TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3878 - صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان - روزے دار کا وصال کرنا - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 11 in this chapter
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۳۸۷۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ اُخْتِہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَصُوْمُوْا یَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِیْمَا افْتُرِضَ عَلَیْکُمْ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ اَحَدُکُمْ إِلَّا عُوْدَعِنَبٍ اَوْ لِحَائَ شَجَرَۃٍ فَلْیَمْضَغْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۱۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: ہفتہ کا روزہ نہ رکھا کرو، الّا یہ کہ یہ ان دنوں میں آ جائے کہ جن کے روزے تم پر فرض ہیں، اگر اس دن کو کسی کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ ہو، ما سوائے انگور کی لکڑییا درخت کے چھلکے کے، تو اسی کو چبا لے۔
3878
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۸۷۸) قال الالبانی: صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۲۱، وانظر الحدیث السابق(انظر: ۲۷۰۷۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… ان دو احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایسے نہ ہو کہ ہفتہ کا دن کھائے پئے بغیر گزر جائے۔

Related Chapters

776
1
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast On Friday Alone
باب: خاص کر صرف جمعہ کو روزہ رکھنے کی کراہیت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Friday
باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
5
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
6
Chapter: The prohibition of fasting on the two days of 'Id
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دنوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت
Sahih Muslim
7
Chapter: It is disliked to single out Friday for fasting, unless it coincides with a day that one customarily fasts
صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا ناپسندیدہ ہے
Sahih Muslim
8
Chapter: Prohibition of Fasting for a lifetime for the one who will be harmed by that or who will neglect other duties, or does not break his fast on the two 'Ids or during the days of At-Tashriq; It is better to fast alternate days
اس شخص کے لیے سال بھر کے روزے رکھنے کی ممانعت جسے اس سےنقصان پہنچنے یا وہ اس کی وجہ سے کسی حق کو ضائع کرے ‘یا عید ین اور ایام تشریق کاٰ روزہ بھی نہ چھوڑے ‘اور ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
9
رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
10
باب: ماہ رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
باب: شک والے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
باب: صیام الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کی ممانعت، اور اس سلسلہ کی حدیث میں مطرف بن عبداللہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
13
باب: عرفہ کے دن (حاجی کے لیے) روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Al-Ikhtisar (Holding The Hip) In Salat
باب: نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: [What Has Been Related] About One Who Catches A Rak'ah Of The Friday Prayer
باب: جسے جمعہ کی صرف ایک رکعت ملی اس کو جمعہ مل گیا
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day OF Doubt
باب: شک کے دن روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About: Fasting And Breaking Fast Are Based Upon The Sighting (Of The Crescent)
باب: چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور دیکھ کر روزہ بند کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Fasting Based Upon Testimony
باب: چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Atonement For Breaking The Fast During Ramadan
باب: رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر عائد کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: Performing A Voluntary Fast Without Planning It The Night Before
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast During The Second Half Of Sha'ban For The Sake of Ramdan
باب: رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Saturday
باب: ہفتہ (سنیچر) کے دن کے روزہ کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Monday And Thursday
باب: سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Not Fast The Day Of Ashura
باب: یوم عاشوراء کا روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Fasting Consecutive Days
باب: پے در پے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About It Being Dislike To Fast On The Day Of Fitr And The Day Of Nahr
باب: عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Days Of Tashriq
باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Al-Wisal (Continuous) Fasting Is Disliked
باب: افطار کیے بغیر مسلسل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Fasting In The Cause Of Allah
باب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Breaking Fast At The Time Of Fighting
باب: لڑائی کے وقت روزہ نہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
38
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
40
سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
Musnad Ahmad
41
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
42
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
44
صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
45
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
Musnad Ahmad
46
قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
Musnad Ahmad
47
(85) CHAPTER. Fasting on the Day of Arafa (at Arafat).
عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Sahih Bukhari
48
(47) CHAPTER. Saum (fasting) of boys (children etc.)
بچوں کے روزہ رکھنے کا بیان
Sahih Bukhari
49
(53) CHAPTER. What is said about the fasting and non-fasting (periods) of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
Sahih Bukhari
50
(63) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Friday. If someone gets up in the morning of Friday and is observing the Saum (fast) he should break it [if he did not observe Saum the day before or does not intend to observe Saum (fasts) after it].
جمعہ کے دن روزہ رکھنا اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

7
Musnad Ahmad
72
۔ (۷۲)۔عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَامِرٍ ؓ أَنَّہُ اسْتَأْذَنَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِخَادِمِہِ: ((اُخْرُجِیْ إِلَیْہِ فَإِنَّہُ لَا یُحْسِنُ الْإِسْتِئْذَانَ، فَقُوْلِیْ لَہُ: فَلْیَقُلْ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ! أَأَدْخُلُ؟)) قَالَ: فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ذَالِکَ فَقُلْتُ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَأَدْخُلُ؟ قَالَ: فَأَذِنَ لِیْ، أَوْ قَالَ: فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ: بِمَ اَتَیْتَنَا بِہِ؟ قَالَ: ((لَمْ آتِکُمْ إِلَّا بِخَیْرٍ، أَتَیْتُکُمْ بِأَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: وَأَحْسِبُہُ قَالَ: ((وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، وَأَنْ تَدَعُوْا اللَّاتَ وَالْعُزّٰی، وَأَنْ تُصَلُّوْا بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَ أَنْ تَصُوْمُوْا مِنَ السَّنَۃِ شَہْرًا وَأَنْ تَحُجُّوا الْبَیْتَ وَأَنْ تَأْخُذُوْا مِنْ مَالِ أَغْنِیَائِکُمْ فَتَرُدُّوْہَا عَلٰی فُقَرَائِکُمْ۔))قَالَ: فَقَالَ: ہَلْ بَقِیَ مِنَ الْعِلْمِ شَیْئٌ لَا تَعْلَمُہُ؟ قَالَ: ((قَدْ عَلَّمَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ خَیْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَا یَعْلَمُہُ إِلَّا اللّٰہُ {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَا ذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ}۔)) (مسند أحمد: ۲۳۵۱۵)
ربعی بن حراش سے مروی ہے کہ بنوعامر کے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا: کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی خادمہ سے فرمایا: اس بندے نے اچھے انداز میں اجازت نہیں لی، اس لیے اس کی طرف جاؤ اور اس کو کہو کہ وہ یوں کہے: السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں۔ اس آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے یہ الفاظ خود سن لیے اور اس نے کہا: السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے اجازت دی، اس نے کہا: پس میں داخل ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا: آپ کون سی چیز لے کر ہمارے پاس آئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی میں خیر ہی لے کر آیا ہوں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، جو کہ یکتا ویگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لات و عزی کو چھوڑ دو اور دن رات میں پانچ نمازیں ادا کرو، ایک سال میں ایک ماہ کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور اپنی مالدار لوگوں سے زکوۃ کا مال لے کر اپنے فقیروں میں تقسیم کر دو۔ اس بندے نے کہا: کیا عمل کی کوئی ایسی قسم بھی ہے، جو آپ نہیں جانتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم دی ہے، لیکن علم کی بعض ایسی صورتیں بھی ہے کہ جن کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَا ذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ} (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میںمرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورۂ لقمان: ۳۴)
Musnad Ahmad
3680
۔ (۳۶۸۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : عَجِبْتُ مِمَّنْ یَتَقَدَّمُ الشَّہْرَ، وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ، اَوْ قَالَ: صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۱)
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع کر دیتا ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ: اس وقت تک روزہ نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو۔
Musnad Ahmad
3682
۔ (۳۶۸۲) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنَّمَا الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ، فَلَا تَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ وَلَا تُفْطِرُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوْا لَہُ۔)) قَالَ نَافِعٌ: فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ(یَعْنِی ابْنَ عَمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) إِذَا مَضٰی مِنْ شَعْبَانَ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ یَبْعَثُ مَنْ یَنْظُرُ، فَإِنْ رُئِ یَ فَذَاکَ، وَإِنْ لَمْ یُرَ وَلَمْ یَحُلْ دُوْنَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ اَوْقَتَرٌ، أَصْبَحَ مُفْطِرًا وَإِنْ حَالَ دُوْنَ مَنْظَرِہِ سَحَابٌ اَوْ قَتَرٌ اَصْبَحَ صَائِمًا۔ (مسند احمد: ۴۴۸۸)
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہینہ تو (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے،لیکن تم اس وقت تک ماہِ رمضان کا روزہ نہ رکھو، جب تک چاند کو نہ دیکھ لو، پھر اس وقت تک روزہ ترک نہ کرو، جب تک (شوال کا) چاند نظر نہ آ جائے، اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کرو۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا معمول یہ تھا کہ جب شعبان کی (۲۹) تاریخ ہوتی تو وہ چاند دیکھنے کے لیے بعض افراد کو بھیجتے،اگر چاند نظر آ جاتا تو بہتر، اور اگر چاند نظر نہ آتا اور کوئی بادل اور غبار وغیرہ بھی نہ ہوتا تو وہ اگلے دن کا روزہ نہ رکھتے، لیکن اگر مطلع غبار آلود یا بادل والا ہوتا تو وہ روزہ رکھ لیتے تھے۔
Musnad Ahmad
3835
۔ (۳۸۳۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَرَاٰی رَجُلاً قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَیْہِ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَیْہِ، قَالُوْا: ہٰذَا رَجُلٌ صَائِمٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْبِرُّ اَنْ تَصُوْمُوْا فِیالسَّفَرِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۴۲)
۔ سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر کے دوران ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے اردگرد جمع تھے، اس کے اوپر سایہ کیا گیا تھا اور لوگ بتا رہے تھے کہ یہ روزے دار آدمی ہے۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ نیکی نہیں ہے کہ تم لوگ سفر میں روزہ رکھو۔
Musnad Ahmad
3864
۔ (۳۸۶۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ حُذَافَۃَیَطُوْفُ فِی مِنًی: ((اَنْ لَا تَصُوْمُوْا ہٰذِہِ الْاَیَّامَ فَإِنَّہَا اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ وَذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۷۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھیجا کہ وہ منی میں گھوم پھر کر یہ اعلان کریں کہ لوگو! ان دنوں کا روزہ نہ رکھو، کیونکہیہ کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔
Musnad Ahmad
3875
۔ (۳۸۷۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَصُوْمُوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَحْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۱۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو۔
Musnad Ahmad
11773
۔ (۱۱۷۷۳)۔ وَعَنْ یَحْیَ بْنِ حَسَّانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِیَّ یَقُوْلُ: تَرَوْنَ یَدِیْ ھٰذِہِ فَأَنَا بَایَعْتُ بِہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا تَصُوْمُوْا یَوْمَ السِّبْتِ إِلَّا فِیْمَا افْتَرَضَ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۳۸)
یحییٰ بن حسان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یوں کہتے سنا کہ تم میرایہ ہاتھ دیکھ رہے ہو، میں نے اس ہاتھ کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد ہے کہ تم فرض روزہ کے علاوہ ہفتہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو۔