TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12591 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 12 in this chapter
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۲۵۹۱)۔ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْعَدَوِیِّ، أَنَّہُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ وَہُوَ یَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلٰی مَکَّۃَ: ائْذَنْ لِی أَیُّہَا الْأَمِیرُ! أُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ، وَوَعَاہُ قَلْبِی، وَأَبْصَرَتْہُ عَیْنَایَ حَیْثُ تَکَلَّمَ بِہِ، أَنَّہُ حَمِدَ اللّٰہَ، وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللّٰہُ، وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ، فَلَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ فِیہَا دَمًا، وَلَا یَعْضِدَ فِیہَا شَجَرَۃً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہَا، فَقُولُوْا إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَذِنَ لِرَسُولِہِ، وَلَمْ یَأْذَنْ لَکُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِی فِیہَا سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُہَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِہَا بِالْأَمْسِ، فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۶)
سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید لڑائی کے لیے مکہ مکرمہ کی طرف اپنے لشکر بھیج رہا تھا تو ابو شریح عدوی نے اس سے کہا: اے امیر! میں تمہیں ایک ایسی بات بتلاتا ہوں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن ارشاد فرمائی تھی، اس بات کو میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد کیا اور میری آنکھوں نے دیکھا، جہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کلام فرمائی، سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور پھر فرمایا: جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے روا نہیں کہ وہ اس شہر میں قتل و غارت کرے اور اس کے درخت کاٹے، اگر کوئی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لڑائی کو بنیاد بنا کر مکہ میں لڑائی کا جواز پیش کرے تو تم اسے بتلا دینا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ میں لڑائی کی اجازت دی تھی اور تمہیں اس کی اجازت نہیں دی اورمیرے لیے بھی دن کے ایک حصہ میں یعنی تھوڑی دیر کے لیے اجازت دی گئی تھی، آج اس کی حرمت اسی طرح بحال ہے، جیسے کل تھی، جو لوگ موجود ہیں، وہ ان لوگوں تک یہ باتیں پہنچا دیں، جو یہاں موجود نہیں۔
12591
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۵۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۰۴، ۱۸۳۲، ومسلم: ۱۳۵۴(انظر: ۱۶۳۷۳)

Related Chapters

211
1
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
2
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
3
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
4
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
Musnad Ahmad
5
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
6
سجدہ تلاوت کی فضیلت اور اس کے مقامات کی تعداد کا بیان
Musnad Ahmad
7
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
Musnad Ahmad
8
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
Musnad Ahmad
9
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
Musnad Ahmad
10
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
Musnad Ahmad
11
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
12
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
Musnad Ahmad
13
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
14
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
Musnad Ahmad
15
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
Musnad Ahmad
16
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
Musnad Ahmad
17
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
Musnad Ahmad
18
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
19
(94) CHAPTER. Sutra (for the prayer) in Makkah and elsewhere.
مکہ اور اس کے علاوہ دوسرے مقامات میں سترہ کا حکم
Sahih Bukhari
20
(42) CHAPTER. The superiority of Makkah and its buildings, and the statement of Allah:
فضائل مکہ اور کعبہ کی بناء کا بیان
Sahih Bukhari
21
(8) CHAPTER. (What is said regarding) the Qurra (the reciters of the Quran by heart) from among the Companions of the Prophet .
سورۃ الفاتحہ کی فضیلت کا بیان ۔ ۔ فضائل آمین
Sahih Bukhari
22
Chapter: What Has Been Mentioned About The Virtue Of The Salat
باب: فضائل نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: Something Else About That
باب: فضائل نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
24
Chapter: From It: Whoever Does Not Ask Allah, He Gets Angry With Him
باب: فضائل دعا سے متعلق ایک اور باب​
Jam e Tirmazi
25
باب: فضائل ابوبکر رضی الله عنہ پر ایک اور باب
Jam e Tirmazi
26
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
27
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
28
باب: ابی بن کعب رضی الله عنہ کے فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
30
باب: قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
32
ایمان کے ابواب
Mishkat
33
بَاب فَضَائِل الصَّلَاة
فضائل نماز کا بیان
Mishkat
34
بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاة
مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان
Mishkat
35
بَاب فِي الافطار من التَّطَوُّع
گزشتہ ابواب سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
Mishkat
36
بَاب الدَّعْوَات فِي الْأَوْقَاف
مختلف اوقات کی دعاؤں کا بیان
Mishkat
37
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
Mishkat
38
بَاب مَنَاقِب أبي بكر
حضرت ابوبکر ؓ کے مناقب و فضائل کا بیان
Mishkat
39
قضائے حاجت کے لیے نرم جگہ کو تلاش کرنے کا بیان اور ان مقامات کی تفصیل جہاں قضائے حاجت جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
40
ان مقامات کا بیان، جہاں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے
Musnad Ahmad
41
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
Musnad Ahmad
42
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
Musnad Ahmad
43
میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
44
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
Musnad Ahmad
45
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
46
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
Musnad Ahmad
47
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
48
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
Musnad Ahmad
49
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
Musnad Ahmad
50
مقابلہ بازی اور تیر اندازی کے ابواب مقابلہ بازی، اس کے آداب اور ان مقابلوں کا بیان جن پر انعام دینا درست ہے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
12434
۔ (۱۲۴۳۴)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْعَدَوِیِّ، أَنَّہُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ وَہُوَ یَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلٰی مَکَّۃَ: ائْذَنْ لِی أَیُّہَا الْأَمِیرُ! أُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی وَأَبْصَرَتْہُ عَیْنَایَ حَیْثُ تَکَلَّمَ بِہِ، أَنَّہُ حَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللّٰہُ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۸۷)
۔ (دوسری سند) سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید مکہ کی طرف لشکر روانہ کر رہا تھا تو ابو شریح العدوی نے اس سے کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجئے کہ میں تمہیں وہ باتیں بیان کروں جو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمائی تھیں، جن کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا، جب آپ نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں تو میری آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا قرار دیا ہے، …۔ پھر سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی۔
Musnad Ahmad
1109
۔ (۱۱۰۹)۔ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَأَتَاہُ سَائِلٌ یَسْأَلُہُ عَنْ مَوَاقِیْتِ الصَّلَاۃِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ شَیْئًافَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ بِالْفَجْرِ حِیْنَ اِنْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لَا یَکَادُ یَعْرِفُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَہُ فأَقَامَ بِالظُّہْرِ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ یَقُوْلُ: اِنْتَصَفَ النَّہَارُ أَوْ لَمْ یَنْتَصِفْ، وَکَانَ أَعْلَمَ مِنْہُمْ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِیْنَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ بِالْعِشَائِ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتّٰی اِنْصَرَفَ مِنْہَا وَالْقَائِلُ یَقُوْلُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ کَادَتْ، وَأَخَّرَ الظُّہْرَ حَتّٰی کَانَ قَرِیْبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتّٰی اِنْصَرَفَ مِنْہَا وَالْقَائِلُ یَقُوْلُ: اِحْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتّٰی کَانَ عِنْدَ سُقُوْطِ الشَّفَقِ وَأَخَّرَ الْعِشَائَ حَتّٰی کَانَ ثُلُثُ اللَّیْلِ الْأَوَّلُ، فَدَعَا السَّائِلَ فَقَالَ: ((اَلْوَقْتُ فِیْمَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۷۱)
سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے کہ ایک سائل، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور نمازوںکے اوقات کے بارے میں سوال کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے کوئی جواب نہ دیا اور سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا تو جب فجر پھوٹی تو اس وقت اس نے نماز فجر کو کھڑا کرا دیا، جبکہ قریب نہیں تھا کہ لوگ ایک دوسرے کو پہنچان سکیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا ، پس انھوں نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کی اقامت کہہ دی، جبکہ کہنے والا یہ کہہ رہا تھا: کیا نصف النہار کا وقت بھی ہوا ہے یا نہیں، بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سب لوگوں سے زیادہ جاننے والے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا اور انھوں عصر کو اس وقت کھڑا کروا دیا، جب سورج بلند تھا، پھر ان کو حکم دیا اور انھوں نے غروب ِ آفتاب کے وقت مغرب کی اقامت کہہ دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو حکم دیا اور غروبِ شفق کے وقت عشا کو کھڑا کرو ادیا، پھر دوسرے دن نمازِ فجر کو اتنا مؤخر کیا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا: سورج طلوع ہو گیا ہے، یا طلوع ہونے کے قریب ہے، ظہر کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ کل والی نماز عصر کے وقت کے قریب والا وقت ہو گیا، پھر عصر کو اس قدر مؤخر کر کے ادا کیا کہ جب اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا: سورج زرد ہو گیا ہے، پھر نماز مغرب کو اس قدر لیٹ کر دیا کہ اس کا معاملہ غروب ِ شفق سے پہلے تک پہنچ گیا اور نمازِ عشا کو رات کے پہلے ایک تہائی تک مؤخر کیا، پھر سائل کو بلایا اور فرمایا: ان دو وقتوںکے درمیان وقت ہے۔
Musnad Ahmad
10708
۔ (۱۰۷۰۸)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ أَہْلِ بَدْرٍ قَالَ: إِنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیُرِینَا مَصَارِعَہُمْ بِالْأَمْسِ، یَقُولُ: ((ہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاء َ اللّٰہُ تَعَالٰی، وَہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاء َ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) قَالَ: فَجَعَلُوایُصْرَعُونَ عَلَیْہَا، قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! مَا أَخْطَئُوا تِیکَ کَانُوا یُصْرَعُونَ عَلَیْہَا، ثُمَّ أَمَرَ بِہِمْ فَطُرِحُوا فِی بِئْرٍ، فَانْطَلَقَ إِلَیْہِمْ، فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! یَا فُلَانُ! ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمُ اللّٰہُ حَقًّا؟ فَإِنِّی وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِی اللّٰہُ حَقًّا۔)) قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُکَلِّمُ قَوْمًا قَدْ جَیَّفُوا؟ قَالَ: ((مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ، وَلٰکِنْ لَا یَسْتَطِیعُونَ أَنْ یُجِیبُوا۔)) (مسند احمد: ۱۸۲)
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اہلِ بدر کے متعلق مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ بدر سے ایک دن پہلے ہمیں سردارانِ قریش کے گرنے اور پچھڑنے کے مقامات دکھا رہے تھے، اور فرماتے تھے: کل ان شاء اللہ فلاں کافر یہاں قتل ہو کر گرے گا، اور فلاں آدمی قتل ہو کر یہاں گرے گا، ان شاء اللہ۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ واقعی وہ لوگ انہی جگہوں پر گرے۔ میں (عمر) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! وہ ان مقامات سے بالکل اِدھر اُدھر نہیں گرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی لاشوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں گھسیٹ کر کنوئیں میں پھینک دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کفار کی لاشوں کی طرف گئے اور فرمایا: اے فلاں! اے فلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچ پا لیا ہے، میرے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا، میں نے تو اسے پورا پالیا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے لوگوں سے ہم کلام ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان کی بہ نسبت زیادہ نہیں سن رہے، لیکن وہ ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتے۔
Musnad Ahmad
10790
۔ (۱۰۷۹۰)۔ (مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ قَالَا: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ،یُرِیدُ زِیَارَۃَ الْبَیْتِ لَا یُرِیدُ قِتَالًا، وَسَاقَ مَعَہُ الْہَدْیَ سَبْعِینَ بَدَنَۃً، وَکَانَ النَّاسُ سَبْعَ مِائَۃِ رَجُلٍ، فَکَانَتْ کُلُّ بَدَنَۃٍ عَنْ عَشَرَۃٍ، قَالَ: وَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کَانَ بِعُسْفَانَ لَقِیَہُ بِشْرُ بْنُ سُفْیَانَ الْکَعْبِیُّ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذِہِ قُرَیْشٌ قَدْ سَمِعَتْ بِمَسِیرِکَ فَخَرَجَتْ، مَعَہَا الْعُوذُ الْمَطَافِیلُ قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ، یُعَاہِدُونَ اللّٰہَ أَنْ لَا تَدْخُلَہَا عَلَیْہِمْ عَنْوَۃً أَبَدًا، وَہٰذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فِی خَیْلِہِمْ، قَدِمُوا إِلٰی کُرَاعِ الْغَمِیمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا وَیْحَ قُرَیْشٍ لَقَدْ أَکَلَتْہُمُ الْحَرْبُ، مَاذَا عَلَیْہِمْ لَوْ خَلَّوْا بَیْنِی وَبَیْنَ سَائِرِ النَّاسِ، فَإِنْ أَصَابُونِی کَانَ الَّذِی أَرَادُوْا وَإِنْ أَظْہَرَنِی اللّٰہُ عَلَیْہِمْ دَخَلُوا فِی الْإِسْلَامِ وَہُمْ وَافِرُونَ، وَإِنْ لَمْ یَفْعَلُوا قَاتَلُوا وَبِہِمْ قُوَّۃٌ فَمَاذَا تَظُنُّ قُرَیْشٌ؟ وَاللّٰہِ! إِنِّی لَا أَزَالُ أُجَاہِدُہُمْ عَلَی الَّذِی بَعَثَنِی اللّٰہُ لَہُ حَتّٰییُظْہِرَہُ اللّٰہُ لَہُ أَوْ تَنْفَرِدَ ہٰذِہِ السَّالِفَۃُ۔)) ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَسَلَکُوا ذَاتَ الْیَمِینِ بَیْنَ ظَہْرَیِ الْحَمْضِ عَلٰی طَرِیقٍ تُخْرِجُہُ عَلٰی ثَنِیَّۃِ الْمِرَارِ وَالْحُدَیْبِیَۃِ مِنْ أَسْفَلِ مَکَّۃَ، قَالَ: فَسَلَکَ بِالْجَیْشِ تِلْکَ الطَّرِیقَ، فَلَمَّا رَأَتْ خَیْلُ قُرَیْشٍ قَتَرَۃَ الْجَیْشِ قَدْ خَالَفُوا عَنْ طَرِیقِہِمْ، نَکَصُوا رَاجِعِینَ إِلٰی قُرَیْشٍ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا سَلَکَ ثَنِیَّۃَ الْمُرَارِ بَرَکَتْ نَاقَتُہُ، فَقَالَ النَّاسُ: خَلَأَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا خَلَأَتْ وَمَا ہُوَ لَہَا بِخُلُقٍ وَلٰکِنْ حَبَسَہَا حَابِسُ الْفِیلِ عَنْ مَکَّۃَ، وَاللّٰہِ! لَا تَدْعُونِی قُرَیْشٌ الْیَوْمَ إِلٰی خُطَّۃٍیَسْأَلُونِی فِیہَا صِلَۃَ الرَّحِمِ إِلَّا أَعْطَیْتُہُمْ إِیَّاہَا، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: انْزِلُوا۔)) فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا بِالْوَادِی مِنْ مَائٍ یَنْزِلُ عَلَیْہِ النَّاسُ، فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَہْمًا مِنْ کِنَانَتِہِ فَأَعْطَاہُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِہِ، فَنَزَلَ فِی قَلِیبٍ مِنْ تِلْکَ الْقُلُبِ، فَغَرَزَہُ فِیہِ فَجَاشَ الْمَاء ُ بِالرَّوَائِ حَتّٰی ضَرَبَ النَّاسُ عَنْہُ بِعَطَنٍ، فَلَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ فِی رِجَالٍ مِنْ خُزَاعَۃَ، فَقَالَ لَہُمْ کَقَوْلِہِ لِبُشَیْرِ بْنِ سُفْیَانَ، فَرَجَعُوا إِلٰی قُرَیْشٍ: فَقَالُوْا: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! إِنَّکُمْ تَعْجَلُونَ عَلٰی مُحَمَّدٍ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا لَمْ یَأْتِ لِقِتَالٍ، إِنَّمَا جَائَ زَائِرًا لِہٰذَا الْبَیْتِ مُعَظِّمًا لَحَقِّہِ فَاتَّہَمُوہُمْ، قَالَ مُحَمَّدٌ: یَعْنِی ابْنَ إِسْحَاقَ، قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَکَانَتْ خُزَاعَۃُ فِی عَیْبَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُسْلِمُہَا وَمُشْرِکُہَا لَا یُخْفُونَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا کَانَ بِمَکَّۃَ قَالُوا: وَإِنْ کَانَ إِنَّمَا جَائَ لِذٰلِکَ فَلَا وَاللّٰہِ! لَا یَدْخُلُہَا أَبَدًا عَلَیْنَا عَنْوَۃً وَلَا تَتَحَدَّثُ بِذٰلِکَ الْعَرَبُ، ثُمَّ بَعَثُوا إِلَیْہِ مِکْرَزَ بْنَ حَفْصِ بْنِ الْأَخْیَفِ أَحَدَ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہٰذَا رَجُلٌ غَادِرٌ۔)) فَلَمَّا انْتَہٰی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَلَّمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوٍ مِمَّا کَلَّمَ بِہِ أَصْحَابَہُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی قُرَیْشٍ فَأَخْبَرَہُمْ بِمَا قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَبَعَثُوا إِلَیْہِ الْحِلْسَ بْنَ عَلْقَمَۃَ الْکِنَانِیَّ، وَہُوَیَوْمَئِذٍ سَیِّدُ الْأَحَابِشِ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہٰذَا مِنْ قَوْمٍ یَتَأَلَّہُونَ، فَابْعَثُوا الْہَدْیَ فِی وَجْہِہِ۔)) فَبَعَثُوا الْہَدْیَ فَلَمَّا رَأَی الْہَدْیَیَسِیلُ عَلَیْہِ مِنْ عَرْضِ الْوَادِی فِی قَلَائِدِہِ قَدْ أَکَلَ أَوْتَارَہُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّہِ، رَجَعَ وَلَمْ یَصِلْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِعْظَامًا لِمَا رَأٰی، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! قَدْ رَأَیْتُ مَا لَا یَحِلُّ صَدُّہُ الْہَدْیَ فِی قَلَائِدِہِ قَدْ أَکَلَ أَوْتَارَہُ مِنْ طُولِ الْحَبْسِ عَنْ مَحِلِّہِ، فَقَالُوا: اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ أَعْرَابِیٌّ لَا عِلْمَ لَکَ، فَبَعَثُوا إِلَیْہِ عُرْوَۃَ بْنَ مَسْعُودٍ الثَّقَفِیَّ، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! إِنِّی قَدْ رَأَیْتُ مَا یَلْقٰی مِنْکُمْ مَنْ تَبْعَثُونَ إِلٰی مُحَمَّدٍ، إِذَا جَائَ کُمْ مِنَ التَّعْنِیفِ وَسُوئِ اللَّفْظِ، وَقَدْ عَرَفْتُمْ أَنَّکُمْ وَالِدٌ وَأَنِّی وَلَدٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ بِالَّذِی نَابَکُمْ فَجَمَعْتُ مَنْ أَطَاعَنِی مِنْ قَوْمِی، ثُمَّ جِئْتُ حَتّٰی آسَیْتُکُمْ بِنَفْسِی، قَالُوْا: صَدَقْتَ مَا أَنْتَ عِنْدَنَا بِمُتَّہَمٍ، فَخَرَجَ حَتّٰی أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! جَمَعْتَ أَوْبَاشَ النَّاسِ ثُمَّ جِئْتَ بِہِمْ لِبَیْضَتِکَ لِتَفُضَّہَا، إِنَّہَا قُرَیْشٌ قَدْ خَرَجَتْ مَعَہَا الْعُوذُ الْمَطَافِیلُ، قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ، یُعَاہِدُونَ اللّٰہَ أَنْ لَا تَدْخُلَہَا عَلَیْہِمْ عَنْوَۃً أَبَدًا، وَأَیْمُ اللّٰہِ! لَکَأَنِّی بِہٰؤُلَائِ قَدِ انْکَشَفُوا عَنْکَ غَدًا، قَالَ، وَأَبُوبَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالَی عَنْہُ خَلْفَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَاعِدٌ، فَقَالَ: امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ! أَ نَحْنُ نَنْکَشِفُ عَنْہُ؟ قَالَ: مَنْ ہٰذَا؟ یَا مُحَمَّدُ! قَالَ: ((ہٰذَا ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ۔)) قَالَ: وَاللّٰہِ! لَوْلَا یَدٌ کَانَتْ لَکَ عِنْدِی لَکَافَأْتُکَ بِہَا وَلٰکِنَّ ہٰذِہِ بِہَا، ثُمَّ تَنَاوَلَ لِحْیَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ وَاقِفٌ عَلٰی رَأْسِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْحَدِیدِ، قَالَ: یَقْرَعُیَدَہُ، ثُمَّ قَالَ، أَمْسِکْ یَدَکَ عِنْ لِحْیَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلُ وَاللّٰہِ! لَا تَصِلُ إِلَیْکَ، قَالَ: وَیْحَکَ مَا أَفَظَّکَ وَأَغْلَظَکَ؟ قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: مَنْ ہٰذَا؟ یَا مُحَمَّدُ! قَالَ: ((ہٰذَا ابْنُ أَخِیکَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ۔)) قَالَ: أَغُدَرُ ہَلْ غَسَلْتَ سَوْأَتَکَ إِلَّا بِالْأَمْسِ، قَالَ: فَکَلَّمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِثْلِ مَا کَلَّمَ بِہِ أَصْحَابَہُ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ لَمْ یَأْتِیُرِیدُ حَرْبًا، قَالَ: فَقَامَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ رَأٰی مَا یَصْنَعُ بِہِ أَصْحَابُہُ لَا یَتَوَضَّأُ وُضُوئً إِلَّا ابْتَدَرُوہُ، وَلَا یَبْسُقُ بُسَاقًا إِلَّا ابْتَدَرُوہُ، وَلَا یَسْقُطُ مِنْ شَعَرِہِ شَیْئٌ إِلَّا أَخَذُوہُ، فَرَجَعَ إِلٰی قُرَیْشٍ فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! إِنِّی جِئْتُ کِسْرٰی فِی مُلْکِہِ، وَجِئْتُ قَیْصَرَ وَالنَّجَاشِیَّ فِی مُلْکِہِمَا، وَاللّٰہِ! مَا رَأَیْتُ مَلِکًا قَطُّ مِثْلَ مُحَمَّدٍ فِی أَصْحَابِہِ، وَلَقَدْ رَأَیْتُ قَوْمًا لَا یُسْلِمُونَہُ لِشَیْئٍ أَبَدًا فَرَوْا رَأْیَکُمْ، قَالَ: وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ ذٰلِکَ بَعَثَ خِرَاشَ بْنَ أُمَیَّۃَ الْخُزَاعِیَّ إِلٰی مَکَّۃَ وَحَمَلَہُ عَلٰی جَمَلٍ لَہُ یُقَالُ لَہُ: الثَّعْلَبُ، فَلَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ عَقَرَتْ بِہِ قُرَیْشٌ وَأَرَادُوْا قَتْلَ خِرَاشٍ، فَمَنَعَہُمْ الْأَحَابِشُ حَتّٰی أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا عُمَرَ لِیَبْعَثَہُ إِلٰی مَکَّۃَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أَخَافُ قُرَیْشًا عَلٰی نَفْسِی وَلَیْسَ بِہَا مِنْ بَنِی عَدِیٍّ أَحَدٌ یَمْنَعُنِی، وَقَدْ عَرَفَتْ قُرَیْشٌ عَدَاوَتِی إِیَّاہَا وَغِلْظَتِی عَلَیْہَا، وَلٰکِنْ أَدُلُّکَ عَلٰی رَجُلٍ ہُوَ أَعَزُّ مِنِّی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ، فَدَعَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَعَثَہُ إِلٰی قُرَیْشٍ،یُخْبِرُہُمْ أَنَّہُ لَمْ یَأْتِ لِحَرْبٍ وَأَنَّہُ جَائَ زَائِرًا لِہٰذَا الْبَیْتِ مُعَظِّمًا لِحُرْمَتِہِ فَخَرَجَ عُثْمَانُ حَتّٰی أَتٰی مَکَّۃَ، وَلَقِیَہُ أَبَانُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِہِ وَحَمَلَہُ بَیْنَیَدَیْہِ وَرَدِفَ خَلْفَہُ وَأَجَارَہُ حَتّٰی بَلَّغَ رِسَالَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْطَلَقَ عُثْمَانُ حَتّٰی أَتٰی أَبَا سُفْیَانَ وَعُظَمَائَ قُرَیْشٍ، فَبَلَّغَہُمْ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا أَرْسَلَہُ بِہِ،فَقَالُوا لِعُثْمَانَ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَیْتِ فَطُفْ بِہِ، فَقَالَ: مَا کُنْتُ لِأَفْعَلَ حَتّٰییَطُوفَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَاحْتَبَسَتْہُ قُرَیْشٌ عِنْدَہَا، فَبَلَغَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُسْلِمِینَ أَنَّ عُثْمَانَ قَدْ قُتِلَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَحَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ: أَنَّ قُرَیْشًا بَعَثُوا سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو أَحَدَ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ، فَقَالُوا: ائْتِ مُحَمَّدًا فَصَالِحْہُ وَلَا یَکُونُ فِی صُلْحِہِ إِلَّا أَنْ یَرْجِعَ عَنَّا عَامَہُ ہٰذَا فَوَاللّٰہِ! لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّہُ دَخَلَہَا عَلَیْنَا عَنْوَۃً أَبَدًا، فَأَتَاہُ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فَلَمَّا رَآہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ أَرَادَ الْقَوْمُ الصُّلْحَ حِینَ بَعَثُوا ہٰذَا الرَّجُلَ۔)) فَلَمَّا انْتَہٰی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَکَلَّمَا وَأَطَالَا الْکَلَامَ وَتَرَاجَعَا حَتّٰی جَرٰی بَیْنَہُمَا الصُّلْحُ، فَلَمَّا الْتَأَمَ الْأَمْرُ وَلَمْ یَبْقَ إِلَّا الْکِتَابُ، وَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتٰی أَبَا بَکْرٍ، فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرٍ! أَوَلَیْسَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِینَ أَوَلَیْسُوا بِالْمُشْرِکِینَ؟ قَالَ، بَلٰی، قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِی الذِّلَّۃَ فِی دِینِنَا؟ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: یَا عُمَرُ الْزَمْ غَرْزَہُ حَیْثُ کَانَ، فَإِنِّی أَشْہَدُ أَنَّہُ رَسُولُ اللّٰہِ، قَالَ عُمَرُ: وَأَنَا أَشْہَدُ، ثُمَّ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِینَ أَوَلَیْسُوا بِالْمُشْرِکِینَ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِی الذِّلَّۃَ فِی دِینِنَا؟ فَقَالَ: ((أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُولُہُ لَنْ أُخَالِفَ أَمْرَہُ وَلَنْ یُضَیِّعَنِی۔)) ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: مَا زِلْتُ أَصُومُ وَأَتَصَدَّقُ وَأُصَلِّی وَأَعْتِقُ مِنَ الَّذِی صَنَعْتُ مَخَافَۃَ کَلَامِی الَّذِی تَکَلَّمْتُ بِہِ یَوْمَئِذٍ حَتّٰی رَجَوْتُ أَنْ یَکُونَ خَیْرًا، قَالَ: وَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتُبْ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔)) فَقَالَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو: لَا أَعْرِفُ ہٰذَا وَلٰکِنْ اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ، ہٰذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰہِ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو۔)) فَقَالَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو: لَوْ شَہِدْتُ أَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ لَمْ أُقَاتِلْکَ وَلٰکِنْ اکْتُبْ ہٰذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ وَسُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلٰی وَضْعِ الْحَرْبِ عَشْرَ سِنِینَ،یَأْمَنُ فِیہَا النَّاسُ وَیَکُفُّ بَعْضُہُمْ عَنْ بَعْضٍ، عَلٰی أَنَّہُ مَنْ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَصْحَابِہِ بِغَیْرِ إِذْنِ وَلِیِّہِ رَدَّہُ عَلَیْہِمْ، وَمَنْ أَتٰی قُرَیْشًا مِمَّنْ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَرُدُّوہُ عَلَیْہِ، وَإِنَّ بَیْنَنَا عَیْبَۃً مَکْفُوفَۃً، وَإِنَّہُ لَا إِسْلَالَ وَلَا إِغْلَالَ، وَکَانَ فِی شَرْطِہِمْ حِینَ کَتَبُوا الْکِتَابَ أَنَّہُ مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَدْخُلَ فِی عَقْدِ مُحَمَّدٍ وَعَہْدِہِ دَخَلَ فِیہِ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَدْخُلَ فِی عَقْدِ قُرَیْشٍ وَعَہْدِہِمْ دَخَلَ فِیہِ، فَتَوَاثَبَتْ خُزَاعَۃُ فَقَالُوا: نَحْنُ مَعَ عَقْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَہْدِہِ، وَتَوَاثَبَتْ بَنُو بَکْرٍ فَقَالُوا: نَحْنُ فِی عَقْدِ قُرَیْشٍ وَعَہْدِہِمْ، وَأَنَّکَ تَرْجِعُ عَنَّا عَامَنَا ہٰذَا فَلَا تَدْخُلْ عَلَیْنَا مَکَّۃَ، وَأَنَّہُ إِذَا کَانَ عَامُ قَابِلٍ خَرَجْنَا عَنْکَ فَتَدْخُلُہَا بِأَصْحَابِکَ وَأَقَمْتَ فِیہِمْ ثَلَاثًا مَعَکَ سِلَاحُ الرَّاکِبِ لَا تَدْخُلْہَا بِغَیْرِ السُّیُوفِ فِی الْقُرُبِ، فَبَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَکْتُبُ الْکِتَابَ إِذْ جَائَ ہُ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو فِی الْحَدِیدِ، قَدْ انْفَلَتَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَقَدْ کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجُوا وَہُمْ لَا یَشُکُّونَ فِی الْفَتْحِ لِرُؤْیَا رَآہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَأَوْا مَا رَأَوْا مِنَ الصُّلْحِ وَالرُّجُوعِ وَمَا تَحَمَّلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی نَفْسِہِ، دَخَلَ النَّاسَ مِنْ ذَلِکَ أَمْرٌ عَظِیمٌ حَتّٰی کَادُوا أَنْ یَہْلَکُوا، فَلَمَّا رَأٰی سُہَیْلٌ أَبَا جَنْدَلٍ قَامَ إِلَیْہِ فَضَرَبَ وَجْہَہُ ثُمَّ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! قَدْ لُجَّتِ الْقَضِیَّۃُ بَیْنِی وَبَیْنَکَ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَکَ ہٰذَا، قَالَ: ((صَدَقْتَ۔)) فَقَامَ إِلَیْہِ فَأَخَذَ بِتَلْبِیبِہِ، قَالَ: وَصَرَخَ أَبُو جَنْدَلٍ بِأَعْلٰیصَوْتِہِیَا مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِینَ! أَتَرُدُّونَنِی إِلٰی أَہْلِ الشِّرْکِ، فَیَفْتِنُونِی فِی دِینِی، قَالَ: فَزَادَ النَّاسُ شَرًّا إِلٰی مَا بِہِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أَبَا جَنْدَلٍ! اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ لَکَ وَلِمَنْ مَعَکَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا، إِنَّا قَدْ عَقَدْنَا بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ صُلْحًا، فَأَعْطَیْنَاہُمْ عَلٰی ذٰلِکَ، وَأَعْطَوْنَا عَلَیْہِ عَہْدًا، وَإِنَّا لَنْ نَغْدِرَ بِہِمْ۔)) قَالَ: فَوَثَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَعَ أَبِی جَنْدَلٍ فَجَعَلَ یَمْشِی إِلٰی جَنْبِہِ وَہُوَ یَقُولُ: اصْبِرْ أَبَا جَنْدَلٍ فَإِنَّمَا ہُمُ الْمُشْرِکُونَ وَإِنَّمَا دَمُ أَحَدِہِمْ دَمُ کَلْبٍ، قَالَ: وَیُدْنِی قَائِمَ السَّیْفِ مِنْہُ قَالَ: یَقُولُ: رَجَوْتُ أَنْ یَأْخُذَ السَّیْفَ فَیَضْرِبَ بِہِ أَبَاہُ، قَالَ: فَضَنَّ الرَّجُلُ بِأَبِیہِ وَنَفَذَتِ الْقَضِیَّۃُ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ الْکِتَابِ وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی فِی الْحَرَمِ وَہُوَ مُضْطَرِبٌ فِی الْحِلِّ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ انْحَرُوا وَاحْلِقُوا۔)) قَالَ: فَمَا قَامَ أَحَدٌ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ بِمِثْلِہَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ حَتّٰی عَادَ بِمِثْلِہَا فَمَا قَامَ رَجُلٌ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ فَقَالَ: ((یَا أُمَّ سَلَمَۃَ مَا شَأْنُ النَّاسِ؟)) قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ دَخَلَہُمْ مَا قَدْ رَأَیْتَ فَلَا تُکَلِّمَنَّ مِنْہُمْ إِنْسَانًا وَاعْمِدْ إِلٰی ہَدْیِکَ حَیْثُ کَانَ فَانْحَرْہُ وَاحْلِقْ، فَلَوْ قَدْ فَعَلْتَ ذٰلِکَ فَعَلَ النَّاسُ ذٰلِکَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یُکَلِّمُ أَحَدًا حَتّٰی أَتٰی ہَدْیَہُ فَنَحَرَہُ، ثُمَّ جَلَسَ فَحَلَقَ فَقَامَ النَّاسُ یَنْحَرُونَ وَیَحْلِقُونَ، قَالَ: حَتّٰی إِذَا کَانَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ فِی وَسَطِ الطَّرِیقِ فَنَزَلَتْ سُورَۃُ الْفَتْحِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۱۷)
۔(دوسری سند) سیدنا مسور بن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا مروان بن حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیارت بیت اللہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لڑائی کا کوئی ارادہ نہیں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذبح کرنے کے لیے اپنے ساتھ ستر اونٹ بھی لے گئے، آپ کے رفقاء کی تعداد سات سو تھی۔ ہر دس آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ تھا،اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہوئے،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو بشر بن سفیان کعبی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملا۔ اس نے بتلایا کہ اللہ کے رسول! قریش کو آپ کی روانگی کی اطلاع ہو چکی ہے، وہ نئے نئے بچوں والی شیر دار اونٹنیاں لئے، چیتوں کی کھالیں اوڑھے آپ کے مقابلے اور راستہ روکنے کے لیے نکلے ہوئے ہیں اور وہ اللہ کے ساتھ عہد کر چکے ہیں کہ وہ ہمیں زبردستی مکہ میں بالکل داخل نہیں ہونے دیں گے اور خالد بن ولید اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ کراع غمیم کی طرف بڑھتا آ رہا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے قریش کی ہلاکت! لڑائیوں نے ان کا ستیاناس کر دیا ہے، اگر یہ لوگ میرے اور میرے ان صحابہ کے سامنے سے ہٹ جاتے اور (حرم میںجانے دیتے) تو ان کو کیا تکلیف تھی، اگر ان لوگوں نے اپنے ارادے کے مطابق مجھے تکلیف دی لی تو (ٹھیک ہے)، اور اگر اللہ تعالی نے مجھے ان پر غالب کر دیا اور یہ اسلام میں داخل ہو گئے، جبکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، (تو ٹھیک)، بصورتِ دیگر اگر انھوں نے ایسا نہ کیا، تو یہ لڑیں گے، جبکہ ان کے پاس قوت بھی ہے، لیکن اب قریشی لوگ کیا گمان رکھتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں اس نکتے کو سامنے رکھ کر ان سے لڑتا رہوں،یہاں تک کہ اللہ تعالی اس دین کو غالب کر دے گا، یا پھر میری گردن کا یہ پہلو الگ ہو جائے گا (یعنی میں فوت ہو جاؤں گا)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حکم دیا، پس حمض بوٹی سے ہوتے ہوئے اور اپنی دائیں طرف چلتے ہوئے ایسے راستے پر ہو لیے ، جو مرار گھاٹی اور حدیبیہکی طرف جار رہا تھا، یہ مکہ سے نشیبی جگہ تھی،یہ لشکر اس راستے پر ہو لیا، جب قریشیوں کے گھڑ سوار لشکر نے اِس لشکر کا غبار اور اس کے راستہ تبدیل کر لینے کو دیکھا تو وہ قریش کی طرف واپس پلٹ گئے۔ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی روانہ ہو گئے اور جب مِرار گھاٹی میں چلے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئے، لوگوں نے کہا: اونٹنی ضد کر گئی، اڑی کر گئی، نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ اس نے ضدکی ہے اور نہ یہ اس کی عادت ہے، دراصل اسے اس اللہ نے آگے جانے سے روکا ہے، جس نے ہاتھیوں کو روکا تھا۔ اللہ کی قسم! یہ کافر مجھ سے کوئی بھی ایسا مطالبہ کریں، جس کے ذریعے وہ مجھ سے صلہ رحمی کا سوال کریں گے تو میں ان کا وہ مطالبہ پورا کر دوں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے فرمایا: اتر جاؤ۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس علاقے میں تو پانی ہی نہیں ہے کہ اس کے پاس لشکر پڑاؤ ڈال سکے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کو دیا، اس نے وہ تیر کنویں میں گاڑھا اور بہت زیادہ پانی ابلنے لگا، (لوگوں نے پیا) یہاں تک کہ انھوں نے اپنے اونٹوں کو بھی سیراب کر لیا، ابھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مطمئن ہوئے ہی تھے کہ بنو خزاعہ کے چند افراد سمیت بدیل بن ورقا آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے وہی بات کہی، جو بشیر بن سفیان کو کہی تھی، سو وہ قریشیوں کی طرف لوٹ گئے اور کہا: اے قریش کی جماعت! تم محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) پر جلدی کر رہے ہو، جبکہ وہ قتال کے لیے نہیں آئے، وہ تو صرف اس گھر کی زیارت اور اس کے حق کی تعظیم کے لیے آئے ہیں، لیکن قریشیوں نے اِن کی بات کی تصدیق نہیں کی، دراصل بنو خزاعہ کے مسلمان اور مشرک، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے راز دان تھے، مکہ میں جو کچھ ہوتا، یہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی چیز مخفی نہیں رکھتے تھے۔ پس قریشیوں نے کہا: اگرچہ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اس مقصد کے لیے آئے ہوں گے، لیکن نہیں، بخدا! یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ہم پر زبردستی گھس آئیں اور عرب لوگ مختلف باتیں کرنے لگیں۔ پھر انھوں نے بنو عامر بن لؤی کے ایک آدمی مکرز بن حفص بن اخیف کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو (اپنے صحابہ کو متنبہ کرتے ہوئے) فرمایا: یہ دھوکے باز آدمی ہے۔ جب وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے وہی گفتگو جو اس سے پہلے اس کے ساتھیوں سے کی تھی،یہ بھی قریش کی طرف لوٹ گیا اور انھیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیانات کی خبر دی، قریش نے اب کی بار حلس بن علقمہ کنانی کو بھیجا،یہ آدمی مختلف قبائل کی جماعتوں کا سردار تھا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: یہ آدمی ان لوگوں میں ہے، جو اللہ تعالی کے حق اور حرمت کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں، ہدی کے جانوروں کو اس کے سامنے لاؤ۔ صحابہ نے ایسے ہی کیا اور ہدیاں اس کے سامنے لے آئے، اب ہوا یوں کہ جب اس آدمینے وادی کے عرض میں ہدیاں اور ان کے گردنوں میں قلادے دیکھے اور دیکھا کہ زیادہ دیر ان کو ٹھہرانے کی وجہ سے ان کے تانت کھائے جا چکے ہیں، تو یہ آدمییہ منظر دیکھنے کے بعد ان چیزوں کی تعظیم کی وجہ سے واپس لوٹ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا ہی نہیں، اس نے واپس آ کر کہا: اے قریش کی جماعت! میں ایسی چیزیں دیکھ آیا ہوں، جن کو روکنا حلال نہیں ہے، ہدی کے جانور ہیں، ان کے گردنوں میں قلادے ہیں اور زیادہ دیر ٹھہرائے جانے کی وجہ سے ان کے تانت کھائے جا چکے ہیں، قریش نے جواباً کہا: تو بیٹھ جا، تو تو بدّو ہے اور تجھے کوئی علم نہیں ہے، اب کی بار انھوں نے عروہ بن مسعود ثقفی کو بھیجا، اس نے کہا: قریش کی جماعت! تم لوگ جن افراد کو محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف بھیج رہے ہو اور ان کے تبصروں کی وجہ سے تمہیں جو سرزنش اور برے الفاظ سننے پڑ رہے ہیں، میں وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں، تم جانتے ہو کہ تم والد کے اور میں تمہارا بیٹا ہونے کے قائم مقام ہوں (لہذا میں تمہارا پاس و لحاظ رکھوں گا)، جس معاملے کا تمہیں سامنا کرنا پڑا، میں وہ باتیں بھی سن چکا ہوں۔ پھر میں نے اپنی قوم میں سے ان لوگوں کو جمع کیا، جنہوں نے میری بات مان لی، پھر میں آیا اور میں نے اپنی جان کے ساتھ تمہارا تعاون کیا، قریشیوں نے کہا: تم سچ کہہ رہے ہو اور تم ہمارے نزدیک قابل اعتماد آدمی ہو، پس یہ آدمی نکل پڑا، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا: اے محمد! آپ نے جنگوں میں ثابت قدم نہ رہنے والے مختلف لوگوں کو جمع کر لیا اور پھر ان کو لے کر یہاں آ گئے، تاکہ ان کی اصل کو ہی ختم کر دیں،یہ قریش نکل پڑے ہیں، ان کے ساتھ حاملہ اور دودھ والی اونٹنیاں موجود ہیں (مراد کہ یہ ان کا کھانا پینا ہے )، انھوں نے چیتوں کی کھالیں پہن رکھی ہیں اور انھوں نے اللہ تعالی سے معاہدہ کر رکھا ہے کہ آپ کبھی بھی ان پر زبردستی نہ گھس سکیں گے، اور اللہ کی قسم ہے، مجھے تو یوں لگ رہا ہے کہ یہ لوگ کل (جب میدان سجے گا) تو تجھے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بیٹھے تھے، انھوں نے اِس کییہ بات سن کر کہا: تو لات کے ختنے میں کٹ جانے چمڑے کے ٹکڑے کو چوسے، کیا ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چھوڑ جائیں گے؟ اس نے کہا: اے محمد! یہ آدمی کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ابن ابی قحافہ ہیں۔ عروہ بن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تیرا مجھ پر احسان نہ ہوتا تو میں تجھ سے اس بات کا بدلہ لیتا، چلو یہ بات اس احسان کے بدلے ہو گئے، پھر عروہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک پکڑی، جبکہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسلحہ سے لیس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر مبارک کے پاس کھڑے تھے، انھوں نے عروہ کے ہاتھ پر ضرب لگائی اور کہا: اپنے ہاتھ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی مبارک سے دور رکھ، اللہ کی قسم! وگرنہ تیرا ہاتھ تجھ تک نہ پہنچ پائے گا (یعنی میں اس کو کاٹ دوں گا)، عروہ نے آگے سے کہا: او تو ہلاک ہو جائے، تو تو کس قدر سخت گیر آدمی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا دیئے، اس نے کہا: اے محمد! یہ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تیرا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے۔ عروہ نے کہا: او دھوکے باز! تو نے تو کل اپنی شرمگاہ کو دھویا ہے (یعنی ماضی قریب میں ہی مال خرچ کر کے اپنی خیانت کے ضرر کودور کیا ہے)، بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اِس آدمی سے اسی طرح کی گفتگو فرمائی، جیسے اس سے قبل اس کے ساتھیوں سے کی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لڑائی کے ارادے سے نہیںآئے۔ پس یہ آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے چلا گیا اور اس نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کرتے ہیں تو یہ لوگ (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اعضائے شریفہ سے گرنے والے پانی کی طرف) لپک پڑتے ہیں اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوکتے ہیں تو یہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تھوک کی طرف لپک پڑتے ہیں اور جب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کوئی بال گرتا ہے تو یہ اس کو اٹھا لیتے ہیں، پس عروہ قریش کی طرف لوٹ گیا اور کہا: اے قریش کی جماعت! میں کسریٰ کے ہاں اس کی مملکت میں اور قیصرونجاشی کے ہاں بھی ان کے ملکوں میں گیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے کبھی کسی بادشاہ کا اتنا احترام نہیں دیکھا جتنا احترام محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کا ان کے اصحاب میں ہے، میں نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ اسے کسی ناگوار حالت کے سپرد نہ کریں گے، اب تم غور کر لو، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبل ازیں خراش بن امیہ خزاعی کو مکہ کی طرف بھیج چکے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ثعلب نامی ایک اونٹ پر سوار کرایا تھا، وہ جب مکہ میں پہنچا تو قریش نے اس کے اونٹ کی کونچیں کاٹ دی تھیں اسے بھی قتل کرنا چاہتے تھے لیکن کچھ لوگوں نے انہیں ان کو قتل کرنے سے روک دیا، وہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خدمت میں واپس آگیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ کی طرف بطور سفیر بھیجنے کے لیے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلوایا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے قریش کی طرف سے اپنی جان کا خطرہ ہے اور وہاں بنو عدی کا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو مجھے تحفظ دے سکے اور مجھے قریش سے جس قدر عداوت ہے، وہ سب اس سے بخوبی واقف ہیں، البتہ میں آپ کو ایک ایسے آدمی کے متعلق بتلاتا ہوں جو اہلِ مکہ کے ہاں مجھ سے زیادہ معزز اور محترم ہے اور وہ ہیں سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بلوا کر قریش کی طرف اپنا سفیر بنا کر بھیجا تاکہ ان کو بتلائیں کہ ہم لوگ لڑائی کے لیے نہیں، محض بیت اللہ کی حرمت کی تعظیم کرنے کی خاطر صرف زیارت و طواف کے لیےآئے ہیں۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روانہ ہو کر مکہ مکرمہ آئے۔ ان کی ابان بن سعید بن العاص سے ملاقات ہو گئی، وہ اپنی سواری سے نیچے اترا اور آپ کو اپنے آگے بٹھا کر خود پیچھے بیٹھا اور اس نے عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پناہ دی تاکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پیغام پہنچا دیں۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ابو سفیان اور دیگر عظائے قریش کے پاس گئے اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو جو پیغام دے کر بھیجا تھا، وہ پیغام ان تک پہنچایا۔ انہوں نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر آپ بیت اللہ کا طواف کرنا چاہیں تو کر لیں، وہ بولے جب تک اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ کا طواف نہ کریں میں نہیں کر سکتا۔ ان کو قریش نے اپنے ہاں روک لیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور مسلمانوں تک یہ افواہ پہنچی کہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ قریش نے سہیل بن عمرو کو جو بنو عامر بن لؤی میں سے تھے کو بھیجا اور کہا کہ تم جا کر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صلح کی بات کرو۔ اس میںیہ شق ضرور ہو کہ وہ امسال بغیر عمرہ کئے واپس چلے جائیں، تاکہ عرب کبھی یہ نہ کہہ سکیں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زبردستی ہمارے ہاں آگئے، پھر سہیل آیا، اس سے آگے سارا وہی بیان ہے جو قبل ازیں پہلی سند سے حدیث میں بیان ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ صلح ہو گئی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا کر ان سے فرمایا لکھو۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم تو سہیل بن عمر ونے کہا میں تو اس کلام کو نہیں سمجھتا۔ اس کی بجائے آپ لکھیں: بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا تم بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ ہی لکھ دو،یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سہیل بن عمرو کے ساتھ کر رہے ہیں، سہیل بن عمرو پھر بولا کہ اگر میںیہ گواہی دیتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں آپ سے کبھی بھی قتال نہ کرتا۔ آپ یوں لکھیں کہ یہ وہ معاہدہ جس کے تحت محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو عہد کرتے ہیں کہ دس سال تک آپس میں کوئی لڑائی نہ کریں گے۔ اس عرصہ میں لوگ اطمینان اور امن سے رہیں گے اور ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے باز رہیں گے۔ نیزیہ کہ ( مکہ سے) کوئی مسلمان اپنے سر پرست کی اجازت کے بغیر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو وہ اسے اہل مکہ کی طرف واپس بھیجیں گے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھیوں میں سے اگر کوئی قریش کے پاس آیا تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے، اس دوران ہمارے دل ایک دوسرے کی طرف سے صاف رہیں گے، خفیہ چوریاں نہ کریں گے اور نہ دلوں میں بغض رکھیں گے، معاہدہ صلح میںیہ شرط بھی تھی کہ دیگر قبائل میں سے جو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حلیف بننا چاہے بن سکے گا، اسی طرح جو قریش کا حلیف بننا چاہے بن سکے گا۔ خزاعہ قبیلہ نے جلدی سے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عقدوعہد میں آتے ہیں اور بنو بکر قبیلہ نے کہا کہ ہم قریش کے عقدوعہد میں آتے ہیں۔ نیزیہ کہ آپ اس سال عمرہ کئے بغیر واپس چلے جائیں اور مکہ میں نہ آئیں، جب آئندہ سال ہو گا ہم آپ کو نہیں روکیں گے۔ آپ اپنے اصحاب کی معیت میں مکہ میں آسکیں گے اور تین دن قیام کریں گے۔ آپ کے ہمراہ محض اس قدر ہتھیار ہوں گے، جس قدر کسی سوار کے پاس دورانِ سفر ہوتے ہیں، آپ کی تلواریں میانوں میں رہیں گی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھییہ تحریر لکھوا رہے تھے کہ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بن سہیل بن عمر بیڑیوں میں مقید کسی طرح بچ بچا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب جب مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خواب کی بنیاد پر انہیں فتح کا کامل یقین تھا، لیکن جب انہوں نے یہ صورت حال دیکھی کہ آپ کفار کے ساتھ صلح کر رہے ہیں اور عمرہ کئے بغیر واپسی کے لیے آمادہ ہوئے ہیں۔ اور آپ نے بظاہر اپنے خلاف شرائط کو قبول کر لیا ہے تو صحابہ کو شدید دھچکا لگا، قریب تھا کہ کچھ لوگ ہلاک ہو جاتے۔ سہیل نے ابو جندل کو دیکھا تو وہ اُٹھ کر ابو جندل کی طرف گیا اور اس کے چہرے پر تھپڑ مارا اور کہا: اے محمد! آپ کے اور میرے درمیان صلح کا معاہدہ اس کے آنے سے پہلے طے پا چکا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں ٹھیک ہے۔ تو وہ اُٹھ کر ابو جندل کی طرف گیا اور اس کے کپڑوں کو پکڑ کر سختی سے جھنجوڑا۔ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بلند آواز سے چیخے: ارے مسلمانو! کیا تم مجھے مشرکین کی طرف واپس کر دو گے تاکہ وہ دین کی وجہ سے مجھے مزید سزائیں دیں؟ لوگوں کے دلوں میں جو برے خیالات آچکے تھے، یہ دیکھ کر ان کے خیالات مزید منتشر ہو گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: صبر کرو اور اللہ سے ثواب وجزا کی امید رکھو،تم اور تمہارے علاوہ جس قدر کمزور لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ تم سب کی رہائی کی کوئی راہ نکال دے گا، ہم ان لوگوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر چکے ہیں، اس بارے میں ہم ان کو اور وہ ہمیں عہد دے چکے ہیں، ہم وعدہ خلافی ہرگز نہیں کریں گے۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف لپک کر گئے اور اس کے پہلو بہ پہلو چلنے لگے اور ان سے کہنے لگے: ابو جندل! صبر کرو، یہ لوگ مشرک ہیں، ان کا خون کتوں کا سا ہے۔ ساتھ ہی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی تلوار کا دستہ ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قریب کرتے گئے، مجھے لگتا تھا کہ وہ تلوار ابو جندل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے باپ کو مار دیں گے، اس نے اپنے باپ کو بچا لیا اور یہ قضیہ مکمل ہو گیا، اس کے بعد راوی نے ساری تفصیل ذکر کی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو اونٹ نحر کرنے اور بال منڈوانے کا حکم دیا، انہوں نے تعمیل میں توقف کیا،یہاں تک کہ پہلے خود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اونٹ کو نحر کیا اور سر منڈوایا جیسا کہ پہلی سند سے مفصل بیان ہو چکا ہے، اس کے بعد لوگ اُٹھ کر اپنے اپنے اونٹوں کو نحر کرنے لگے اور بال منڈانے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ اور مدینہ کے درمیان ابھی راستہ ہی میں تھے کہ سورۂ فتح نازل ہوئی۔
Musnad Ahmad
10816
۔ (۱۰۸۱۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ: خَرَجَ مَرْحَبٌ الْیَہُودِیُّ مِنْ حِصْنِہِمْ، قَدْ جَمَعَ سِلَاحَہُ یَرْتَجِزُ وَیَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی مَرْحَبُ، شَاکِی السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ، أَطْعَنُ أَحْیَانًاوَحِینًا أَضْرِبُ،إِذَا اللُّیُوثُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ، کَانَ حِمَایَ لَحِمًی لَا یُقْرَبُ، وَہُوَ یَقُولُ: مَنْ مُبَارِزٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنْ لِہٰذَا؟)) فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ: أَنَا لَہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَنَا وَاللّٰہِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ، قَتَلُوا أَخِی بِالْأَمْسِ، قَالَ: ((فَقُمْ إِلَیْہِ، اللَّہُمَّ أَعِنْہُ عَلَیْہِ۔)) فَلَمَّا دَنَا أَحَدُہُمَا مِنْ صَاحِبِہِ دَخَلَتْ بَیْنَہُمَا شَجَرَۃٌ عُمْرِیَّۃٌ مِنْ شَجَرِ الْعُشَرِ، فَجَعَلَ أَحَدُہُمَا یَلُوذُ بِہَا مِنْ صَاحِبِہِ، کُلَّمَا لَاذَ بِہَا مِنْہُ اقْتَطَعَ بِسَیْفِہِ مَا دُونَہُ حَتّٰی بَرَزَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا لِصَاحِبِہِ، وَصَارَتْ بَیْنَہُمَا کَالرَّجُلِ الْقَائِمِ مَا فِیہَا فَنَنٌ، ثُمَّ حَمَلَ مَرْحَبٌ عَلٰی مُحَمَّدٍ فَضَرَبَہُ، فَاتَّقٰی بِالدَّرَقَۃِ فَوَقَعَ سَیْفُہُ فِیہَا فَعَضَّتْ بِہِ فَأَمْسَکَتْہُ، وَضَرَبَہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَتَّی قَتَلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۲۰۱)
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مرحب یہودی ہتھیاروں سے مسلح ہو کر یہ رجز پڑھتا ہوا قلعہ سے باہر آیا: فَقَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّیْ مَرْحَبٗ شَاکِیْ السَّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبٗ أَطْعَنُ أَحْیَانًا وَحِینًا أَضْرِبُ إِذَا الْحُرُوْبُ أَقْبَلَتْ تَلَھَّبٗ کَانَ حِمَایَ لَحِمًی لَا یُقْرَبُ خیبر بخوبی جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار بندہوں، سورماہوں اور منجھا ہوا ہوں۔ میں کبھی نیزہ مارتا ہوں تو کبھی ضرب لگاتا ہوں۔ جب لڑائیاں بھڑک اٹھتی ہیں تو میں متوجہ ہوتا ہوں۔ میرا دفاع ایسے لوگوں کے لیے ہے جو میرے قریب بھی نہیں پھٹکتے اور وہ چیلنج دیتا آرہا تھا کہ ہے کوئی میرا مدمقابل جو سامنے آئے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے مقابلے میں کون جائے گا؟ سیدنا محمد بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کے مقابلہ میں جا نے کے لیے تیار ہوں۔ اللہ کی قسم! میں ان سے بدلہ لینے کا خواہش مند ہوں، کیوں کہ انہوں نے کل میرے بھائی کو قتل کر دیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم ہی اُٹھو، یا اللہ ! اُس کے مقابلے میں اس کی مدد فرما۔ جب وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو گونددار ایک بہت پرانا اور بڑا درخت ان کے درمیان حائل ہو گیا، ان میں سے ہر ایک دوسرے کے وارسے بچنے کے لیے درخت کی اوٹ میں ہو جاتا، جب ان میں سے ایک درخت کی اوٹ میں ہوتا تو دوسرا اپنی تلوار چلا کر اس درخت (کی شاخوں کو) کاٹ دیتا،یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے آگئے اور وہ درخت ان دونوں کے درمیانیوں ہو گیا جیسے کوئی آدمی کھڑا ہو اور اس درخت پر کوئی شاخ نہ تھی۔ پھر مرحب، محمد بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر حملہ آور ہوا اور اس نے تلوار چلائی، سیدنا محمد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ڈھال سے وار کو روکا اور مرحب کی تلوار ان کی ڈھال پر جا لگی اور اس میں دھنس کر رہ گئی پھر محمد بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس پر وار کر کے اسے قتل کر دیا۔
Musnad Ahmad
12433
۔ (۱۲۴۳۳)۔ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیِّ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَمْرُو بْنُ سَعِیدٍ إِلٰی مَکَّۃَ بَعْثَہُ یَغْزُو ابْنَ الزُّبَیْرِ أَتَاہُ أَبُو شُرَیْحٍ، فَکَلَّمَہُ وَأَخْبَرَہُ بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلٰی نَادِی قَوْمِہِ فَجَلَسَ فِیہِ، فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَجَلَسْتُ مَعَہُ فَحَدَّثَ قَوْمَہُ، کَمَا حَدَّثَ عَمْرَو بْنَ سَعِیدٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَمَّا قَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ سَعِیدٍ، قَالَ: قُلْتُ: ہٰذَا إِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ افْتَتَحَ مَکَّۃَ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ عَدَتْ خُزَاعَۃُ عَلٰی رَجُلٍ مِنْ ہُذَیْلٍ فَقَتَلُوہُ وَہُوَ مُشْرِکٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِینَا خَطِیبًا، فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَکَّۃَیَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَہِیَ حَرَامٌ مِنْ حَرَامِ اللّٰہِ تَعَالٰی إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، لَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ فِیہَا دَمًا، وَلَا یَعْضِدَ بِہَا شَجَرًا، لَمْ تَحْلِلْ لِأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ یَکُونُ بَعْدِی، وَلَمْ تَحْلِلْ لِی إِلَّا ہٰذِہِ السَّاعَۃَ غَضَبًا عَلٰی أَہْلِہَا، أَ لَا ثُمَّ قَدْ رَجَعَتْ کَحُرْمَتِہَا بِالْأَمْسِ، أَ لَا! فَلْیُبَلِّغْ الشَّاہِدُ مِنْکُمْ الْغَائِبَ، فَمَنْ قَالَ لَکُمْ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ قَاتَلَ بِہَا فَقُولُوْا: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَلَّہَا لِرَسُولِہِ وَلَمْ یُحْلِلْہَا لَکُمْ، یَا مَعْشَرَ خُزَاعَۃَ وَارْفَعُوا أَیْدِیَکُمْ عَنِ الْقَتْلِ، فَقَدْ کَثُرَ أَنْ یَقَعَ لَئِنْ قَتَلْتُمْ قَتِیلًا لَأَدِیَنَّہُ، فَمَنْ قُتِلَ بَعْدَ مَقَامِی ہٰذَا، فَأَہْلُہُ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ إِنْ شَائُ وْا فَدَمُ قَاتِلِہِ، وَإِنْ شَائُ وْا فَعَقْلُہُ۔)) ثُمَّ وَدٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ الَّذِی قَتَلَتْہُ خُزَاعَۃُ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَعِیدٍ لِأَبِی شُرَیْحٍ: انْصَرِفْ أَیُّہَا الشَّیْخُ! فَنَحْنُ أَعْلَمُ بِحُرْمَتِہَا مِنْکَ، إِنَّہَا لَا تَمْنَعُ سَافِکَ دَمٍ، وَلَا خَالِعَ طَاعَۃٍ، وَلَا مَانِعَ جِزْیَۃٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ کُنْتُ شَاہِدًا وَکُنْتَ غَائِبًا، وَقَدْ بَلَّغْتُ، وَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُبَلِّغَ شَاہِدُنَا غَائِبَنَا، وَقَدْ بَلَّغْتُکَ فَأَنْتَ وَشَأْنُکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۹۰)
ابوشریح خزاعی سے مروی ہے کہ جب عمرو بن سعید نے سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکربھیجا تو ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے پاس آکر اس سے گفتگو کی اور انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو سنا تھا اسے وہ بتلایا، اس کے بعد وہ اپنی قوم میں آکر بیٹھ گئے، تو میں بھی اٹھ کر ان کے پاس جا بیٹھا، تو انہو ںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی جو بات عمرو بن سعید کو سنائی اور اس کے جواب میں عمرو بن سعید نے جو کچھ کہا، انہوں نے وہ ساری بات قوم کو سنائی،انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس سے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو دوسرے ہی دن بنو خزاعہ نے بنو ہذیل کے ایک آدمی پر حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا، مقتول مشرک تھا، ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ دور جاہلیت میں اس نے ان کے کسی آدمی کو مارا تھا، تو انہوں نے اس کا انتقام کے لیا، کیونکہ وہ مدت سے اسی تاک میں تھے تو اس واقعہ کے بعد اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ نے جب سے آسمان اور زمین بنائے ہیں اس نے اسی دن سے مکہ کو حرمت والا قرا ردیا ہے، لہٰذ ا یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق قیامت تک حرم ہی رہے گا، جس آدمی کا اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس شہر میں کسی کا ناحق خون بہائے، وہ ان اس کے کسی درخت کو کاٹے مجھ سے پہلے اور میرے بعد اس میں لڑائی کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں اور اہل مکہ پر غضب کی وجہ سے مجھے بھی صرف اس تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی گئی تھی، خبردار! اب دوبارہ اس کی حرمت اسی طرح ہے جیسے کل تھی، خبردار! تم میں سے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، اگر کوئی تم سے کہے کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو مکہ میں لڑائی لڑی ہے، توتم اس سے کہنا:کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے تو مکہ میں لڑائی کی اجازت دی تھی، اس نے تمہیں اس کی اجازت نہیں دی ہے، اے خزاعہ کے خاندان! تم قتل سے اپنے ہاتھوں کو روک لو، یہ کام بہت ہو چکا، تم ایک آدمی کو قتل کر چکے ہو، اس کی دیت یعنی خون بہا میں ادا کروں گا، اس وقت کے بعد جو آدمی مارا گیا تو اس کے ورثاء کو دو بہترین میں سے کسی ایک کا اختیار ہو گا، وہ چاہیں گے تو قاتل کو قتل کر یں گے اور اگر چاہیں گے تو خون بہا وصول کریں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کا خون بہا ادا کر دیا، جو بنو خزاعہ نے مارا تھا،یہ ساری حدیث سن کر عمرو بن سعید نے ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا ارے بوڑھے! جا جا مکہ کی حرمت کو ہم تم سے بہتر جانتے ہیں، یہ حرمت ناحق خون بہانے والے اطاعت سے منہ موڑنے والے اور کسی مجرم کے لیے نہیں ہے، ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتلایا کہ عمرو کی یہ بات سن کر میں نے ان سے کہا: کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی، میں وہاں موجود تھا، تم نہیں تھے اور میں یہ حدیث تم تک پہنچا چکا کیونکہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم سے جو بھی وہاں موجود ہے وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادے جو وہاں ا س وقت موجود نہ تھے، میں یہ بات تم تک پہنچاچکا ہوں، اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی۔