TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Book 163 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 163 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 198 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

198 Hadith · 23 Chapters
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۷۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْـَد النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ، وَالْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَعَلْقَمَۃُ بْنُ عُلَاثَۃَ، فَذَکَرُوْا الْجُدُوْدَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ شِئْتُمْ اَخْبَرْتُکُمْ، جَدُّ بَنِیْ عَامِرٍ جَمَلٌ اَحْمَرُ، اَوْ آدَمُ یَاْکُلُ مِنْ اَطْرَافِ الشَّجَرِ، قَالَ: وَاَحْسِبُہُ قَالَ: فِیْ رَوْضَۃٍ، وَغَطَفَانُ اَکَمَۃٌ خَشَّائُ تَنْفِی النَّاسَ عَنْھَا۔)) قَالَ: فَقَالَ الْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: فَاَیْنَ جَدُّ بَنِیْ تَمِیْمٍ؟ قَالَ: ((لَوْ سَکَتَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۳)
۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہوئے اور آباء و اجداد کا تذکرہ کیا (کہ فلاں کا دادا قوی تھا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تم کو بتلا دیتا ہوں، بنی عامر کا دادا تو سرخ یا گندمی رنگ کا اونٹ تھا، جو ایک باغیچے میں درخت کے پتے کھاتا تھا، غطفان کا دادا تو ایک خوفناک ٹیلہ تھا، جو لوگوں کو وہاں سے دھتکارتا تھا۔ اقرع بن حابس نے کہا: اور بنو تمیم کا دادا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ خاموش رہتا تو اچھی بات تھی۔
Takhreej
(۹۷۴۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری (انظر: ۲۲۹۳۵)
Explanation
فوائد:… علقمہ بن علاثہ نے بنو عامر کی طرف ، عیینہ بن بدر نے غطفان کی طرف اور اقرع بن حابس نے بنو تمیم کی طرف نسبت کی تھی۔ ایک دن ایک لومڑ اور گیدڑ کا بحث مباحثہ ہو گیا، چونکہ لومڑ شیر کے ساتھ رہتا تھا، اس لیے اس نے شیر کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہم نے فلاں کام بھی کیا، ہم نے فلاں کمال بھی دکھایا، ہم نے … …۔ گیدڑ نے ساری باتیں سننے کے بعد کہا: اچھا لومڑ یہ بتاؤ کہ تم خود کون ہو، تم خود کون ہو؟ جواباً لومڑ کو کہنا پڑے گا کہ وہ تو لومڑ ہی ہے۔ باتیہ ہے کہ اگر کسی کے دادے، پڑدادے اور لکڑدادے میں کوئی کمال تھا تو اس کا پوتے اور پڑپوتے کے امتیاز سے کیا تعلق ہے، ایک دن ایک آدمی نے اپنی برادری پر ناز کرتے ہوئے اور فاخرانہ انداز میں اپنی حیثیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ہم وہ لوگ ہیں کہ نواب آف کالا باغ نے جس کے ماموں کو اس مسند پر بٹھایا تھا، جو اس نے آصف علی زرداری کے لیے رکھی ہوئی تھی۔ اسلام کا ان امور سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسلام شکل و صورت،حسن و جمال اور ذات و برادری کو نہیں دیکھتا، صرف دل اور عمل کو مد نظر رکھتا ہے۔
9740
Sahih
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۴۱)۔ عَنْ یَزِیْدَیَعْنِی ابْنَ الْھَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، اَنَّہُ حَدَّثَہُ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ لَقِیَ نَاسًا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ، فَقَالَ: مِنْ اَیْنَ جَائَ ھٰؤُلَائِ؟ فقَالُوْا: خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ الْاَمِیْرِ مَرْوَانَ، قَالَ: وَکُلُّ حَقٍّ رَاَیْتُمُوْہُ تَکَلَّمْتُمْ بِہٖوَاَعَنْتُمْعَلَیْہِ؟ وَکُلُّ مُنْکَرٍ رَاَیْتُمُوْہُ اَنْکَرْتُمُوْہُ، وَرَدَدْتُمُوْہُ عَلَیْہِ ؟ قَالُوْا: لَا وَاللّٰہِ! بَلْ یَقُوْلُ مَا یُنْکَرُ، فَنَقُوْلُ: قَدْ اَصَبْتَ، اَصْلَحَکَ اللّٰہُ، فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِ قُلْنَا: قَاتَلَہُ اللّٰہُ، مَا اَظْلَمَہُ وَاَفْجَرَہُ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: کُنَّا بِعَھْدِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَعُدُّ ھٰذَا نِفَاقًا لِمَنْ کَانَ ھٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۵۳۷۳)
۔ محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کچھ لوگوں کو ملے، وہ مروان کو مل کر باہر آ رہے تھے، انھوں نے کہا: یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہم مروان امیر کے پاس سے آئے ہیں، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اور تم نے وہاں جو حق دیکھا، اس کے بارے میں بات کی اور مروان کی مدد کی اور تم نے وہاں جو برائی دیکھی، اس کا انکار کیا اور مروان پر اس کا ردّ کیا؟ انھوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! بلکہ مروان کی قابل انکار باتوں کے بارے میں بھی ہم نے کہا: تو نے درست کیا ہے، اللہ تیری اصلاح کرے، پس جب ہم اس کے پاس سے نکلے تو آپس میں کہا: اللہ اس مروان کو ہلاک کرے، یہ کتنا ظالم اور برا آدمی ہے، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں اس قسم کی کاروائی کو نفاق شمار کرتے تھے۔
Takhreej
(۹۷۴۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مختصرا البخاری: ۷۱۷۸ (انظر: ۵۳۷۳)
9741
Sahih
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۴۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَائِرَۃِ بَیْنَ الغَنَمَیْنِ، تَعِیْرُ اِلٰی ھٰذِہِ مَرَّۃً، وَاِلٰی ھٰذِہِ مَرَّۃً، لَاتَدْرِیْ اَھٰذِہِ تَتْبَعُ، اَمْ ھٰذِہِ۔)) (مسند احمد: ۵۰۷۹)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: منافق بیچارے کی مثال اس بکری کی طرح ہے، جو دو ریوڑوں کے درمیان کسی ایک کے ساتھ شامل ہونے میں متردد ہو، شش و پنج کے ساتھ کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی اُس ریوڑ کے ساتھ، وہ یہ نہیں جانتی کہ اس کے پیچھے چلے گییا اُس کے پیچھے۔
Takhreej
(۹۷۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۸۴(انظر: ۵۰۷۹)
Explanation
فوائد:… منافقین کے لیے اس سے زیادہ مناسب مثال ممکن نہیں اور اس میں ان کی انتہائی توہین ہے کہ ان کو مؤنث سے تشبیہ دی گئی ہے، گویا وہ مردانہ صفات سے عاری ہیں اور کمینوں کی طرح مال کی طلب میں کبھی مسلمانوں کی خوشامد کرتے ہیں اور کبھی کافروں کی، کبھی مسلمانوں کا ہم نوا بننے کا دعوی کرتے ہیں اور کبھی کافروں کے ساتھ دوستی دعوے کر رہے ہوتے ہیں، لیکن تسلی پھر بھی نہیں ہوتی، حیران و پریشان ہی رہتے ہیں، نہ مسلمان ان کو اپنا سمجھتے ہیں اور نہ کافر۔
9742
Sahih
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عُبَیْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ جَلَسَ ذَاتَ یَوْمٍ بِمَکَّۃَ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مَعَہُ، فَقَالَ اَبِیْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَثَلَ الْمُنَافِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَالشَّاۃِ بَیْنَ الرَّبِیْضَیْنِ مِنَ الْغَنَمِ، اِنْ اَتَتْ ھٰؤُلَائِ نَطَحَتْھَا، وَاِنْ اَتَتْ ھٰؤُلَائِ نَطَحَتْھَا، فَقَالَ لَہُ: ابْنُ عُمَرَ کَذَبْتَ فَاَثْنَی الْقَوْمُ عَلٰی اَبِیْ خَیْرًا اَوْ مَعْرُوْفًا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا اَظُنُّ صَاحِبَکُمْ اِلَّا کَمَا تَقُوْلُوْنَ وَلٰکِنِّیْ شَاھِدٌ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ قَالَ: ((کَالشَّاۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ)) فَقَالَ: ھُوَ سَوَائٌ، فَقَالَ: ھٰکَذَا سَمِعْتُہُ۔ (مسند احمد: ۵۵۴۶)
۔ عبید کہتے ہیں: میں ایک دن مکہ مکرمہ میں بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی ان کے ساتھ تھے، میرے باپ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہو گی، جو بکریوں کے دو باڑوں کے درمیان ہو، اگر اس باڑے میںجائے تو وہ بکریاںاس کو مارتی ہیں اور اگر اُس میں جائے تو اس والی مارتی ہیں۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو غلط کہہ رہا ہے، لیکن لوگوں نے میرے باپ کی تعریف کی، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں بھی تمہارے ساتھی کو خیر والا سمجھتا ہوں، جیسے تم سمجھ رہے ہو، لیکن میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حدیث بیان کی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کَالشَّاۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ کے الفاظ فرمائے تھے۔ انھوں نے کہا: معنیتو ایک ہی ہے، لیکن سیدنا ابن عمر نے کہا: میں نے تو یہی الفاظ سنے تھے۔
Takhreej
(۹۷۴۳) تخریج: رجال ثقات، غیر مصعب بن سلام، ففیہ ضعف، وقد توبع، أخرجہ ابن حبان: ۲۶۴، والدارمی: ۱/ ۹۳ (انظر: ۵۵۴۶)
9743
Sahih
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۴۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَصِیْرُ بِھَا مُنَافِقًا۔ وَاِنِّیْ لَاَسْمَعُھَا مِنْ اَحَدِکُمُ الْیَوْمَ فِی الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۷)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں اگر کوئی آدمی اس قسم کی بات کرتا تو وہ اس کی وجہ سے منافق ہو جاتا تھا، اور اب میں تم سے اس قسم کی باتیں ایک ایک مجلس میں دس دس دفعہ سنتا ہوں۔
Takhreej
(۹۷۴۴) تخریج: اثر حسن (انظر: ۲۳۲۷۸)
Explanation
فوائد:… غیر محتاط گفتگو سے بچنا چاہیے، بعض لوگ عام گفتگو میں انتہائی فحش گالیاں نکالتے ہیں، بعض شریعت کے ساتھ مذاق تک کر جاتے ہیں، بعض ایک دوسرے کو لعنتی اور کافر کہہ دیتے ہیں۔
9744
Sahih
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَبَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَۃً فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ فِیْکُمْ مُنَافِقِیْنَ، فَمَنْ سَمَیَّتُ فَلْیَقُمْ ۔))ثُمَّ قَالَ: ((قُمْ یَا فُلَانُ، قُمْ یَا فُلَانُ)) حَتّٰی سَمّٰیسِتَّۃً وَّثِلَاثِیْنَ رَجُلًا، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ فِیْکُمْ اَوْ مِنْکُمْ فَاتَّقُوْا اللّٰہَ)) قَالَ: فَمَرَّ عُمَرُ عَلٰی رَجُلٍ مِمَّنْ سَمّٰی مُقَنَّعٍ قَدْ کَانَ یَعْرِفُہُ، قَالَ: مَالَکَ؟ قَالَ: فَحَدَّثَہُ بِمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: بُعْدًا لَکَ سَائِرَ الْیَوْمِ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۰۵)
۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک تم میں منافق موجود ہیں، میں جس جس کا نام لیتا جاؤں، وہ کھڑا ہو تا جائے، او فلاں! تو کھڑا ہو جا، او فلاں! تو بھی کھڑا ہو جا۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھتیس مردوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: تم میں منافق ہیں، پس اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ۔ سیدنا عمر ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کانام لیا گیا تھا، اس نے کپڑا اوڑھا ہوا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو پہچانتے تھے، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: دوری ہو تیرے لیے باقی دن۔
Takhreej
(۹۷۴۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عیاض الراوی عن ابی مسعود، ومتنہ منکر (انظر: ۲۲۳۴۸)
9745
Zaeef
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۴۶)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَقُوْلُوْا لِلْمُنَافِقِ سَیِّدَنَا، فَاِنَّہُ اِنْ یَکُ سَیِّدَکُمْ فَقَدْ اَسْخَطْتُمْ رَبَّکُمْ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۷)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: منافق کو اپنا سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ تمہارا سردار ہوا تو تم اپنے ربّ کو ناراض کر دو گے۔
Takhreej
(۹۷۴۶) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۴۹۷۷، والترمذی: ۹۸۲ (انظر: ۲۲۹۳۹)
Explanation
فوائد:… عظیم آبادی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: اگر تم منافق کو سید کہو گے تو اس سے اس کی تعظیم لازم آئے گی، حالانکہ وہ عزت و عظمت کا مستحق نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی تمہارا سید نہیں ہو سکتا، اس لیے اس کے لیےیہ لقب استعمال کرنا محض جھوٹ اور نفاق ہو گا۔ نیز اس حدیث ِ مبارکہ کا یہ مفہوم بھی درست ہو گا کہ اگر تم کسی منافق کو اپنا سید تسلیم کرو گے، تو تم پر ضروری ہو گا کہ اس کی اطاعت بھی کرو اور اگر تم نے اس کی اطاعت کی تو اپنے رب کو ناراض کر دو گے۔ ابن اثیر نے کہا: منافق کو سید نہ کہا کرو، کیونکہ اگر تم نے اس کو اپنا سید قرار دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم خود اس سے کمتر ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے اس مرتبے کو پسند نہیں کرے گا۔ (عون المعبود)
9746
Sahih
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۴۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ لِلْمُنَافِقِیْنَ عَلَامَاتٍ یُعْرَفُوْنَ بِھَا، تَحِیَّتُھُمْ لَعْنَۃٌ، وَطَعَامُھُمْ نُھْبَۃٌ، وَغَنِیْمَتُھُمْ غُلُوْلٌ، وَلَا یَقْرَبُوْنَ الْمَسَاجِدَ اِلَّا ھَجْرًا، وَلَا یَاْتُوْنَ الصَّلَاۃَ اِلَّا دُبُرًا، مُسْتَکْبِرِیْنَ، لَا یَاْلَفُوْنَ، وَلَا یُؤْلَفُوْنَ، خُشُبٌ بِاللَّیْلِ صُخُبٌ بِالنَّھَارِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) سُخُبٌ بِالنَّھَارِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک منافقوں کی کچھ علامتیں ہیں، ان کے ذریعے ان کو پہچانا جاتا ہے، ان کا سلام لعنت ہوتا ہے، ان کا کھانا غصب شدہ ہوتا ہے، ان کی غنیمت چوری کی ہوئی ہوتی ہے، وہ مسجدوں کے قریب نہیں آتے، مگر ان کو چھوڑنے کے لیے، نماز کا وقت فوت ہو جانے کے بعد نماز کے لیے آتے ہیں، وہ تکبر کرنے والے ہوتے ہیں، وہ انس کرتے ہیں نہ ان سے مانوس ہوا جاتا ہے، وہ رات کو لکڑیوں کی طرح پڑے رہتے ہیں اور دن کو شور و غل کرنے والے اور جھگڑا کرنے والے ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۹۷۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الملک بن قدامۃ، وجھالۃ اسحاق بن بکر، أخرجہ البزار: ۸۵ (انظر: ۷۹۲۶)
9747
Zaeef
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۴۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، اِذَاحَدَّثَ کَذَبَ، وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ، وَاِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔)) (مسند احمد: ۸۶۷۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: منافق کی علامتیں تین ہیں: جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کو امین بنایا جاتا ہے تو وہ خیانت کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۷۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳، ۲۶۸۲، ۲۷۴۹، ومسلم: ۵۹ (انظر: ۸۶۸۵)
Explanation
فوائد:… یہ عملی نفاق کی علامتیں ہیں۔
9748
Sahih
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۴۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا،یَبْلُغُ بِہٖالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْھَیْنِ الَّذِیْیَاْتِیْ ھٰؤُلَائِ بِوَجْہٍ، وَھٰؤُلَائِ بِوَجْہٍ۔)) (مسند احمد: ۷۳۳۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو لوگوں میں دو رخے شخص کو سب سے برا پائے گا، جو ایک رخ کے ساتھ اِن کے پاس آتا ہے اور ایک رخ کے ساتھ اُن کے پاس جاتا ہے ۔
Takhreej
(۹۷۴۹) تخریج:أخرجہ البخاری: ۳۴۹۴، ومسلم: ۲۵۲۶ (انظر: ۷۳۴۱)
Explanation
فوائد:… دورخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے باور کرائے کہ وہ اس کا خیرخواہ اور اس کے حق میں مخلص ہے اور دوسرے کا مخالف، لیکن جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو وہاں ان کے لیے باوفا ہونے کا تاثر دے۔ یہ بدترین شخص ہے، ایسا شخص جھوٹا ہوتا ہے اور اپنی زندگی میں ہی اپنا وقار کھو بیٹھتا ہے۔ اِن کے سامنے اِن کا دوست اور اُن کا دشمن اور اُن کے پاس اُن کا دوست اور اِن کا دشمن۔ سچ فرمایا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا شخص امانتدار نہیں ہو سکتا ہے، امانتدار بننے کے لیے تو اپنوں کے لحاظ اور غیروں کے عدم لحاظ کو بھی بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کے امین ہونے کی وجہ سے ایسا شخص آپ کے پاس امانت رکھ دے، جس کو آپ کے بڑے، دشمن سمجھتے ہوں۔ لیکن دو رخا آدمی ایسی ذمہ داری ادا کرنے سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ مومن کو متنبہ رہنا چاہئے کہ وہ مستقل مزاج ہوتا ہے، اس کا معیار شریعت ہے، وہ اپنوں اوربیگانوں کے فرق سے بالاتر ہوتا ہے، جو آدمی شریعت کی روشنی میں اچھا ہے، وہ اس کے نزدیک اچھا ہونا چاہئے اور جو شخص شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک برا ہے، وہ اس کے نزدیک بھی برا ہونا چاہئے۔ مومن کو چاہئے کہ برے لوگوں کی اصلاح کرے، نہ کہ دوسرے لوگوں کے سامنے ان سے دشمنی کا اظہار کر کے اس کے عیوب کو اچھالتا پھرے۔
9749
Sahih
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۵۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَجِدُ شَرَّ النَّاسِ (وَقَالَ یَعْلٰی: تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ) عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ذَا الْوَجْھَیْنِ۔)) قَالَ ابْنُ نُمَیْرِ: الَّذِیْیَاْتِیْ ھٰؤُلَائِ بِحَدِیْثِ ھٰؤُلَائِ، وَھٰؤُلَائِ بِحَدِیْثِ ھٰؤُلَائِ۔ (مسند احمد: ۱۰۴۳۲)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو قیامت کے دن لوگوں میں دو رخے شخص کو سب سے برا پائے گا۔ ابن نمیر نے کہا: اس سے مراد وہ آدمی ہے جو اِن کے پاس اُن کی بات کرتا ہے اور اُن کے پاس اِن کی بات کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۷۵۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
9750
Sahih
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۵۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یَنْبَغِیْ لِذِی الْوَجْھَیْنِ اَنْ یَکُوْنَ اَمِیْنًا۔)) (مسند احمد: ۷۸۷۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو رخے بندے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ امین بھی ہو۔
Takhreej
(۹۷۵۱) تخریج: حدیث قوی، أخرجہ البیھقی:۱۰/ ۲۴۶ (انظر: ۷۸۹۰)
9751
Sahih
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۵۲)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! اِنَّھُمْ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُ لَیْسَ لَنَا اَجْرٌ بِمَکَّۃَ؟ قَالَ: ((لَتَاْتِیَنَّکُمْ اُجُوْرُکُمْ وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ جُحْرِ ثَعْلَبٍ۔)) قَالَ: فَاَصْغٰی اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَاْسِہِ فَقَالَ: ((اِنَّ فِیْ اَصْحَابِیْ مُنْافِقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۸۶)
۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں اجر نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا اجر ضرور ضرور تمہارے پاس پہنچے گا، اگرچہ تم لومڑ کے بل میں ہوئے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک میری طرف جھکایا اور فرمایا: میرے ساتھیوں میںمنافق بھی ہیں۔
Takhreej
(۹۷۵۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن جبیر بن مطعم (انظر: ۱۶۷۶۴)
9752
Zaeef
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
۔ (۹۷۵۳)۔ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ النَّھْدِیِّ قَالَ: اِنِّیْ لَجَالِسٌ تَحْتَ مِنْبَرِ عُمَرَ، وَھُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ فِیْ خُطْبَتِہِ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اَخْوَفَ مَا اَخَافُ عَلٰی ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ: عَلٰیاُمَّتِیْ) کُلُّ مُنَافِقٍ عَلِیْمِ اللِّسَانِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۰)
۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے منبر کے پاس تھا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر اس منافق کا ہے، جوزبان آور ہوتا ہے۔
Takhreej
(۹۷۵۳) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ البزار: ۳۰۵ (انظر: ۳۱۰)
Explanation
فوائد:… کوئی شک نہیں کہ خطاب میں جادو کی سی تاثیر پائی جاتی ہے اور بعض لوگ اپنے اندازِ خطابت کے زور پر لوگوں میں اتنی مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کی ہر بات کو حجت سمجھا جانے لگتا ہے۔ ایسے میں مومن کو دلائل کا سہارا لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کیخصلت ِ بد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: {وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِئُ وْنَ۔} (سورۂ بقرہ: ۱۴) … اور جب (یہ منافق) ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو ان (مسلمانوں) سے صرف مذاق کرتے ہیں۔ اب جو منافق جتنا زبان آور ، چرب لسان، زبان دراز، خوشامدی، زبان کے داؤ پیچ جاننے والا اور سیاہ کو سفید ثابت کرنے والا ہو گا، وہ اتنا ہی مسلمانوں کے سامنے ان کا وفادار بن کر ان کو نقصان پہنچائے گا اور ان کے رازدارانہ امور ان کے دشمنوں تک پہنچا دے گا۔
9753
Sahih
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۷۵۴)۔ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: یُقَالَ: ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلَانٍ۔ (مسند احمد: ۴۲۰۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت ہر دھوکے باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے: اور یہ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔
Takhreej
(۹۷۵۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۳۶ (انظر: ۴۲۰۱)
9754
Sahih
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۷۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْغَادِرُ یُرْفَعُ لَہُ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،یُقَالَ: ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلانِ بْنِ فُلَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۶۴۸)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دھوکے باز کا جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔
Takhreej
(۹۷۵۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۷۷، ومسلم: ۱۷۳۵ (انظر: ۴۶۴۸)
9755
Sahih
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۷۵۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، یَقُوْلُ : ((یُنْصَبُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَا غَدْرَۃَ اَعْظَمُ مِنْ غَدْرَۃِ اِمَامِ عَامَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۵۳۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے پاس تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا، بڑے امام کے ساتھ کیے گئے دھوکے سے بڑھ کر کوئی دھوکہ نہیں ہے۔
Takhreej
(۹۷۵۶) تخریج: صحیح (انظر: ۵۳۷۸)
Explanation
فوائد:… بہت بڑی رسوائی ہے کہ حشر کے میدان میں اللہ کی مخلوق کے سامنے دبر کے ساتھ ایک جھنڈا گڑھا ہوا ہو، جو اس کی خیانت، دھوکے اور عہد شکنی پر دلالت کرے۔ مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا شعور ہونا چاہیے۔
9756
Sahih
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۷۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((وَذِمَّۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَاحِدَۃٌیَسْعٰی بِھَا اَدْنَاھُمْ، فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، وَالْمَلَائِکَۃِ، وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا، وَلَا صَرْفًا۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی ضمانت (کا حکم) ایک ہے، ادنی مسلمان بھییہ ضمانت دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔
Takhreej
(۹۷۵۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۷۱ (انظر: ۹۱۷۳)
Explanation
فوائد:… اسلام میں عہد و پیمان کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے، اگرچہ وہ غیر مسلموں سے کیا گیا ہو۔
9757
Sahih
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۷۵۸)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاخَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا قَالَ: ((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہُ، وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۱۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ،وہ کہتے ہیں: نبی کریم جب بھی ہم سے خطاب کرتے تھے تو اس میں یہ فرماتے تھے: اس آدمی کا ایمان نہیں، جس کی امانت نہیں اور اس آدمی کا دین نہیں، جس کا عہد وپیمان کوئی نہیں۔
Takhreej
(۹۷۵۸) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۱۱، وابویعلی: ۲۸۶۳، والبزار: ۱۰۰، والبیھقی: ۶/۲۸۸ (انظر: ۱۲۳۸۳)
Explanation
فوائد:… خیانت کرنا بہت بڑا جرم ہے، یہ قبیح عمل منافق کی صفت ہے، ایمان کے ساتھ خیانت کا کوئی سمجھوتہ نہیں، آدمی جس چیز کی خیانت کرے گا وہ قیامت والے دن اپنے کندھے پر اٹھا کر لائے گا۔ وہ کیسا منظر ہو گا کہ آدمی کی پیٹھ پر اونٹ، گائے اور بکری وغیرہ لدے ہوئے ہوں گے اور وہ اپنی طبعی آواز نکال رہے ہوں گے۔ آجکل حکومتی عہدیدار بالعموم اور سیاسی لیڈر بالخصوص قومی خزانوں کو لوٹنا اپنا ذاتی حق سمجھتے ہیں اور وہ سرے سے حلت و حرمت میں تمیز کرنے سے قاصر ہیں، زکوۃ کمیٹیوں کی رقم حقداروںمیں نہیں، بلکہ قرابتداروں یایاروں میں بانٹی جاتی ہیں اور عوام الناس کی اکثریت کو جہاں اور جس انداز میں موقع ملتا ہے، وہ شکار ضائع نہیں جانے دیتے، وہ سرکاری اداروں کا مال چوری کرنے کی صورت میں ہو یا سرکاری جگہ پر قبضہ جمانے کی صورت میں۔ یہ سب خیانتیں ہیں۔ جن کی سزا بھگتنی پڑے گی۔
9758
Sahih
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۷۵۹)۔ عَنْ عَمْروِ بْنِ عَبْسَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ قَوْمٍ عَھْدٌ فَـلَا یَشُدُّ عُقْدَۃً، وَلَا یَحُلُّ حَتّٰییَمْضِیَ اَمَدُھَا، اَوْ یَنْبِذَ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوْائٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۵۶)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مسلم قوم اور کسی دوسری قوم کے درمیان کوئی معاہدہ ہو تو نہ وہ اس کو مزید لمبا کر کے مضبوط کرے اور نہ اس کو توڑے، یہاں تک کہ اس کی مدت ختم ہو جائے یا دونوں برابر برابر کا توڑ دیں۔
Takhreej
(۹۷۵۹) تخریج: حدیث صحیح بشاھدہ، أخرجہ ابوداود: ۲۷۵۹، والترمذی: ۱۵۸۰(انظر: ۱۹۴۳۶)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۳۸)
9759
Sahih

Chapters

23
01
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
14 Hadith
02
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
9 Hadith
03
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
04
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
10 Hadith
05
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
7 Hadith
06
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
11 Hadith
07
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
08
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
09
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
13 Hadith
10
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
11
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
11 Hadith
12
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
13
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
14 Hadith
14
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
15
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
11 Hadith
16
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
13 Hadith
17
موت اور امید کا بیان
5 Hadith
18
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
5 Hadith
19
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
7 Hadith
20
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
21
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
22
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
23
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.