TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12468 - باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 20 in this chapter
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۴۶۸)۔ عَنْ حَکِیمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِینَ أُمَّۃً، أَنْتُمْ آخِرُہَا وَأَکْرَمُہَا عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَا بَیْنَ مِصْرَاعَیْنِ مِنْ مَصَارِیعِ الْجَنَّۃِ مَسِیرَۃُ أَرْبَعِینَ عَامًا، وَلَیَأْتِیَنَّ عَلَیْہِیَوْمٌ وَإِنَّہُ لَکَظِیظٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۷۸)
سیدنا معاویہ بن جیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم امتوں کے ستر کے عدد کو پورا کرنے والے ہو، ان میں سے تم سب سے آخری اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے معزر اور مکرم ہو،جنت کے دروازوں کی جانبی لکڑیوں کے مابین چالیس برس کی مسافت ہے، لیکن جنت کے دروازے اس قدر وسیع ہونے کے باوجود تمہارے رش کی وجہ سے تنگ پڑجائیں گے۔
12468
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۴۶۸) تخریج: اسنادہ حسن، اخرج الشطر الاول الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۱۰۳۰، وأخرج الشطر الثانی ابن حبان: ۷۳۸۸ (انظر: ۲۰۰۲۵)

Related Chapters

1,032
1
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
Musnad Ahmad
2
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Mentioned Of The Mark Of This Nation From The Traces Of Prostrations And Purification On The Day Of Resurrection
باب: قیامت کے دن امت محمدیہ کی پہچان سجدے اور وضو کے نشانات ہوں گے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What has been Related About 'You Shall Follow The Ways of Those Who Were Before You'
باب: امت محمدیہ گزری امتوں کے نقش قدم پر چلے گی
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About 'The Lifespan Of (The Individuals) In This Ummah Is Between Sixty And Seventy [Years]
باب: امت محمدیہ کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر برس کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Curtailment Of Hope
باب: امت محمدیہ کا فتنہ مال ہے
Jam e Tirmazi
8
باب: امت محمدیہ کے اہل کبائر کی شفاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Splitting That Will Occur In This Ummah
باب: امت محمدیہ کی فرقہ بندی کا بیان
Jam e Tirmazi
10
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
11
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
Musnad Ahmad
12
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
13
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
14
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
Musnad Ahmad
15
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
Musnad Ahmad
16
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
Musnad Ahmad
17
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
Musnad Ahmad
18
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
Musnad Ahmad
19
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
20
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
21
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
22
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
Musnad Ahmad
23
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
24
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
25
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
Musnad Ahmad
26
امت محمدیہ کے بعض صالحین کی دوسرے بعض نیک لوگوں کے حق میں شفاعت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
Musnad Ahmad
28
(3) CHAPTER. The superiority of ablution. And Al-Ghurr-ul-Muhajjalun (the parts of the body of the Muslims washed in ablution will shine on the Day of Resurrection and the angels will call them by that name) from the traces of ablution.
وضو کی فضیلت کے بیان میں ( اور ان لوگوں کی فضیلت میں ) جو ( قیامت کے دن ) وضو کے نشانات سے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں گے
Sahih Bukhari
29
(46) CHAPTER. The religious learned men are entitled to precedence in leading the Salat (prayers).
امامت کرانے کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو علم اور ( عملی طور پر بھی ) فضیلت والا ہو
Sahih Bukhari
30
(6) CHAPTER. The superiority of the person whose child dies and he faces the event with patience hoping for Allah's reward.
اس شخص کی فضیلت جس کی کوئی اولاد مر جائے اور وہ اجر کی نیت سے صبر کرے
Sahih Bukhari
31
(23) CHAPTER. (The reward of him) who wishes to beget a son to send for Jihad.
جو جہاد کرنے کے لئے اللہ سے اولاد مانگے اس کی فضیلت
Sahih Bukhari
32
Chapter: Straightening The Rows; The Virtue Of The Front Row And Then The Next; Competing With One Another For The Front Row; The People Of Virtue Should Take Precedence And Be Closest To The Imam
صفوں کو برابر اور سیدھا کرنا اور اولیت کے حساب سے صفوں کی فضیلت، پہلی صف میں شرکت کے لیے ازدحام اور مسابقت، جن لوگوں کو (دوسروں پر) فضیلت حاصل ہے ان کو آگے کرنا اور امام کے قریب جگہ دینا۔
Sahih Muslim
33
Chapter: The virtue of spending and giving charity to relatives, spuses, children and parents, even if they are idolaters
رشتہ داروں ‘خاوند‘اولاد ‘اور والدین پرچاہے وہ کافر ہوں ‘خرچ کرنے اور صدقہ کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
34
CHAPTER: Concerning The Position Of The Imam And Its Virtue.
باب: امامت اور اس کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
Chapter: Tribulations that will appear
(امت محمدیہ میں) ہونے والے فتنوں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
36
امت محمدیہ کی صفات
Sunnan Ibn e Maja
37
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The lqamah Once
باب: اقامت اکہری کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The Iqamah Two Times Each
باب: اقامت دہری کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Whoever Calls The Adhan, He Is To Call The Iqamah
باب: جو اذان دے وہی اقامت کہے
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related That The Imam Has be Greatest Right To The Iqamah
باب: امام کا اقامت (تکبیر) کا حق زیادہ ہے
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: Supplication Made Between Adhan and Iqamah Is Not Rejected
باب: اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی
Jam e Tirmazi
45
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: [What Has Been Related About] Who Is Most Deserving Of Being The Imam
باب: امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About: When One Of You Leads The People In Prayer, Then Let Him Be Brief.
باب: جب تم میں سے کوئی امامت کرے تو نماز ہلکی پڑھائے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1
Musnad Ahmad
11087
۔ (۱۱۰۸۷)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ ذَاتَ یَوْمٍ بِنَہَارٍ، ثُمَّ قَامَ یَخْطُبُنَا إِلٰی أَنْ غَابَتْ الشَّمْسُ، فَلَمْ یَدَعْ شَیْئًا مِمَّا یَکُونُ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ إِلَّا حَدَّثَنَاہُ، حَفِظَ ذٰلِکَ مَنْ حَفِظَ وَنَسِیَ ذٰلِکَ مَنْ نَسِیَ، (ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ) وَفِیْہِ: ((أَلَا إِنَّ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقَدْرِ غَدْرَتِہِ یُنْصَبُ عِنْدَ اِسْتِہِ۔)) وفیہ: ((أَلَمْ تَرَوْا إِلٰی حُمْرَۃِ عَیْنَیْہِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِہِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ ذٰلِکَ فَلْیَجْلِسْ (أَوْ قَالَ) فَلْیَلْصَقْ بِالْأَرْضِ۔)) وَفِیْہِ: ((وَمَا شَیْئٌ أَفْضَلَ مِنْ کَلِمَۃِ عَدْلٍ تُقَالُ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ فَلَا یَمْنَعَنَّ أَحَدَکُمْ اتِّقَائُ النَّاسِ أَنْ یَتَکَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآہُ أَوْ شَہِدَہُ۔)) ثُمَّ بَکٰی أَبُو سَعِیدٍ فَقَالَ: قَدْ وَاللّٰہِ مَنَعَنَا ذٰلِکَ قَالَ: ((وَإِنَّکُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِینَ أُمَّۃً أَنْتُمْ خَیْرُہَا وَأَکْرَمُہَا عَلَی اللّٰہِ۔)) ثُمَّ دَنَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ فَقَالَ: ((وَإِنَّ مَا بَقِیَ مِنَ الدُّنْیَا فِیمَا مَضٰی مِنْہَا مِثْلُ مَا بَقِیَ مِنْ یَوْمِکُمْ ہٰذَا فِیمَا مَضٰی مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۰۸)
۔(دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ہمیں نماز عصر اول ترین وقت میں پڑھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر غروب آفتاب تک ہم سے خطاب فرمایا، قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے وہ سب کچھ بیان فرمایا، کسی کو یاد رہا اور کسینے بھلا دیا، اس سے آگے گزشتہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں ہے:قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کی دبر کے قریب اس کے دھوکہ کے لحاظ سے بلند جھنڈا نصب کیا جائے گا، اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کیا تم غصے والے آدمی کی آنکھوں کو سرخ ہوتے اور اس کی رگوں کو پھولتے نہیں دیکھتے، جب تم میں سے کسی کو شدید غصہ آئے تو وہ زمین پر بیٹھ جائے۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنے سے بڑھ کر کوئی بات افضل نہیں، جب تم میں سے کوئی آدمی حق بات کہنے کا موقع دیکھےیا ایسی جگہ پر موجود ہو جہاں حق بات کہنے کی ضرورت ہو تو لوگوں کا ڈرتمہیں حق کہنے سے نہیں روکے۔ اس کے بعد سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رو پڑے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! لوگوں کے خوف نے ہمیں کلمۂ حق کہنے سے روکا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ذریعے امتوں کا ستر کا عدد پورا ہو رہا ہے۔ یعنی تم ستر ویں امت ہو، تم سب سے افضل اور اللہ کے ہاں سب سے بڑھ کر معزز ہو۔ اس کے بعد سورج غروب ہونے لگا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا کی گزری ہوئی مدت اور باقی مدت میں وہی نسبت ہے، جو گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں غروب تک کے بقیہ وقت کو نسبت ہے۔