TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 210 - تقدیر پر ایمان لانے کا بیان - ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 10 in this chapter
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
۔ (۲۱۰)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عن أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُؤْمِنُ الْمَرْئُ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔)) قَالَ أَبُوْ حَازِمٍ: لَعَنَ اللّٰہُ دِیْنًا أَنَا أَکْبَرُ مِنْہُ، یَعْنِی الْتَکْذِیْبَ بِالْقَدْرِ۔ (مسند أحمد: ۶۷۰۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لاتا۔ ابو حازم نے کہا: اللہ تعالیٰ اس دین پر لعنت کرے کہ میں جس سے بڑا ہوں، ان کی مراد تقدیر کو جھٹلانے پر (ردّ کرنا ہے)۔
210
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۱۰) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۶۷۰۳)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …ابو حازم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس دین کی کیا اہمیت ہے کہ جس میں تقدیر پر ایمان لانے کی شق نہیں پائی جاتی، ایسا دین تو اتنا ناقص ہو گا کہ وہ ابو حازم سے بھی کم تر ہو گا۔

Related Chapters

258
1
باب: اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
بَاب الْإِيمَان بِالْقدرِ
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
Mishkat
3
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
Sahih Muslim
4
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
5
تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
Musnad Ahmad
7
محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
Musnad Ahmad
8
(53) CHAPTER. The conversion of Salman Al-Farisi to Islam.
حضرت سلمان فارسی رضیاللہعنہ کے ایمان لانے کا واقعہ
Sahih Bukhari
9
Chapter: Belief In The Divine Decree And Submission To It
تقدیر پر ایمان لانا اور اس پر راضی ہونا
Sahih Muslim
10
Chapter: Allah's Saying: Has Not The Time Come For The Hearts Of Those Who Believe To Be Affected By Allah's Reminder
فرمان باری تعالیٰ: کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یاد کرتے ہوئے گڑگڑائیں کی تفسیر
Sahih Muslim
11
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
Silsila Sahih
12
Chapter: What Has Been Related About Giving To Those Whose Hearts Are Inclined (Toward Islam)
باب: تالیف قلب اور قریب لانے کے مقصد سے زکاۃ میں سے خرچ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
14
Chapter: Regarding Burning And Destroying
باب: دوران جنگ کفار و مشرکین کے گھر جلانے اور ویران کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Feeding Others
باب: کھانا کھلانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The One Providing Water For People Is The Last Of Them To Drink
باب: ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیئے گا؟
Jam e Tirmazi
17
باب: تقدیر کے مسئلہ میں بحث و تکرار بڑی بری بات ہے
Jam e Tirmazi
18
باب: تقدیر کے مسئلہ میں آدم اور موسیٰ علیہما السلام کے درمیان مناظرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: اچھی اور بری تقدیر (قسمت) کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: صرف دعا ہی تقدیر ٹال سکتی ہے
Jam e Tirmazi
21
باب: جھاڑ پھونک اور دوا، اللہ کی تقدیر میں سے کچھ بھی رد نہیں کر سکتی
Jam e Tirmazi
22
باب: تقدیر سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Jibril Describing Iman and Islam to the Prophet (SAW)
باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ایمان و اسلام کے اوصاف بیان کرنا
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related Linking The Obligations To Iman
باب: ایمان میں دوسرے فرائض و واجبات کے داخل ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: Regarding The Completion Of Faith, Its Increasing And Decreasing
باب: ایمان کے کامل ہونے اور اس میں کمی و زیادتی کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Al-Haya' (Modesty) Is Part of Faith
باب: حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: Whoever Calls To Guidance And Is Followed Or To Misguidance
باب: ہدایت اور گمراہی کی طرف بلانے والوں کا بیان
Jam e Tirmazi
28
ایمان کے ابواب
Mishkat
29
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
Mishkat
30
بَاب قتل أهل الرِّدَّة والسعاة بِالْفَسَادِ
مرتدوں اور فساد پھیلانے والوں کو قتل کرنے کا بیان
Mishkat
31
ایمان اور اسلام کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
32
ایمان، اسلام اور احسان کی وضاحت کا بیان
Musnad Ahmad
33
ایمان کے شعبوں اور اس کی مثال کا بیان
Musnad Ahmad
34
ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان
Musnad Ahmad
35
اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا
Musnad Ahmad
36
امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
37
تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان
Musnad Ahmad
38
تقدیر پر رضامند ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
39
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
Musnad Ahmad
40
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
42
دین میں بدعت سے ڈرانے اور گمراہی کی طرف بلانے والے کے گناہ کا بیان
Musnad Ahmad
43
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
44
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان
Musnad Ahmad
45
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
Musnad Ahmad
46
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
47
قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کا بیان
Musnad Ahmad
48
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
Musnad Ahmad
49
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
Musnad Ahmad
50
گھوڑوں کی عزت کرنے، ان کو چارہ کھلانے اور ان کی تضمیر کا بیان، نیز لمبے ہو جانے والے بالوں کو کاٹنے کی ممانعت
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

3
Musnad Ahmad
81
۔ (۸۱)۔ عَنْ عَلِیٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی یُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ حَتَّی یَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ وَ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَ حَتَّی یُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۸)
سیدنا علیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک ان چار چیزوں پر ایمان نہیں لائے گا: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے۔
Musnad Ahmad
201
۔ (۲۰۱)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ(ؓ): اِنَّا نُسَافِرُ فِی الْآفَاقِ فَنَلْقٰی قَوْمًا یَقُوْلُوْنَ لَا قَدَرَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: اِذَا لَقِیْتُمُوْہُمْ فَأَخْبِرُوْہُمْ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ مِنْہُمْ بِرِیْئٌ وَأَنَّہُمْ مِنْہُ بُرَائُ ثَـلَاثًا، ثُمَّ أَنْشَأَ یُحَدِّثُ، بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ رَجُلٌ، فَذَکَرَ مِنْ ہَیْئَتِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُدْنُہُ۔)) فَدَنَا، فَقَالَ: ((أدْنُہُ۔)) فَدَنَا، فَقَالَ: ((أدْنُہُ۔)) فَدَنَا حَتَّی کَادَ رُکْبَتَاہُ تَمَسَّانِ رُکْبَتَیْہِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ مَا الْاِیْمَانُ أَوْ عَنِ الْاِیْمَانِ؟ قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ تُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ۔)) قَالَ سُفْیَانُ: أَرَاہُ قَالَ: ((بِخَیْرِہِ وَ شَرِّہِ۔)) قَالَ: فَمَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ: ((اِقَامُ الصَّلٰوۃِ وَ اِیْتَائُ الزَّکَاۃِ وَحَجُّ الْبَیْتِ وَصِیَامُ شَہْرِ رَمَضَانَ وَ غُسْلٌ مِنَ الْجَنَابَۃِ۔)) کُلَّ ذٰلِکَ قََالَ: صَدَقْتَ صَدَقْتَ، قَالَ الْقَوْمُ: مَا رَأَیْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِیْرًا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ہٰذَا، کَأَنَّہُ یُعْلِّمُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ، قَالَ: ((أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ۔)) أَوْ ((تَعْبُدُہُ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَا تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَ۔)) کُلَّ ذٰلِکَ نَقُوْلُ: مَا رَاَیْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِیْرًا لِرُسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ہٰذَا، فَیَقُوْلُ: صَدَقْتَ صَدَقْتَ،قَالَ: أَخْبِرْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ، قَالَ: ((مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ بِہَامِنَ السَّائِلِ۔))، قَالَ: فَقَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ ذَاکَ مِرَارًا، مَا رَأَیْنَا رَجُلًا أَشَدَّ تَوْقِیْرًا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ہٰذَا، ثُمَّ وَلّٰی، قَالَ سُفْیَانُ: فَبَلَغَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْتَمِسُوْہُ۔)) فَلَمْ یَجِدُوْہُ،قَالَ: ((ہٰذَا جِبْرِیْلُ جَائَکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ، مَا أَتَانِیْ فِیْ صُوْرَۃٍ اِلَّا عَرَفْتُہُ غَیْرَ ہٰذِہِ الصُّوْرَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۳۷۴)
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ؓ سے کہا: ہم لوگ مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا: اب جب تم ان کو ملو تو ان کو یہ بتلا دینا کہ عبد اللہ بن عمر ان سے اور وہ اِن سے بری ہیں، انھوں نے تین دفعہ یہ بات کہی، پھر انھوں نے یہ حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا، پھر اس کی حالت بیان کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس وہ قریب ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: مزید قریب ہو جا۔ وہ اور قریب ہو گیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اور قریب ہو جاؤ۔ پس وہ اتنا قریب ہو گیا کہ اس کے گھٹنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے گھٹنوں کو مسّ کرنے لگے، پھر اس بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے بتلائیں کہ ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالی، فرشتوں، کتابوں، رسولوں، آخرت کے دن اور تقدیر، وہ خیر والی ہو یا شرّ والی، پر ایمان لاؤ۔ اس نے کہا: اسلام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور غسلِ جنابت کرنا اسلام ہے۔ ہر دفعہ اس نے جواب میں کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ سچ فرما رہے ہیں۔ لوگوں نے کہا: ہم نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا کہ جو اس سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی توقیر کرنے والا ہو، لیکن ایسے لگتا ہے کہ یہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو تعلیم دے رہا ہے، بہرحال اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے احسان کے بارے میں بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے اور اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ ہر دفعہ ہم کہتے: ہم نے ایسا آدمی نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی توقیر کرنے والا ہو، پھر اس نے کہا: آپ سچ فرما رہے ہیں، آپ سچ فرما رہے ہیں، اچھا اب مجھے قیامت کے بارے میں بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے بارے میں تو مسئول، سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے۔ اس نے کہا: آپ سچ کہہ رہے ہیں، اس نے کئی دفعہ یہ بات کہی، ہم نے اس شخص کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سب سے زیادہ عزت کرنے والا پایا، پھر وہ چلا گیا۔ سفیان کہتے ہیں: مجھے یہ بات بھی موصول ہوئی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو تلاش کرو۔ لیکن صحابہ اس کو تلاش نہ کر سکے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ جبریلؑ تھے، وہ تم لوگوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے، پہلے تو جس صورت میں آتے تھے، میں اِن کو پہچان لیتا تھا، ما سوائے اس صورت کے، (آج میں اِن کو نہیں پہچان سکا)۔
Musnad Ahmad
230
۔ (۲۳۰)۔عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ لِابْنِ عُمَرَ (ؓ) صَدِیْقٌ مِنْ أَھْلِ الشَّامِ یُکَاتِبُہُ، فَکَتَبَ اِلَیْہِ مَرَّۃً عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ أَنَّہُ بَلَغَنِیْ تَکَلَّمْتَ فِیْ شَیْئٍ مِنَ الْقَدَرِ فَاِیَّاکَ أَنْ تَکْتُبَ اِلَیَّ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((سَیَکُوْنُ فِیْ أُمَّتِیْ أَقْوَامٌ یُکَذِّبُوْنَ بِالْقَدْرِ۔)) (مسند أحمد: ۵۶۳۹)
نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓکا شام میں ایک دوست تھا، وہ اِن کو خط لکھتا رہتا تھا، ایک دفعہ سیدنا عبد اللہ ؓ نے ان کی طرف یہ بات لکھی: مجھے تمہارے بارے میں یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم نے تقدیر کے مسئلے پر کچھ (ناجائز) گفتگو کی ہے، اس لیے اب مجھے خط لکھنے سے گریز کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے، جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔