قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Book 163 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 163 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 198 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: بیشک میں تجھے ایک وصیت کرنے لگا ہوں، میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے منع کرتا ہوں، میں تجھے لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، پھر اس کلمہ کی فضیلت بیان کی اور میں تجھے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ کی وصیت کرتا ہوں، پھر اس کی فضیلت کا ذکر کیا اور میں تجھے شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! شرک کو تو ہم پہچانتے ہیں،یہ تکبر کیا ہے؟ کیایہ ہے کہ بندے کے اچھے جوتے ہوں اور ان کے اچھے تسمے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیایہ ہے کہ بندے کی پوشاک ہو، جس کو وہ زیب ِ تن کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا تکبر یہ ہے کہ بندے کے پاس چوپایہ ہو، جس پر سوار ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: کیا پھر تکبر یہ ہے کہ بندے کے ساتھی ہوں، جو اس کے ساتھ بیٹھا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر تکبر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
۔ ابو حیان کے باپ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوئی، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما متوجہ ہوئے اور رونے لگ گئے، لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: اس چیز کی وجہ سے، جو انھوں نے مجھے بیان کی ہے، یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا۔
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مروہ پر سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوئی، ان دونوں نے باتیں کیں، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ چلے گئے اور پیچھے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رونے لگ گئے، ایک بندے نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ یہ کہہ گئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا، اللہ تعالیٰ اس کو چہرے کے بل جہنم میں گرائے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہ سرگوشی سے منع کیا جاتا تھا اور نہ فلاں فلاں چیز سے، ابن عون کہتے ہیں: ایک چیز وہ بھول گئے اور ایک مجھے یاد نہ رہی، پھر میں ان کے پاس آیا، جبکہ ان کے پاس مالک بن مرارہ رہاوی بیٹھے ہوئے تھے اور وہ کوئی حدیث بیان کر رہے تھے، اس حدیث کا آخری حصہ، جو میں نے پایا، وہ یہ تھا: انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے حسن و جمال میں سے خاصا حصہ دیا گیا ہے، آپ کو معلوم ہی ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ کوئی آدمی دو تسموں کے معاملے میں بھی مجھ سے برتری نہ لے جائے، کیایہ سرکشی تو نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: نہیں،یہ سرکشی نہیں ہے، سرکشی تو یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بڑا بنایا اکڑ کر چلا، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔
فوائد:… یہ احادیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ خوش پوشاکی، حسن و جمال، طاقت و توانائی، قدو قامت یا دوسری صلاحیتوں کی بنا پر خود پسندی، عجب پسندی، اعجابِ نفس، اکڑنا، اترا کر چلنا، اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور تکبر میں مبتلا ہونے سے اجتناب کرنا ازحد ضروری ہے، بلکہ ان احسانات سے محروم انسانیت کو مدّنظر رکھ کر ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہماری دنیوی ضروریات باندازِ احسن پوری کرنے کے لیے ہم پر اپنے انعامات کی بارش کر دے، لیکن ہمارے دل و دماغ کی کج روی کی وجہ وہ ہمارے لیے حفاظت ِ نفس کی بجائے وبالِ جان اور رحمت کی بجائے زحمت بن جائیں۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ ہماری شریعت میں اچھا لباس پہننے اور بالوں میں کنگھی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، لیکن اس آدمی کے لیےیہ امور غضب الٰہی کا موجب بن گئے، کیونکہ اس کے دماغ میں ٹیڑھ پن تھا۔
۔ سیدنا عبد الرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں یہ افراد داخل نہیں ہوں گے: اکڑ کر چلنے والا، بدمزاج و بدخلق، روکھا اکھڑ مزاج آدمی، کمینہ جو دناء ت و بدی میں مشہور ہو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تکبر کرنے والوں کو لوگوں کی صورت میں چھوٹی چیونٹیوں کی طرح جمع کیا جائے گا، ذلت و حقارت ان پر ہر طرف سے چھا رہی ہو گی،یہاں تک کہ وہ جہنم کے بولس نامی قیدخانے میں داخل ہو جائیں گے، وہاں ان پر آگوں کی آگ چڑھ آئے گی اور ان کو طینۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ایک پوشاک میں اترا کر چل رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں زمین کو حکم دیا، زمین نے اس کو پکڑ لیا، وہ قیامت کے دن تک اسی میں دھنستا جائے گا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ کی بات ہے کہ ایک نوجوان ایک پوشاک پہنے ہوئے اترا کر چل رہا تھا اور اس نے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے تک لٹکا رکھا تھا، اتنے میں زمین اس کو نگل گئی اور وہ روزِقیامت تک اس میں دھنستا چلا جائے گا۔
Takhreej
(۹۷۲۸) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۰۳۸۳)
Explanation
فوائد:… تکبر اور بڑائی، ان کے مفہوم کا ادراک کرنا خواص اور عوام دونوں کے لیے پیچیدہ ہو گیا ہے، ہم ذیل میں مختلف احادیث کی روشنی میں کچھ اقتباسات پیش کریں گے، قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرنے کی کوشش کریں کہ وہ تکبر کون سا ہے، جس کی مذمت کی گئی ہے اور وہ حسن و جمال کون سا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے:
بحث کے شروع میں قارئین سے گزارش ہے کہ وہ درج ذیل امور پر غور کریں اور اپنا جائزہ لیں اور سید الاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کو بھی مد نظر رکھیں۔
۱۔ اکثر مرد حضرات اپنی شلوار اور پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے میں عار سمجھتے ہیں، کیوں؟ جبکہ مرد کے لیے ٹخنوں کو شلوار اور تہبند میں چھپانا حرام ہے۔
۲۔ کئی لوگ داڑھی بڑھانے کو … … سمجھتے ہیں اور شیو کو حسن کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ اس بات پر امت متفق ہے کہ داڑھی مونڈنا حرام ہے۔
۳۔ بعض لوگ کم مرتبہ افراد اور فقراء و مساکین کو ملنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار سمجھتے ہیں،یا کم از کم یہ بات تو یقینی ہے کہ کم مرتبہ لوگوں کو اچھے انداز میں نہیں ملا جاتا۔
۴۔ بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض سنتوں پر عمل کرنے میں عار سمجھتے ہیں، مثلا کھانے کے آداب میں برتن کو صاف کرنا، گری ہوئی چیز کو اٹھا کر کھا لینا، جبکہ سنت ِ مطہرہ پر عمل کرنا سب سے بڑا ناز ہے۔
۵۔ بعض لوگ دوسرے افراد کے سامنے کوئی ادنی قسم کا کام کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں، مثلا پانی بھرنا، آٹا اٹھانا، صفائی کرنا، وغیرہ۔
۶۔ اگر عام افراد کے سامنے بعض لوگوں کی واضح نافرمانی کی وجہ سے ان کو تبلیغ کر دی جائے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی شان متاثر ہوئی ہے اور ان کے سٹیٹس کا خیال نہیں رکھا گیا۔
۷۔ بعض سرمایہ دار سادہ لباس پہننے میں عار محسوس کرتے ہیں۔
ان گزارشات پر غور کرنے کے بعد درج ذیل اقتباس کا مطالعہ کریں۔
حدیث نمبر (۱۰۳۸۵)اور اس کے فوائد کو غور سے پڑھیں اور سوچیں کہ قارون عذابِ الٰہی میں گرفتار کیوں ہوا۔
قاسم بن محمدl سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ایندھن کے کام آنے والی لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے بازار سے گزرے،کسی نے (ان پر اعتراض کرتے ہوئے ان کو) کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بے پرواہ نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میرا ارادہ ہے کہ اس کے ذریعے (اپنے نفس) سے تکبر کو دور کروں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ((لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ۔)) … ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوا۔ (حاکم: ۳/۴۱۶، صحیحہ: ۳۲۵۷)
کسی شخص کا مال و دولت، دولت و ثروت، حسن و جمال، جاہ و منصب، حکومت و سلطنت، غلبہ و اقتدار، علم و فضل، حسب و نسب، سرداری و سربراہییا احترام و اکرام کی بنا پر اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور دوسروں کو اپنے سے کم تر سمجھنا اور حق بات ماننے سے ہٹ دھری کا ارتکاب کرنا اور ان دنیوی صفات کی بنا پر بعض سنتوں پر عمل نہ کرنا تکبر کہلاتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَلْکِبْرَیَائُ رِدَائِیْ وَالْعِزَّۃُ إزَارِیْ فَمَنْ نَازَعَنِیْ وَاحِدًا مِنْھُمَا أُلْقِیْہِ فِی النَّارِ۔)) … اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تکبر(اور بڑائی) میری چادر ہے اور عزت (اورغلبہ) میراازار ہے، جس نے ان دونوں (اوصاف) میں سے کوئی ایک مجھ سے کھینچنا چاہا، میں اُس کوآگ میں پھینک دوں گا۔ (صحیح مسلم)
غلبہ و اقتدار، تکبر و بڑائی اور عظمت و کبریائی جیسی صفات صرف اللہ تعالیٰ کی ہیں۔ جس فرد کو جو قوت یا عظمت یا مقام و مرتبہ حاصل ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اس لئے ایسے آدمی کو چاہئے کہ بطورِ شکر الٰہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے اور اپنی عظمت و کبریائی کے ڈنکے بجانا چھوڑ دے اور شریعت سے اعراض کرنا ترک کر دے۔ ورنہ اس کا انجام آتش ِ دوزخ ہو گا۔ اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت تنبیہ ہے جو اپنی قوت و طاقت، حسب ونسب، عہدہ و منصب اور مال و منال پر نازاں رہتے ہیں اور لوگوں کے سامنے متکبرانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌیُحِبُّ الْجَمَالَ، اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ۔)) … (اچھے کپڑے زیب تن کرنا اور اچھے جوتے پہننا تو قابل تعریف چیز ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ خود بھی خوبصورت ہے اور حسن و جمال کو پسند بھی کرتا ہے، تکبر تو یہ ہے کہ حق بات کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔ (مسلم)
اس حدیث میں بیان کئے گئے تکبر کے مفہوم کو سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی روایت سے سمجھنا قدرے آسان ہو جاتا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ((کُلْ بِیَمِیْنِکَ۔)) یعنی: دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے کہا: اس کی میرے اندر طاقت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اگر تجھے طاقت نہیں تو) تجھے اس کی استطاعت نہ ہونے پائے۔ دراصل اس کو صرف تکبر نے آپ کی بات ماننے سے روکا تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ اس کے بعد وہ آدمی اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے منہ کی طرف نہیں اٹھا سکا۔ (مسلم) یہ ہے تکبر اور اس کا وبال کہ پوری زندگی کے لئے دائیں ہاتھ سے کھانا پینا نصیب نہ ہوا۔
ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کریں اور ان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں اور عاجزی و فروتنی کے جذبات سے سرشار ہو کر اللہ کے بندوں اور اس کی مخلوق کا احترام کریں۔
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے غرور، گھمنڈ اور شیخی کے جذبات کو مسخ کرنے کے لئے بہترین کلیہ استعمال کیا ہے، بلکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اسْتَکْبَرَ مَنْ أکَلَ مَعَہُ خَادِمُہُ وَرَکِبَ الْحِمَارَ بِالأسْوَاقِ، وَاعْتَقَلَ الشَّاۃَ فَحَلَبَھَا۔)) … وہ شخص متکبر نہیں ہے،جس کے ساتھ اُس کے خادم نے کھانا کھایااور وہ بازاروں میں گدھے پر سوارہوا اوربکری کی ٹانگ کو رسی باندھ کر اس کا دودھ دوہا۔ ( الصحیحۃ: ۲۲۱۸، أخرجہ البخاری فی الأدب المفرد :۵۵۰، والدیلمی:۴/۳۳)
اس حدیث کا مطلب یہ ہو ا کہ جو آدمی ایسے کام کرنے سے عار محسوس کرتا ہے، اسے اپنے ضمیر میں تکبر کا خطرہ محسوس کرنا چاہئے۔
سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ تَرَکَ اَنْ یَّلْبَسَ صَالِحَ الثِّیَابِ وَھُوَ یَقْدِرُ عَلَیْہِ تَوَاضُعًا لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ، دَعَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ عَلیٰ رُؤُوْسِ الْخَلَائِقِ حَتّٰییُخَیِّرَہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ فِی حُلَلِ الْاِیْمَانِ اَیَّتَھُنَّ شَائَ۔)) … جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کرتے ہوئے اچھا لباس نہیں پہنا، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس کوبھی ساری مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اسے یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کی جو پوشاک پسند کرتا ہے، وہ پہن لے۔ (مسند احمد: ۱۵۷۰۴)
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حقیقی اور گہرے تعلق کی ضرورت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کنگھی کی بھی ہے اور بالوں کو اچھی طرح سنوارنے کا حکم بھی دیا ہے، لیکنیہ بھی حکم دے دیا کہ کوئی آدمی ہر روز کنگھی نہ کرے، یہی معاملہ لباس کا ہے۔
مقصودِ شریعتیہ ہے کہ مسلمان نہ تو ایسا ہو کہ ہفتوں تک نہانے اوربالوں کو سنوارنے کا اہتمام نہ کرے اور بالآخر اپنی حیثیت کو نہ سمجھنے والا قابل نفرت شخص بن جائے اور نہ ایسا ہو کہ ہر روز اور ہروقت اپنی ظاہری ٹیپ ٹاپ پر توجہ مرکوز رکھے، کیونکہ ہر وقت کی خوشحالی، آسودگی اور خوش عیشی بھی انسان کے مزاج میں فساد پیدا کر دیتی ہے اور وہ غرور و تکبر میںمبتلا ہو جاتا ہے اور کم صفائی رکھنے والے یا سادہ زندگی گزارنے والوں سے نفرت کرنے لگتا ہے یا کم از کم یہ ہوتا ہے کہ سادگی کی اہمیت اور فوائد کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُہْرَۃٍ فِی الدُّنْیَا اَلْبَسَہُ اللّٰہُ ثَوْبَ مَذَلَّۃٍیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔))… جس نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا تو اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت ذلت کا لباس پہنائیںگے۔(ابوداود: ۴۰۲۹،۴۰۳۰، ابن ماجہ: ۳۶۰۷)
شہرت والے لباس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کییہ خواہش ہو کہ اس کا لباس رنگ، ڈیزائن اور کڑھائی وغیرہ کے اعتبار سے امتیازی ہو تاکہ لوگ اس کی طرف دیکھیں، پھر وہ عجب اور خود پسندی میں مبتلا ہو جائے۔ ایسے شخص کا انجام دیکھیں کہ وہ اس لباس کے ذریعے شہرت چاہتا تھا اور اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کو ایسا لباس پہنائے گا جس سے اس کی ذلت لازم آئے گی۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز وہ ہے، جو زیادہ تقوی اور پرہیز گاری والا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰیکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔} … اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے ۔ (سورۂ حجرات: ۱۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت میں مر جانے والے آباء و اجداد پر فخر مت کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بھونرا (کالا کیڑا) اپنے نتھنوں سے جس چیز کو لڑھکاتا ہے، وہ تمہارے ان آباء سے بہتر ہے، جو جاہلیت میں مر گئے ہیں۔
فوائد:… اپنی قوم، نسل اور آباء و اجداد کی بنا پر ناز کرنا، فخر کرنا، فوقیت جتانا، نفیس و فائق سمجھنا، برتری ثابت کرنا اور ذریعۂ امتیاز و اعزاز سمجھنا، اسلام میں اس چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر نسب کو آگے بڑھایا جائے تو تمام قومیں، قبیلے اور خاندان آدم علیہ السلام پر اکٹھے ہو جاتے ہیں، تعارف کے لیے نسل کا نام لیا جا سکتا ہے، بعض لوگوں کو اپنی برادریوں سے اچھے مزاج ملتے ہیں، ان کی وجہ سے عزت و حمیت والی اور با مقصد زندگی نصیب ہوتی ہے، ایسے مزاج پر پابند رہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر اد اکرنا چاہیے، اس ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بعض قبائل اور اشخاص کی تعریف کی ہے۔
مسلمان کے لیے باعث ِ ناز چیز تقوی،پرہیزگاری اور عمل صالح ہے، جیسا کہ سابق باب کے آخر میں مذکورہ آیت سے ثابت ہو رہا ہے۔
نسب کا سب سے اعلی سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان بنو ہاشم کا ہے، لیکن اخروی نجات کے سلسلے میں اس کا بھی کوئی دخل نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۵۵)والا باب۔
بھونرا: ایک کالا کیڑا ہوتا ہے، عام طور پر یہ گوبر سے چھوٹی سی گیند نما چیز بنا کر اور اس پر اگلی ٹانگیں رکھ کر اس کو لڑھکاتا رہتا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور یا تو لوگ قوموں کی بنا پر فخر کرنے کو ترک کر دیں گے، یہ قومیں تو جہنم کا کوئلہ تھیں،یا پھر یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے بدبودار چیزوں کو دھکیلتا ہے، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے غرورو نخوت اور آباء و اجداد کی بنا پر فخر کرنے کو ختم کر دیا ہے، اب دو ہی قسمیں رہ گئی ہیں: متقی مؤمن اور بد کردار، بد بخت سارے لوگ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ جاہلیت کے فخر کو چھوڑ دیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے۔
۔ ابو نضرہ سے مروی ہے کہ ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سننے والے صحابی نے اس کو بیان کیا کہ نبی کریم نے فرمایا: اے لوگو! خبردار! بیشک تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی سرخ کو سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو سرخ پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے، مگر تقوی کی بنیاد پر، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے پیغام پہنچا دیا ہے۔
Takhreej
(۹۷۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۲۳۴۸۹)
Explanation
فوائد:… کاش ہم بھی اپنے تعلقات کی بنیاد تقوی اور اللہ کے خوف کو قرار دیتے، ہمارے معاشرے میں سرمائے کی بھی اہمیت ہے، رنگت کی بھی قدر ہے، برادری ازم بھی معیار ہے، رشتہ داری بھی قابل توجہ ہے، اگر نہیں ہے تو تقوی اور پرہیزگاری کی اہمیت نہیں ہے، یعنی جو چیز اسلام میں سب سے اہم ہے، وہ ہمارے نزدیک اہم نہیں ہے۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ موسی علیہ السلام کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک، مشرک نے نسب بیان کرتے ہوئے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، ( نو پشتیں ذکر کردیں)، پھر اس نے اپنے مقابل سے کہا: تیری ماں نہ رہے، تو اپنا نسب بیان کر؟ میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس کے بعد والے آباء سے بری ہوں، اُدھر موسی علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا: تم دو کے درمیان فیصلہ کر دیا گیا ہے، جس نے نو آباء تک نسب ذکر کیا ہے، تو ان کا دسواں ہے اور تم سب کے سب آگ میںہو اور جس آدمی نے اپنے والدین تک نسب ذکر کیا، تو اسلام والوں میںایک ہے۔
Takhreej
(۹۷۳۳) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین الا انہ منقطع، عبد الرحمن بن ابی لیلی لم یسمع من معاذ، وانظر الحدیث الآتی، أخرجہ الطبرانی: ۲۰/ ۲۸۴ (انظر: ۲۲۰۸۹)
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، تو کون ہے، تیری ماں نہ رہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا تھا۔ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Takhreej
(۹۷۳۴) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی (انظر: ۲۱۱۷۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا پورا متن یوں ہے:
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنْتَسَبَ رَجُلَان عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ اَحَدُھُمَا: اَنَا فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِنْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلٰی عَھْدِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ اَحَدُھُمَا: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتّٰی عَدَّ تِسْعَۃً، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ قَالَ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ بْنِ الْاِسْلَامِ۔ قَالَ: فَاَوْحَی اللّٰہُ اِلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ اَنْ قُلْ لِھٰذَیْنِ الْمُنْتَسِبَیْنِ: اَمَّا اَنْتَ اَیُّھَا الْمُنْتَمِيْ اَوِ الْمُنْتَسِبُ اِلٰی تِسْعَۃٍ فِيْ النَّارِ، فَاَنْتَ عَاشِرُھُمْ، وَاَمَّا اَنْتَ یَا ھٰذَا الْمُنْتَسِبُ اِلٰی اثْنَیْنِ فِيْ الْجَنَّۃِ، فَاَنْتَ ثَالِثُھُمَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے
میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا۔ ایک نے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، تیری ماں نہ رہے، تو کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں نے موسی علیہ السلام کے زمانے میں اپنا اپنا نسب بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں … ہوں( نو پشتیں ذکر کردیں)، تیریماں نہ رہے تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ نسب بیان کرنے والے ان دو آدمیوں سے کہو: تو، جس نے نو پشتوں تک اپنا نسب بیان کیا ہے، تیری نو پشتیں بھی جہنم میں ہیں اور تو ان کا دسواں ہے۔ اور تو، جس نے دو پشتیں بیان کی ہیں، تیری دونوں پشتیں جنت میں ہیں اور تو ان کا تیسرا ہے، جو جنت میں جائے گا۔ (مسند احمد: ۵/۱۲۸)
اگر ضرورت ہو تو تعارف کے لیے باپ یا دادے کا نام پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسلام میں نسب سے برتری ثابت نہیں ہوتی۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَمَنْ بَطَّأَ بِہِ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعْ بِہِ نَسَبُہُ۔)) (صحیح مسلم: ۴۸۶۷) … جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اونٹوں اور بکریوں کے ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے مالکوں میں فخر اور تکبر ہے اور بکریوں کے مالکوں میں سکینت اور وقار ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا جبکہ وہ بکریاں چرانے والے تھے اور جب مجھے بعثت عطا کی گئی تو میں بھی مقامِ جیاد میں بکریاں چرانے والا تھا۔
فوائد:… حدیث میں انبیائے کرام کی سادگی و بے ریائی کا بیان ہے۔ حافظ ابن حجر ؒرقمطرازہیں: ائمۂ دین کا خیال ہے کہ انبیائے کرام کے بکریاں چرانے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عاجزی و انکساری پیدا ہو جائے اور ان کے دل خلوت کے عادی بن جائیں اور ان کے لیے بکریوں کیتدبیر وانتظام سے لوگوں کی باگ ڈور سنبھالنا آسان ہو جائے، جبکہ امام کرمانی، امام خطابی سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام بخارییہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے لیے دنیا کے پجاریوں اور عیش و عشرت میں مست لوگوں کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ایسے لوگوں کو اس نعمت سے نوازا جو تواضع کرنے والے ہوں، جیسے بکریوں کے چرواہے اور پیشہ ور لوگ۔ (فتح الباری)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غور کر، تو کسی سرخ یا سیاہ فام سے بہتر نہیں ہے، الا یہ کہ تو اس پر تقوی کی برتری رکھتا ہو۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جاہلیت کی نسبت کے ساتھ منسوب ہوا، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ کو چبائے اور انھوں نے بات کنایۃً نہیں کی، لوگوں نے (اس گالی کی وجہ سے) تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھا، لیکن انھوں نے کہا: جو چیز تم اپنے نفس میں محسوس کر رہے ہو، میں اس کو جانتا ہوں، جبکہ میں صرف یہی کچھ کہنے کی طاقت رکھتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تم کسی شخص کو جاہلیت والی نسبتوں کی طرف منسوب ہوتے ہوئے دیکھو تو اشارہ کنایہ کیے بغیر اس کو کہو: تو اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔
فوائد:… شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: خلیفۂ رسول سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس حدیث پر عمل کیا اور کہا: جو بندہ اپنے قبائل پر فخر کرے، تو اسے کہہ دیا کرو کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔(ابن ابی شیبہ)۔ (صحیحہ: ۲۶۹)
شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک کسی فرد کے اعزاز و اکرام کی بنیاد اس کے تقوی پر ہے۔ جو جتنا متقی ہو گا وہ اتناہی معزز ومکرم ہو گا۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی (جاہلیت کی نسبت کے ساتھ) منسوب ہوا، انھوں نے اس کے باپ کی شرمگاہ کی گالی دے کر اس کی بات کو کاٹا، لوگوں نے کہا: اے ابی! تم تو بد گو نہیں تھے؟ انھوں نے کہا: بیشک ہمیں اس چیز کا حکم دیا گیا ہے۔
۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے یہ نسب کسی کے لیے کوئی عار و شنار والے نہیں ہیں، کیونکہ تم سارے آدم کی اولاد ہو، اور بھرے ماپ سے کم ہو (یعنی کوئی بھی تم میں پورا اور کامل نہیں، ہر ایک میں کچھ نہ کچھ نقص ہے) اور کسی کو کسی پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر دین اور عملِ صالح کی بنا پر۔ آدمی کے (برا ہونے کے لیے) یہی کافی ہے کہ وہ فحش گو ، بدکلام ، بد اخلاق، بخیل اور بزدل ہو۔
فوائد:… ابن جریر کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلنَّاسُ لِآدَمَ وَحَوَّائَ، کَطَفِّ الصَّاعِ لَمْ یَمْلَؤُہٗ، اِنَّ اللّٰہَ لَایَسْأَلُکُمْ عَنْ اَحْسَابِکُمْ، وَلَا عَنْ اَنْسَابِکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔)) … آدم علیہ السلام اور حوا رحمتہ اللہ علیہ سے تمام لوگ پیدا ہوئے۔ لوگ اس صاع کی طرح ہیں، جس کو بھرا نہیں گیا۔ بیشک اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے حسب و نسب کے بارے میں سوال نہیں کرے گا، تم میں سے اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ معزز وہ ہو گا، جو سب سے زیادہ متقی ہو گا۔
کسی شخص کے سیّد، اعوان، راجپوت، آرائیں، جنجوعہ، وڑائچ، گادھی، لودھی وغیرہ ہونے میں کوئی کمال نہیں، کیونکہ جب تمام اقوام اپنا سلسلۂ نسب آگے بڑھائیں گی تو سب کے نسبوں کا اختتام آدم علیہ السلام پر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کے انتخاب میں صحت و عافیت، طاقت و قدرت، رعب و دبدبہ،غربت و امارت، حسن و جمال، مال و منال، خاندانی عظمت و کمال اور حسب و نسب کا کوئی دخل نہیں۔ ربّ جلیل کی نگاہِ انتخاب کی بنیاد بندوں کے تقوی و پارسائی اور نیکی و بھلائی پر ہے، جو اس سلسلے میں جتنا ممتاز ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا ہی معزز ہو گا۔
آخر میں صفات ِ ذمیمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر کوئی آدمی فحش گوئی ، بدکلامی ، بد اخلاقی، بخیلی اور بزدلی سے متصف ہے تو اس کے بد ہونے کے لیےیہی صفات کافی ہیں۔