TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3614 - جسم کے صدقہ کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 8 in this chapter
جسم کے صدقہ کا بیان
۔ (۳۶۱۴) عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ اَبِی سَلاَّمٍ قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ: عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ طَلَعَتْ فِیْہِ الشَّمْسُ صَدَقَۃٌ مِنْہُ عَلٰی نَفْسِہِ، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مِنْ اَیْنَ اَتَصَدَّقُ ولَیْسَ لَنَا اَمْوَالٌ؟ قَالَ: ((لِاَنَّ مِنْ اَبْوَابِ الصَّدَقَۃِ التَّکْبِیْرَ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ، وَتَاْمُر بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہٰی عَنِ الْمُنْکَرِ، وَتَعْزِلُ الشَّوْکَ عَنْ طَرِیْقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَ وَالْحَجَرَ، وَتَہْدِی الْاَعْمٰی۔وَتُسْمِعُ الْاَصَمَّ وَالْاَبْکَمَ حَتّٰییَفْقَہَ، وَتَدُلُّ الْمُسَتَدِلَّ عَلٰی حَاجَۃٍ لَہُ قَدْ عَلِمْتَ مَکَانَہَا وَتَسْعٰی بِشِدَّۃِ سَاقَیْکَ إِلَی اللَّہْفَانِ الْمُسْتَغِیْثِ، وَتَرْفَعُ بِشِدَّۃِ ذِرَاعَیْکَ مَعَ الضَّعِیْفِ، کُلُّ ذَلِکَ مِنْ اَبْوَابِ الصَّدَقَۃِ مِنْکَ عَلٰی نَفْسِکَ، وَلَکَ فِی جِمَاعِ زَوْجَتِکَ اَجْرٌ۔)) قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ: کَیْفَیَکُوْنُ لِی اَجْرٌ فِیْ شَہْوتِیْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((اَرَاَیْتَ لَوْ کَانَ لَکَ وَلَدٌ فَاَدْرَکَ وَرَجَوْتَ خَیْرَہُ فَمَاتَ اَکُنْتَ تَحْتَسِبُ بِہِ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاَنْتَ خَلَقْتَہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ خَلَقَہُ، قَالَ: ((فَاَنْتَ ھَدَیْتَہٗ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ ھَدَاہُ، قَالَ: ((فَاَنْتَ تَرْزُقُہُ؟)) قَالَ: بَلِ اللّٰہُ کَانَ یَرْزُقُہٗ۔ قَالَ: ((کَذَالِکَ فَضَعْہُ فِی حَلاَلِہِ وَجَنِّبْہُ حَرَامَہُ، فَإِنْ شَائَ اللّٰہُ اَحْیَاہُ وَإِنْ شَائَ اَمَاتَہُ وَلَکَ اَجْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۱۶)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات دوہرائی کہ ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ روزانہ اپنے اوپر صدقہ کرے۔ اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں صدقہ کیسے کروں، ہمارے پاس تو مال ہی نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کہنا بھی صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اورلوگوں کے راستے سے کانٹے، ہڈی اور پتھر وغیرہ کو ہٹا دینا ، نابینا آدمی کو رہنمائی کر دینا، کسی گونگے بہرے کو بات سمجھا دینا، اگر تجھے علم ہو تو کسی ضرورت کے لیے رہنمائی طلب کرنے والے کی رہنمائی کرنا، مدد کے لیے پکارنے والے مصیبت زدہ کی مدد کے لیے تیزی کے ساتھ دوڑ کر جانا اور کمزور کی خوب مدد کرنا، یہ سارے امور تمہاری طرف سے تمہارے لیے صدقہ ہیں، بلکہ اپنی اہلیہ سے جماع کرنا بھی باعث ِ اجر ہے۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے لیے میری شہوت میں اجر کیسے ہو گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم مجھے بتلاؤ کہ اگر تمہارا بیٹا ہو، وہ بالغ ہو جائے اور تمہیں اس کی طرف سے خیر کی امید ہو، لیکن وہ فوت ہو جائے تو کیا تم اس پر صبر کرو گے؟ میںنے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اسے تم نے پیدا کیا؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے ہدایت دی؟ میں نے کہا: جی نہیں، بلکہ اسے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اسے رزق دیتے رہے؟ میں نے کہا: جی نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتا رہا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات ایسے ہی ہے، جس طرح بچے کی تمام ضروریات و حاجات اللہ تعالیٰ نے پوری کیں مگر تمہیں اس کی وفات پر اجر و ثواب ہوا پس اسی طرح تم اپنی شرم گاہ کو حلال مقام پر استعمال کرو اور حرام سے بچائو، اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو اسے بچا لے گا اور اگر اس نے چاہا تو اسے موت دے دے گا اور تمہیں ثواب ملے گا۔
3614
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۶۱۴) تخر یـج:أخرجہ مسلم: ۱۰۰۶(انظر: ۲۱۴۸۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… پوری حدیث ِ مبارکہ واضح ہے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کی کے معمولات کا اس سے موازنہ کرے، آخری مسئلہ کی وضاحت یہ ہے کہ ایک باپ نہ تو اپنے بچے کو پیدا کرتا ہے، نہ اس کو رزق دیتا ہے، نہ اس کو ہدایت دیتا ہے، تو پھر اس کی وفات پر وہ اجر کا مستحق کیوں ہے، اس سوال کے جواب میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌گویا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ وہ بحیثیت باپ اپنے بچے کے وجود کا سبب ہیں، اس لیے ان کو بھی اجر ملنا چاہیے، اس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جیسے بچے کی وفات پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے پر اجر ملتا ہے، اسی طرح بیوی سے ہم بستری کے وقت یہ نیت ہونی چاہیے کہ اس تعلق سے مسلمان بچہ پیدا ہو گا اور وہ میاں بیوی اس حق زوجیت کی وجہ سے زنا اور اس کے لوازمات و مقدّمات سے محفوظ رہیں گے، ان وجوہات کی بنا پر میاں بیوی کو مجامعت میں ثواب بھی ملے گا۔

Related Chapters

199
1
Chapter: What Has Been Related About The One Who Works In Collecting Sadaqah In Truth
باب: صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About: Charity Is Taken from The Rich To Be Distributed To The Poor
باب: مالداروں سے صدقہ لے کر فقراء و مساکین کو لوٹانے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Charity For Near Relatives
باب: رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Charity
باب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The One Who Gives Charity (Then) Inheriting His Charity
باب: صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کا وارث ہو جائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Back Charity
باب: صدقہ دے کر واپس لینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About (Giving) Charity On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Sadaqat al-Fitr
باب: صدقہ فطر کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About: It Is To Be Paid Before The Salat
باب: نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What has been Related About A Man Giving Charity Or Freeing A Slave At The Time Of His Death
باب: مرتے وقت صدقہ کرنے والے اور غلام آزاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
باب: صوم و صلاۃ اور صدقہ (زکاۃ) کی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
12
صَدَقَة الْفطر
صدقہ فطر کا بیان
Mishkat
13
بَاب مِمَّن لَا تحل لَهُ الصَّدَقَة
کس کو صدقہ دینا جائز نہیں
Mishkat
14
بَاب فضل الصَّدَقَة
صدقہ کی فضیلت کا بیان
Mishkat
15
بَاب أفضل الصَّدَقَة
بہترین صدقہ کا بیان
Mishkat
16
بَابُ صَدَقَةِ الْمَرْأَةِ مِنْ مَالِ الزَّوْجِ
بیوی کا شوہر کے مال سے صدقہ کرنے کا بیان
Mishkat
17
بَاب من لَا يعود فِي الصَّدَقَة
صدقہ واپس نہ لینے کا بیان
Mishkat
18
حائضہ عورت کے جسم اور کپڑوں کے پاک ہونے کا بیان، الّا یہ کہ وہ جگہ جہاں خون لگا ہوا ہو
Musnad Ahmad
19
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
قریب الموت کو دکھائے جانے والے مناظر اور جسم سے جدا ہونے کے بعد روح کا ٹھکانہ
Musnad Ahmad
21
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
Musnad Ahmad
22
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
Musnad Ahmad
23
اللہ کی راہ میں اور مسافروں کو صدقہ دینے اور مصارفِ زکوٰۃ کی تمام اصناف کو صدقہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
24
بنو ہاشم اور ان کی بیویوں اور غلاموں کے لیے صدقہ کے حرام ہونے اور ہدیہ کے جائز ہونے کا بیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌
Musnad Ahmad
25
صدقہ میں خیانت کرنے اور ایسا کرنے والے کے لئے وعید کا بیان
Musnad Ahmad
26
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
Musnad Ahmad
27
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
28
اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
29
اس آدمی کا بیان جسے دو کپڑے بطورِ صدقہ دیئے گئے، لیکن اس نے ان میں سے ایک کپڑا صدقہ کی نیت سے ڈال دیا
Musnad Ahmad
30
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
Musnad Ahmad
31
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
32
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
مخفی طور پر صدقہ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
34
صدقہ جاریہ کا بیان
Musnad Ahmad
35
عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
Musnad Ahmad
36
اس شخص کا بیان جس نے سارا مال صدقہ کر دینے کی نذر مانی
Musnad Ahmad
37
ایک آدمی نے مال کا صدقہ کرنے کے لیے ایک وکیل بنایا، لیکن اس نے وہی مال اس مالک کے بیٹے کو دے دیا
Musnad Ahmad
38
رسول اللہa کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
Musnad Ahmad
39
زخموں اور جسم پر نکل آنے والے دانوں کے علاج کا بیان
Musnad Ahmad
40
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
Musnad Ahmad
41
(28) CHAPTER. When a woman having bleeding in between her periods notices signs of cleanliness from her menses.
جب مستحاضہ اپنے جسم میں پاکی دیکھے تو کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
42
(136) CHAPTER. To tie the clothes and wrap them properly [in Salat (prayer)]; and whoever gathered his clothes for fear that his private parts may become exposed.
( نماز میں ) کپڑوں میں گرہ لگانا اور باندھنا کیسا ہے اور جو شخص شرمگاہ کے کھل جانے کے خوف سے کپڑے کو جسم سے لپیٹ لے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
43
(2) CHAPTER. To give Sadaqa (things or money given in charity) during the eclipse.
سورج گرہن میں صدقہ خیرات کرنا
Sahih Bukhari
44
(9) CHAPTER. To practise charity (as early as possible) before such time when nobody would accept it.
صدقہ اس زمانے سے پہلے کہ اس کا لینے والا کوئی باقی نہ رہے گا
Sahih Bukhari
45
(10) CHAPTER. “Protect yourself from Hell-fire even with a half date, or with the little object of charity.”
اس بارے میں کہ جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے یا کسی معمولی سے صدقہ کے ذریعے ہو
Sahih Bukhari
46
(11) CHAPTER. What kind of As-Sadaqa (charity) is superior? The superiority of charity practised by a niggardly healthy person.
تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت
Sahih Bukhari
47
(14) CHAPTER. If one gives an object of charity to a wealthy person unknowingly.
اگر لاعلمی میں کسی نے مالدار کو صدقہ دے دیا ( تو اس کو ثواب مل جائے گا )
Sahih Bukhari
48
(17) CHAPTER. Whoever ordered his servant to give something in charity and did not give it himself.
اس کے بارے میں کہ جس نے اپنے خدمت گار کو صدقہ دینے کا حکم دیا اور خود اپنے ہاتھ سے نہیں دیا
Sahih Bukhari
49
(18) CHAPTER. The wealthy only are required to give in charity.
صدقہ وہی بہتر ہے جس کے بعد بھی آدمی مالدار ہی رہ جائے ( بالکل خالی ہاتھ نہ ہو بیٹھے )
Sahih Bukhari
50
(21) CHAPTER. To exhort one to give in charity and to intercede for the same purpose.
لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

32
Musnad Ahmad
3426
۔ (۳۴۲۶) عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَألْتُ جَابِرًا أَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((فِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ؟)) فَقَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۵۷)
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ رِکاز میں خمس یعنی پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
Musnad Ahmad
3427
۔ (۳۴۲۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفِی الرِّکَازِ ِالْخُمْسُ۔ (مسند احمد: ۲۸۷۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رِکاز میں پانچواں حصہ زکوٰۃ کا فیصلہ کیا۔
Musnad Ahmad
3428
۔ (۳۴۲۸) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((اَلْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَائُ جُبَارٌ، وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۰)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواں رائیگاں ہے، کان ضائع ہے اور جانور بھی رائیگاں ہے اور رِکاز میں پانچواں حصہ زکوۃ ہے۔
Musnad Ahmad
3441
۔ (۳۴۴۱) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَیْتِی فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا صَدَقَۃُ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ: ((کَذَا وَکَذَا۔)) قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدّٰی عَلَیَّ، قَالَ: فَنَظَرُوْہُ فَوَجَدُوْہُ قَدْ تَعَدّٰی عَلَیْہِ بِصَاعٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((فَکَیْفَ بِکُمْ اِذَا سَعٰی مَنْ یَتَعَدّٰی عَلَیْکُمْ أَشَدَّ مِنْ ہٰذَا التَّعَدِّیْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۰۹)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے آ کر دریافت کیا: اتنے مال کی زکوٰۃ کتنی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اتنی اتنی۔ اس نے کہا: تو پھر فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھ سے زیادہ زکوۃ وصول کی۔ پھر جب انھوں نے پڑتال کی تو دیکھا کہ اس نے واقعی ایک صاع کی مقدار زیادتی کی تھی، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارے حکمران تم پر اس سے بڑھ کر زیادتی کریں گے۔
Musnad Ahmad
3452
۔ (۳۴۵۲) عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ:اَعْطَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رِجَالاً وَلَمْ یُعْطِ رَجُلًا مِنْہُمْ شَیْئًا، فقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اَعْطَیْتَ فُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانَا شَیْئًا وَہُوَ مُؤْمِنٌ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَوْ مُسْلِمٌ۔)) حَتّٰی اَعَادَہَا سَعْدٌ ثَلَاثًا وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَوْ مُسْلِمٌ۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((إِنِّی لَاُعْطِی رِجَالاً وَاَدَعُ مَنْ ہُو اَحَبُّ إِلَیَّ مِنْہِمْ فَلَا اُعْطِیْہِ شَیْئًا مَخَافَۃَ اَنْ یُکَبُّوا فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۲)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی لوگوں کو مال دیا اور ان میں سے ایک فرد کو کچھ نہیں دیا، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی ! آپ نے فلاں فلاں کو تو مال دیا ہے، مگر فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا، حالانکہ وہ بھی تو مومن ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہی فرماتے رہے کہ کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ میں بہت سے لوگوں کو عطیات دیتا ہوں اور ان میں سے جو مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اسے کچھ نہیں دیتا، مبادا کہ دوسرے لوگ (عطیہ نہ ملنے کی وجہ سے) چہروں کے بل جہنم میں جا پڑیں گے۔
Musnad Ahmad
3468
۔ (۳۴۶۸) وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَکُنْیُسْئَلُ شَیْئًا عَنِ الْإِسْلَامِ إِلاَّ اَعْطَاہُ، قَالَ: فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَسَاَلَہُ فامَرَ لَہُ بِشَائٍ کَثِیْرٍ بَیْنَ جَبَلَیْنِ مِنْ شَائِ الصَّدَقَۃِ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلٰی قَوْمِہِ فقَاَلَ: یَا قَوْمِ! اَسْلِمُوْا فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَیُعْطِی عَطَائً مَا یَخْشَی الْفَاقَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسلام کے نام پر کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہ دے دیتے تھے،ایک دن ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی کو بھر دینے والی زکوۃ کی بہت زیادہ بکریاں اسے دے دیں، جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا: اے میری قوم! مسلمان ہو جائو، بے شک محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر سخاوت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے فاقے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔
Musnad Ahmad
3481
۔ (۳۴۸۱) عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ شَیْبَانَ اَنَّہُ قَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : مَا تَذَکُرُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: اَدْخَلَنِی غُرْفَۃَ الصَّدَقَۃِ فَاَخَذْتُ مِنْہَا تَمْرَۃً فَاَلْقَیْتُہَا فِی فَمِی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْقِہَا فَإِنَّہَا لاَ یَحِلُّ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَوَلَالِاَحَدٍمِنْاَہْلِبَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۴)
۔ ربیعہ بن شیبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی خاص چیزیاد ہے؟ انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے زکوۃ والے سٹور میں لے گئے، میں نے وہاں سے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دو، یہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان کے اہل بیت کے کسی فرد کے لئے حلال نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
3484
۔ (۳۴۸۴) وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاَی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَخَذَ تَمْرَۃً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَلَاکَہَا فِی فِیْہِ،فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((کِخْ،کِخْ،ثَلَاثًالَاتَحِلُّلَنَا الصَّدَقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۷۶)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھائی اور اس کو اپنے منہ میں چبایا توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اوہ، اوہ، اوہ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں۔
Musnad Ahmad
3515
۔ (۳۵۱۵) عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَاَعْطَانِیْ ثُمَّ سَاَلْتُہُ فَاَعْطَانِی ثُمَّ سَاَلْتُہُ فَاَعْطَانِی، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ ھٰذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ، فَمَنْ اَخَذَہُ بِحَقِّہِ بُوْرِکَ لَہُ فِیْہِ، وَمَنْ اَخَذَہُ بِاِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ یُبَارَکْ لَہُ فِیْہِ، وَکَانَ کَالَّذِیْیَاْکُلُ وَلاَ یَشْبَعْ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌمِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد:۱۵۶۵۹)
۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیا، میں نے پھر سوال کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا مطالبہ پورا کر دیا، میں نے تیسری بار مطالبہ کر دیا، پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دے دیا، لیکنیہ بھی فرمایا: یہ مال دلکش اور دل پسند چیز ہے، جو کوئی اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو شخص حریص بن کر اس کو لے گا، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہو گی، اوروہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھانا کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا، بہرحال اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔