TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2214 - پانچ رکعت نمازِ وترکا بیان - رات کی نماز اور وتر کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 16 in this chapter
پانچ رکعت نمازِ وترکا بیان
۔ (۲۲۱۴) وَعَنْہَا أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّیْ تِسْعَ رَکَعَاتٍ، لَا یَقْعُدُ فِیْہِنَّ إِلاَّ عَنْدَ الثَّامِنَۃِ، فَیَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَیَذْکُرُہُ وَیَدْعُوْ، ثُمَّ یَنْہَضُ وَلَا یُسَلِّمُ، ثُمَّ یَصَلِّی التَّاسِعَۃَ فَیَقْعُدُیَحْمَدُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَیَذْ کُرُہُ وَیَدْعُوْ، ثُمَّ یُسَلِّمُ تَسْلِیْمًایُسْمِعُنَا، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَھُوَ قَاعِدٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۶۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نو رکعت نماز پڑھتے،اور ان میں آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے، اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر کھڑے ہو جاتے اور سلام نہ پھیرتے، اس طرح نوویں رکعت ادا کرتے اور پھر بیٹھ جاتے اور اللہ تعالیٰکی تعریف ، اس کا ذکر اور اس سے دعا کرتے اور پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہم سن رہے ہوتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے تھے۔
2214
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۲۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۴۶ (انظر: ۲۵۳۴۷)

Related Chapters

1,519
1
جو شخص چار رکعت والی نماز کی پانچ رکعتیں ادا کر لے
Musnad Ahmad
2
اس شخص کا بیان جو یہ روایت بیان کرتا ہے کہ یہ نماز دو رکعت ہے اور ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں
Musnad Ahmad
3
نماز خوف کی پانچویں صورت امام ہر گروہ کو (الگ الگ) ایک سلام کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھائے
Musnad Ahmad
4
(2) CHAPTER. If one offers five Raka (instead of four).
اگر کسی نے پانچ رکعت نماز پڑھ لی تو کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
5
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Salat Of The Night Is Two By Two
باب: رات کی (نفل) نماز دو دو رکعت ہے
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Five (Rak'ah) For Al-Witr
باب: پانچ رکعت وتر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: [What Has Been Related] About Two Rak'ah When One Arrives While the Imam Is Delivering The Khubah
باب: خطبہ کے دوران آدمی آئے تو پہلے دو رکعت نماز پڑھے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Salat During The Night And The Day Is Two And Two
باب: رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
باب: پانچوں نمازوں کی مثال
Jam e Tirmazi
12
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
Musnad Ahmad
13
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
Musnad Ahmad
14
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
15
ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعت وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھنے اور اس سے پہلے جفت رکعات ادا کرنے کا بیان ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
اس کی دلیل کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ وتر کے علاوہ نماز تراویح آٹھ رکعت ہے
Musnad Ahmad
17
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
Musnad Ahmad
18
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
19
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
Musnad Ahmad
21
اس شخض کا بیان جو گرہن والا معاملہ صاف ہونے تک دو دو رکعت کر کے نماز کسوف ادا کرتا رہتا ہے
Musnad Ahmad
22
اس شخص کا بیان جس نے روایت کیا ہے کہ نمازِ کسوف دو رکعتیں ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں نیز اس نماز کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے اور مطوّل و مختصر ہونے کی صورت میں اس کے ارکان کا بیان
Musnad Ahmad
23
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ یہ دو رکعت نماز ہے اور ہر رکعت میں تین رکوع ہیں
Musnad Ahmad
24
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ نمازِ کسوف دورکعت ہے اور ہر رکعت میں چار رکوع ہیں
Musnad Ahmad
25
نماز خوف کی دوسری صورت امام ہرگروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے اور لوگ ایک ایک رکعت الگ الگ پڑھیں
Musnad Ahmad
26
نماز خوف کی تیسری صورت ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
Musnad Ahmad
27
نمازِ خوف کی چوتھی صورت امام ہر گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھا کر اس قدر انتظار کرے کہ وہ لوگ دوسری رکعت خود پڑھ لیں
Musnad Ahmad
28
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
Musnad Ahmad
29
اذان کی مشروعیت اور حضر کی نماز میں دو رکعت کے اضافے کا بیان
Musnad Ahmad
30
(60) CHAPTER. If one entered a mosque, one should offer two Raka (Tahayyat-al-Masjid) before sitting.
جب کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے
Sahih Bukhari
31
(6) CHAPTER. The five Salat (prayers) are expiations (of sins).
اس بیان میں کہ پانچوں وقت کی نمازیں گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہیں جب کوئی ان کو جماعت سے یا اکیلا ہی اپنے وقت پر پڑھے
Sahih Bukhari
32
(17) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) only one Raka of the Asr prayer before sunset.
جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے پڑھ سکا تو اس کی نماز ادا ہوگئی
Sahih Bukhari
33
(29) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) one Raka of a prayer (in time).
جو کوئی کسی نماز کی ایک رکعت پالے ، اس نے وہ نماز پالی
Sahih Bukhari
34
(86) CHAPTER. To raise one's hands after finishing the second Raka (on standing for the third Raka).
( چار رکعت نماز میں ) قعدہ اولٰی سے اٹھنے کے بعد رفع یدین کرنا
Sahih Bukhari
35
(142) CHAPTER. Sitting straight in a Witr prayer (i .e., an odd Raka) and then getting up.
اس شخص کے بارے میں جو شخص نماز کی طاق رکعت ( پہلی اور تیسری ) میں تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر اٹھ جائے
Sahih Bukhari
36
(146) CHAPTER. Whoever considered that the first Tashah-hud is not compulsory. As the Prophet stood up after the second Raka (without sitting for Tashah-hud) and did not perform it.
اس شخص کی دلیل جو پہلے تشہد کو ( چار رکعت یا تین رکعت نماز میں ) واجب نہیں جانتا ( یعنی فرض ) کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں ۔
Sahih Bukhari
37
(33) CHAPTER. Whoever comes when the Imam is delivering the Khutba (religious talk) should offer a light two Raka Salat (prayer) (Tahayyat-ul-Masjid).
جب امام خطبہ دے رہا ہو اور کوئی مسجد میں آئے تو ہلکی سی دو رکعت نماز پڑھ لے
Sahih Bukhari
38
(25) CHAPTER. Whoever missed the Salat al-Eid (Eid prayer) should offer two Raka prayer.
اگر کسی کو جماعت سے عید کی نماز نہ ملے تو پھر دو رکعت پڑھ لے
Sahih Bukhari
39
(18) CHAPTER. The Salat-ul-Istisqa (Istisqa prayer) consists of two Raka.
استسقاء کی نماز دو رکعتیں پڑھنا
Sahih Bukhari
40
(18) CHAPTER. The first Raka of the eclipse prayer is longer (than the second).
گرہن کی نماز میں پہلی رکعت کا لمبا کرنا
Sahih Bukhari
41
(6) CHAPTER. To offer three Raka of Maghrib prayer during a journey.
مغرب کی نماز سفر میں بھی تین ہی رکعت ہیں
Sahih Bukhari
42
(25) CHAPTER. What is said about the Nawafil being offered as two Raka followed by two and so on.
نفل نمازیں دو دو رکعتیں کر کے پڑھنا
Sahih Bukhari
43
(1) CHAPTER. What is said regarding the Sahw. If someone gets up (for the third Raka without sitting) after the second Raka of a compulsory Salat (prayer).
اگر چار رکعت نماز میں پہلا قعدہ نہ کرے اور بھولے سے اٹھ کھڑا ہو تو سجدہ سہو کرے
Sahih Bukhari
44
(3) CHAPTER. If one finishes his Salat (prayer) with Taslim after offering two or three Rakat (by mistake), then he should perform two prostrations (of Sahw) like ordinary prostrations of the Salat (prayer), or longer.
دو رکعتیں یا تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیردے تو نماز کے سجدوں کی طرح یا ان سے لمبے سہو کے دو سجدے کرے
Sahih Bukhari
45
(6) CHAPTER. When a person forgets whether he has offered three or four Raka (then he should) perform two prostrations while sitting in his last Raka.
اگر کسی نمازی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرلے
Sahih Bukhari
46
Chapter: The five daily prayers, from one Jumu`ah to the next, and from one Ramadan to the next, are an expiation for whatever (sins) come in between, so long as one avoids major sins
انسان جب تک کبیرہ گناہوں سےاجتناب کرتا رہے تو پانچوں نمازیں ، ہر جمعہ دوسرے جمعے تک اور رمضان دوسرے رمضان تک ، درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ (مٹانے والے) ہیں
Sahih Muslim
47
Chapter: The one who catches up with a rak`ah of the prayer, he has caught up with that prayer
جسے نماز کی ایک رکعت مل گئی ، اسے وہ نماز مل گئی
Sahih Muslim
48
Chapter: It is recommended to greet the masjid by praying two rak`ah, and it is disliked to sit before praying these two rak`ah, and this is prescribed at all times
سفرسے واپس آنے والے کے لیے سفر سے آتے ہی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنا مستحب ہے
Sahih Muslim
49
Chapter: It is recommended to pray Duha, the least of which is two rak`ah, the best of which is eight, and the average of which is four or six, and encouragement to do so regularly
نماز چاشت کا استحباب ‘یہ کم از کم دو رکعتیں ‘مکمل آٹھ رکعتیں اور درمیانی صورت چار یا چھ رکعتیں ہیں‘نیز اس نماز کی پابندی کی تلقین
Sahih Muslim
50
Chapter: It is permissible to offer voluntary prayers standing or sitting, and to stand and sit in the same rak`ah
نفل نماز کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پڑھنا اور رکعت کا کچھ حصہ کھڑے ہو کر اور کچھ بیٹھ کر ادا کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

1
Musnad Ahmad
11359
۔ (۱۱۳۵۹)۔ عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفٰی، عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ، أَنَّہُ أَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلَہُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: أَلَا أُنَبِّئُکَ بَأَعْلَمِ أَھْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ائْتِ عَائِشَۃَ، فَسْأَلْھَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَیَّ، فَأَخْبِرْنِی بِرَدِّھَا عَلَیْکَ، قَالَ: فَأَتَیْتُ عَلٰی حَکِیْمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُہُ إِلَیْہَا، فَقَالَ: مَا أَنَا بِقَارِبِہَا، إِنِّی نَہَیْتُہَا أَنْ تَقُوْلَ فِی ھَاتَیْنِ الشِّیْعَتَیْنِ شَیْئًا فَأَبَتْ فِیْہِمَا إِلَّا مُضِیًّا، فَأَقْسَمْتُ عَلَیْہِ فَجَائَ مَعِی، فَدَخَلْنَا عَلَیْہَا، فَقَالَتْ: حَکِیْمٌ، وَعَرَفَتْہُ، قَالَ: نَعَمْ أَوْ بَلٰی، قَالَتْ: مَنْ ھٰذَا مَعَکَ؟ قَالَ: سَعْدُ بْنُ ہِشَّامٍ، قَالَتْ: مَنْ ہِشَامٌ؟ قَالَ: ابْنُ عَامِرٍ، قَالَ: فَتَرَحْمَتْ عَلَیْہِ وَقَالَتْ: نِعْمَ الْمَرْئُ کَانَ عَامِرٌ، قُلْتُ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَنْبِئِیْنِی عَنْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلٰی، قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ الْقُرْآنَ، فَہَمَمْتُ أَنْ أَقُوْمَ فَبَدَا لِی قِیَامُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قُلْتُ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَنْبِئِیْنِی عَنْ قِیَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ ھٰذِہِ السُّورَۃَ {یَا أَیُّہَاالْمُزَّمِّلُ؟} قُلْتُ: بَلٰی، قَالَتْ: فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ افْتَرَضَ قِیَامَ اللَّیْلِ فِی أَوَّلِ ھٰذِہِ السُّورَۃِ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہُ حَوْلًا، حَتَّی انْتَفَخَتْ أَقْدَامُہُمْ، وَأَمْسَکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ خَاتِمَتَہَا فِی السَّمَائِ اثْنَیْ عَشَرَ شَہْرًا، ثُمَّ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ التَّخْفِیْفَ فِی آخِرِ ھٰذِہِ السُّوْرَۃِ، فَصَارَ قِیْامُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَطَوُّعًا مِنْ بَعْدِ فَرِیْضَۃٍ، فَہَمَمْتُ أَنْ أَقُوْمَ ثُمَّ بَدَا لِی وِتْرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْتُ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَنْبِئِیْنِی عَنْ وِتْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: کُنَّا نُعِدُّ لَہُ سِوَاکَہُ وَطُہُوْرَہُ، فَیَبْعَثُہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِمَا شَائَ أَنْ یَبْعَثَہُ مِنَ اللَّیْلِ فَیَتَسَوَّکُ، ثُمَّ یَتَوَضَّأُ، ثُمَّ یُصَلِّی ثَمَانِیَ رَکْعَاتٍ لَا یَجْلِسُ فِیْہِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَۃِ، فَیَجْلِسُ وَیَذْکُرُ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ وَیَدْعُو وَیَسْتَغْفِرُ، ثُمَّیَنْہَضُ وَلَا یُسَلِّمُ، ثُمَّ یُصَلِّی التَّاسِعَۃَ فَیَقْعُدُ فَیَحْمَدُ رَبَّہُ وَیَذْکُرُہُ وَیَدْعُو، ثُمَّ یُسَلَِّمُ تَسْلِیْمًایُسْمِعُنَا، ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا یُسَلِّمُ، فَتِلْکَ إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃًیَابُنَیَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا یُسَلِّمُ، فَتِلْکَ تِسْعٌ یَا بُنَیَّ، وَکَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلَّی صَلَاۃً أَحَبَّ أَنْ یُدَاوِمَ عَلَیْہَا، وَکَانَ إِذَا شَغَلَ عَنْ قِیَامِ اللَّیْلِ بِنَوْمٍ أَوْ وَجْعٍ أَوْ مَرَضٍ صَلَّی مِنَ النَّہَارِ اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، وَلَا أَعْلَمُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأَ الْقُرْآنَ کُلَّہُ فِی لَیْلَۃٍ، وَلَا قَامَ لَیْلَۃً حَتّٰی أَصْبَحَ، وَلَا صَامَ شَہْرًا کَامِلًا غَیْرَ رَمَضَانَ۔ فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُہُ بِحَدِیْثِہَا فَقَالَ: صَدَقَتْ، أَمَا لَوْ کُنْتُ أَدْخُلُ عَلَیْہَا لَأَتَیْتُہَا حَتّٰی تُشَافِہَنِی مُشَافَہَۃً۔ (مسند احمد: ۲۴۷۷۳)
زرارہ بن اوفی سعد بن ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گئے اور ان سے وتر کے متعلق سوالات کیے۔ انہوں نے جواب دیا:کیا میں تجھے یہ نہ بتلائوں کہ روئے زمین پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وتروںکے متعلق سب سے زیادہ علم کسے ہے؟سعد نے کہا: جی بتایئے۔ عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس جا کر ان سے دریافت کرو۔ پھر واپس آکر مجھے بھی ان کے جواب سے مطلع کرنا۔ ابن ہشام کہتے ہیں: ان کی بات سن کر میں حکیم بن افلح کے ہاں گیا اور ان کو بھی اپنے ساتھ ام المؤمنین کے ہاں لے جانا چاہا تو انہوں نے کہا کہ میں ان کے ہاں نہیں جائوں گا۔ میں نے انہیں ان (سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مابین ہونے والی جنگ جمل کے) دوگروہوں کے متعلق کسی قسم کی بات کرنے سے منع کیا تھا لیکن انہوںنے میری بات نہیں مانی، بلکہ وہ خود سیاست میں نکل آئیں۔ ابن ہشام کہتے ہیں: لیکن جب میں نے ان کو قسم دی تو وہ میرے ساتھ چلے آئے، ہم ان کے ہاں گئے۔ انہوں نے حکیم کو پہچان کر پوچھا: حکیم ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ انہوںنے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ حکیم نے جواب دیا: یہ سعد بن ہشام ہے۔ انہوں نے پوچھا: ہشام کون؟ حکیم نے بتایا کہ عامر کا بیٹاتو انہوںنے عامر کے حق میں رحمت کی دعا کی اور کہا: عامر بہت اچھا آدمی تھا۔ میں نے (حکیم نے) عرض کی:ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اخلاق سے آگاہ فرمائیں۔ انہوںنے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ کہنے لگیں: قرآن ہی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اخلاق ہے۔ یہ سن کر میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام اللیل کی بات یاد آگئی۔ میں نے عرض کی: اے ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام اللیل کے متعلق آگاہ فرمائیں۔ انہوں نے کہا: کیا تم سورۂ مزمل نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں پڑھتا ہوں۔ کہنے لگیں:اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع والے حصے میں قیام اللیل فرض کیا تھا،۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب ایک سال تک اس قدر طویل قیام کرتے رہے کہ ان کے پائوں سوج جاتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصہ کو بارہ ماہ تک آسمانوں پر رو کے رکھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں اس حکم کی تخفیف نازل فرمائی۔ قیام اللیل جو پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر فرض تھا، اس کے بعد وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نفل قرار پایا۔ اس کے بعد میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے یاد آیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وتر کے بارے میں تو پوچھ لوں۔ میں نے عرض کی: ام المؤمنین! مجھے رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کینماز وتر کے متعلق بھی آگاہ فرما دیں۔ انہوں نے کہا: ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے، اللہ تعالیٰ کو جب منظور ہوتا وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رات کے کسی حصہ میں بیدار کر دیتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسواک کرتے، پھر وضو کرتے، پھر مسلسل آٹھ رکعات یوں پڑھتے کہ آٹھویں میں (تشہد کے لیے) بیٹھ جاتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے دعائیں اور استغفار کرتے،پھر سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت ادا کرتے۔ پھر بیٹھ کر (آخری تشہد میں) اللہ کی حمد اور اس کا ذکر کرتے اور دعائیں کرتے۔ پھر اس قدر مناسب آواز سے سلام پھیرتے کہ ہمیں سلام کی آواز سنائی دے جاتی۔ پھر اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں ادا کرتے۔ بیٹے! اس طرح کل گیارہ رکعات ہوتیں۔ لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وزن بڑھ گیا (اور عمر زیادہ ہونے لگی) تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات وتر ادا کرتے اور سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات ادا فرماتے۔ بیٹے! یہ اس طرح نو رکعات ہو گئیں۔ اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کبھی کسی وقت میں نماز ادا فرماتے تو اس وقت میں نماز ادا کرنے پر دوام فرماتے۔ اور کبھی نیندیا خرابی طبع یا بیماری کی وجہ سے قیام اللیل نہ کر سکتے تو دن کے وقت بارہ رکعات ادا فرماتے۔ میرے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رات میں سارا قرآن پڑھا ہو یا صبح تک قیام کیا ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی پورا مہینہ مسلسل روزے نہیں رکھے۔ میں نے عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں جا کر ام المؤمنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی حدیث ان کو سنائی توکہنے لگے: انہوںنے بالکل درست بیان کیاہے۔ اگر میں ان کے ہاں جاتا ہوتا تو میں خودان کی خدمت میں حاضر ہوتا تاکہ وہ براہ راست مجھے بیان فرمائیں۔