TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان - نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان - نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of نماز کو باطل کرنے والے اور اس میں مکروہ اور جائز امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 14 · 8 Hadith
۔ (۱۹۰۶) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَوْصَانِیْ خَلِیْلِیْ بِثَلاَثٍ وَنَہَانِیْ عَنْ ثَلاَثٍ، أَوْصَانِیْ بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِیَامِ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، وَرَکْعَتَیْ الضُّحٰی۔ قَالَ: وَنَہَانِیْ عَنِ الإِْلْتِفَاتِ وَإِقْعَائٍ کَإِقْعَاِء الْقِرْدِ، وَنَقْرٍ کَنَقْرِالدِّیْکِ۔ (مسند احمد: ۷۵۸۵)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین چیزوں سے منع فرمایا، مجھے (حکم دیتے ہوئے) یہ وصیت فرمائی کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں، ہر ماہ میں تین روزے رکھوں اور چاشت کی دو رکعت پڑھا کروں۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (نماز میں) اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، بندر کے بیٹھنے کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگے مارنے سے منع کیا۔
Takhreej
(۱۹۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف یزید بن ابی زیاد الھاشمی۔ أخرجہ الطیالسی: ۲۵۹۳ (انظر: ۷۵۹۵)
1906
Sahih
۔ (۱۹۰۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ’ وَفِیْہِ وَنَہَانِیْ عَنْ نَقْرَۃٍ کَنَقْرَۃِ الدِّیْکِ، وَإِقْعَائٍ کَإِقْعَائِ الْکَلْبِ وَالْتِفَاتٍ کَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ۔ (مسند احمد: ۸۰۹۱)
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: اور آپ نے مجھے مرغ کی طرح ٹھونگے مارنے سے،کتے کی طرح بیٹھنے سے اور لومڑ کی طرح جھانکنے سے منع فرمایا۔
Takhreej
(۱۹۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی ویزید بن ابی زیاد الھاشمی، وانظر الحدیث بالطریق الاول(انظر: ۸۱۰۶)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے، لیکن اس میں بیان کردہ احکام دوسری احادیث میں ثابت ہیں۔ ٹھونگے مارنے سے مراد سجدہ کرتے وقت کی جلد بازی ہے، اور کتے یا لومڑ کی بیٹھک سے مراد اِقْعَائ کی ممنوع صورت ہے۔ ذہن نشین رہے کہ نماز میں اِقْعَائ کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت ناجائز ہے اور ایک جائز۔ اِقْعائ کی ناجائز صورت: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس حدیث میں اسی صورت سے منع کیا جا رہا ہے۔ اِقْعائ کی جائز صورت: نماز میں دو سجدوں کے درمیان نمازی کا اپنے پاؤں کھڑے کر کے سرینوں کو اپنی ایڑیوں پر رکھنا۔یہ صورت مسنون ہے۔ أَبْوَابُ صِفَۃِ الصَّلاَۃِ میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
1907
Zaeef
۔ (۱۹۰۸) عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ: ((اَلضَّاحِکُ فِی الصَّلاَۃِ وَالْمُلْتَفِتُ وَالْمُفَقِّعُ أَصَابِعَہُ بِمَنْزِلَۃٍ وَاحِدۃٍ)) (مسند احمد: ۱۵۷۰۶)
سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا نماز میں ہنسنے والا،جھانکنے والا اور اپنی انگلیوں کے پٹاخے نکالنے والا ایک درجہ کے لوگ ہیں۔
Takhreej
(۱۹۰۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ، وابن لھیعۃ ضعیف ایضا۔ أخرجہ والطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۴۱۹، والدار قطنی: ۱/ ۱۷۵ (انظر: ۱۵۶۲۱)
Explanation
فوائد:… اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن دیگر عام اور مطلق دلائل سے ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ مکروہ اور ناپسندیدہ امور ہیں۔
1908
Zaeef
۔ (۱۹۰۹) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ یَزَالُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلاً عَلَی الْعَبْدِ فِیْ صَلاَتِہِ مَا لَمْ یَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْہَہُ اِنْصَرَفَ عَنْہُ)) (مسند احمد: ۲۱۸۴۰)
سیدناابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی نماز کی طرف متوجہ رہتے ہیں، جب تک وہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا، پس جب وہ چہرہ پھیرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے پھر جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۹۰۹) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۹۰۹، والنسائی: ۳/۸ (انظر: ۲۱۵۰۸)
1909
Sahih
۔ (۱۹۱۰) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ التَّلَفُّتِ فِی الصَّلاَۃِ فَقَالَ: ((اِخْتِلاَسٌ یَخْتَلِسُہُ الشَّیْطَانُ مِنْ صَلاَۃِ الْعَبْدِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۱۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز میں جھانکنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ تواچکنا ہے، جسے شیطان بندے کی نماز سے اچک لیتا ہے۔
Takhreej
(۱۹۱۰) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ البخاری: ۷۵۱، ۳۲۹۱ (انظر: ۲۴۴۱۲، ۲۴۷۴۶)
1910
Sahih
۔ (۱۹۱۱) عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ! إِیَّاکُمْ وَالإِْلْتِفَاتَ فَإِنَّہُ لاَصَلاَۃَ لِلْمُلْتَفِتِ، فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِی التَّطَوُّعِ فَلاَ تُغْلَبُنَّ فِی الْفَرَائِضِ)) (مسند احمد: ۲۸۰۴۵)
سیدناابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اے لوگو! التفات سے بچو، کیونکہ التفات کرنے والے کی کوئی نماز نہیں ہے، اگر تم نفلی نماز میں مغلوب ہوجاؤ (تو دیکھ لیا کرو) بہرحال فرائض میں ہرگز مغلوب نہ ہونا۔
Takhreej
(۱۹۱۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، میمون ابو محمد المرائی التمیمی ذکرہ الذھبی فی المیزان فقال: میمون ابو محمد شیخ، حدث عنہ محمد بن بکر البرسانی، لایعرف۔ (انظر: ۲۷۴۹۷)
Explanation
فوائد:… قیام کے دوران نمازی کا سر جھکا ہوا ہو اور اس کی نگاہ سجدہ گاہ پر ہو، جیسا سنن بیہقی اور مستدرک حاکم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ نماز میں اِدھر اُدھر متوجہ ہونا، ان احادیث سے اس چیز کے حکم کا اندازہ ہو جاتا ہے، جب تک بندہ قبلہ رخ رہتا ہے، اس وقت تک ادھر ادھر دیکھنا مکروہ ہے اور نماز کے اجرو ثواب میں کمی آ جاتی ہے، لیکن اگر کوئی نمازی اتنا پھر جاتا ہے کہ وہ قبلہ رخ ہی نہیں رہتا، جبکہ اس کا عذر بھی کوئی نہیں ہوتا، تو اس کی نماز باطل ہو جائے اور وہ دوبارہ نماز شروع کرے گا۔ ذہن نشیں رہے کہ ضرورت کے وقت نماز میں ادھر ادھر دیکھنا جائزہے، جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی سیدنا سہل بن حنظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایت کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز فجر میں گھاٹی کی طرف متوجہ ہو کر دیکھتے تھے، سنن ابی داود کی روایت کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھاٹی کی طرف رات کے پہرے کے لیے ایک گھوڑ سوار بھیجا ہوا تھا۔ اسی طرح صحیح بخاری کی سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایت کے مطابق سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں کے تالیاں بجانے کی وجہ سے نماز میں پیچھے دیکھا تھا، پھر وہ پیچھے ہٹ آئے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے بڑھ گئے تھے۔
1911
Zaeef
۔ (۱۹۱۲) عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَقَدْ شَبَّکْتُ بَیْنَ أَصَابِعِیْ، فَقَالَ لِیْ: ((یَاکَعْبُ! إِذَا کُنْتَ فِی الْمَسْجِدِ فَلاَ تُشَبِّکْ بَیْنَ أَصَابِعِکَ فَأَنْتَ فِی صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتَ الصَّلاَۃَ)) (مسند احمد: ۱۸۳۱۰)
سیدناکعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ پر مسجد میں داخل ہوئے جبکہ میں نے اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک کی ہوئی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کعب! جب تو مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ ڈالا کر، کیونکہ جب تک تو نماز کی انتظار میں رہے گا، نماز میں ہی ہو گا۔
Takhreej
(۱۹۱۲) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۶۲، وابن ماجہ: ۹۶۷ (انظر: ۱۸۱۰۳، ۱۸۱۱۵)
1912
Sahih
۔ (۱۹۱۳) عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لاَ یَتَطَہَّرُ رَجُلٌ فِیْ بَیْتِہِ ثُمَّ یَخْرُجُ لاَ یُرِیْدُ إِلاَّ الصَّلاَۃَ إِلاَّ کَانَ فِی صَلاَۃٍ حَتّٰییَقْضِیَ صَلاَتَہُ، وَلاَ یُخَالِفْ أَحَدُکُمْ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدَیْہِ فِی الصَّلاَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۹۲)
سیدناکعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی گھر میں وضو کر کے صرف نماز کے لیے (مسجد کی طرف) نکلتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے، جب تک نماز پوری نہیں کر لیتا، اور تم سے کوئی نماز میں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان مخالفت نہ کرے (یعنی تشبیک نہ ڈالے)۔
Takhreej
(۱۹۱۳) تخریج: حدیث حسن، وانظر الحدیث المتقدم برقم: ۸۲۲ (انظر: ۱۸۱۱۲)
Explanation
فوائد:… تشبیک: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں مضبوطی کے ساتھ داخل کرنا۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تشبیک اس وقت منع ہے، جب آدمی نماز کے قصد سے مسجد کی طرف جا رہا ہو، یا نماز کا انتظار کر رہا ہو یا نماز ادا کر رہا ہو۔ ان صورتوں کے علاوہ کئی مقامات پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تشبیک کرنا ثابت ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما والی حدیث میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جب کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تشبیک کی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم) اسی طرح سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے، کہ اس کا بعض اس کے بعض کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بات سمجھانے کے لیے تشبیک کی۔ (صحیح بخاری)
1913
Sahih

Chapters

14
01
نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان
4 Hadith
02
نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
8 Hadith
03
نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
10 Hadith
04
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
8 Hadith
05
(نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
7 Hadith
06
پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
07
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
6 Hadith
08
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
09
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
10 Hadith
10
اللہ کے ڈر سے نماز میں رونے کے جائز ہونے کا بیان
2 Hadith
11
نماز میں دو سیاہ جانوروں(بچھو اور سانپ) کو قتل کرنے ، معمولی مقدار میں چلنے اور اس سلسلے میں کسی ضرورت کی وجہ سے اِدھر اُدھر متوجہ ہونے کے جواز کا بیان
7 Hadith
12
نماز میں بچہ اٹھانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
13
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
7 Hadith
14
تاریکی میں نمازی کے سامنے عورت کے سونے کے جواز کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.