TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر

Chapter 13 of اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 51 · 7 Hadith
۔ (۱۰۵۰۴)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھٰرُوْنَ، أَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَۃَیُحَدِّثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّی (وَفِیْ لَفْظٍ) أَوَّلُ مَنْ اَسْلَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیٌ، قَالَ عَمْرٌو: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِإِبْرَاھِیْمَ فَأَنْکَرَ ذٰلِکَ وَقَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (زَادَ فِیْ رِاوَیَۃٍ) وَقَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۹۹)
۔ سیدنایزید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،انھوں نے کہا: سب سے پہلے جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھییا اسلام قبول کیا، وہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، عمرو راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات ابراہیم راوی کو بتلائی تو انھوں نے اس بات کا انکار کیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سب سے پہلے مسلمان ہونے والے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Takhreej
(۱۰۵۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، أخرجہ الطیالسی: ۶۷۸، والنسائی فی الکبری : ۸۳۹۱م، والطبرانی فی الکبیر : ۵۰۰۲ (انظر: ۱۹۲۸۴)
10504
Zaeef
۔ (۱۰۵۰۵)۔ عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَیَاسِ بْنِ عَفِیْفِ الْکِنْدِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کُنْتُ اِمْرَئً ا تَاجِرًا فَقَدِمْتُ الْحَجَّ فَأَتَیْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ لِأَبْتَاعَ مِنْہُ بَعْضَ التِّجَارَۃِ، وَکَانَ اِمْرَئً ا تَاجِرًا، فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَعِنْدَہُ بِمِنًی اِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خِبَائٍ قَرِیْبٍ مِنْہُ فَنَظَرَ اِلَی الشَّمْسِ فَلَمَّا رَآھَا مَالَتْ یَعْنِیْ قَامَ یُصَلِّیْ۔ قَالَ: ثُمَّّ خَرَجَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ ذٰلِکَ الْخَبَائِ الَّذِیْ خَرَجَ مِنْہُ ذٰلِکَ الرَّجُلُ فَقَامَتْ خَلْفَہُ تُصَلِّیْ، ثُمَّّ خَرَجَ غُلَامٌ حِیْنَ رَاھَقَ الْحُلُمَ مِنْ ذٰلِکَ الْخِبَائِ فَقَامَ مَعَہُ یُصَلِّیْ، قَالَ:فَقُلْتُ لِلْعَبَّاسِ: مَنْ ھٰذَا یَا عَبَّاسُ؟ قَالَ: ھٰذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنِ أَخِیْ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذِہِ الْمَرْأَۃُ؟ قَالَ: ھٰذَا إِمْرَأَتُہُ خَدِیْجَۃُ ابْنَۃُ خُوَیْلِدٍ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الْفَتٰی؟ قَالَ: ھٰذَا عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبِ بْنِ عَمِّہِ، قَالَ: فَقُلْتُ: فَمَا ھٰذَا الَّذِیْیَصْنَعُ؟ قَالَ: یُصَلِّیْ وَھُوَ یَزْعَمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ وَلَمْ یَتْبَعْہُ عَلَی اَمْرِہِ اِلَّا امْرَأَتُہُ وَابْنُ عَمِّہِ ھٰذَا الْفَتٰی، وَھُوَ یَزْعُمُ أَنَّہُ یُفْتَحُ عَلَیْہِ کُنُوْزُ کِسْرٰی وَقَیْصَرَ، قَالَ: فَکَانَ عَفِیْفٌ (وَھُوْ ابْنُ عَمِّ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ) یَقُوْلُ: (وَأَسْلَمَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَحَسُنَ اِسْلَامُہُ) لَوْ کَانْ اللّٰہُ رَزَقَنِیَ الْاِسْلَامَ یَوْمَئِذٍ فَاَکُوْنُ ثَالِثًا مَعَ ابْنِ أَبِیْ طَالِبٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۷)
۔ سیدنا عفیف کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں تاجر تھا، میں حج کے موقع پر آیا اور کچھ سامانِ تجارت خریدنے کے لیے سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا، وہ بھی تاجر تھے، اللہ کی قسم ہے، میں اس کے پاس مِنٰی میں تھا کہ ایک آدمی قریبی خیمہ سے نکلا اور اس نے سورج کودیکھا، جب اس نے خیال کیا کہ سورج ڈھل چکا ہے تو وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، پھر اسی خیمے سے ایک خاتون نکلی اور وہ اس مرد کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگی، پھر اسی خیمہ سے قریب البلوغت ایک لڑکا نکلا اور نماز ادا کرنے کے لیے اس مرد کے ساتھ کھڑا ہو گیا،میں نے عباس سے کہا: اے عباس! یہ کون آدمی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ محمد بن عبد اللہ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہے، میں نے کہا: یہ خاتون کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اس کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہے، میں نے کہا: یہ لڑکا کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا زاد علی بن ابی طالب ہے۔ میں نے کہا: یہ کر کیا رہا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ نماز پڑھ کر رہا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ یہ نبی ہے، لیکن ابھی تک اس معاملے میں اس کی پیروی کرنے والے اس کی بیوی اور اس کا یہ چچا زاد لڑکا ہے، اس کا خیال ہے کہ وہ کسری اور قیصر کے خزانوں کو فتح کرے گا۔ یہ عفیف، اشعث بن قیس کا چچا زاد تھا، بعد ازاں یہ مسلمان ہو گئے تھے اور ان کے اسلام میں حسن پیدا ہو گیا تھا، بعد میں وہ کہا کرتے تھے: کاش اللہ تعالیٰ نے اس وقت مجھے اسلام عنایت کیا ہوتا اور میں ابن ابی طالب کے ساتھ تیسرا بندہ مسلمان ہوتا۔
Takhreej
(۱۰۵۰۵) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، یحییٰ بن الاشعث فی عداد المجھولین، واسماعیل بن ایاس، قال البخاری: فی حدیثہ نظر، وابوہ ایاس بن عفیف، قال البخاری: فیہ نظر، أخرجہ الحاکم: ۳/ ۱۸۳، والطبرانی: ۱۸/ ۱۸۱، والحاکم: ۳/ ۱۸۳ (انظر: ۱۷۸۷)
10505
Zaeef
۔ (۱۰۵۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ خَدِیْجَۃَ عَلِیٌّ، وَقَالَ مَرَّۃً: أَسْلَمَ۔ (مسند احمد: ۳۵۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بعد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سب سے پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھییا اسلام قبول کیا۔
Takhreej
(۱۰۵۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو بلج یقبل حدیثہ فیما لا ینفرد بہ، أخرجہ الطیالسی فی مسندہ : ۲۷۵۳ (انظر: ۳۵۴۲)
10507
Zaeef
۔ (۱۰۵۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَظْھَرَ اِسْلَامَہُ سَبْعَۃٌ، رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ وَأُمُّہُ سُمَیَّۃُ وَصُھَیْبٌ وَبِلَالٌ وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِعَمِّہِ أَبِیْ طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُوْبَکْرٍ فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِقَوْمِہِ، وَأَمَّا سَائِرُھُمْ فَأَخَذَھُمُ الْمُشْرِکُوْنَ فَأَلْبَسُوْھُمْ اَدْرَاعَ الْحَدِیْدِ وَصَھَرُوْ ھُمْ فِی الشَّمْسِ فَمَا مِنْھُمْ اِنْسَانٌ اِلَّا وَقَدْ وَاتَاھُمْ عَلٰی مَا اَرَادُوْا اِلَّا بِلَالٌ فِاِنَّہُ ھَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِی اللّٰہِ، وَھَانَ عَلٰی قَوْمِہِ فَأَعْطَوْہُ الْوِلْدَانَ، وَأَخَذُوْا یَطُوْفُوْنَ بِہٖشِعَابَمَکَّۃَ وَھُوَ یَقُوْلُ: أَحَدٌ أَحَدٌ۔ (مسند احمد: ۳۸۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سب سے پہلے سات افراد نے اسلام کا اظہار کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمار بن یاسر، ان کی ماں سیدہ سمیہ، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا مقدادf، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ کے چچا ابو طالب کے ذریعے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کی قوم کے ذریعے تحفظ دیا، باقی سارے افراد کو مشرکوں نے پکڑ لیا اور ان کو آہنی لباس پہنا دیئے اور دھوپ میں کھڑا کر کے ان کو عذاب دیا، ہر آدمی ان کے ارادے کے مطابق ان کی موافقت کر جاتا، ما سوائے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کو حقیر سمجھ لیا تھا، اُدھر ان کی قوم نے بھی ان کو کم اہمیت سمجھ کر بچوں کو پکڑا یا وہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں چکر لگاتے، لیکن سیدنا بلال یہ کہہ رہے ہوتے: اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔
Takhreej
(۱۰۵۰۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۰ (انظر: ۳۸۳۲)
10508
Sahih
۔ (۱۰۵۰۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ مَعَکَ عَلٰی ھٰذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: ((حُرٌّ وَعَبْدٌ)) وَمَعَہُ اَبُوْبَکْرٍ وَبِلَالٌ، ثُمَّّ قَالَ لَہُ: ((اِرْجِعْ اِلٰی قَوْمِکَ حَتّٰییُمَکِّنَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِرَسُوْلِہِ۔)) قَالَ: وَکاَنَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَیَقُوْلُ: لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ وَاِنِّیْ لَرُبُعُ الْاِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۵۳)
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس دین پر آپ کے ساتھ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام۔ اس وقت سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرو بن عبسہ سے فرمایا: تم اپنیقوم کی طرف لوٹ جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو قوی کر دے۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے: میں نے اپنے آپ کو اسلام کا چوتھائی حصہ دیکھا تھا۔
Takhreej
(۱۰۵۰۹) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۷۰۲۸)
10509
Sahih
۔ (۱۰۵۱۰)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقْرَأُ وَھُوَ یُصَلِّیْ نَحْوَ الرُّکْنِ قَبْلَ أَنْ یَصْدَعَ بِمَا یُؤْمَرُ وَالْمُشْرِکُوْنَ یَسْتَمِعُوْنَ: {فَبِاَیِّ آلائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ} (مسند احمد: ۲۷۴۹۵)
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلاوت کر رہے ہوتے اور حجراسود کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، ابھی تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا اعلان نہیں کیا تھا، جس کا آپ کو حکم دیا جاتا تھا، اور مشرک یہ آیت سنتے تھے: {فَبِاَیِّ آلائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ}۔
Takhreej
(۱۰۵۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف،یحییٰ بن اسحاق وان کان من قدماء اصحاب ابن لھیعۃ، الا ابن لھیعۃ انفرد بہ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/۲۳۱ (انظر: ۲۶۹۵۵)
Explanation
فوائد:… جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعوت و تبلیغ شروع کی تو کئی خوش قسمت لوگوں نے اسے لپک کر قبول کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائے۔ ان میں سب سے پہلا نام سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا ہے، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیوی ہونے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بلند اخلاق اور اعلی کردار کو سب سے اچھی طرح جانتی تھیں۔ اِدھر سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات اترتے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے جگر دوست سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور انھیں اپنی نبوت و رسالت سے آگاہ کرتے ہوئے ایمان لانے کی دعوت دی، انھوں نے بے کھٹک ایمان قبول کیا اور فوراً تصدیق کرتے ہوئے حق کی شہادت دی۔ پہلے پہل ایمان لانے والوں میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی شامل ہیں، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زیرِ کفالت تھے، اسی طرح پہلے سعادت مندوں میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، جن کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے متبنی بنا رکھا تھا۔ اس کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تبلیغ میں سر گرم ہو گئے اور حق رسالت ادا کرنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دایاں بازو بن گئے اور ان کے ذریعے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو عبیدہ بن جرّاح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جیسے لوگ مشرف باسلام ہونے لگے۔
10510
Zaeef

Chapters

51
01
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
3 Hadith
02
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
5 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
3 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
3 Hadith
05
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
1 Hadith
06
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
07
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
2 Hadith
08
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
1 Hadith
09
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
7 Hadith
11
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
1 Hadith
12
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
16 Hadith
13
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
7 Hadith
14
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
3 Hadith
15
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
4 Hadith
16
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
3 Hadith
17
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
5 Hadith
18
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
6 Hadith
19
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
4 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
1 Hadith
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
2 Hadith
22
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
2 Hadith
23
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
2 Hadith
24
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
1 Hadith
25
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
7 Hadith
26
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
2 Hadith
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
9 Hadith
28
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
2 Hadith
29
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
3 Hadith
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
1 Hadith
31
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
1 Hadith
32
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
2 Hadith
33
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
34
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
9 Hadith
35
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
5 Hadith
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
7 Hadith
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
3 Hadith
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
3 Hadith
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
3 Hadith
40
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
2 Hadith
41
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
5 Hadith
42
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
1 Hadith
43
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
3 Hadith
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
3 Hadith
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
3 Hadith
46
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
2 Hadith
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
6 Hadith
48
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
3 Hadith
49
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
6 Hadith
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
9 Hadith
51
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
6 Hadith
No chapter matched that.