قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Book 163 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 163 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 198 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، جبکہ اس کے مال میں سے اس کے صرف تین حصے ہیں، (۱) جو اس نے کھا کر فنا کر دیا، (۲) جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا اور (۳) جو اس نے کسی کو مال دے کر خوش کر دیا، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، وہ اس کو لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔
Takhreej
(۹۸۴۰) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۹۳۳۹)
Explanation
فوائد:… انسان کا حقیقی سرمایہ وہی ہے جو وہ اپنی زندگی میں خرچ کر دیتا ہے، باقی اس کے ورثاء اور لواحقین کا ہے۔
۔ صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان وہ آدمی پر اس قدر جمع ہو جائیں کہ اس کو ہلاک کر دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان گناہوں کی ایک مثال بیان کی کہ ان کی مثال اس قوم کی طرح ہے جو کسی صحراء میں اترے اور جب ان کے کھانے کا وقت ہوا تو ایک آدمی گیا اور ایک لکڑی لے آیا، دوسرا ایک لکڑی لے آیا،یہاں تک کہ گزارے کے لائق لکڑیاں جمع ہو گئیں، پھر انھوں نے آگ جلائی اور وہ کچھ پکا لیا، جو انھوں نے پکانا تھا۔
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثال کے ذریعے اپنا مقصود واضح کر دیا ہے کہ پوری زندگی کے معمولی معمولی گناہ جمع ہو کر انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے اجتناب کرنا چاہئے۔ مومن و مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معصیت سے گریز کرے، قطع نظر اس سے کہ وہ صغیرہ گناہ ہو یا کبیرہ۔
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صغیرہ گناہوں سے گریز کرو۔ (اور ان کو حقیر مت سمجھو، غور فرماؤ کہ) کچھ لوگ ایک وادی میں پڑاؤ ڈالتے ہیں، ایک آدمی ایک لکڑی لاتا ہے اور دوسرا ایک لاتا ہے … (ایک ایک کر کے اتنی لکڑیاں جمع ہو جاتیہیں کہ) وہ آگ جلا کر روٹیاں وغیرہ پکا لیتے ہیں۔ اسی طرح اگر صغیرہ گناہوں کی بنا پر مؤاخذہ ہوا تو وہ بھی ہلاک کر سکتے ہیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے سے بچتے رہنا، کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کرنے والا (فرشتہ) ہو گا۔
Takhreej
(۹۸۴۳) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۴۳ (انظر: )
Explanation
فوائد:… مومنانہ تہذیبیہ ہے کہ کسی نیکی کو حقیر سمجھ کر ترک نہ کیا جائے اور کسی برائی کو معمولی تصور کر کے اس کا ارتکاب نہ کیا جائے، کیونکہ پوری زندگی کی معمولی معمولی غفلتیں اور سستیاں انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں۔
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بلاشبہ تم ایسے اعمال بھی سرانجام دے رہے ہوجو تمہارے نزدیک بال سے بھی زیادہ باریک ہیں(یعنی تم ان کو نہایت معمولی سمجھتے ہو) حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم ان کو ہلاک کردینے والے امور میں شمار کرتے تھے۔
Takhreej
(۹۸۴۴) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۰۹۹۵)
Explanation
فوائد:… موجودہ دور میں لوگوں کی تربیت میں آڑے آنے والی سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ان کو نیکی اور برائی کی صورتوں کا علم ہی نہیں تاکہ وہ نیکیاں کر سکیں اور برائیوں سے بچ سکیں۔ مثلا بے پردگی، تنگ لباس، موسیقی، تہمت بازی، دو رُخا پن، چغلی و غیبت، مکرو فریب، جھوٹ، تمباکو نوشی، شیو کرنا، مردوں کا شلوار اور تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، داڑھی تراشنا، خط کروانا، چہرے سے بال اکھاڑنا، لمبی لمبی مونچھیں رکھنا، ہمسائیوں کو تنگ کرنا، اپنے آپ کو نیک و برتر سمجھنا اور دوسروں کو گھٹیا و کم تر سمجھنا، بے صبری، قطع رحمی، ناراضگی، حد سے زیادہ گپ شپ، حلال و حرام کی تمیز نہ کرنا، تلاوت سے دوری، عورتوں کا تھریڈنگ کرنا، مصنوعی ناخن لگانا، جوڑے باندھنا ، وگ لگانا، سلام کا اہتمام نہ کرنا، تصویریں بنوانا ۔ وغیرہ وغیرہ۔ ماحصل یہ ہے کہ ہر مسلمان آخرت کی فکر کرے اور قرآن و حدیث کا مطالعہ کر کے اپنا مقام سمجھے اور اپنی منزل مقرر کرے۔
فوائد:… فسق کی دو صورتیں ہیں: کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنااور صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنا، اس لیے جہاں کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے گا، وہاں صغیرہ گناہوں سے بچنے کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ دو افراد میں ان کی اجازت کے بغیر جدائی ڈالے۔
فوائد:… امام ابو داود اور امام ترمذی نے اس حدیث کو آداب ِ مجلس میں ذکر کیا ہے، یعنی جب دو آدمی اکٹھے بیٹھے ہوں تو کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان کے درمیان گھس کر بیٹھ جائے، الا یہ کہ وہ اس کو اجازت دے دیں۔
اس حدیث کے الفاظ تو عام ہی ہیں، البتہ میاں بیوی کے حوالہ سے طلاق اور خلع کے مسائل الگ ہیں۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی خادم کو اس کے مالکوں کے خلاف بھڑکایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس نے کسی خاوند کے حق میں اس کی بیوی کو بگاڑا، وہ بھی ہم سے نہیں ہے۔
فوائد:… حدیث میں جن دو گناہوںکی نشاندہی کی گئی ہے، وہ کسی گھرانے میں فساد ڈالنے کے لیے کافی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ کسی شادی شدہ عورت کے سامنے اس کے خاوند پر ناقدانہ بحث نہ کریں، بلکہ مختلف مثالیں دے کر اسے اپنے گھر پر مطمئن کرنے کی کوشش کریں، تاکہ اس کے دل میں خاوند کا احترام برقرار رہے اور وہ اس کی بغاو ت کرنے سے باز رہے۔ یہی معاملہ خادم کا ہے کہ دوسرا آدمی اس کو زیادہ اجرت کی لالچ دے کر اپنی خدمت پر آمادہ کرے اور اس کے مالک کی بدخوئی کرے، یہاں تک کہ وہ اپنے مالک کے حق میں نافرمان اور بد اخلاق ہو جائے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے، تاکہ اس چیز کو انڈیل دے جو کچھ اس کے برتن میں ہے، پس بیشک اس کا رزق بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے امانت کی قسم اٹھائی، وہ ہم میں سے نہیں ہے، اسی طرح جس نے کسی عورت کو اس کے خاوند کے خلاف اور کسی غلام کواس کے آقا کے خلاف بھڑکایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
فوائد:… امانت کے مختلف معانی ہیں، جیسے اطاعت، عبادت، امان، اعتماد وغیرہ۔ بندے کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی قسم اٹھائے، امانت تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، امام شعبی کہتے ہیں: جب میں ان کو یہ کہتے ہوئے سنتا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تو میں اپنا کان لگاتا اور قریب ہو جاتااور ڈرتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کسی اور سے یہ الفاظ نہ سن سکوں کہ وہ کہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، البتہ ان کے بیچ میں مشتبہ امور ضرور ہیں، جس نے گناہ سے بچنے کے لیے مشتبہ چیز کو چھوڑ دیا، تو وہ واضح ہونے والے گناہ کو زیادہ چھوڑنے والا ہو گا اور جس نے مشکوک چیز پر جرأت کر دی تو قریب ہے کہ وہ حرام میں پڑ جائے، بیشک ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ جگہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ جگہ اس کی نافرمانیاںیا حرام کردہ امور ہیں۔
فوائد:… قرآن و حدیث کی روشنی میں حلال اور حرام امور بالکل واضح ہیں، البتہ بیچ میں کچھ ایسے امور ہیں کہ واضح طور پر جن کی حلت یا حرمت کا فیصلہ نہیں کیا سکتاہے، ان ہی کو مشتبہ امور کہتے ہیں، اس حدیث مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان امور سے بھی اجتناب کیا جائے، تاکہ آدمی حرام کاموں سے مکمل طور پر محفوظ رہے، جو آدمی ان شبہات سے بچے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر پائے گا اور جو ان کو جائز سمجھ لے گا، وہ نادم ہو گا اور فضائل سے محروم رہے گا۔
دیکھیں حدیث نمبر (۶۲۰۴)، درج ذیل حدیث میں ایک مشتبہ چیز کا بیان ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں پڑی ہوئی کھجور کے بارے میں فرمایا: اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہو سکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔ (صحیح بخاری: ۲۰۵۵)
حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے سے (جو صحیح بخاری وغیرہ میں موجود ہے۔ البتہ اس جگہ وہ حصہ درج نہیں ہوا) معلوم ہوتا ہے کہ بندے کی اصلاح کا دارومدار دل پر ہے، لہٰذا دل کو پر خلوص رکھا جائے اور اصلاح کی کوشش کی جائے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی آپ کے پاس کھڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو آواز دی: اے فلاں، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ یہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہے، اس نے آگے سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میرے بارے میں کوئی بدگمانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مجھے یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تیرے اندر گھس جائے (اور کوئی وسوسہ پیدا کر دے)۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! یہ میری بیوی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی کے بارے میں تو گمان ہو سکتا ہے، لیکن آپ کے بارے میں تو میں کسی بد گمانی میں مبتلا نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۵۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اتنی طاقت دی ہے کہ وہ انسان کے اندر خون کے چلنے کے مقامات میں گردش کر سکتا ہے، یا اس سے مراد یہ ہے کہ شیطان بہت تیزی سے انسان کو وسوسہ میں ڈالنے میںکامیاب ہو جاتا ہے، بہرحال شیطان انسان کے اندر گھس کر اس کووسوسوں میں مبتلا کرتا ہے اور نافرمانی پر آمادہ کرتا ہے۔
۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کی حالت میں تھے، میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آئی، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باتیں کیں اور جب اٹھ کر جانے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مجھے واپس چھوڑ کر آنے کے لیے کھڑے ہو گئے، میرا گھر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس تھا، ہمارے پاس سے دو انصاریوں کا گزر ہوا، جب انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو انھوں نے جلدی سے آگے سے گزرنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو کہ میری اپنی بیوی ہے)۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ وہ تمہارے دل میں کوئی شرّ والی بات ڈال دے۔
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ میں بہت بڑا سبق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اپنی ذات کے بارے میں سوئے ظن کرنے سے محفوظ رکھا ہے، یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے ساتھ شفقت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مصلحتوں اور ان کے قلوب و جوارح کی سلامتی کا لحاظ رکھا ہے، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گزرنے والے یہ دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کوئی نازیبا بات کر دیں اور پھر ہلاکت ان کا مقدر بن جائے۔
اہل علم کا اجماع ہے کہ انبیائے کرام کے بارے میں سوئے ظن رکھنا کفر ہے۔
ان احادیث سے سبق یہ ملتا ہے کہ مسلمان کو تہمت گاہ اور شک و شبہ والے مقام سے دور رہنا چاہیے، تاکہ کسی کو اس کے بارے میں سوئے ظن رکھنے کا موقع نہ ملے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فاطمہ! اے بنت ِ محمد! اے صفیہ بنت عبد المطلب! اے بنو عبد المطلب! میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ہاں میرے مال سے جو چاہتے ہو سوال کر لو۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد المطلب! اے بنی ہاشم! اپنے نفسوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں گا، اے نبی کی پھوپھی ام زبیر! اے فاطمہ بنت محمد! اپنے نفسوں کو خرید لو، میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں بن سکتا، البتہ میرے مال سے سوال کر سکتی ہو۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رشتہ داری آپ کی قوم کو کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ کیوں نہیں، اللہ کی قسم ہے، میری رشتہ داری دنیا و آخرت میں ملی ہوئی ہو گی، لوگو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، پس جب تم وہاں آؤ گے۔ اتنے میں ایک آدمی کہے گا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں ہوں، اور اس کا بھائی کہے گا: میں فلاں بن فلاں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں: نسب کو تو میں نے پہچان لیا ہے، لیکن تم نے میرے بعد نئے امور ایجاد کر لیے اور پچھلے پاؤں پلٹ گئے۔
فوائد:… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کُلُّ سَبَبٍ مُنْقَطِعٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، إِلَّا سَبَبِیْ وَنَسَبِیْ۔)) قیامت کے روز ہر رشتہ (اور تعلق و قرابت) منقطع ہو جائے گا، سوائے میرے ازدواجی اور نسبی رشتے کے۔ یہ حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر سے مروی ہے۔ (معجم کبیر للطبرانی: ۳/ ۱۲۹/ ۱ من حدیث ابن عباس، تفصیل کے لیے دیکھئے: صحیحہ:۲۰۳۶)
شرح:…سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جو حدیث مروی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: ((کُلُّ نَسَبٍ وَ صِھْرٍ مُنْقَطع یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا نسَبی و صِھْری۔)) (ابن عساکر: ۱۹/ ۶۰/ ۲، وھذا اسناد ضعیف جدا) … ہر نسبی اور ازدواجی رشتہ منقطع ہو جائے گا، سوائے میرے نسبی اور ازدواجی رشتے کے۔
درج ذیل تفصیل سے اس حدیث کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے:
عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف ان کی بیٹی سے، جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھی، سے شادی کرنے کا بار بار پیغام بھیجا۔ ایک دن انھوں نے خود کہا: اے ابو الحسن! آپ کی طرف کثرت سے پیغام بھیجنے کی وجہ وہ حدیث ہے، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کلُّ سَبَبٍ وَ نَسَبٍ مُنْقَطِعٌ یَوْمَ الْقِیامَۃِ، اِلَّا سَبَبِیْ وَنَسَبِیْ۔)) … قیامت کے روز ہر رشتہ (اور تعلق و قرابت) منقطع ہو جائے گا، سوائے میرے ازدواجی اور نسبی رشتے کے۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ اہل بیت لوگوں کے ساتھ میری ازدواجی قرابت ہونی چاہیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ چلے گئے اور اپنی اس بیٹی کو میک اپ کرنے کا حکم دیا اور پھر اس کو امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا۔ جب انھوں نے اس کو دیکھا تو اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کی پنڈلی کو پکڑا اور کہا: اپنے باپ سے کہہ دینا کہ میں راضی ہوں، میں راضی ہوں، میں راضی ہوں۔ جب وہ بچی اپنے باپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تو انھوں نے پوچھا: امیر المومنین نے تجھے کیا کہا؟ اس نے کہا: انھوں نے مجھے بلایا اور قبول کیا، جب میں کھڑی ہوئی تو انھوں نے میری پنڈلی کو پکڑا اور کہا: اپنے ابو سے کہہ دینا کہ میں راضی ہوں۔ پھر انھوں نے ان سے اس کا نکاح کر دیا، اس کے بطن سے زید بن عمر پیدا ہوا، وہ نوجوانی تک زندہ رہے، پھر فوت ہو گئے۔ (اخرجہ ابوبکر الشافعی فی الفوائد : ۷۳/ ۲۵۷/ ۱، وابن عدی: ۶/ ۲، والخطیب فی التاریخ : ۶/ ۱۸۲)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں آل رسول کییہ عزت تھی، آگے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی تمنا پوری کرتے ہوئے ان کا احترام بجا لانے کی حد کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہستیوں کے لیے {رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ} کے لقب کا کیا خوب انتخاب کیا۔
اس بحث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب کا اعزاز روزِ قیامت بھی باقی رہے گا، باقی کسی کی قومیت اور برادری کو کوئی شرف حاصل نہیں ہو گا، بہرحال نجات کا انحصار اعمالِ صالحہ پر ہو گا۔
اس فرق کو ایک مثال کے ذریعے سمجھنا آسان ہو جائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اپنے عہد میں بعض قبیلوں کو دوسری بعض برادریوں پر فضیلت والا قرار دیتے تھے اور اس بنا پر ان کے ساتھ معاملات طے کرنے میں فرق بھی کرتے تھے، یہ دراصل ان بعض قبیلوں کا اعزاز تھا، لیکن کسی قبیلےوالے کے جرم اور نیکی کے سلسلے میں اس قانون کی رعایت نہیں کی گئی،یہاں تک کہ بنو مخزوم کی خاتون کا چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹ دیا گیا۔