۔ (۱۰۴۸۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: اِنَّ أَوَّلَ خَبْرٍ قَدِمَ عَلَیْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَّ امْرَأَۃً کَانَ لَھَا تَابِعٌ قَالَ: فَأَتَاھَا فِیْ صُوْرَۃِ طَیْرٍ فَوَقَعَ عَلَی جِذْعٍ لَّھُمْ، قَالَ: فَقَالَتْ: أَلَا تَنْزِلُ فَنُخْبِرُکَ وَتُخْبِرُنَا؟ قَالَ: اِنَّہُ قَدْ خَرَجَ رَجُلٌ بِمَکَّۃَ حَرَّمَ عَلَیْنَا الزِّنَا وَمَنَعَ
مِنِ الْفِرَارِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۹۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک پہلی خبر جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں موصول ہوئی، وہ یہ تھی کہ ایک عورت کا پیروکار جن تھا، ایک دن وہ پرندے کی صورت میں آیا اور ان کے تنے پر بیٹھ گیا، اس خاتون نے کہا: کیا تونیچے نہیں آتا، تاکہ ہم تجھے باتیں بتلائیں اور تو ہمیں بتلائے؟ لیکن اس نے کہا: مکہ مکرمہ میں ایک آدمی ظاہر ہو چکا ہے، اس نے ہم پر زنا کو حرام قرار دیا ہے اور جہادمیں لڑائی کے وقت بھاگ جانے سے بھی روک دیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، تفرد بہ عبد اللہ بن محمد بن عقیل عن جابر، وھو یعتبر بہ فی المتابعات والشواھد، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۷۶۹ (انظر: ۱۴۸۳۵)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ بات درست ہے کہ جن، بندوں کے تابع ہو جاتے ہیں اور پھر ان کو مختلف واقعات سے باخبر رکھتے ہیں۔ نجومیوں اور کاہنوں کا بھی اس قسم کاسلسلہ ہوتا ہے۔
10487
Zaeef