّتَانِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۴۳)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام غلام، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملا اور پھر فوت ہو گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بارے میں بتلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیکھو، کیا وہ کوئی چیز چھوڑ کر فوت ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی اس نے دو دینار چھوڑے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ کے دو داغ ہیں۔
Takhreej
(۹۸۲۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۷۲، وابویعلی: ۴۹۹۷ (انظر: ۳۸۴۳)
Explanation
فوائد:… ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۹۸۲۰)
9823
Sahih
موت اور امید کا بیان
۔ (۹۸۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ خَطَّ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا وَسْطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، وَخُطُوْطًا اِلٰی جَنْبِ الْخَطِّ الّذِیْ وَسْطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، وَخَطٌّ خَارِجٌ مِنَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاھٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((ھٰذَا الْاِنْسَانُ، الْخَطُّ الْاَوْسَطُ، وَھٰذِہِ الْخُطُوْطُ الَّتِیْ جَنْبَہُ الْاَعْرَاضُ تَنْھَشُہُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ، اِنْ اَخْطَاَ ھٰذَا، اَصَابَہُ ھٰذَا، وَالْخَطُّ الْمُرَبَّعُ، الْاَجَلُ الْمُحِیْطُ بِہٖ،وَالْخَطُّالْخَارِجُالْاَمَلُ۔)) (مسنداحمد: ۳۶۵۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لکیریں لگا کر ایک مربع شکل بنائی، اس شکل کے درمیان میں ایک خط لگایا اور پھر اس کے ساتھ اور شکل کے اندر ہی کئی لکیریں لگائی اور ایک لکیر اس مربع کے باہر لگائی اور پھر فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درمیان میں لگی ہوئییہ لکیر انسان ہے، اس کے ساتھ لگی ہوئییہ لکیریںبیماریاں ہیں، جو اس کو ہر مقام پر نوچنے کی کوشش کرتی ہیں، اگر ایک اپنے نشانے سے گھس جاتی ہے تو دوسری لگ جاتی ہے،یہ مربع شکل میں لگے ہوئے خطوط انسان کی موت ہے، جو اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس شکل سے باہر لگی ہوئی لکیر انسان کی امید ہے ۔
Takhreej
(۹۸۲۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۱۷ (انظر: ۳۶۵۲)
Explanation
فوائد:… آدمی کو قناعت پسند ہونا چاہیے، محنت مزدوری کے بعد جو مل جائے اس پر صابر اور شاکر رہے اور بیشک مزید کی کوشش کرے، دنیوی تعلیم حاصل کرے، اچھی نوکری کے لیے تگ و دو کرے، لیکن دینی تعلیمات اور اسلامی حدود کا پابند بن کر۔ ایسی حرص اور لالچ غالب نہ آجائے کہ بس دنیا کی بہتری ہی کی فکرکا ہو کر رہ جائے۔ دو تین مثالوں پر غور کریں: آج کل بچوں کی دنیوی تعلیم پر انتہائی توجہ دی جا رہی ہے اور اس سے متعلقہ تمام تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں، لیکن دین کے معاملے میں انتہائی غفلت برتی جا رہی ہے اور اس کا ایک تقاضا بھی پورا نہیں کیا جا رہا، مسلمان بچے کا والدین پر عائد ہونے والا سب سے بڑا فرض نماز کی تعلیم دینا ہے، لیکن افسوس کہ تمام والدین نہ صرف اس فرض کی ادائیگی سے غافل ہیں، بلکہ سرے سے ان کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ کاروبار میں عملی طور پر اضافہ کرتے ہیں، کوٹھیاں بنا رہے ہیں، گاڑیاں خرید رہے ہیں، لیکن جب ان سے حج اور عمرے جیسی ذمہ داری کی بات کی جاتی ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں جی ہم پر بڑی ذمہ داریاں ہیں، بچوں کی شادیاں کرنی ہیں، فلاں بھتیجا، فلاں بھانجی کا خرچ بھی ہمارے ذمے ہے۔ ایسے والدین اور کاروباری،یہ سب شریعت کے چور ہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ دین اور دنیا دونوںکے بارے میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرے، وہ کمائی کرے، لیکن آمدنی کے تقاضوں کو بھی ذہن نشین رکھے، اپنی اولاد کے لیے دنیوی تعلیم کی کوشش کرے، لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اولاد کے بارے میں دین کی فکر نہ کی جائے۔
9824
Sahih
موت اور امید کا بیان
۔ (۹۸۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَرَزَ بَیْنَیَدَیْہِ غَرْزًا، ثُمَّ غَرَزَ اِلٰی جَنْبِہٖآخَرَ،ثُمَّغَرَزَالثَّالِثَفَاَبْعَدَہُ،ثُمَّقَالَ: ((ھَلْتَدْرُوْنَمَاھٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُوَرَسُوْلُہُاَعْلَمُ،قَالَ: ((ھٰذَا الْاِنْسَانُ، وَھٰذَا اَجَلُہُ، وَھٰذَا اَمَلُہُ، یَتَعَاطَی الْاَمَلَ، یَخْتَلِجُہُ الْاَجَلُ دَوْنَ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سامنے ایک چیز گاڑھی، پھر اس کے پہلو میں ایک دوسری چیز گاڑھ دی اور اس سے ذرا دو ر کر کے تیسری چیز گاڑھ دی اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ انسان ہے، اس کے ساتھ گڑھی ہوئییہ چیز اس کی موت ہے اور وہ دور گڑھی ہوئی اس کی امید ہے، ابھی تک وہ اپنی امید کے درپے ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہی موت اس کو اچک لیتی ہے۔
Takhreej
(۹۸۲۵) تخریج: اسنادہ جیّد (انظر: ۱۱۱۳۲)
9825
Sahih
موت اور امید کا بیان
۔ (۹۸۲۶)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ اَصَابَہُ فَوَضَعَھَا عَلَی الْاَرْضِ فَقَالَ: ((ھٰذَا ابْنُ آدَمَ۔)) ثُمَّ رَفَعَھَا خَلْفَ ذٰلِکَ قَلِیْلًا، وَقَالَ: ((ھٰذَا اَجَلُہُ۔)) ثُمَّ رَمٰی بِیَدِہِ اَمَامَہُ قَالَ: ((وَثَمَّ اَمَلُہُ)) (مسند احمد: ۱۲۲۶۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیاں جمع کیں اور ان کو زمین پر رکھا اور فرمایا: یہ ابن آدم ہے۔ پھر اپنی انگلیوں کو تھوڑا سا اٹھایا اور فرمایا: یہ اس کی موت ہے۔ اور پھر اپنے ہاتھ کو اپنے سامنے پھینک کر فرمایا: اور یہاں اس کی امیدیں ہیں۔
Takhreej
(۹۸۲۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۱۸(انظر: ۱۲۲۳۸)
9826
Sahih
موت اور امید کا بیان
۔ (۹۸۲۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَامِلَہُ فَنَکَتَھُنَّ فِیْ الْاَرْضِ فَقَالَ: ((ھٰذَا ابْنُ آدَمَ۔)) وَقَالَ: بِیَدِہِ خَلْفَ ذٰلِکَ وقَالَ: ((ھٰذَا اَجَلُہُ۔)) قَالَ: وَ اَوْمَاَ بَیْنَیَدَیْہِ قَالَ: ((وَثَمَّ اَمَلُہُ۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۱۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پوروں کو جمع کیا اور ان سے زمین میں کریدا اور فرمایا: یہ ابن آدم ہے۔ پھر اس سے ذرا پیچھے ہاتھ رکھا اور فرمایا: یہ اس کی موت ہے۔ پھر اپنے سامنے اشارہ کیا اور فرمایا: اور وہاں تک اس کی امیدیں ہیں۔ تین دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کیا۔
Takhreej
(۹۸۲۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
9827
Sahih
موت اور امید کا بیان
۔ (۹۸۲۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخَذَ ثَلَاثَ حَصَیَاتٍ فَوَضَعَ وَاحِدَۃً، ثُمَّ وَضَعَ اُخْرٰی بَیْنَیَدَیْہِ وَرَمٰی بِالثَّالِثَــۃِ، فَقَالَ: ((ھٰذَا ابْنُ آدَمَ وَھٰذَا اَجَلُہُ، وَذٰلِکَ اَمَلُہُ الَّتِیْ رَمٰی بِھَا۔))(مسند احمد: ۱۳۸۳۱)
۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین کنکریاں لیں، ان میں ایک کو نیچے رکھا، دوسری کو اپنے سامنے رکھا اور تیسری کو پھینک دیا اور پھر فرمایا: یہ ابن آدم ہے اور اس کے ساتھ ہییہ اس کی موت پڑی ہوئی ہے اور جس کنکری کو پھینک دیا گیا ہے، وہ اس کی امیدیں ہیں۔
Takhreej
(۹۸۲۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… خلاصۂ کلام یہ ہے کہ آدمی جس وقت سے گزر رہا ہے، اس کے جائز تقاضوں کے مطابق کوشش کرے اور محنت جاری رکھے اور اسلامی تعلیمات کے تقاضے متاثر نہ ہونے دے، وگرنہ برکت اٹھ جائے گی۔ ذہن نشین کر لیں کہ مسلمان کا اصل سرمایہ دین ہے، مال و دولت اور حکومت و مملکت تو کافروں کو بھی مل جاتے ہیں، ہاں ہاں مسلم مملکت بلکہ خلافت کا قیام ضروری ہے، فوج، پولیس، سائنسدان، انجینیئر، ڈاکٹر، فیکٹریاں، صنعتیں، تعلیمی ادارے، وغیرہ وغیرہ … عصر حاضر کے مطابق ان سب چیزوں کا اہتمام ضروری ہے، لیکنیہ سب امور وقت کی ضرورت کے مطابق ہیں، اصل سرمایہ دین ہے، باقی سب فروعات ہیں، مجبوری میں فروعات کے بغیر گزارہ ممکن ہے، اصل کے بغیرگزارہ نہیں ہو سکتا ہے ، وگرنہ دائمی زندگی کا خسارہ لازم آئے گا۔
9828
Sahih
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
۔ (۹۸۲۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَجَلُـکُمْ فِیْ اَجَلِ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَمَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ اِلٰی غُرُوْبِ الشَّمْسِ۔)) (مسند احمد: ۵۹۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم سے پہلے والے لوگوں کی عمروں کو دیکھا جائے تو تمہاری عمر نمازِ عصر سے غروب آفتاب تک ہے۔
Takhreej
(۹۸۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری مطولا: ۵۰۲۱ (انظر: ۵۹۱۱)
9829
Sahih
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
۔ (۹۸۳۰)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَیْضًا، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالشَّمْسُ عَلٰی قُعَـْیقِعَانَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: ((مَااَعْمَارُکُمْ فِیْ اَعْمَارِ مَنْ مَضٰی، اِلَّا کَمَا بَقِیَ مِنَ النَّھَارِ فِیْمَا مَضٰی مِنْہِ۔)) (مسند احمد: ۵۹۶۶)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، جبکہ سورج عصر کے بعد قعیقعان پہاڑ پر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلے گزر جانے والے لوگوں کی عمروں کی بہ نسبت تمہاری عمر اتنی ہے، جتنا دن کا حصہ باقی ہے، گزر جانے والے حصے کی بہ نسبت۔
Takhreej
(۹۸۳۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… پہلی امتوں کے افراد طویل طویل عمریں پاتے تھے، نوح علیہ السلام کی تبلیغ کا عرصہ (۹۵۰) برس ہے۔ ان کی بہ نسبت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کے لوگوں کی عمریں کم ہیں، ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((أَعْمَارُ أُمَّتِيْ مَابَیْنَ السِّتِّیْنَ إِلَی السَّبْعِیْنَ، وَأَقَلُّھُمْ مَنْ یَّجُوْزُ ذٰلِکَ۔)) … فرمایا : میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہیں، کم ہی لوگ ایسے ہیں جو اس حد سے تجاوز کرتے ہیں۔ (ترمذی: ۲/۲۷۲، ابن ماجہ: ۴۲۳۶) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کے زیادہ تر افراد کی عمریںیہی رہی ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود (۶۳) برس کی عمر میں دنیائے فانی سے روانہ ہو گئے تھے، بہت کم شخصیات نے ان عمروں سے تجاوز کیا ہے،مثلا صحابۂ کرام میں سیدہ اسما بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے (۱۰۰) سال، سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے (۱۰۳) سال، سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے (۱۲۰) سال اور سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے (۲۵۰) سال عمر پائی۔ اب بھی اس طرح کی لمبی عمر پانے والے افراد بہت کم ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کو کم عمری کا یہ صلہ دیا ہے کہ ان کو ایسی عبادات عطا کر دی ہیں، جن کے ذریعے مختصر مدت میں بلند درجات حاصل کیے جا سکتے ہیں، درج ذیل دو مثالوں پر غور کریں: (۱)سیدنا اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَغَسَّلَ وَبَکَّرَ وَابْتَکَرَ وَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ کَانَ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍیَخْطُوہَا أَجْرُ سَنَۃٍ صِیَامِہَا وَقِیَامِہَا۔)) … جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور (سر کو) اچھی طرح دھویا اور مسجد میں جلدی گیا، امام کا ابتدائی خطبہ پایا اور امام کے نزدیک ہو کر خطبہ سنا اور اس دوران خاموش رہا تو اس کو ہر ہر قدم پر ایک ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ملے گا۔ (ترمذی: ۴۵۶) (۲) اللہ تعالیٰ نے سورۂ قدر میں شب ِ قدر کے قیام کو ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قراردیا، حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس سورت کے نزول کے بارے میں درج ذیل روایات پیش کی ہیں، ان روایات کو تحقیق کے بغیر پیش کیا گیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے: امام مجاہد کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا جو ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میںیعنی جہاد میں ہتھیار بند رہا، مسلمانوں کو یہ سن کر بڑا تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتار دی کہ ایک شب ِ قدر کی عبادت اس شخص کی ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے، ابن جریر میں ہے: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو قیام کرتا تھا صبح تک اور دن میں شام تک دشمنانِ دین سے جہاد کرتا تھا،ایک ہزار مہینے تک یہی عمل کرتا رہا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی کہ اس امت کے کسی شخص کا صرف لیلۃ القدر کا قیام اس عابد کی ایک ہزارمہینے کی اس عبادت سے افضل ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنی اسرائیل کے چار عابدوں کا ذکر کیا، جنہوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی، ایک نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی تھی: ایوب، زکریا، حزقیل بن عجوز اور یوشع بن نونh، اس سے صحابۂ کرام کو بڑا تعجب ہوا، اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد!آپ کی امت نے اس جماعت کی اس عبادت پر تعجب کیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی افضل چیز آپ پر نازل فرمائی اور کہا کہ یہ چیزاس سے افضل ہے جس پر آپ اور آپ کی امت نے تعجب ظاہر کیا تھا، پس محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے صحابہ بیحد خوش ہوئے، (یہ چیز شب ِ قدر تھی)، امام مجاہد کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ اس رات کا نیک عمل اس کا روزہ اس کی نماز ایک ہزارمہینوں کے روزے اور نماز سے افضل ہے، جن میں لیلۃ القدر نہ ہو اور مفسرین کا بھییہ قول ہے امام ابن جریر نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے کہ وہ ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو، یہی ٹھیک ہے، اس کے سوا اور کوئی قول ٹھیک نہیں۔
9830
Sahih
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
۔ (۹۸۳۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَقَدْ اَعْذَرَ اللّٰہُ اِلٰی عَبْدٍ اَحْیَاہُ حَتَّی بَلَغَ سِتِّیْنَ، اَوْ سَبْعِیْنَ سَنَۃً، لَقَدْ اَعَذَرَ اللّٰہُ لَقَدْ اَعذَرَ اللّٰہُ اِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۹۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا عذر ختم کر دیا، جس کو اتنی دیر تک زندہ رکھا کہ وہ ساٹھ یا ستر سال کی عمر کو پہنچ گیا، تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کا عذر ختم کر دیا ہے، بس اللہ تعالیٰ نے اس کا عذر ختم کر دیا ہے۔
Takhreej
(۹۸۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۱۹(انظر: ۷۷۱۳)
9831
Sahih
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
۔ (۹۸۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَمَّرَ سِتِّیْنَ اَوْ سَبْعِیْنَ سَنَۃً، فَقَدْ اَعْذَرَ اِلَیْہِ فِیْ الْعُمُرِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۴۰)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ یا ستر سال تک زندہ رہا، پس اللہ تعالیٰ نے عمر کے سلسلے میں اس کا عذر ختم کر دیا۔
Takhreej
(۹۸۳۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں ساٹھ ستر سال عمر پانے والے آدمی کو وعید سنائی گئی ہے کہ اسے اتنی لمبی عمر دی گئی کہ اس میں اخروی کامیابی کے اسباب جمع کیے جا سکتے تھے۔لیکن اس حدیث سے ساٹھ سال سے کم عمر والے اپنے حق میںکسی قسم کی گنجائش کا استدلال نہیں کر سکتے۔
9832
Sahih
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
۔ (۹۸۳۳)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَامِنْ مُعَمَّرٍ یُعَمَّرُ فِیْ الْاِسْلَامِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، اِلَّا صَرَفَ اللّٰہُ عَنْہُ ثَلَاثَۃَ اَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَائِ، اَلْجُنُوْنُ، وَالْجُذَامُ، وَالْبَرَصُ، فَاِذَا بَلَغَ خَمْسِیْنَ سَنَۃً لَیَّنَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْحِسَابَ، فَاِذَا بَلَغَ سِتِّیْنَ رَزَقَہُ اللّٰہُ الِْانَابَۃَ اِلَیْہِ بِمَا یُحِبُّ، فَاِذَا بَلَغَ سَبْعِیْنَ سَنَۃً اَحَبَّہُ اللّٰہُ وَاَحَبَّہُ اَھْلُ السَّمَائِ، فَاِذَا بَلَغَ الثَّمَانِیْنَ قَبِلَ اللّٰہُ حَسَنَاتِہِ، وَتَجَاوَزَ عَنْ سَیِّئَاتِہِ، فَاِذَا بَلَغَ تِسْعِیْنَ غَفَرَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖوَمَاتَاَخَّرَ،وَسُمِّیَ اَسِیْرَ اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہِ وَشُفِّعَ لاَھْلِ بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۵۶۲۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اسلام کی چالیس سال عمر دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس سے تین قسم کی بیماریاں دور کر دیتا ہے، جنون، کوڑھ اور پھلبہری، جب آدمی پچاس سال تک پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر حساب کو آسان کر دیتا ہے، جب اس کی عمر ساٹھ برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی پسند کے مطابق اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق دیتا ہے، پھر جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور اہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، جب اس کی عمر اسی سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول کر لیتا ہے اور اس کی برائیوں سے تجاوز کر دیتا ہے، پھر جب اس کی عمر نوے برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کا یہ نام رکھ دیا ہے کہ فلاں آدمی زمین میں اللہ تعالیٰ کا قیدی ہے اور اس کے گھر والوں کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔
Takhreej
(۹۸۳۳) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، فرج بن فضالۃ ضعیف، محمد بن عامر لم نعرف من ھو، محمد بن عبد اللہ ضعیف، أخرجہ البزار: ۳۵۸۷، وابویعلی: ۴۲۴۶ (انظر: ۵۶۲۶)
9833
Zaeef
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
۔ (۹۸۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروِ بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِیِّاکُمْ وَالشُّحَّ، فَاِنَّ الشُّحَّ اَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، اَمَرَھُمْ بِالْقَطِیْعَۃِ فَقَطَعُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْفُجُوْرِ فَفَجِرُوْا۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لالچ سے بچو، بیشک اس لالچ نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کر دیا، اس نے ان کو قطع رحمی کا حکم دیا، پس انھوں نے قطع رحمی کی، اس نے ان کو بخیلی کا حکم دیا، پس انھوں نے بخیلی کی اور اس نے ان کو برائیوں پر اکسایا، پس انھوں نے برائیاں کیں۔
Takhreej
(۹۸۳۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۵۱۷۶، والطیالسی: ۲۲۷۲، والبیھقی: ۱۰/ ۲۴۳ (انظر: ۶۴۸۷)
Explanation
فوائد:… کنجوسی، بخل اور حرص جیسے اوصاف انسان کے کمینہ ہونے کے لیے کافی ہیں، بخیل آدمی سنگ دل بن جاتا ہے، دوسروں کی خوشی و غمی سے مستغنی ہو جاتا ہے، اپنے روپے پیسے کو بچانے یا اس کو بڑھانے کے لیے وہ قتل و غارت گری جیسے اقدامات کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور شریعت میں گنجائشیں تلاش کر تے کرتے اللہ تعالیٰ کی حدود کو پھلانگنا شروع کر دیتا ہے۔ مال کی شدید محبت کو شُحّ کہتے ہیں۔ جب انسان کے دل میں دنیا اور دنیا کے مال و اسباب کی محبت حد سے تجاوز کر کے شدید ہو جائے تو ایسا انسان حرام اور حلال کے درمیان تمیز بھی نہیں کرتا اور دسرے انسانوں کا خون بہانے سے گریز بھی نہیں کرتا۔ جیسے آج کل ہمارے معاشرے کا حال ہے اور یہ حالت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس معاشرے کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ دیریا سویر ہلاکت سے دو چار ہو کر ہی رہے گا۔
9834
Sahih
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
۔ (۹۸۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْتَمِعُ شُحٌّ وَاِیْمَانٌ فِیْ قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۷۴۷۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لالچ اور ایمان، دونوں مسلمان آدمی کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔
Takhreej
(۹۸۳۵) تخریج: صحیح بطرقہ وشواھدہ، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۴(انظر: ۷۴۸۰)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ مومن کو ہر صورت میں بخل اور کنجوسی سے دور رہنا چاہیے۔
9835
Sahih
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
۔ (۹۸۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ، اَنَّہُ کَانَ مَعَ اَبِیْ ذَرٍّ، فَخَرَجَ عَطَاؤُہُ وَمَعَہُ جَارِیَۃٌ لَہُ فَجَعَلَتْ تَقْضِیْ حَوَائِجَہُ، قَالَ: فَفَضَلَ مَعَھَا سَبْعَۃٌ، قَالَ: فَاَمَرَھَا اَنْ تَشْتَرِیَ بِھَا فُلُوْسًا، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: لَوِ ادَّخَرْتَہُ لِلْحَاجَۃِ تَنُوْبُکَ، اَوْ لِلضَّیْفِیَنْزِلُ بِکَ؟ قَالَ: اِنَّ خَلِیْلِیْ عَھِدَ اِلَیَّ اَنْ اَیُّمَا ذَھَبٍ اَوْفِضَّۃٍ اُوْکِیَ عَلَیْہِ فَھُوَ جَمْرٌ عَلٰی صَاحِبِہٖحَتّٰییُفْرِغَہُ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۱۲)
۔ عبد اللہ بن صامت سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، ان کا کوئی مال نکل آیا، ان کے ساتھ ان کی ایک لونڈی بھی تھی، اس نے ان کی ضروریات پوری کرنا شروع کیں، جب اس مال سے سات بچ گئے تو انھوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ وہ ان کے عوض قدیم سکے خرید لے، میں (عبد اللہ بن صامت) نے کہا: اگر تم ان کو پیش آنے والی ضرورت یا اپنے پاس آنے والے مہمان کے لیے ذخیرہ کر لو تو بہتر ہو گا۔ انھوں نے کہا: میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ جس سونے اور چاندی کو بند کر کے رکھ دیا جائے تو وہ اس مالک کے لیے انگارے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دے۔
Takhreej
(۹۸۳۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ البزارفی مسندہ : ۳۹۲۶، والطبرانی: ۱۶۳۴(انظر: ۲۱۳۸۴)
9836
Sahih
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
۔ (۹۸۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْبَخِیْلِ وَالْمُنْفِقِ کَمَثَلِ رَجُلَیْنِ عَلَیْھِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِیْدٍ، مِن لَدُنْ ثُدِیِّھِمَا اِلٰی تَرَاقِیْھِمَا، (فَاَمَّا الْمُنْفِقُ) فَـلَا یُنْفِقُ مِنْھَا اِلَّا اتَّسَعَتْ حَلْقَۃٌ مَکَانَھَا، فَھُوَ یُوَسِّعُھَا عَلَیْہِ، (وَاَمَّا الْبَخِیْلُ) فَاِنَّھَا لَا تَزْدَادُ عَلَیْہِ اِلَّا اسْتِحْکَامًا۔)) (مسند احمد: ۷۴۷۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخل کرنے والے اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے کہ جن پر ان کے سینے والی جگہ سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک دو زرہیں ہوں، پس خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو اس کا حلقہ اپنی جگہ پر کھل جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ ساری کھلی ہو جاتی ہے اور رہا مسئلہ بخیل کا تو اس کی زرہ کی مضبوطی میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۳۷) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۷۴۸۳)
Explanation
فوائد:… مفہوم یہ ہے کہ جب سخی آدمی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے سینے میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے ہاتھ اس کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں، لیکن جب بخیل کو خرچ کرنے کا خیال آتا ہے تو اس کا سینہ اور تنگ ہو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ بند ہو جاتے ہیں اور وہ حیلے بہانے کر کے بزعم خود اپنا مال محفوظ کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔
9837
Sahih
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
۔ (۹۸۳۸)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ لِفُلَانٍ فِیْ حَائِطِیْ عَذْقًا، وَاَنَّہُ قَدْ اٰذَانِیْ وَشَقَّ عَلَیَّ مَکَانُ عَذْقِہِ، فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((بِعْنِیْ عَذْقَکَ الَّذِیْ فِیْ حَائِطِ فُلَانٍ۔)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَھَبْہُ لِیْ۔)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَبِعْنِیْہِ بِعَذْقٍ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: لَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَارَاَیْتُ الَّذِیْ ھُوَ اَبْخَلُ مِنْکَ، اِلَّا الَّذِیْیَبْخَلُ بِالسَّلَامِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۷۱)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرے باغ میں فلاں آدمی کا کھجور کا درخت ہے، پس تحقیق اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور اس کے درخت کی جگہ میرے لیے باعث ِ مشقت ثابت ہوئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ فلاں آدمی کے باغ میں موجود اپنا کھجور کا درخت مجھے فروخت کر دے۔ لیکن اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے ہبہ کر دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر جنت کے کھجور کے درخت کے عوض مجھے بیچ دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا، جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو، سوائے اس کے جو سلام کہنے میں بخل کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۳۸) تخریج: حسن لغیرہ، دون قولہ: ما رایت الذی …… بالسلام۔ فقد تفرد بہ عبد اللہ بن محمد بن عقیل وھو ضعیفیعتبر بہ، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۲۰(انظر: ۱۴۵۱۷)
Explanation
فوائد:… رغبت کا تقاضا تو یہی تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ پیش کش قبول کر لی جاتی، بہرحال مزاج مختلف ہوتے ہیں اور مالک کو اختیار بھی ہوتا ہے۔
9838
Sahih
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
۔ (۹۸۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِیْلَ، وَکَانَ مِنَّا مِنْ بَنِیْ غُبَرَ قَالَ: اَصَابَتْنَا سَنَۃٌ، فَاَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِیْطَانِھَا، فَاَخَذْتُ سُنْبُلًا فَفَرَکْتُہُ وَاَکَلْتُ مِنْہُ وَحَمَلْتُ فِیْ ثَوْبِیْ، فَجَائَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِیْ وَاَخَذَ ثَوْبِیْ، فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَاعَلَّمْتَہُ اِذْ کَانَ جَاھِلًا، وَلَا اَطْعَمْتَہُ اِذْ کَانَ سَاغِبًا، اَوْ جَائِعًا۔)) فَرَدَّ عَلَیَّ الثَّوْبَ، وَاَمَرَ لِیْ بِنِصْفِ وَسْقٍ، اَوْ وَسْقٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۶۲)
۔ سیدنا عباد بن شرحبیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو بنو غبر میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، میں مدینہ میں آیا اور اس کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں داخل ہوا، ایک سٹّے کو ملا اور اس سے دانے نکالے۔ کچھ دانے کھا لیے اور کچھ کپڑے میں اٹھا لیے، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا۔ میں (شکایت لے کر) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا (اور ساری بات بتائی) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (باغ کے اس مالک) سے فرمایا: وہ جاہل تھا تو نے اسے تعلیم نہیں دی اور وہ بھوکا تھا تو نے اسے کھلایا نہیں۔ تو اس نے میرا کپڑا مجھے لوٹا دیا اور مجھے ایکیا نصف وسق کھانے کا بھی دیا۔
Takhreej
(۹۸۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۶۲۱، وابن ماجہ: ۲۲۹۸، والنسائی: ۸/ ۲۴۰ (انظر: ۱۷۵۲۱)
Explanation
فوائد:… شرعی قانون کے مطابق اس آدمی کا باغ سے دانے اٹھا کر لے جانا غلطی تھی، اس کے احکام مقرر ہیں، چونکہ یہ آدمی جاہل تھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے معذور قرار دیا اور مالک کو معمولی سی سرزنش کر دی۔ صاع ایک پیمانے کا نام ہے، جو دو کلو سو گرام کے برابر ہوتا ہے اور ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔
9839
Sahih

Chapters

23
01
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
14 Hadith
02
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
9 Hadith
03
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
04
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
10 Hadith
05
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
7 Hadith
06
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
11 Hadith
07
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
08
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
09
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
13 Hadith
10
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
11
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
11 Hadith
12
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
13
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
14 Hadith
14
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
15
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
11 Hadith
16
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
13 Hadith
17
موت اور امید کا بیان
5 Hadith
18
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
5 Hadith
19
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
7 Hadith
20
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
21
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
22
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
23
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.