TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Book 163 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 163 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 198 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

198 Hadith · 23 Chapters
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
۔ (۹۸۰۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا رَاَیْتَ اللّٰہَ یُعْطِی الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْیَا عَلٰی مَعَاصِیْہِ مَا یُحِبُّ فَاِنّمَا ھُوَ اسْتِدْرَاجٌ، ثُمَّ تَلَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ، حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَا اُوتُوْا اَخَذْنَاھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَاھُمْ مُبْلِسُوْنَ۔} (مسند احمد: ۱۷۴۴۴)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آپ دیکھیںکہ ایک آدمی کو اس کی برائیوں کے باوجود دنیا میں رزق دیا جا رہا ہے تو (سمجھ لیں کہ) اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جارہی ہے، جس کا تذکرہ اس آیت میں ہے: پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کر دیے،یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ (سورۂ انعام: ۴۴)۔
Takhreej
(۹۸۰۰) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۱۷۳۱۱)
Explanation
فوائد:… ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس حدیث کی روشنی میں اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی قابل قدر نعمتیں اس کے لیے وبال کے اسباب پیدا کر دیں۔ صرف مال و دولت سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا پتہ نہیں چلتا، بلکہ اعمالِ صالحہ سے اس چیزکا اندازہ ہوتا ہے۔
9800
Sahih
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
۔ (۹۸۰۱)۔ عَنِ ابْنِ حَصْبَۃَ اَوْ اَبِی حَصْبَۃَ، عَنْ رَجُلٍ شَھِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ فَقَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ مَاالصُّعْلُوْکُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لَیْسَ لَہُ مَالٌ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الصُّعْلُوْکُ الّذِیْ لَہُ مَالٌ فَمَاتَ، وَلَمْ یُقَدِّمُ مِنْہُ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۰۳)
۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔
Takhreej
(۹۸۰۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی حصبۃ او ابن حصبۃ، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۳۳۴۱ (انظر: ۲۳۱۱۵)
9801
Zaeef
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
۔ (۹۸۰۲)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَتَّخِذُ اَحَدُکُمُ السَّائِمَۃَ، فَیَشْھَدُ الصَّلَاۃَ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَتَتَعَذَرُّ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ، فَیَقُوْلُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِیْ مَکَانًا ھُوَ اَکْلَاُ مِنْ ھٰذَا، فَیَتَحَوَّلُ وَلَا یَشْھَدُ اِلَّا الْجُمُعَۃَ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ فیَقُوْلُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِیْ مَکَانًا ھُوَ اَکْلَاُ مِنْ ھٰذَا فَیَتَحَوَّلُ فَـلَا یَشْھَدُ الْجُمُعَۃَ وَلَا الْجَمَاعَۃَ، فَیُطْبَعُ عَلٰی قَلْبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۰۷۸)
۔ سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی چرنے والے مویشی پالتاہے اور نماز باجماعت میں حاضر ہوتا ہے، پھر اس کے مویشی اس کے لیے مشکل پیدا کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے: اگر میں اپنے مویشیوں کے لیے زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے چلا جاتا ہے اور دور ہو جانے کی وجہ سے صرف نمازِ جمعہ میں حاضر ہوتا ہے، لیکن اس مقام پر بھی اس کے مویشی اس کے لیے مشقت پیدا کر دیتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے: اگر میں اس مقام کی بہ نسبت زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے بھی منتقل ہو جاتا اور اتنا دور ہو جاتا ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے نہیں آتا اور نہ جماعت میں حاضر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔
Takhreej
(۹۸۰۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عمر مولی غفرۃ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۲۲۹، ۳۲۳۰ (انظر: ۲۳۶۷۸)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ بات درست ہے کہ جوں جوں مال بڑھتا ہے، آدمی توں توں خیر سے دور ہوتا رہتا ہے ، اکثریت کا حال یہی ہے، الا ما شاء اللہ۔
9802
Zaeef
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
۔ (۹۸۰۳)۔ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یُوْشِکُ اَنْ یَغْلِبَ عَلَی الدُّنْیَا لُکْعُ بْنُ لُکَعٍ، وَاَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ بَیْنَ کَرِیْمَتَیْنِ، وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۵۱)
۔ ایک صحابی ٔرسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ دنیا پر کوئی انتہائی کمینہ بن کمینہ آدمی غالب آجائے، اور اس وقت لوگوں میں افضل وہ مومن ہو گا، جو دو کریموں کے درمیان ہو گا ۔
Takhreej
(۹۸۰۳) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۲۰۵۱ (انظر: ۲۳۶۵۱)
Explanation
فوائد:… لکع بن لکع (کمینہ بن کمینہ) سے مراد وہ شخص ہے، جو ردی اور گھٹیا نسب والا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایسا شخص ہو جس کا نسب غیر معروف ہو اور لوگ اس کی تعریف نہ کرتے ہوں۔ دو کریموں سے کیا مراد ہے؟ (۱)اس مومن کے ماں باپ کا مسلمان ہونا، یا (۲) اس کے باپ اور بیٹے کا مسلمان ہونا ہے، یا (۳) دو کریموں سے مراد دو عمدہ قسم کے گھوڑے ہیں، جن پر وہ مومن سوار ہو کر جہاد کرے گا۔ پہلے دونوں معنوں میں کریم سے مراد گناہ کی پلیدی سے یا کفر و شرک کی نجاست سے پاک رہنے والا ہے۔
9803
Sahih
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
۔ (۹۸۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَنَّ مُوْسٰی قَالَ: اَیْ رَبِّ! عَبْدُکَ الْکَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا، قَالَ: فَیُفْتَحُ لَہُ بَابٌ مِنَ النَّارِ، فَیُقَالُ: یَا مُوْسٰی ھٰذَا مَا اَعْدَدْتُ لَہُ، فَقَالَ مُوْسٰی: اَیْ رَبِّ! وَعِزَّتِکَ وَجَلَالِکَ! لَوْ کَانَتْ لَہُ الدُّنْیَا مُنْذُ خَلَقْتَہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَکَانَ ھٰذَا مَصِیْرَہُ کَأَنْ لَّمْ یَرَ خَیْرًا قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیرا فلاں بندہ کافر ہے، لیکن تو دنیا میں اس کو وسعت عطا کر رہا ہے، اتنے میں جہنم سے ایک دروازہ کھولا گیا اور کہا گیا: اے موسی! یہ ٹھکانہ ہے، جو میں نے اس کے لیے تیارکر رکھا ہے، موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت کی قسم اور تیرے جلال کی قسم! جب سے تو نے اس بندے کو پیدا کیا، اگر اس وقت سے قیامت کے دن تک ساری دنیا اس بندے کو مل جائے اور پھر اس کا ٹھکانہ یہ ہو تو گویا کہ اس بندے نے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔
Takhreej
(۹۸۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، ولضعف دراج فی روایتہ عن ابی الھیثم (انظر: ۱۱۷۶۷)
9804
Zaeef
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
۔ (۹۸۰۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلَکَ المُثْرُوْنَ۔))، قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: ((ھَلَکَ الْمُثْرُوْنَ۔)) قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: ((ھَلَکَ الْمُثْرُوْنَ۔)) قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: حَتّٰی خِفْنَا اَنْ یَکُوْنَ قَدْ وَجَبَتْ، فَقَالَ: اِلَّا مَنْ قَالَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَقَلِیْلٌ مَا ھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۱۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مال دار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: مالدار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: مال دار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ بالآخر ہم ڈر گئے کہ ایسے لگتا ہے کہ یہ چیز تو واجب ہو چکی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مگر وہ جس نے اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کیا، جبکہ ایسا کرنے والے کم ہیں۔
Takhreej
(۹۸۰۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ مختصرا: ۴۱۲۹ (انظر: ۱۱۴۹۱)
Explanation
فوائد:… مال داروں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کثیر مقدار میں صدقہ کریں، اس ضمن میں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوانح عمری لائق مطالعہ ہے۔
9805
Sahih
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
۔ (۹۸۰۶)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُکَثِّرِیْنَ ھُمُ الْاَرْزَلُوْنَ (وَفِیْ لَفْظٍ: ھُمُ الْاَقَلُّوْنَ) اِلَّا مَنْ قَالَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقِیْلَ مَاھُمْ) قَالَ: کَامِلٌ بِیَـدِہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ۔ (مسند احمد: ۸۳۰۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے سب سے زیادہ ذلیل ہوں گے (یا ایک روایت کے مطابق) کم عمل والے ہوں گے، مگر وہ جو اس طرح، اس طرح اور اس طرح کرتا ہے۔ کسی نے کہا: وہ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کامل راوی نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا کہ وہ مال دائیں طرف، بائیں طرف اور اپنے سامنے ڈالتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۰۶) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۸۳۲۳)
9806
Sahih
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
۔ (۹۸۰۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَااَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْفَقْرَ، وَلَکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ التَّکَاثُرَ، وَمَا اَخْشٰی الْخَطَاَ، وَلَکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْعَمَـدَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تم پر فقیری کا ڈر نہیں ہے، بلکہ کثرت کی طلب کا ڈر ہے، اور مجھے بغیر ارادے کے غلطی کر جانے کا ڈر نہیں ہے، بلکہ تمہارے بارے میں جان بوجھ کر نافرمانی کرنے کا ڈر ہے۔
Takhreej
(۹۸۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الحاکم: ۲/۵۳۴، وابن حبان: ۳۲۲۲ (انظر: ۸۰۷۴)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ فقر کی مضرّت ، غِنٰی کی مضرّ ت سے کم ہے، کیونکہ فقر کی تکلیف کا تعلق دنیا سے ہے اور غِنٰی اکثر و بیشتر دین کو نقصان پہنچاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {کَلَّا ٓ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی۔ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی} … ہر گز نہیں، بے شک انسان یقینا حد سے نکل جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی وہ ہوگیا ہے۔ (سورۂ علق: ۶، ۷)
9807
Sahih
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
۔ (۹۸۰۸)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْاَخْرَمِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَتَّخِذُوْا الضَّیْعَۃَ فَتَرْغَبُوْا فِیْ الدُّنْیَا۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَبِرَاذَانَ مَابِرَاذَانَ! وَبِالْمَدِیْنَۃِ مَابِالْمَدِیْنَۃِ! (مسند احمد: ۴۰۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاگیر بنانے کا اہتمام نہ کرو، وگرنہ دنیا کی رغبت میں پڑ جاؤ گے۔ پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: براذان، کیا ہے براذان؟ مدینہ، کیا ہے مدینہ؟
Takhreej
(۹۸۰۸) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابویعلی: ۵۲۰۰، وابن حبان: ۷۱۰، وابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۲۴۱ (انظر: ۴۰۴۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ کوئی مسلمان مال و دولت کی کثرت کی خاطر اس قدر مصروف نہ ہو جائے کہ امورِ دین سے ہی غافل ہو جائے ، جیسا کہ اکثر مال داروں کو دیکھا گیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حدیث کے آخر میں یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ انھوں نے خود تو دو جائدادیں بنا لی ہیں، ایک مدینہ میں ہے اور ایک براذان ہے۔
9808
Sahih
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
۔ (۹۸۰۹)۔ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِی التَّیَّاحِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ طَیْئٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: نَھَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ التَّبَقُّرِ فِیْ الْاَھْلِ وَالْمَالِ، فَقَالَ اَبُوْحَمْزۃَ وَکَانَ جَالِسًا عِنْدَہُ: نَعَمْ، حَدَّثَنِیْ اَخْرَمُ الطَّائِیُّ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ،عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: فَکَیْفَ بِاَھْلِ بَرَاذَانَ، وَاَھْلٍ بِالْمَدِیْنَۃِ، وَاَھْلٍ بِکَذَا قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ لِاَبِی التَّیَّاحِ، مَاالتَّبَقُّرُ؟ قَالَ: الْـکَـْثرَۃُ۔ (مسند احمد: ۴۱۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو اہل و مال میں کثرت سے منع فرمایا۔ ابو حمزہ، جو کہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نے کہا: جی ہاں اوراخرم طائی اپنے باپ سے،انھوں نے سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا، پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خود کہا: کیا بنے گا اہل براذان کا اور اہل مدینہ کا! امام شعبہ نے کہا: میں نے ابو تیاح سے کہا: تَبَقّر سے کیا مراد ہے ؟ انھوں نے کہا: کثرت۔
Takhreej
(۹۸۰۹) تخریج: ھذا الحدیث لہ اسنادان، وکلاھما ضعیف، علتھما الاضطراب والجھالۃ، أخرجہ الطیالسی: ۳۸۰ (انظر: ۴۱۸۱)
9809
Zaeef
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
۔ (۹۸۱۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، اَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ اَخْبَرَہُ، اَنَّ عَمْرَوبْنَ عَوْفٍ، وَھُوَ حلِیْفُ بَنِیْ عَامِرٍ بْنِ لُؤَیٍّ، وَکَانَ شَھِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخْبَرَہُ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ اَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ اِلَی اْلبَحْرَیْنِ،یَاْتِیْ بِجِزْیَتِھَا، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھُوَ صَالَحَ اَھْلَ الْبَحْرَیْنِوَاَمَّرَ عَلَیْھِمُ الْعَلائَ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ، فَقَدِمَ اَبُوْ عُبَیْدَۃَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَیْنِ، فَسَمِعَتِ الْاَنْصَارُ بِقُدُوْمِہِ، فَوَافَتْ صَلَاۃَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْفَجْرِ انْصَرَفَ، فَتَعَرَّضُوْا لَہُ، فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ رَآھُمْ، فَقَالَ: ((اَظُنُّکُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ اَنَّ اَبَا عُبَیْدَۃَ قَدْ جَائَ، وَجَائَ بِشْیْئٍ؟)) قَالُوْا :اَجَلْ یَارَسُوْلُ اللہ! قَالَ: ((فَاَبْشِرُوْا، وَاَمِّلُوْا مَایَسُرُّکُمْ، فَوَاللّٰہِ! مَا الْفَقْرَ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ، وَلٰکِنِّیْ اَخْشٰی اَنْ تُبْسَطَ الدُّنْیَا عَلَیْکُمْ کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، فَتَافَسُوْھَا کَمَا تَنَافَسُوْھَا، وَتُلْھِیْکُمْ کَمَا اَلْھَتْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۶۶)
۔ بنو عامر بن لؤی کے حلیف اور غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے سیدنا عمرو بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کی طرف جزیہ لینے کے لیے بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل بحرین سے مصالحت کر لی تھی اور سیدنا علاء بن حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کا امیر بنایا تھا، جب سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مال لے کر بحرین سے واپس آئے اور انصار کو ان کے آنے کا پتہ چلا تو وہ نمازِ فجر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے تو انصار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درپے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم کو پتہ چل گیا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لے کر واپس آ گئے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوش ہو جائے اور اس چیز کی امید رکھو جو تم کو خوش کرنے والے والی ہے، اللہ قسم کی ہے، مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا کوئی ڈر نہیں ہے، بلکہ مجھے خوف یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کو تم پر فراخ کر دیا جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کی گئی اور پھر تم اس میں اس طرح پڑ جاؤ، جیسے وہ لوگ پڑ گئے تھے اور پھر وہ تم کو اس طرح غافل کر دے، جیسے ان لوگوں کو غافل کر دیا تھا۔
Takhreej
(۹۸۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۶۱ (انظر: ۱۷۲۳۴)
Explanation
فوائد:… کوئی شک نہیں ہے کہ دنیوی مال و دولت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، لیکن اکثر لوگوں کو اس نعمت نے دھوکہ دیا ہے، لیکن سرمایہ دار اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ملاحظہ ہوں احادیث نمبر (۹۲۶۳، ۹۲۷۵)۔
9810
Sahih
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۱۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَسْاَلُہُ، فَجَعَلَ یَنْظُرُ اِلٰی رَاْسِہِ مَرَّۃً وَاِلٰی رِجْلَیْہِ اُخْرٰی، ھَلْ یَرٰی عَلَیْہِ مِنَ الْبُؤْسِ شَیْئًا ، ثُمَّ قَالَ لَہُ عُمَرُ:کَمْ مَالُکَ؟ قَالَ: اَرْبَعُوْنَ مِنَ الْاِبِلِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، لَوْکَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَھَبٍ لَابْتَغِیَ الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَاُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ، فَقَالَ عُمَرَ: مَاھٰذَا؟ فَقُلْتُ: ھٰکَذَا اَقْرَاَنِیْھَا اُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ، قَالَ: فَمُرْ بِنَا اِلَیْہِ قَالَ: فَجَائَ اِلٰی اُبَيٍّ، فَقَالَ: مایَقُوْلُ ھٰذَا؟ قَالَ اُبَيٌّ: ھٰکَذَا اَقْرَاَنِیْھَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَفَاُثْبِتُھَا؟ قَالَ: فَاَثْبِتْھَا۔ (مسند احمد: ۲۱۴۲۸)
۔ عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی سوال کرنے کے لیے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، آپ کبھی اس کے سر کی طرف دیکھتے اور کبھی پاؤں کی طرف، آپ اس پر غربت کی کوئی علامت دیکھنا چاہتے تھے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس آدمی سے کہا: تیرے پاس کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: جی چالیس اونٹ ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا اور مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کے پیٹ کو بھر دیتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ تم کیا بیان کر رہے ہو؟ میں نے کہا: سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے ایسے ہی پڑھایا ہے، انھوں نے کہا: اس کو ہمارے پاس آنے کا حکم دو، پس سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: تمہارے حوالے سے یہ کیا کہتے ہیں؟ سیدناابی نے کہا: جی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایسے ہی پڑھایا تھا، انھوں نے کہا: تو کیا میں ان الفاظ کو ثابت کر دوں؟ انھوںنے کہا: جی کر دو۔
Takhreej
(۹۸۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۲۱۱۱۱)
9811
Sahih
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۱۲)۔ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَائً یَقُوْلُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ : قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اَنَّ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیًا مَالًا، لَاَحَبَّ اَنَّ لَہُ اِلَیْہِ مِثْلَہُ، وَلَا یَمْلَاُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ، وَاللّٰہُ یَتُوْبُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَـلَا اَدْرِیْ اَمِنَ الْقُرْآنِ ھُوَ اَمْ لَا؟ (مسند احمد: ۳۵۰۱)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کو اس طرح کی ایک اور وادی مل جائے اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کے نفس کو بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ آیایہ قرآن مجید کا حصہ ہے یا نہیں۔
Takhreej
(۹۸۱۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۳۶، ۶۴۳۷، ومسلم: ۱۰۴۹ (انظر: ۳۵۰۱)
9812
Sahih
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۱۳)۔ عَنْ مَسْرُوْقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ شَیْئًا اِذَا دَخَلَ الْبَیْتَ؟ قَالَتْ: کَانَ اِذَا دَخَلَ الْبَیْتَ، تَمَثَّلَ ((لَوْ کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ، لََابْتَغٰی وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَایَمْلَاُ فَمَہُ اِلَّا التُّرْابُ، وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ اِلَّا لِاِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ، وَیَتُوْبُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۸۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گھر تشریف لاتے تو یہ بات بیان فرماتے: اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، مٹی ہی ہے، جو اس کے منہ کو بھر سکتی ہے، اور ہم نے مال تو اس لیے بنایا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے کی توبہ کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۱۳) تخریج: ضعیف الا قولہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَوْ کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ، لََابْتَغٰی وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَاُ فَمَہُ اِلَّا التُّرْابُ فانہ صحیح بالشواھد، مجالد ضعیف، أخرجہ البیھقی بی شعب الایمان : ۱۰۲۸۰، والبزار فی مسندہ : ۳۶۴۰ (انظر: ۲۴۲۷۶)
9813
Zaeef
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۱۴)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ اَسْمَعُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فَـلَا اَدْرِیْ اَشَیْئٌ نَزَلَ عَلَیْہِ اَمْ شَیْئٌیَقُوْلُہ؟ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((لَوْکَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ، لَابْتَغٰی لَھُمَا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَائُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۵۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنتا تھا، لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ آیایہ چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئی ہے یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی طرف کہہ رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کو تلاش کرے گا، اور مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والی کی توبہ قبول کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۰۴۸(انظر: ۱۲۲۲۸)
9814
Sahih
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَوْ کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ نَخْلٍ تَمَنّٰی مِثْلَہُ، ثُمَّ تَمَنّٰی مِثْلَہُ حَتّٰییَتَمَنّٰی اَوْدِیَۃً، وَلَا یَمْلَاُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۲۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم کے پاس کھجور کے درختوں کی ایک وادی ہو تو وہ اس طرح کی ایک اور وادی کی تمنا کرے گا، پھر ایک اور وادی کی خواہش کرنے لگے گا، یہاں تک کہ اس میں کئی وادیوں کی خواہش پیدا ہو جائے گی، بس مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے۔
Takhreej
(۹۸۱۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۳۶۳۶، وابویعلی: ۱۸۹۹، وابن حبان: ۳۲۳۲(انظر: ۱۴۶۶۵)
9815
Sahih
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۱۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَقَدْ کُنَّا نَقْرَاُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَوْ کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَھَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی اِلَیْھِمَا آخَرَ، وَلَا یَمْلَاُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ اِلَّا التُّرَابُ، ویَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۹۵)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں اس چیز کی بھی تلاوت کرتے تھے: اگر ابن آدم کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش شروع کر دے گا، بس مٹی ہی ہے جو ابن آدم کا پیٹ بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۱۶) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۵۰۳۲(انظر: ۱۹۲۸۰)
Explanation
فوائد:… انسان ہمیشہ مزید کی تلاش میں رہتا ہے اور قناعت نہیں کرتا، اگر دنیوی وسیع رزق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خوف اور پرہیزگاری ملی ہوئی ہو اور مال و دولت کے شرعی تقاضوں کو پورا کیا جا رہا ہو تو پھر غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۹۳۳۱)۔
9816
Sahih
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۱۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْشَیْخُیَکْبَرُ، وَیَضْعَفُ جِسْمُہُ، وَقَلْبُہُ شَابٌّ عَلَی حُبِّ اثْنَیْنِ، طُوْلِ العُمُرِ وَالْمَالِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۰۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بزرگ عمر رسیدہ ہو رہا ہوتا ہے اور اس کا جسم کمزور ہو رہا ہوتا ہے، لیکن ابھی تک اس کا دل دو چیزوں کی محبت کے سلسلے میں جوان ہوتا ہے، لمبی عمر اور مال۔
Takhreej
(۹۸۱۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ بنحوہ ومختصرا منہ البخاری: ۶۴۲۰، ومسلم: ۱۰۴۶ (انظر: ۸۴۲۲)
9817
Sahih
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۱۸)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَھْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقٰی مِنْہُ اثْنَتَانِ، اَلْحِرْصُ، وَالْاَمَلُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۶۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم ادھیڑ عمری میں پہنچ جاتا ہے اور ابھی تک اس کی دو چیزیں باقی ہوتی ہیں، حرص اور امید۔
Takhreej
(۹۸۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۲۱، ومسلم: ۱۰۴۷ (انظر: ۱۲۱۴۲)
Explanation
فوائد:… ادھیڑ عمری میں بھییہ شعور نہیں آتا کہ دنیائے فانی سے روانگی کا وقت بالکل قریب آ چکا ہے، لہٰذا ذکر و اذکار اور استغفار میں مشغول ہو جانا چاہیے، بس دنیا کی طرف سے ملنے والا پروٹوکول اتنا لذیذ ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں بھی اس کا چسقا نہیں بھول پاتا۔
9818
Sahih
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
۔ (۹۸۱۹)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَاذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِیْ غَنَمٍ اَفَسَدَلَھَا، مِنْ حِرْصِ الْمَرْئِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِیْنِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۷۶)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر دو بھیڑیئے بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں تو وہ ان کا اتنا نقصان نہیں کرتے، جتنا بندے کے مال اور شرف پر حریص ہونے سے اس کے دین کا نقصان ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۱۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۳۷۶(انظر: ۱۵۷۸۴)
Explanation
فوائد:… مال اور شرف کی حرص بندے کے دین میں فساد برپا کر دیتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ جائز طریقے سے دنیوی مال و دولت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اپنے اندر اتنی عاجزی و انکساری پیدا کر لے کہ وہ اس چیز کا طلبگار نہ رہے کہ لوگ اس کی تعظیم کریں۔
9819
Sahih

Chapters

23
01
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
14 Hadith
02
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
9 Hadith
03
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
04
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
10 Hadith
05
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
7 Hadith
06
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
11 Hadith
07
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
08
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
09
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
13 Hadith
10
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
11
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
11 Hadith
12
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
13
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
14 Hadith
14
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
15
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
11 Hadith
16
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
13 Hadith
17
موت اور امید کا بیان
5 Hadith
18
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
5 Hadith
19
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
7 Hadith
20
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
21
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
22
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
23
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.