TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4024 - شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
۔ (۴۰۲۴) عَنْ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ لِتِسْعٍ یَبْقَیْنَ، اَوْ لِسَبْعٍ یَبْقَیْنَ اَوْ لِخَمْسٍ اَوْ ثَلَاثٍ اَوْ آخِرِ لَیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۴۷)
۔ سیدناابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس رات کو آخری عشرہ میں تلاش کرو، یعنی جب ماہِ رمضان کے نو دن یا سات دن یا پانچ دن یا تین دن باقی ہوں یا پھر اس ماہ کی آخری رات کو۔
4024
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۰۲۴) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۷۹۴(انظر: ۲۰۳۷۶)

Related Chapters

123
1
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
2
(2) CHAPTER. To look for the night of Qadr in the last seven nights (of Ramadan).
شب قدر کو رمضان کی آخری طاق راتوں میں تلاش کرنا
Sahih Bukhari
3
(3) CHAPTER. To search for the night of Qadr in the odd nights of the last ten nights (of Ramadan).
شب قدر کا رمضان کی آخری دس طاق راتوں میں تلاش کرنا ۔ اس باب میں عبادہ بن صامت سے روایت ہے
Sahih Bukhari
4
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
Musnad Ahmad
5
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
CHAPTER: Whoever Said It Was Among The Last Seven Nights.
باب: شب قدر کا رمضان کی آخری سات راتوں میں ہونے کی روایت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
7
Chapter: What Has Been Related About Standing (In The Night Prayer) During The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی راتوں میں قیام (تہجد پڑھنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
8
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
Musnad Ahmad
9
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
10
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
11
رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
12
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
بَاب قيام شهر رَمَضَان
ماہ رمضان کے قیام کا بیان
Mishkat
14
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
Musnad Ahmad
16
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
17
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
19
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
21
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
22
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
23
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
24
اس شخص کا بیان جو ماہِ رمضان میں دن میں جماع کرنے کے ڈر سے اپنی بیوی سے ظہار کر لیتا ہے
Musnad Ahmad
25
(27) CHAPTER. It is a part of faith to establish the (Nawafil - voluntary) prayers during the nights of Ramadan.
رمضان شریف کی راتوں میں نفلی قیام کرنا بھی ایمان ہی میں سے ہے
Sahih Bukhari
26
(5) CHAPTER. Should it be said “Ramadan” or “the month of Ramadam?” And whoever thinks that both are permissible.
رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان ؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے ۔
Sahih Bukhari
27
(5) CHAPTER. The doing of good deeds in the last ten days of Ramadan.
رمضان کے آخری عشر میں زیادہ محنت کرنا
Sahih Bukhari
28
(1) CHAPTER. The Itikaf in the last ten days of Ramadan. And Itikaf may be practised in any mosque.
رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا اور اعتکاف ہر ایک مسجد میں درست ہے
Sahih Bukhari
29
Chapter: The Virtues of the month of Ramadan
ماہ رمضان کی فضیلت
Sahih Muslim
30
Chapter: I'tikaf during the last ten days of Ramadan
رمضان المبارک کے آخر ی عشرے میں اعتکاف کرنا
Sahih Muslim
31
Chapter: Striving harder in worship during the last ten days of Ramadan
رمضان کے آخری دس دنوں میں خوب محنت (سے عبادت )کرنا
Sahih Muslim
32
CHAPTER: Regarding Standing (In Voluntary Night Prayer) During The Month Of Ramadan.
ماہ رمضان میں قیام اللیل ( تراویح ) کا بیان
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: Whoever Said It Was Throughout Ramadan.
باب: شب قدر سارے رمضان میں ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: Regarding Whoever Connected Sha’ban With Ramadan
باب: شعبان کے روزے رکھتے ہوئے ماہ رمضان میں داخل ہونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
36
ماہ رمضان کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
37
ماہ رمضان میں عمرہ کرنے کی فضیلت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
38
ماہ رمضان میں قیام اللیل (تہجد) کا بیان۔
Sunnan Nisai
39
باب: ماہ رمضان میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی مہربانی اور جود و سخا کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
باب: ماہ رمضان کی فضیلت۔
Sunnan Nisai
41
باب: ماہ رمضان کو صرف رمضان کہنے کی رخصت کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
باب: ماہ رمضان کے چاند (دیکھنے) پر ایک آدمی کی گواہی قبول کرنے کا بیان اور سماک (والی) حدیث میں راویوں کے سفیان پر اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
43
باب: ماہ رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل (تہجد پڑھنے) کا بیان۔
Sunnan Nisai
45
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Counting The (Appearances OF) The Crescent Of Sha'ban For Ramadan
باب: رمضان کے لیے شعبان کے چاند کی گنتی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Fast On Purpose
باب: جان بوجھ کر رمضان کے روزے چھوڑ دینے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About The Atonement For Breaking The Fast During Ramadan
باب: رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر عائد کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Connecting Fasts Of Sha'ban To Ramadan
باب: روزہ رکھ کر شعبان کو رمضان سے ملا دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast During The Second Half Of Sha'ban For The Sake of Ramdan
باب: رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

20
Musnad Ahmad
3995
۔ (۳۹۹۵) عَنْ عَائِشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْتَکِفُ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ وَیَقُوْلُ: ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ۔)) یَعْنِیْ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے، نیز آپ فرمایا کرتے تھے کہ تم شب ِ قدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کیا کرو۔
Musnad Ahmad
4017
۔ (۴۰۱۷) عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ اَفِی رَمَضَانَ ہِیَ اَوْ فِی غَیْرِہِ؟، قَالَ: ((بَلْ، ہِیَ فِی رَمَضَانَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: تَکُوْنُ مَعَ الْاَنْبِیَائِ مَا کَانُوْا، فَإِذَا قُبِضُوْا رُفِعَتْ اَمْ ہِیَ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: ((بَلْ ہِیَ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فِی اَیِّ رَمَضَانَ ہِیَ؟ قَالَ: ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَّلِ، اَوْ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ۔)) ثُمَّ حَدَّثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَحَدَّثَ ثُمَّ اہْتَبَلْتُ غَفْلَتَہُ، قُلْتُ: فِی اَیِّ الْعِشْرِیْنَ ہِیَ؟ قَالَ: ((اِبْتَغُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ، لَا تَسْاَلْنِیْ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَہَا۔)) ثُمَّ حَدَّثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَحَدَّثَ ثُمَّ اہْتَبَلْتُ غَفْلَتَہُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَقْسَمْتُ عَلَیْکَ بِحَقِّیْ عَلَیْکَ لَمَا اَخْبَرْتَنِیْ فِی اَیِّ الْعَشْرِ ہِیَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلَیَّ غَضَبًا لَمْ یَغْضَبْ مِثْلَہُ مُنْذُ صَحِبْتُہُ اَوْ صَاحَبْتُہُ، کَلِمَۃً نَحْوَہَا، قَالَ: ((اِلْتَمِسُوہَا فِی السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ، لَا تَسْاَلْنِیْ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۳۱)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! مجھے شب ِ قدر کے بارے میں بتلائیں کہ یہ ماہِ رمضان میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ماہِ رمضان میں ہوتی ہے۔ میں نے کہا: کیایہ رات اس وقت تک ہوتی ہے، جب تک اللہ کے نبی دنیا میں موجود ہوں اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو یہ بھی اٹھا لی جاتی ہے یایہ قیامت تک باقی رہے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے کہا: یہ ماہِ رمضان کے کس حصہ میں ہوتی ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے پہلے یا آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مختلف باتیں بیان کیں، لیکن بیچ میں میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مصروفیت سے وقتی عدم توجہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے اچانک یہ سوال کر دیا کہ ان بیس راتوں میں سے کونسی شب ِ قدر ہو سکتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو، اب اس کے بعد مجھ سے کوئی سوال نہ کرنا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید گفتگو جاری رکھی اور میں نے پھر موقع پا کر اور آپ کی مصروفیت سے وقتی عدم توجہ کو غنیمت جان کر یہ سوال کر دیا کہ اے اللہ کے رسول! میرا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جو حق ہے، میں اس کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مجھے بتلا دیں کہ ان دس راتوں میں قدر والی رات کون سی ہے؟ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مجھ پر اس قدر غصہ آیا کہ جب سے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت میں تھا، کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ پر اس قدر غضبناک نہیں ہوئے تھے، بہرحال پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیتے ہوئے فرما دیا کہ : تم اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرو، اب اس کے بعد کوئی سوال نہ کرنا۔
Musnad Ahmad
4025
۔ (۴۰۲۵) عَنْ عُیَنْیَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: ذُکِرَتْ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ عِنْدَ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: مَا اَنَا بِمُلْتَمِسِہَا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا فِی عَشْرِ اْلاَوَاخِرِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فِی الْوِتْرِ مِنْہُ۔)) قَالَ: فَکَانَ اَبُوْ بَکْرَۃَیُصَلِّیْ فِی الْعِشْرِیْنَ مِنْ رَمَضَانَ کَصَلَاتِہٖفِی سَائِرِ السَّنَۃِ، فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اِجْتَہَدَ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۸۸)
۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پاس شب ِ قدر کا ذکر ہوا، انہوں نے کہا:میں تو اس رات کو صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا، کیونکہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا معمول یہ تھا کہ وہ رمضان کے پہلے بیس دنوںمیں تو پورے سال والی عادت کے مطابق نماز پڑھتے، لیکن جب آخری عشرے کا آغاز ہو جاتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے۔
Musnad Ahmad
3992
۔ (۳۹۹۲) عَنِ ابْنِ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِعْتَکَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَاتُّخِذَ لَہُ بَیْتٌ مِنْ سَعَفٍ، قَالَ: فَاَخْرَجَ رَاْسَہُ ذَاتَ یَوْمٍ، فَقَالَ: ((إِنَّ الْمُصَلِّیَیُنَاجِیْ رَبَّہُ، فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ بِمَایُنَاجِی رَبَّہُ، وَلَا یَجْھَرْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ بِالْقِرَائَ ۃِ۔)) (مسند احمد: ۵۳۴۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھجور کی شاخوں کا ایک حجرہ بنایا گیا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجرے سے سر نکالا اور فرمایا: بے شک نمازی اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، تم میں سے ہر ایک کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے رب سے کس قسم کی مناجات کر رہا ہے اور کوئی آدمی دوسرے کے پاس بلند آواز میں قراء ت نہ کرے۔
Musnad Ahmad
3997
۔ (۳۹۹۷) عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَعْتَکِفُ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَسَافَرَ سَنَۃً فَلَمْ یَعْتَکِفْ، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اِعْتَکَفَ عِشْرِیْنَیَوْمًا۔ (مسند احمد: ۲۱۶۰۰)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک سفر کرنا پڑ گیا، جس کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف نہ کر سکے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اگلے سال کو بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔
Musnad Ahmad
4009
۔ (۴۰۰۹) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْقِظُ اَہْلَہُ (وَفِی لَفظٍ: نِسَائَ ہُ) فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔ (مسند احمد: ۷۶۲)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل وعیال کو عبادت کے لیے بیدار رکھتے تھے۔
Musnad Ahmad
4020
۔ (۴۰۲۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَقْبَلَ إِلَیْہِمْ مُسْرِعًا، قَالَ: حَتّٰی اَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِہِ، فَلَمَّا انْتَہٰی إِلَیْنَا قَالَ: جِئْتُ مُسْرِعًا اُخْبِرُکُمْ بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَاُنْسِیْتُہَا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَلٰکِنْ اِلتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنی تیزی سے صحابہ کی طرف آئے کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جلدی کو دیکھ کر گھبرا گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس پہنچے تو فرمایا: میں تمہیں شب ِ قدر سے آگاہ کرنے کے لیے تیزی سے آرہا تھا، لیکن جو چیز تمہیں بتانا چاہتا تھا وہ راستہ میں مجھے بھلا دی گئی، بہرحال تم اس رات کو ماہِ رمضان کے آخری دھاکے میں تلاش کیا کرو۔
Musnad Ahmad
4021
۔ (۴۰۲۱) عَن عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اُطْلُبُوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَإِنْ غُلِبْتُمْ، فَلَا تُغْلَبُوْا عَلَی السَّبْعِ الْبَواقِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کیا کرو، اگر تم ایسا کرنے سے مغلوب ہو جاؤ تو آخری سات دنوں میں اس کو تلاش کرنے سے پیچھے نہ رہنا۔
Musnad Ahmad
4023
۔ (۴۰۲۳) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اَخْبَرْنَا رَسُوْلُ للّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: ((ہِیَ فِی شَہْرِ رمَضَانَ فَالْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فَإِنَّہَا فِی وِتْرٍ لَیْلَۃِ إِحْدٰی وَعِشْرِیْنَ اَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ اَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ اَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ اَوْ آخِرِ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ، مَنْ قَامَہَا احْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ وَمَا تَاَخَّرَ)۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۳)
۔ سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ رات ماہِ رمضان میں ہوتی ہے، پس تم اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو اور اس عشرے کی بھی طاق راتوں میں،یعنی اکیسویںیا تئیسویںیا پچیسویںیا ستائیسویںیا رمضان کی آخری رات میں، جس نے اجرو ثواب کے حصول کے لیے اس رات قیام کیا، اس کی اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیںگے۔