۔ (۱۰۴۶۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وُلِدَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ وَاسْتُنْبِیئَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَتُوُفِّیَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَخَرَجَ مُھَاجِرًا مِنْ مَکَّۃَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَقَدِمَ الْمَدِیْنَۃَیَوْمَ الْإِثْنَیْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار کے دن پیدا ہوئے، سوموار کے دن نبوت ملی اور سوموار کو ہی وفات پائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے سوموار کو نکلے اور سوموار کو ہی مدینہ منورہ پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوموار کے دن ہیحجرِ اسود کو اٹھایا تھا۔
Takhreej
(۱۰۴۶۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، أخرجہ الطبرانی۱۲۸۹۴، والبیھقی فی دلائل النبوۃ : ۷/ ۲۳۳ (انظر: ۲۵۰۶)
Explanation
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت سوموار کو ہوئی،یہ متفق علیہ حقیقت ہے، البتہ قمری مہینے کی تاریخ کے بارے میں اختلاف ہے، کئی اقوال مذکور ہیں، ان میں دو اقوال درج ذیل ہیں:
۱… ربیع الاول کی (۹) تاریخ
ابن عبد البر نے نقل کیا کہ مؤرخین نے اسی قول کو صحیح قرار دیا، محمد بن موسی خوارزمی کے نزدیکیہی قطعی اور یقینی قول ہے، ابن حزم نے اسی کو ترجیح دی اور ابو خطاب بن دحیہ نے اپنی کتاب التنویر فی مولد البشیر النذیر میں اسی رائے کو اختیار کیا۔
۲… ربیع الاول کی (۱۲) تاریخ
یہ ابن اسحاق کی رائے ہے۔
پہلا قول ہی راجح ہے اور یہ وہی سال تھا، جس میں ابرہہ نے مکے پر حملہ کیا تھا، جس کو عام الفیل کہتے ہیں، اس روز اپریل (571ئ) کی (22) تاریخ تھی۔
10465
Zaeef