قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Book 163 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 163 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 198 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ دنوں تک چھوڑ دے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سے زائد دنوں تک کی قطع تعلقی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جس نے اپنے بھائی سے تین سے زائد دنوں تک قطع تعلقی کیے رکھی، پھر وہ مر گیا تو وہ آگ میں داخل ہو گا۔
فوائد:… جذبات کا خیال رکھتے ہوئے وعید کو تین دن سے مقید کیا گیا ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی آدمی غصے کی تیزی کی وجہ سے جلدی صلح کرنے کے لیے تیار نہ ہو، بہرحال تین ایام سے زیادہ ناراضگی کی کوئی گنجائش نہیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ سہیل کے علاوہ باقی راویوں کے الفاظ یہ ہیں: ہر سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا، ما سوائے باہم بغض و عداوت رکھنے والے دو افراد کے، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے: ان دو کو رہنے دو، جب تک یہ صلح نہ کرلیں۔
Takhreej
(۹۷۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۶۵(انظر: ۷۶۳۹)
Explanation
فوائد:… باہمی بغض و عداوت اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا خصوصی سلسلہ رک جاتا ہے۔
۔ سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زائد راتوں تک چھوڑے رکھے، اگر وہ تین سے تجاوز کر جائیں تو جب تک قطع تعلقی پر اڑے رہیں گے، وہ حق سے منحرف رہیں گے، اور ان میں سے جو پہلے لوٹے گا تو اس کا لوٹنا اس کے گناہوں کا کفارہ بنے گا، پس اگر وہ سلام کہتا، لیکن وہ جواب نہیں دیتا اور اس کے سلام کو ردّ کر دیتا ہے، تو فرشتے اس کو جواب دیں گے اور دوسرے کا جواب شیطان دے گا۔ اگر ایسے دو افراد اپنی قطع تعلقی پر ہی مر جائیں تو وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جمع نہیں ہوں گے، ایک روایت میں ہے: وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔
Takhreej
(۹۷۸۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الطیالسی: ۱۲۲۳، وابویعلی: ۱۵۵۷، وابن حبان: ۵۶۶۴ (انظر: ۱۶۲۵۷)
۔ سیدنا ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا، وہ اس کا خون بہا دینے کی طرح ہو گا۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض اور حسد نہ رکھو،باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زائد دنوں تک چھوڑے رکھے، جب وہ دونوں ملتے ہیں تو یہ بھی رکتا ہے اور وہ بھی رکتا ہے، جبکہ ان میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرتا ہے۔
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ دنوں کے لیے چھوڑے رکھے، جب دونوں ملتے ہیں، تو یہ بھی رکتا ہے اور وہ بھی رکتا ہے، جبکہ ان میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرے۔
۔ عوف بن حارث، جو کہ سیدہ عائشہ کا اخیافی بھتیجا تھا، سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کسی سودے یا عطیے کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہا: اللہ کی قسم! یا تو عائشہ رضی اللہ عنہا با ز آ جائے گی،یا میں اس پر پابندی لگا دوں گا، سیدہ نے پوچھا: کیا واقعی اس نےیہ بات کہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدہ نے کہا: میں اللہ کے لیے نذر مانتی ہوں کہ میں ابن زبیر سے کبھی بھی کلام نہیں کروں گی، پھر سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا مسور بن مخرمہ اور عبد الرحمن بن اسود بن عبد ِ یغوث رضی اللہ عنہما سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے حق میں سیدہ سے سفارش کریں،یہ دونوں آدمی بنو زہرہ قبیلے کے تھے، … …، پھر مسور اور عبد الرحمن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطے دینا شروع کیے، کہ وہ لازمی طور پر اس کے ساتھ کلام کرے اور اس سے معذرت قبول کرے اور انھوں نے سیدہ کو یہ بات بھی کہی تھی کہ تم جانتی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قطع تعلقی سے روکا ہے، اور کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دنوں سے زیادہ عرصے تک قطعی تعلقی کرے۔
فوائد:… مجادلہ اور مخاصمہ اس قدر قبیح صفت ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ایسے موصوف سے بغض رکھتے ہیں، جھگڑا جیسا بھی ہو، بالآخر جھگڑالو کو قابل مذمت بنا کے ہی چھوڑتا ہے۔
جھگڑالو آدمی اپنی تمام تر صلاحیتیں کھو بیٹھتا ہے، فسق وفجور بکتا ہے، دوسروں کی حرمتیں پامال کرتا ہے، ضد اور ہٹ دھرمی پر تل جاتا ہے، اس میں تکبر اور نخوت جیسے شیاطین ابھر آتے ہیں، الغرض وہ آپے سے باہر ہو کر لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی کا مصداق بن جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں حتی الوسع اپنے حق کی خاطر بھی جھگڑا کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے، جیسا کہ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: أَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَاِنْ کَانَ مُحِقًّا۔ (ابوداود)… میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دیا۔
جھگڑالوسے اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ نفرت فرماتے ہیںاور اگر غور کیاجائے تو لڑائی جھگڑے میں اتنی بڑی قباحتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی اللہ کا محبوب نہیں ٹھہر سکتا:
۱۔ جھگڑا لو شخص اپنی اصلیت و اوقات پر نظر نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پانی کی بوندسے اسے خوبصورت وجود عطا کرتے ہوئے عقلِ سلیم جیسی عظیم نعمت سے ہمکنار فرمایا، اس قدر عظیم احسان کے باوجود اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی ،تعصب اور باہم دست و گریبان ہونے سے باز نہ آئے اور کبرو نخوت کا شکار رہے تو وہ کبھی بھی اللہ کا محبوب نہیں بن سکتا۔
۲۔ لڑائی جھگڑا ایک ایسا گناہ ہے جس میں کئی گناہ شامل ہوجاتے ہیں، مثلاً ہاتھ اور زبان کا ناروا استعمال، بغض،حسد، تہمت اور گالم گلوچ وغیرہ ۔غرض کہ آدمی لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے، ایمان و اسلام کی تمام اقدار کھو دیتا ہے ،اور فسق و فجور تک پہنچ جاتا ہے۔ جس دل میںایمان کی رتی ہو وہ شخص ضدی، ہٹ دھرم اور جھگڑالونہیں ہوتا۔ نیز جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے اُس پر کسی وقت بھی اپنا عذاب نازل فرمادیتے ہیں۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو طلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کو اس مقام پر ذلیل کرتا ہے، جہاں اس کی حرمت پامال ہو جاتی ہے اور اس کی عزت میں کمی آجاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس مقام پر ذلیل کرتاہے، جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرتاہے، جو آدمی ایسے مقام پر اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا ہے، جہاں اس کی عزت کم ہو رہی ہوتی ہے اور اس کی حرمت کو پامال کیا جا رہا ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس آدمی کی اس مقام پر مدد کرے گا، جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرے گا۔
Takhreej
(۹۷۸۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃیحییٰ بن سلیم بن زید، أخرجہ ابوداود: ۴۸۸۴ (انظر: ۱۶۳۶۸)
۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان (کی غیبتیا اس کی توہینیا اس کو اذیت پہنچا کر) کوئی لقمہ کھایا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی کی طرح کا لقمہ جہنم سے کھلائے گا، جس نے کسی مسلمان (کی اہانت کرنے کا) لباس پہنا، اللہ تعالیٰاس کو اسی کی مثل کا لباس جہنم سے پہنائے گا اور جو آدمی کسی آدمی کی وجہ سے شہرت والے مقام پر کھڑا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت والے دن شہرت کے مقام پر کھڑا کریں گے۔
فوائد:… ابن اثیر نے النھایۃ میں پہلے دو جملوں کا مفہوم یہ بیان کیا: ایک آدمی کسی کا دوست بنتا ہے، پھر وہ اس کے دشمن کے پاس جا کر اسی دوست پر عیب جوئی کرتا ہے، تاکہ وہ اس بنا پر اس کو کوئی انعام وغیرہ دے کر دنیوی فائدہ پہنچائے۔ جو آدمی کسی کی وجہ سے شہرت والے مقام پر کھڑا ہو، اس کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی مال و منال اور جاہ و حشمت والے لوگوںمیں کوئی مقام بنا کر تقوی و صلاحیت کا اظہار کرے، تاکہ اسے بھی مال مل جائے اور اس کا مرتبہ بھی بلند ہو۔
۔ سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو نقصان پہنچایا، اللہ تعالیٰ اس کو نقصان پہنچائے گا اور جس نے کسی پر مشقت ڈالی، اللہ تعالیٰ اس پر مشقت ڈالے گا۔
Takhreej
(۹۷۹۱) تخریج: حدیث حسن بشواھدہ، أخرجہ ابوداود: ۳۶۳۵، وابن ماجہ: ۲۳۴۲ (انظر: ۱۵۷۵۵)
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم رضی اللہ عنہ ایسی قوم کے پاس آئے جو ننگی تلوار لے دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر لعنت کرے جو اس طرح کرتا ہے، کیا میں نے تم کو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تلوار ننگی کر کے اس کو دیکھے اور پھر وہ دوسرے کو پکڑانا چاہے تو اس کو چاہیے کہ اس کو کسی چیز میں ڈھانک کر دے۔
۔ عبد الرحمن بن لیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صحابۂ کرام نے ہم کو بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، ایک آدمی سو گیا، کچھ ساتھی اس کی طرف گئے اور اس کے تیر پکڑ لیے، جب وہ بیدار ہوا تو گھبرا گیا، لوگ ہنس پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیوں ہنس رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی کوئی بات نہیں ہے، بس ہم نے اس کے تیر پکڑ لیے تو وہ گھبرا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مسلمان کو گھبرا دے۔
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَأْخُذَنَّ أَحَدُکُمْ مَتَاعَ أَخِیہِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِیہِ فَلْیَرُدَّہَا۔)) … کوئی آدمی ہر گز اپنے بھائی کا سامان نہ اٹھائے، نہ ہنسی مذاق میں اور نہ حقیقت میں سچے طور پر، جس نے اپنے بھائی کی لاٹھی بھی لی ہے، تو وہ اسے واپس کر دے۔ (ابوداود: ۵۰۰۳، ترمذی: ۲۱۶۰)
مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو انتہائی محترام و محفوظ چیزیں ہیں، ہنسی مذاق میں بھی کسی کی ہتک کر دینایا مال ہڑپ کر لینا حرام ہے۔
آج کل تو لوگ جان بوجھ پہلے کسی کی چیز چرا لیتے ہیں، اور پھر ملنے کی خوشی میں اس پر کچھ کھلانے پلانے کا جرمانہ ڈال دیتے ہیں، ایسا کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں کو نہ تکلیف دو، نہ ان کو عار دلاؤ اور نہ ان کے عیوب تلاش کرو، کیونکہ جس نے اپنے بھائی کا عیب تلاش کیا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے پیچھے پڑ جائے گا حتی کہ وہ اس کو اس کے گھر کے اندر ذلیل کر دے گا۔
Takhreej
(۹۷۹۴) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۲۴۰۲)
Explanation
فوائد:… اللہ اکبر، کتنی حرمت ہے صاحب ِ اسلام کی، کاش ہمارا مزاج یہ بن جاتا کہ ہم اپنی اصلاح کرتے اور دوسروں کے مثبت پہلو دیکھ کر ان کی قدر کرتے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی تیری اجازت کے بغیر تجھ پر جھانکتا ہے اور تو اس کو کنکری مار کر اس کی آنکھ کو پھوڑ دیتا ہے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کے لیے دیت ہو گی نہ قصاص۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھانکنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھلکا لے کر اس کی طرف جھکے، لیکن وہ پیچھے ہٹ گیا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدگمانی سے بچو، پس بیشک بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے، جاسوسی نہ کرو، ٹوہ میں نہ لگ جاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، مقابلہ بازی میں نہ پڑو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائیبن جاؤ۔
Takhreej
(۹۷۹۸) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۰۰۷۸)
Explanation
فوائد:… مسلمانوں اور مومنوں کا اللہ تعالیٰ نے ایک ہی رشتہ بیان کیا ہے کہ وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا یہ بھائی چارہ قائم رہنا چاہیے اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دوسرے مسلمان کا خیر خواہ بنے اور اس کے لیے دل میں وسعت پیدا کرے۔
فوائد:… مسلمان بھائیوں کے متعلق خواہ مخواہ برے گمان رکھنا اور اس پر اپنے معاملات کی بنیاد رکھنا گناہ کی بات ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان از خود تہمت اور شبہے کے مواقع سے دور رہے اور کسی کو برا گمان کا موقع نہ دے۔