TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات

Chapter 45 of اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 45 of 51 · 3 Hadith
۔ (۱۰۶۱۶)۔ عَنْ أبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: اشْتَرٰی أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ عَازِبٍ سَرْجًا بِثَلَاثَۃَ عَشَرَ دِرْھَمًا، قَالَ فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ لِعَازِبٍ: مُرِ الْبَرَائَ فَلْیَحْمِلْہُ اِلٰی مَنْزِلِیْ، فَقَالَ: لَا، حَتّٰی تُحَدِّثَنَا کَیْفَ صَنَعْتَ حِیْنَ خرَجَ َرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنْتَ مَعَہُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ: خَرَجْنَا فَأَدْلَجَنَا فَأَحْثَثْنَا یَوْمَنَا وَلَیْلَتَنَا حَتّٰی أَظْھَرْنَا وَقَامَ قَائِمُ الظَّھِیْرَۃِ فَضَرَبْتُ بِبَصَرِیْ ھَلْ أَرٰی ظِلًّا نَأْوِیْ اِلَیْہِ فَاِذَا أَنَا بِصَخْرَۃٍ فَاَھْوَیْتُ اِلَیْھَا فَاِذَا بَقِیَّۃُ ظِلِّھَا فَسَوَّیْتُہُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفَرَشْتُ لَہُ فَرْوَۃً وَقُلْتُ: اضْطَجِعْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاضْطَجَعَ ثُمَّّ خَرَجْتُ أَنْظُرُ ھَلْ أَرٰی أَحَدًا مِنَ الطَّلَبِ فَاِذَا أَنَا بِرَاعِیْ غَنَمٍ۔ فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ یَا غُلَامُ؟ فَقَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ فَسَمَّاہُ فَعَرَفْتُہُ فَقُلْتُ: ھَلْ فِیْ غَنَمِکَ مِنْ لَبَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: ھَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِیْ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرْتُہُ فَاعْتَقَلَ شَاۃً مِنْھَا ثُمَّّ أَمَرْتُہُ فَنَفَضَ ضَرْعَھَا مِنَ الْغُبَارِ ثُمَّّ أَمَرْتُہُ فَنَفَضَ کَفَّیْہِ مِنَ الْغُبَارِ وَمَعِیَ اِدَاوَۃٌ، عَلٰی فَمِھَا خِرْقَۃٌ فَحَلَبَ لِیْ کُثْبَۃً مِنَ اللَّبَنِ فَصَبَبْتُ یَعْنِی الْمَائَ عَلَی الْقَدَحِ حَتّٰی بَرَدَ أَسْفَلُہُ ثُمَّّ أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَافَیْتُہُ وَقَدِ اسْتَیْقَظَ فَقُلْتُ: اشْرَبْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَشَرِبَ حَتّٰی رَضِیْتُ ثُمَّّ قُلْتُ: أَنَی الرَّحِیْلُ؟ قَالَ: فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ یَطْلُبُوْنَا فَلَمْ یُدْرِکْنَا أَحَدٌ مِنْھُمْ اِلَّا سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلٰی فَرَسٍ لَہُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھٰذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا فَقَالَ: ((لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا)) حَتّٰی اِذَا دَنَا مِنَّا فَکَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُ قَدْرُ رُمْحٍ أَوَ رُمْحَیْنِ أَوَ ثَلَاثَۃٍ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ھٰذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا وَبَکَیْتُ، قَالَ: ((لِمَ تَبْکِیْ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أَمَا وَاللّٰہِ! مَا عَلٰی نَفْسِیْ أَبْکِیْ وَلٰکِنْ أَبْکِیْ عَلَیْکَ، قَالَ: فَدَعَا عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اللّٰھُمَّ اکْفِنَاہُ بِمَا شِئْتَ)) فَسَاخَتْ قَوَائِمُ فَرَسِہِ اِلٰی بَطْنِھَا فِیْ أَرْضٍ صَلْدٍ وَوَثَبَ عَنْھَا وَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ ھٰذَا عَمَلُکَ فَادْعُ اللّٰہَ أَنْ یُنْجِیَنِیْ مِمَّا أَنَا فِیْہِ، فَوَاللّٰہِ! لَأُعَمِّیَنَّ عَلٰی مَنْ وَرَائِیْ مِنَ الطَّلَبِ وَھٰذِہِ کِنَانَتِیْ فَخُذْ مِنْھَا سَھْمًا فَاِنَّکَ سَتَمُرُّ بِاِبِلِیْ وَغَنَمِیْ فِیْ مَوْضِعِ کَذَا وَکَذَا فَخُذْ مِنْھَا حَاجَتَکَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْھَا، قَالَ: وَدَعَا لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُطْلِقَ فَرَجَعَ اِلٰی اَصْحَابِہٖوَمَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ حَتّٰی قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ فَتَلَقَّاہُ النَّاسُ فَخَرَجُوْا فِی الطَّرِیْقِ وَ عَلَی الْاَجَاجِیْرِ فَاشْتَدَّ الْخَدَمُ وَالصِّبْیَانُ فِی الطَّرِیْقِیَقُوْلُوْنَ: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، جَائَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: وَتَنَازَعَ الْقَوْمُ أَیُّھُمْیَنْزِلُ عَلَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنْزِلُ اللَّیْلَۃَ عَلٰی بَنِی النَّجَّارِ اَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لِاُکْرِمَھُمْ بِذٰلِکَ۔)) فَلَمَّا اَصْبَحَ غَدَا حَیْثُ أُمِرَ، قَالَ الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ: اَوَّلُ مَنْ کَانَ قَدِمَ عَلَیْنَا مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ أَخُوْ بَنِیْ عَبْدِ الدَّارِ ثُمَّّ قَدِمَ عَلَیْنَا ابْنُ آَمِّ مَکْتُوْمٍ الْأَعْمٰی أَخُوْ بَنِیْ فِھْرٍ ثُمَّّ قَدِمَ عَلَیْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِیْ عِشْرِیْنَ رَاکِبًا فَقُلْنَا مَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ھُوَ عَلٰی أَثَرِیْ ثُمَّّ قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ مَعَہُ قَالَ الْبَرَائُ: وَلَمْ یَقْدَمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی قَرَأْتُ سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، قَالَ اِسْرائِیْلُ: وَکَانَ الْبَرَائُ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِیْ حَارِثَۃَ۔ (مسند احمد: ۳)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میرے باپ سیدنا عازب سے تیرہ درہم کی ایک زین خریدی، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میرے باپ سے کہا: براء کو کہہ دینا کہ میرے گھر چھوڑ آئے، انھوں نے کہا: جی نہیں، جب تک تم مجھے یہ بیان نہیں کرو گے کہ تم نے اس وقت کیا کیا تھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ سے نکلے تھے اور تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے؟ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم (غار سے) نکلے اور رات کے پہلے حصے میںچلتے رہے، ہم اس رات اور دن کو تیزی سے چلتے رہے، یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیا، میں نے دور دور تک دیکھا کہ آیا کوئی سائے والی جگہ ہے، جس میں سستا سکیں، پس اچانک مجھے ایک چٹان نظر آئی، میں اس کی طرف جھکا، اس کا جو سایہ باقی تھا، اس جگہ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے برابر کیا اور اس پر چمڑا بچھایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ لیٹ جائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لیٹ گئے اور میں وہاں سے نکل پڑا تاکہ دیکھ سکوں کہ آیا کوئی تلاش کرنے والا پہنچ تو نہیں گیا، اچانک میری نظر بکریوں کے ایک چرواہے پر پڑی، میں نے اس سے پوچھا: او لڑکے! تو کس کا چرواہا ہے؟ اس نے کہا: فلاں قریشی کا، اس نے اس کا نام لیا اور میں نے اس کو پہچان لیا، پھر میں نے کہا: کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: کیا تو مجھے دوہ کر دے گا؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس میں نے اس کو حکم دیا، اس نے بکری کی ٹانگوں کو باندھا، پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ تھنوں سے گرد و غبار کو صاف کر دے، پھر میں نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے بھی غبار کو صاف کر دے، میرے پاس ایک برتن تھا، اس پر منہ پر ایک چیتھڑا تھا، پس اس نے میرے لیے تھوڑی مقدار میں دودھ دوہا، پھر میں نے پیالے پر پانی بہایا،یہاں تک کہ اس کے نیچے والا حصہ ٹھنڈا ہو گیا، پھر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس حال میںپایا کہ آپ بیدار ہو چکے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ دودھ نوش فرمائیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیا،یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا، پھر میں نے کہا: کوچ کرنے کا وقت ہو چکا ہے، پس ہم وہاں سے چل پڑے، اُدھر لوگوں نے ہم کو تلاش تو کیا، لیکن صرف سراقہ بن مالک بن جعشم ہم تک پہنچ سکا، وہ گھوڑے پر سوار تھا، جب میں نے اس کو دیکھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تلاش کرنے والا ہم تک پہنچ چکا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پریشان نہ ہو، بیشک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ جب وہ اس قدر ہمارے قریب ہو گیا کہ ایکیا دو یا تین نیزوں کے فاصلے پر تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ متلاشی بالکل ہمارے پاس پہنچ چکا ہے ، ساتھ ہی میں رونے لگ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیوں روتے ہو؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنی ذات کے لیے نہیں، آپ کی ذات کے لیے رو رہا ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر بد دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! اپنی چاہت کے مطابق کسی چیز کے ساتھ اس سے کفایت کر۔ پس اس کے گھوڑے کی ٹانگیں سخت زمین میں پیٹ تک گھس گئیں اور وہ کود کر اس سے پرے ہٹ گیا اور اس نے کہا: اے محمد! میں جانتا ہوں کہ تمہاری کاروائی ہے، اب اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دلا دے، اللہ کی قسم ہے، میں اپنے پیچھے آنے والے متلاشیوں کو تم لوگوں سے اندھا بنا دوں گا، یہ میرا ترکش ہے، اس میں سے ایک تیر آپ لے لیں، کیونکہ آپ عنقریب فلاں جگہ سے گزرنے والے ہیں، وہاں میرے اونٹ اور بکریاں ہیں، (میرے چرواہے کو یہ تیر دکھا کر) وہاں سے اپنی ضرورت کے مطابق جو چاہیں لے لینا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے دعا کی، پس اس کو آزاد کر دیا گیا، پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے چل دیئے، جبکہ میں (ابو بکر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے، پس لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملے اور لوگ راستوں پر اور چھتوں پر موجود تھے اور راستے میں خادموں اور بچوں نے ہجوم کیا ہوا تھا اور وہ کہہ رہے تھے: اللہ اکبر، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آ گئے ہیں، محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہنچ گئے ہیں، اب لوگوں میں یہ اختلاف پیدا ہو گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس کے گھر اتریں گے، اُدھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں آج رات عبد المطلب کے ماموؤں بنو نجار کے پاس اتروں گا، میں ان کو یہ شرف دینا چاہتا ہوں۔ جب صبح ہوئی تو جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حکم ہوا، اس کے مطابق چل پڑے۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمارے پاس سب سے پہلے آنے والے مہاجر بنو عبد الدار کے بھائی سیدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ان کے بعد بنو فہر کے بھائی سیدنا ابن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے، پھر بیس افراد سمیت سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے، ہم نے ان سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا کر رہے ہیں، انھوں نے کہا: وہ میرے پیچھے تشریف لا رہے ہیں، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگئے، جبکہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے ساتھ تھے۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ابھی تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ میں تشریف نہیں لائے تھے کہ میں نے بعض مفصل سورتوں کی تعلیم حاصل کر لی تھی، اسرائیل راوی نے کہا: سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، بنو حارثہ کے انصار میں سے تھے۔
Takhreej
(۱۰۶۱۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۱۵، ۳۶۵۲، ومسلم: ۴/ ۲۳۱۰ (انظر: ۳)
10616
Sahih
۔ (۱۰۶۱۷)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ معْمَرٍ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَأَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَالِکٍ الْمُدْلَجِیُّ وَھُوَ ابْنُ أَخِیْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ اَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ أَنّہُ سَمِعَ سُرَاقَۃَیَقُوْلُ جَائَ نَا رُسُلُ کُفَّارِ قُرَیْشٍیَجْعَلُوْنَ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِیْ أبِیْ بَکْرٍ دِیَّۃَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا لِمَنْ قَتَلَھُمَا أَوَ أَسَرَ ھُمَا فَبَیْنَا أَنَا جَالِسٌ فِیْ مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِیْ بَنِیْ مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْھُمْ حَتّٰی قَامَ عَلَیْنَا فَقَالَ: یَا سُرَاقَۃُ! اِنِّیْ رَأَیْتُ آنِفًا اَسْوِدَۃً بِالسَّاحِلِ اِنِّیْ أَرَاھَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ، قَالَ سُرَاقَۃُ: فَعَرَفْتُ أَنَّھُمْ ھُمْ، فَقُلْتُ: أَنَّھُمْ لَیْسُوْا بِھِمْ وَلٰکِنْ رَأَیْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا، اِنْطَلَقَ آنِفًا قَالَ: ثُمَّّ لَبِثْتُ فِی الْمَجْلِسِ سَاعَۃً حَتّٰی قُمْتُ فَدَخَلْتُ بَیْتِیْ فَأَمَرْتُ جَارِیَتِیْ أَنْ تُخْرِجَ لِیْ فَرَسِیْ وَھِیَ مِنْ وَرَائِ أَکَمَۃٍ فَتَحْبِسَھَا عَلَیَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِیْ فَخَرَجْتُ بِہٖمِنْظَھْرِالبَیْتِ فَخَطَطْتُ بِرُمْحِی الْأَرْضَ وَخَفَضْتُ عَالِیَۃَ الرُّمْحِ حَتّٰی أَتَیْتُ فَرَسِیْ فَرَکِبْتُھَا فَرَفَعْتُھَا تَقَرَّبُ بِیْ حَتّٰی رَأَیْتُ أَسْوِدَتَھُمَا فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْھُمْ حَیْثُیُسْمِعُھُمُ الصَّوْتُ عَثَرَتْ بِیْ فَرَسِیْ فَخَرَرْتُ عَنْھَا فَقُمْتُ فَأَھْوَیْتُ بِیَدَیَّ اِلَی کِنَانَتِیْ فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْھَا الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِھَا اَضُرُّھُمْ اَمْ لَا، فَخَرَجَ الَّذِیْ اَکْرَہُ أَنْ لَا أَضُرَّھُمْ فَرَکِبْتُ فَرَسِیْ وَعَصَیْتُ الْأَزْلَامَ فَرَفَعْتُھَا تَقَرَّبُ بِیْ اِذَا دَنَوْتُ مِنْھُمْ عَثْرَتْ بِیْفَرَسِیْ فَخَرَرْتُ عَنْھَا فَقُمْتُ فَأَھْوَیْتُ بَیَدَیَّ اِلَی کِنَانَتِیْ فَأَخْرَجْتُ الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِھَا فَخَرَجَ الَّذِیْ أَکْرَہُ اَنْ لَا أَضُرَّھُمْ، فَعَصَیْتُ الْأَزْلَامَ وَرَکِبْتُ فَرَسِیْ فَرَفَعْتُھَا تَقَرَّبُ بِیْ حَتّٰی اِذَا سَمِعْتُ قِرَائَۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ لَا یَلْتَفِتُ وَأَبُوْبَکْرٍ یُکْثِرُ الْاِلْتِفَاتَ سَاخَتْ یَدَا فَرَسِیْ فِی الْأَرْضِ حَتّٰی بَلَغَتِ الرُّکْبَتَیْنِ فَخَرَرْتُ عَنْھَا فَزَجَرْتُھَا فَنَھَضَتْ فَلَمْ تَکَدْ تُخْرِجُ یَدَیْھَا فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَۃً اِذْ لَا أَثَرَ بِھَا عُثَانٌٍ سَاطِعٌ فِی السَّمَائِ مِثْلُ الدُّخَانِ، قُلْتُ لِأَبِیْ عَمْرِو بْنِ الْعَلَائِ مَا الْعُثَانُ؟ فَسَکَتَ سَاعَۃً ثُمَّّ قَالَ: ھُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَیْرِ نَارٍ، قَالَ الزُّھْرِیُّ فِیْ حَدِیْثِہِ: فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْاِزْلَامِ فَخَرَجَ الَّذِیْ اَکْرَہُ اَنْ لَا أَضُرَّھُمْ فَنَادَیْتُھُمَا بِالْأَمَانِ فَوَقَفُوْا فَرَکِبْتُ فَرَسِیْ حَتّٰی جِئْتُھُمْ فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ حِیْنَ لَقِیْتُ مَالَقِیْتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْھُمْ أَنّہُ سَیَظْھَرُأَمْرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ لَہُ: اِنَّ قَوْمَکَ قَدْ جَعَلُوْا فِیْکَ الدِّیَّۃَ وَأَخْبَرْتُھُمْ مِنْ أَخْبَارِ سَفَرِھِمْ وَمَا یُرِیْدُ النَّاسُ بِھِمْ وَعَرَضْتُ عَلَیْھِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ یَرْزِئُ وْنِیْ شَیْئًا وَلَمْ یَسْأَلُوْنِیْ اِلَّا أَنْ أَخْفِ عَنَّا فَسَأَلْتُہُ اَنْ یَکْتُبَ لِیْ کِتَابَ مُوَادَعَۃٍ آمَنُ بِہٖ،فَأَمَرَعَامِرَ بْنَ فُھَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَکَتَبَ لِیْ فِیْ رُقْعَۃٍ مِنْ اَدِیْمٍ ثُمَّّ مَضٰی۔ (مسند احمد: ۱۷۷۳۴)
۔ سراقہ بن مالک سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: (جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہجرت کر کے نکل گئے تو) کافروں کے قاصد ہمارے پاس آئے اور انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں ہر ایک کی دیت (سو اونٹ) کے بارے میں بتایا کہ جو ان کو قتل کر کے یا قید کر کے لائے گا، اس کویہ دیت ملے گی، میں اپنی قوم بنو مدلج کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آ کر ہمارے پاس کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے سراقہ! میں نے ابھی ساحل کے پاس کچھ افراد دیکھے ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور اس کے ساتھ ہیں، سراقہ نے کہا: میں پہچان تو گیا کہ یہ وہی ہیں، لیکن میں نے ظاہر یہ کیا کہ یہ افراد وہ لوگ نہیں ہیں، تو نے تو فلاں فلاں کو دیکھا ہے، وہ تھوڑی دیر پہلے جا رہے تھے، میں کچھ دیر تک اسی مجلس میں بیٹھا رہا، پھر وہاں سے کھڑا ہوا، اپنے گھر میں داخل ہوا اور اپنی لونڈی کو حکم دیا کہ وہ میرا گھوڑا نکالے، وہ ٹیلے کے پیچھے تھا، اور میرے آنے تک اس کو روک کر رکھے، اُدھر میں نے اپنے نیزے نکالے اور گھر کے پچھلی طرف سے نکل گیا، میں نے اپنے نیزے سے زمین پر لکیر لگائی اور ان کے اوپر والے حصے زمین کی طرف کر دیئے (تاکہ دور سے دیکھنے والا ان کی چمک کو دیکھ کر معاملے کو تاڑ نہ جائے)، پھر میں گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کو دوڑایا،یہاں تک کہ مجھے وہ وجود نظر آنے لگے، جب میں ان کے اتنے قریب پہنچا کہ میری آواز ان تک پہنچ سکتی تھی تو میرا گھوڑا پھسلا اور میں گر پڑا، میں نے اپنے ہاتھ ترکش میں ڈالے، تیر نکالے اورقسمت آزمائی کی کہ میں ان کو نقصان پہنچا سکتا ہوں یا نہیں، وہ تیر نکلا کہ جس کو میں ناپسند کرتا تھا، یعنی میں ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، لیکن میں گھوڑے پر سوار ہوا اور تیروں کی نافرمانی کی، میں نے پھر گھوڑے کو دوڑایا، جب میں ان کے قریب ہوا تو میرا گھوڑا پھر پھسل پڑا اور میں گر گیا، میں کھڑا ہوا، اپنا ہاتھ ترکش میں ڈالا اور تیر نکال کر قسمت آزمائی کی، پھر وہی تیر نکلا، جس کو میں ناپسند کرتا تھا کہ میں ان کو نقصان نہیں پہنچا سکوں گا، لیکن میں نے پھر تیروں کی نافرمانی کی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کو دوڑایا اور ان کے اتنے قریب ہو گیا کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تلاوت کی آواز سننے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف کوئی توجہ نہ کی، البتہ ابو بکر بار بار میری طرف دیکھتے تھے، جب میں ان کے قریب ہوا تو میرے گھوڑے کی اگلی ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں،یہاں تک کہ اس کے گھٹنوں تک پہنچ گئیں، میں پھر گر پڑا اور گھوڑے کو ڈانٹ ڈپٹ کی، پس وہ کھڑا ہو گیا، لیکن لگتا ایسے تھا وہ اپنی ٹانگیںنہیں نکال سکے گا، جب وہ کھڑا ہو گیا تو اس پر کوئی اثر نہیں تھا، لیکن آگ والے دھویں کی طرح آسمان میں بلند ہونے والا آگ کے بغیر دھواں تھا۔ میں نے ابو عمرو سے پوچھا: عُثَان سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر کہا: اس سے مراد آگے کے بغیر دھواں ہے، امام زہری نے اپنی حدیث میں کہا: سراقہ نے کہا: پس جب میں نے تیروں کے ساتھ قسمت آزمائی کی تو وہ تیر نکلا جس کو میں ناپسند کرتا تھا، یعنی میں ان کو نقصان نہیں پہنچا سکوں گا، پس میں نے ان کو امان کے ساتھ آواز دی، وہ رک گئے، میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور ان کے پاس پہنچ گیا، جس انداز میں مجھے رکنا پڑا، اس سے میرے نفس میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ عنقریب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معاملہ غالب آ جائے گا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: بیشک آپ کی قوم نے آپ کی دیت مقرر کر رکھی ہے، پھر میں نے ان کو سفر کے سارے واقعات بیان کیے اور یہ بھی بتلایا کہ لوگ ان کے بارے میں کیا چاہتے ہیں، پھر میں نے ان پر زادِ راہ اور سامان پیش کیا، لیکن انھوں نے میری کسی چیز میں کمی نہیں کی اور مجھ سے کسی قسم کا سوال نہیں کیا، البتہ اتنا کہا کہ تو نے ہمارے معاملے کو مخفی رکھنا ہے، پھر میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مجھے مصالحت کا پیغام لکھ کر دیں، جس کے ذریعے مجھے امن ملے گا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عامر بن فہیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ میرے لیے چمڑے کے ایک ٹکڑے میں یہ امان لکھ دیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے چل پڑے۔
Takhreej
(۱۰۶۱۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ البخاری: ۳۹۰۶ (انظر: ۱۷۵۹۱)
10617
Sahih
۔ (۱۰۶۱۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَقْبَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَدِیْنَۃِ وَھُوَ مُرْدِفٌ أَبَابَکْرٍ وَأَبُوْبَکْرٍ شَیْخٌیُعْرَفُ وَنَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَابٌّ لَایُعْرَفُ، قَالَ: فَیَلْقَی الرَّجُلُ أَبَا بَکْرٍ فَیَقُوْلُ: یَا أَبَابَکْرٍ! مَنْ ھٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ بَیْنَیَدَیْکَ؟ فَیَقُوْلُ: ھٰذَا الرَّجُلُ یَھْدِیْنِیْ اِلَی السَّبِیْلِ فَیَحْسَبُ الْحَاسِبُ أَنّہُ أَنَّمَا یَھْدِیْہِ اِلَی الطَّرِیْقِ وَاِنَّمَا یَعْنِیْ سَبِیْلَ الْخَیْرِ فَالْتَفَتَ أَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاِذَا ھُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَھُمْ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! ھٰذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا قَالَ: فَالْتَفَتَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اصْرَعْہُ۔)) فَصَرَعَتْہُ فَرَسُہُ ثُمَّّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ قَالَ: ثُمَّّ قَالَ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ! مُرْنِیْ بِمَا شِئْتَ، قَالَ: ((قِفْ مَکَانَکَ، لَاتَتْرُکَنَّ اَحَدًا یَلْحَقُ بِنَا۔)) قَالَ: فکَانَ أَوَّلُ النَّھَارِ جَاھِدًا عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ وَکَانَ آخِرَ النَّھَارِ مَسْلَحَۃً لَہُ قَالَ: فَنَزَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ جَانِبَ الْحَرَّۃِ ثُمَّّ بَعَثَ اِلَی الْأَنْصَارِ فَجَائُ وْا نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلَّمُوْا عَلَیْھِمَا وَقَالُوْا ارْکَبَا آمِنَیْنِ مُطْمَئِنَّیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۳۷)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے، سیدنا ابو بکر بڑی عمر کے تھے، انکو پہنچان لیا جاتا تھا، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نوجوان لگتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں پہچانا جاتا تھا، اس لیے لوگ سیدناابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملتے اور کہتے: یہ آپ کے آگے بیٹھا ہوا آدمی کون ہے؟ وہ کہتے: یہ راستے کی طرف میری رہنمائی کرنے والا آدمی ہے، سائل یہ خیال کرتا کہ وہ ان کا راستہ بتلانے والا ہے، جبکہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مراد خیر و بھلائی والا راستہ تھی، جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پیچھے کو متوجہ ہوئے تو کیا دیکھا کہ ایک گھوڑ سوار ان کو آ ملا ہے، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ ایک گھوڑ سوار ہم تک پہنچ گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! اس کو گرا دے۔ پس اس کے گھوڑے نے اس کو گرا دیا، پھر وہ گھوڑا کھڑا ہو کر ہنہنانے لگا، اس گھوڑ سوار نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ جو چاہتے ہیں، مجھے حکم دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہی کھڑا ہو جا اور کسی کو نہ چھوڑ کہ وہ ہمیں پا سکے۔ یہ شخص دن کے شروع میں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے لڑنے والا تھا، لیکن دن کے آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دفاع کرنے والا بن گیا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حرّہ کی ایک جانب اترے اور انصاریوں کو بلا بھیجا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، ان دونوں ہستیوں کو سلام کیا اور پھر کہا: امن اور اطمینانکے ساتھ سوار ہو جاؤ۔
Takhreej
(۱۰۶۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۹۱۱ (انظر: ۱۳۲۰۵)
Explanation
فوائد:… سراقہ بن جعشم کا سارا قصہ متن سے ہی واضح ہورہا ہے۔
10618
Sahih

Chapters

51
01
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
3 Hadith
02
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
5 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
3 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
3 Hadith
05
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
1 Hadith
06
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
07
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
2 Hadith
08
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
1 Hadith
09
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
7 Hadith
11
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
1 Hadith
12
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
16 Hadith
13
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
7 Hadith
14
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
3 Hadith
15
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
4 Hadith
16
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
3 Hadith
17
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
5 Hadith
18
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
6 Hadith
19
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
4 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
1 Hadith
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
2 Hadith
22
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
2 Hadith
23
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
2 Hadith
24
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
1 Hadith
25
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
7 Hadith
26
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
2 Hadith
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
9 Hadith
28
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
2 Hadith
29
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
3 Hadith
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
1 Hadith
31
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
1 Hadith
32
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
2 Hadith
33
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
34
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
9 Hadith
35
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
5 Hadith
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
7 Hadith
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
3 Hadith
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
3 Hadith
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
3 Hadith
40
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
2 Hadith
41
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
5 Hadith
42
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
1 Hadith
43
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
3 Hadith
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
3 Hadith
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
3 Hadith
46
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
2 Hadith
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
6 Hadith
48
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
3 Hadith
49
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
6 Hadith
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
9 Hadith
51
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
6 Hadith
No chapter matched that.