TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 207 - تقدیر پر ایمان لانے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 10 in this chapter
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
۔ (۲۰۷)۔عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ شَیْئٍ حَقِیْقَۃٌ، وَمَا بَلَغَ عَبْدٌ حَقِیْقَۃَ الْاِیْمَانِ حَتَّی یَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَہُ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَہُ وَمَا أَخْطَاَہُ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۸)
سیدنا ابو درداءؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور آدمی ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک اسے اس چیز کا (پختہ) علم نہ ہو جائے کہ جو چیز (اللہ کی تقدیر کے فیصلے کے مطابق) اسے لاحق ہونی ہے وہ اس سے تجاوز نہیں کر سکتی اور جس چیز نے اس سے تجاوز کرنا ہے وہ اسے لاحق نہیں ہو سکتی۔
207
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۲۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو الربیع سلیمان بن عتبۃ مختلف فیہ، وقد تفرد بہ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ۔أخرجہ الطبرانی (انظر: ۲۷۴۹۰)

Related Chapters

258
1
باب: اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
بَاب الْإِيمَان بِالْقدرِ
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
Mishkat
3
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
Sahih Muslim
4
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
5
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
Musnad Ahmad
7
محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
Musnad Ahmad
8
(53) CHAPTER. The conversion of Salman Al-Farisi to Islam.
حضرت سلمان فارسی رضیاللہعنہ کے ایمان لانے کا واقعہ
Sahih Bukhari
9
Chapter: Belief In The Divine Decree And Submission To It
تقدیر پر ایمان لانا اور اس پر راضی ہونا
Sahih Muslim
10
Chapter: Allah's Saying: Has Not The Time Come For The Hearts Of Those Who Believe To Be Affected By Allah's Reminder
فرمان باری تعالیٰ: کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یاد کرتے ہوئے گڑگڑائیں کی تفسیر
Sahih Muslim
11
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
Silsila Sahih
12
Chapter: What Has Been Related About Giving To Those Whose Hearts Are Inclined (Toward Islam)
باب: تالیف قلب اور قریب لانے کے مقصد سے زکاۃ میں سے خرچ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
14
Chapter: Regarding Burning And Destroying
باب: دوران جنگ کفار و مشرکین کے گھر جلانے اور ویران کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Feeding Others
باب: کھانا کھلانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The One Providing Water For People Is The Last Of Them To Drink
باب: ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیئے گا؟
Jam e Tirmazi
17
باب: تقدیر کے مسئلہ میں بحث و تکرار بڑی بری بات ہے
Jam e Tirmazi
18
باب: تقدیر کے مسئلہ میں آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مناظرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: اچھی اور بری تقدیر (قسمت) کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: صرف دعا ہی تقدیر ٹال سکتی ہے
Jam e Tirmazi
21
باب: جھاڑ پھونک اور دوا، اللہ کی تقدیر میں سے کچھ بھی رد نہیں کر سکتی
Jam e Tirmazi
22
باب: تقدیر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Jibril Describing Iman and Islam to the Prophet (SAW)
باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ایمان و اسلام کے اوصاف بیان کرنا
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related Linking The Obligations To Iman
باب: ایمان میں دوسرے فرائض و واجبات کے داخل ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: Regarding The Completion Of Faith, Its Increasing And Decreasing
باب: ایمان کے کامل ہونے اور اس میں کمی و زیادتی کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Al-Haya' (Modesty) Is Part of Faith
باب: حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: Whoever Calls To Guidance And Is Followed Or To Misguidance
باب: ہدایت اور گمراہی کی طرف بلانے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
28
ایمان کے ابواب
Mishkat
29
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
Mishkat
30
بَاب قتل أهل الرِّدَّة والسعاة بِالْفَسَادِ
مرتدوں اور فساد پھیلانے والوں کو قتل کرنے کا بیان
Mishkat
31
ایمان اور اسلام کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
32
ایمان، اسلام اور احسان کی وضاحت کا بیان
Musnad Ahmad
33
ایمان کے شعبوں اور اس کی مثال کا بیان
Musnad Ahmad
34
ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
Musnad Ahmad
35
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
Musnad Ahmad
36
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
37
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
Musnad Ahmad
38
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
39
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
Musnad Ahmad
40
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
42
دین میں بدعت سے ڈرانے اور گمراہی کی طرف بلانے والے کے گناہ کا بیان
Musnad Ahmad
43
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
44
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان
Musnad Ahmad
45
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
Musnad Ahmad
46
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
47
قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کا بیان
Musnad Ahmad
48
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
Musnad Ahmad
49
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
Musnad Ahmad
50
گھوڑوں کی عزت کرنے، ان کو چارہ کھلانے اور ان کی تضمیر کا بیان، نیز لمبے ہو جانے والے بالوں کو کاٹنے کی ممانعت
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

41
Musnad Ahmad
67
۔ (۶۷)۔عَنْ أَبِیْ رَزِیْنٍ الْعُقَیْلِیِّؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ وَ أَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِمَّا سِوَاہُمَا، وَأَنْ تُحْرَقَ بِالنَّارِ أَحَبُّ إِلَیْکَ مِنْ أَنْ تُشْرِکَ بِاللّٰہِ، وَأَْنْ تُحِبَّ غَیْرَ ذِیْ نَسْبٍ لَا تُحِبُّہُ إِلَّا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِذَا کُنْتَ کَذٰلِکَ فَقَدْ دَخَلَ حُبُّ الْاِیْمَانِ فِی قَلْبِکَ کَمَا دَخَلَ حُبُّ الْمَائِ لِلظَّمْآنِ فِی الْیَوْمِ الْقَائِظِ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ لِیْ بِأَْنْ أَعْلَمَ أَنِّیْ مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: ((مَا مِنْ أُمَّتِی أَوْ ہَذِہِ الْأُمَّۃِ عَبْدٌ یَعْمَلُ حَسَنَۃً فَیَعْلَمُ أَنَّہَا حَسَنَۃٌ وَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَازِیْہِ بِہَا خَیْرًا، وَلَا یَعْمَلُ سَیِّئَۃً، فَیَعْلَمُ أَنَّہَا سَیِّئَۃٌ وَیَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ مِنْہَا وَیَعْلَمُ أَنَّہُ لَا یَغْفِرُ إِلَّا ہُوَ إِلَّا وَہُوَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۲۹۵)
سیدنا ابو رزین عقیلیؓ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ یکتا و یگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ اللہ اور اس کا رسول، باقی تمام چیزوں کی بہ نسبت تجھے سب سے زیادہ محبوب ہوں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کی بہ نسبت تجھے آگ میں جل جانا زیادہ پسند ہو اور یہ کہ تو کسی غیر رشتہ دار سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے۔ جب اس طرح ہو جائے گا ، یعنی جب یہ امور سرانجام دے لے گا تو تیرے دل میں ایمان کی محبت اس طرح داخل ہو جائے گی، جیسے سخت گرمی والے دن میں پیاسے کے اندر پانی کی محبت سرایت کر جاتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں مومن ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری امت کا جو آدمی نیکی کرے، جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ یہ نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس کا بدلہ دینے والا ہے، اسی طرح جو آدمی برائی کرے، جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ یہ واقعی برائی ہے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ صرف وہی بخشتا ہے تو وہ مؤمن ہو گا۔
Musnad Ahmad
68
۔ (۶۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا قَدِمُوْا الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِمَّنِ الْوَفْدُ أَوْ قَالَ الْقَوْمُ؟)) قَالُوْا: رَبِیْعَۃَ، قَالَ: ((مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ قَالَ الْقَوْمِ، غَیْرَ خَزَایَا وَلَا نَدَامٰی۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتَیْنَاکَ مِنْ شُقَّۃٍ بَعِیْدَۃٍ وَبَیْنَنَا وَبَیْنَکَ ہَذَا الْحَیُّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَ وَلَسْنَا نَسْتَطِیْعُ أَنْ نَأْتِیَکَ إِلَّا فِی شَہْرٍ حَرَامٍ، فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِہِ الْجَنَّۃَ وَ نُخْبِرُ بِہِ مَنْ وَرَائَ نَا، وَسَأَلُوْہُ عَنِ الْأَشْرِبَۃِ فَأَمَرَہُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَہَاہُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، أَمَرَہُمْ بِالْاِیْمَانِ بِاللّٰہِ، قَالَ: ((أَتَدْرُوْنَ مَا الْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((شَہَادَۃُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَإِقَامُ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائُ الزَّکَاۃِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَ أَنْ تُعْطُوْالْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ۔)) وَنَہَاہُمْ عَنِ الدُّبَّائِ وَ الْحَنْتَمِ وَالنَّقِیْرِ وَالْمُزَفَّتِ، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ: الْمُقَیَّرِ، قَالَ: ((احْفَظُوْہُنَّ وَأَخْبِرُوْا بِہِنَّ مَنْ وَرَائَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ عبد القیس کا وفد جب مدینہ منورہ پہنچا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس وفد یا اس قوم کا تعلق کن سے ہے؟ انھوں نے کہا: ہم ربیعہ سے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس وفد یا قوم کو مرحبا، رسوائی اور ندامت کے بغیر آ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم دور کا سفر کر کے آپ کے پاس آئے ہیں، چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان کافروں کا یہ مضر قبیلہ رکاوٹ بنا ہوا ہے، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں آ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کوئی ایسا حکم دیں کہ ہم اس کے ذریعے جنت میں داخل ہو جائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی تعلیم دیں، پھر ان لوگوں نے پینے کے برتنوں کے بارے میں سوال کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو چار چیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کا حکم دیا اور پھر پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ ایمان باللہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو کدو کے برتن، سبز مٹکوں، کھجور کے تنے سے بنائے ہوئے برتن اور تارکول والے برتن سے منع کیا اور فرمایا: یہ امور یاد کر لو اور اپنے پچھلے لوگوں کو بھی ان کی خبر دو۔
Musnad Ahmad
69
۔ (۶۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا قَدِمُوْا الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِمَّنِ الْوَفْدُ أَوْ قَالَ الْقَوْمُ؟)) قَالُوْا: رَبِیْعَۃَ، قَالَ: ((مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ قَالَ الْقَوْمِ، غَیْرَ خَزَایَا وَلَا نَدَامٰی۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتَیْنَاکَ مِنْ شُقَّۃٍ بَعِیْدَۃٍ وَبَیْنَنَا وَبَیْنَکَ ہَذَا الْحَیُّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَ وَلَسْنَا نَسْتَطِیْعُ أَنْ نَأْتِیَکَ إِلَّا فِی شَہْرٍ حَرَامٍ، فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِہِ الْجَنَّۃَ وَ نُخْبِرُ بِہِ مَنْ وَرَائَ نَا، وَسَأَلُوْہُ عَنِ الْأَشْرِبَۃِ فَأَمَرَہُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَہَاہُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، أَمَرَہُمْ بِالْاِیْمَانِ بِاللّٰہِ، قَالَ: ((أَتَدْرُوْنَ مَا الْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((شَہَادَۃُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَإِقَامُ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائُ الزَّکَاۃِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَ أَنْ تُعْطُوْالْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ۔)) وَنَہَاہُمْ عَنِ الدُّبَّائِ وَ الْحَنْتَمِ وَالنَّقِیْرِ وَالْمُزَفَّتِ، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ: الْمُقَیَّرِ، قَالَ: ((احْفَظُوْہُنَّ وَأَخْبِرُوْا بِہِنَّ مَنْ وَرَائَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۰)
عبد اللہ یشکری کہتے ہیں: میں خچر لانے کے لیے کوفہ گیا، جب میں بازار پہنچا تو دیکھا کہ وہ ابھی تک بند تھا، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: اگر ہم مسجد میں چلے جائیں (تو بہتر ہو گا)، جبکہ مسجد کی جگہ کھجور والوں کے درمیان تھی، ہم نے دیکھا کہ مسجد میں قیس قبیلے کا ایک آدمی تھا، لوگ اسے ابن منتفق کہتے تھے، وہ یہ بیان کر رہا تھا: ایک آدمی نے میرے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صفات بیان کیں، پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو منیٰ میں تلاش کیا، لیکن کسی نے مجھے بتلایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو اس وقت عرفات میں ہوں گے، میں وہاں تک پہنچ گیا، لیکن جب میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے آنا چاہا تو مجھے کہا گیا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے راستے سے پرے ہٹ جا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس بندے کو بلاؤ، اس کے اعضاء ناکارہ ہو جائے، کیا ہے اس کو۔ چنانچہ میں دھکیلتے ہوئے آگے بڑھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تک پہنچ گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری کی لگام پکڑ لی اور کہا: دو چیزوں کے بارے میں میں سوال کروں گا، کون سا عمل مجھے آگ سے نجات دلائے گا اور کون سا عمل مجھے جنت میں داخل کرے گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر اپنے سر کو جھکا لیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے چہرے کے ساتھ میری طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا: تو نے سوال تو بڑا مختصر کیا ہے، لیکن حقیقت میں بڑی عظیم اور لمبی بات کر دی ہے، بہرحال اب میری بات کو سمجھ، تو نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، فرضی نماز ادا کرنی ہے، فرضی زکوۃ دینی ہے، رمضان کے روزے رکھنے ہیں اور لوگوں کی طرف سے جو چیز تو اپنے حق میں پسند کرتا ہے، ان کے حق میں بھی اسی چیز کا انتخاب کر اور لوگوں کی طرف سے جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، تو لوگوں کو بھی اس چیز سے محفوظ رکھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اب سواری کے راستے سے ہٹ جا۔
Musnad Ahmad
71
۔ (۷۱)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ: ((أَنْ یُسْلِمَ قَلْبُکَ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَ أَنْ یَسْلَمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِکَ وَیَدِکَ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْاِیْمَانُ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ)، قَالَ: وَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ مَـلَائِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَ رُسُلِہِ وَ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ: وَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَۃُ)، قَالَ: فَأَیُّ الْاِیْمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْہِجْرَۃُ۔)) قَالَ: وَمَا الْہِجْرَۃُ؟ قَالَ: ((تَہْجُرُ السُّوْئَ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْہِجْرَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الْجِہَادُ۔)) قَالَ: وَمَا الْجِہَادُ؟ قَالَ: ((أَنْ تُقَاتِلَ الْکُفَّارَ إِذَا لَقِیْتَہُمْ۔)) قَالَ: فَأَیُّ الْجِہَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ عُقِرَ جَوَادُہُ وَ أُہْرِیْقَ دَمُہُ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثُمَّ عَمَلَانِ ہُمَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِہِمَا، حَجَّۃٌ مَبْرُوْرَۃٌ أَوْ عُمْرَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۵۲)
سیدنا عمرو بن عبسہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تیرا دل اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جائے اور دوسرے مسلمان تیری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اس نے کہا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان۔ ایک روایت میں ہے : اچھا اخلاق۔ اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، رسولوں پر اور موت کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لائے۔ ایک روایت میںہے: اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صبر و سماحت۔ اس نے کہا: افضل ایمان کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہجرت۔ اس نے کہا: ہجرت کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: برائی کو ترک کر دینا۔ اس نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جہاد۔ اس نے کہا: جہاد کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کافروں سے مقابلہ ہو تو ان سے قتال کرنا۔ اس نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور خود اس کا خون بہا دیا جائے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پھر دو عمل ہے، وہ افضل ترین ہیں اور(ان کو کرنے والا سب سے زیادہ افضل ہے) الا یہ کہ کوئی آدمی ان ہی دو پر عمل کرے، حج مبرور یا عمرہ۔
Musnad Ahmad
86
۔ (۸۶)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ بَابًا، أَفْضَلُہَا لَاإِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَدْنَاہَا إِمَاطَۃُ الْأَذَی عَنِ الطَّرِیْقِ، وَالْحَیَائُ شُعْبَۃٌ مِنَ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۹۳۵۰)
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان کے پچھہتر چھہتر شعبے ہیں، ان میں افضل شعبہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور کم تر شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
Musnad Ahmad
92
۔ (۹۲)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَفْضَلِ الْاِیْمَانِ قَالَ: ((أَنْ تُحِبَّ لِلّٰہِ وَ تُبْغِضَ لِلّٰہِ وَ تُعْمِلَ لِسَانَکَ فِی ذِکْرِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: وَمَا ذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِکَ وَ تَکْرَہَ لَہُمْ مَا تَکْرَہُ لِنَفْسِکَ۔)) (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ:وَأَنْ تَقُوْلَ خَیْرًا أَوْ تَصْمُتَ)۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۸۳)
سیدنا معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے، اللہ تعالیٰ کے بغض رکھے اور اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رکھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مزید کچھ فرما دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اور تو لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرے، جو اپنے لیے پسند کرے اور ان کے لیے اس چیز کو ناپسند کرے، جس کو اپنے لیے ناپسند کرے۔ ایک روایت میں ہے : اور بھلائی والی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔
Musnad Ahmad
93
۔ (۹۳)۔عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ ؓ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((ذَاقَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَ بِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا وَ رَسُوْلًا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۹)
سیدنا عباس بن عبد المطلبؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اس بندے نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ، جو اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے نبی اور رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔
Musnad Ahmad
157
۔ (۱۵۷)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی أُحَدِّثُ نَفْسِیْ بِالْحَدِیْثِ، لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَائِ أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أَتَکَلَّمَ بِہِ، قَالَ: ((ذَالِکَ صَرِیْحُ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۹۱۴۵)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے نفس میں بعض باتیں تو ایسی آ جاتی ہیں کہ مجھے آسمان سے گرنا اس سے زیادہ پسند لگتا ہے کہ میں ان کے ساتھ کلام کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو صریح ایمان کی علامت ہے۔
Musnad Ahmad
158
۔ (۱۵۸)۔ (وَ عَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ)۔قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نَجِدُ فِی أَنْفُسِنَا مَا یَسُرُّنَا نَتَکَلَّمُ بِہِ وَ اِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ، قَالَ: ((أَوَجَدْتُّمْ ذَالِکَ؟)) قَالُوا: نَعَم، قَالَ: ((ذَاکَ صَرِیْحُ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۹۶۹۲)
ان سے ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت مروی ہے لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے نفسوں میں ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہمیں دنیا کی وہ تمام چیزیں دے دی جائیں، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے تو پھر بھی ہمیں یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ ہم ان کے ساتھ گفتگو کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: کیا تم نے اس چیز کو محسوس کر لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ صریح ایمان کی علامت ہے۔