TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان - رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان - یوم عاشوراء - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 22 of یوم عاشوراء in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 22 of 35 · 5 Hadith
۔ (۴۰۱۷) عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ اَفِی رَمَضَانَ ہِیَ اَوْ فِی غَیْرِہِ؟، قَالَ: ((بَلْ، ہِیَ فِی رَمَضَانَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: تَکُوْنُ مَعَ الْاَنْبِیَائِ مَا کَانُوْا، فَإِذَا قُبِضُوْا رُفِعَتْ اَمْ ہِیَ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ: ((بَلْ ہِیَ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فِی اَیِّ رَمَضَانَ ہِیَ؟ قَالَ: ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَّلِ، اَوْ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ۔)) ثُمَّ حَدَّثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَحَدَّثَ ثُمَّ اہْتَبَلْتُ غَفْلَتَہُ، قُلْتُ: فِی اَیِّ الْعِشْرِیْنَ ہِیَ؟ قَالَ: ((اِبْتَغُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ، لَا تَسْاَلْنِیْ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَہَا۔)) ثُمَّ حَدَّثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَحَدَّثَ ثُمَّ اہْتَبَلْتُ غَفْلَتَہُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَقْسَمْتُ عَلَیْکَ بِحَقِّیْ عَلَیْکَ لَمَا اَخْبَرْتَنِیْ فِی اَیِّ الْعَشْرِ ہِیَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلَیَّ غَضَبًا لَمْ یَغْضَبْ مِثْلَہُ مُنْذُ صَحِبْتُہُ اَوْ صَاحَبْتُہُ، کَلِمَۃً نَحْوَہَا، قَالَ: ((اِلْتَمِسُوہَا فِی السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ، لَا تَسْاَلْنِیْ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۳۱)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! مجھے شب ِ قدر کے بارے میں بتلائیں کہ یہ ماہِ رمضان میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ماہِ رمضان میں ہوتی ہے۔ میں نے کہا: کیایہ رات اس وقت تک ہوتی ہے، جب تک اللہ کے نبی دنیا میں موجود ہوں اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو یہ بھی اٹھا لی جاتی ہے یایہ قیامت تک باقی رہے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے کہا: یہ ماہِ رمضان کے کس حصہ میں ہوتی ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے پہلے یا آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مختلف باتیں بیان کیں، لیکن بیچ میں میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مصروفیت سے وقتی عدم توجہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے اچانک یہ سوال کر دیا کہ ان بیس راتوں میں سے کونسی شب ِ قدر ہو سکتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو، اب اس کے بعد مجھ سے کوئی سوال نہ کرنا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید گفتگو جاری رکھی اور میں نے پھر موقع پا کر اور آپ کی مصروفیت سے وقتی عدم توجہ کو غنیمت جان کر یہ سوال کر دیا کہ اے اللہ کے رسول! میرا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جو حق ہے، میں اس کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مجھے بتلا دیں کہ ان دس راتوں میں قدر والی رات کون سی ہے؟ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مجھ پر اس قدر غصہ آیا کہ جب سے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت میں تھا، کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ پر اس قدر غضبناک نہیں ہوئے تھے، بہرحال پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیتے ہوئے فرما دیا کہ : تم اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرو، اب اس کے بعد کوئی سوال نہ کرنا۔
Takhreej
(۴۰۱۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، مرثد بن عبد اللہ الزمانی، لم یرو عنہ سوی ابنہ مالک، قال الذھبی: فیہ جھالۃ، وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘ اخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۳۴۲۷، والبزار فی ’’مسندہ‘‘: ۴۰۶۸، وابن خزیمۃ: ۲۱۷۰، والحاکم: ۱/ ۴۳۷، والبیھقی: ۴/ ۳۰۷ (انظر: ۲۱۴۹۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قدیم صحبت والے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غصے کی وجہ ان کا اصرار کے ساتھ سوال کرنا تھا، حالانکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو منع بھی کر چکے تھے، لیکن شب ِ قدر کی معرفت اور حصول علم کی حرص ان کو مزید سوال پر آمادہ کر رہی تھی۔
4017
Sahih
۔ (۴۰۱۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّاسُ یَرَوْنَ الرُّؤْیَا فَیَقُصُّونَہَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِنِّی اَوْ قَالَ: اَسْمَعُ رُؤْیَا کُمْ تَوَاطَاَتْ عَلَی السَّبْعِ الْاَوَخِرِ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مُتَحَرِّیَہَا، فَلْیَتَحَرَّہَا فِی السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۹۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: لوگ مختلف خواب دیکھتے اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیان کرتے، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہارے خواب سن رہا ہوں، یہ ماہِ رمضان کی آخری سات راتوں سے موافقت رکھتے ہیں، لہذا تم میں سے جو آدمی شب ِ قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے، وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔
Takhreej
(۴۰۱۸) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۲۰۱۵، ومسلم: ۱۱۶۵ (انظر: ۴۴۹۹)
4018
Sahih
۔ (۴۰۱۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِلْتَمِسُوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ، فِی التَّسْعِ الْغَوَابِرِ۔)) (مسند احمد: ۴۹۲۵)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو آخری دس یا آخری نو راتوں میں تلاش کیا کرو۔
Takhreej
(۴۰۱۹) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4019
Sahih
۔ (۴۰۲۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَقْبَلَ إِلَیْہِمْ مُسْرِعًا، قَالَ: حَتّٰی اَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِہِ، فَلَمَّا انْتَہٰی إِلَیْنَا قَالَ: جِئْتُ مُسْرِعًا اُخْبِرُکُمْ بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَاُنْسِیْتُہَا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَلٰکِنْ اِلتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنی تیزی سے صحابہ کی طرف آئے کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جلدی کو دیکھ کر گھبرا گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس پہنچے تو فرمایا: میں تمہیں شب ِ قدر سے آگاہ کرنے کے لیے تیزی سے آرہا تھا، لیکن جو چیز تمہیں بتانا چاہتا تھا وہ راستہ میں مجھے بھلا دی گئی، بہرحال تم اس رات کو ماہِ رمضان کے آخری دھاکے میں تلاش کیا کرو۔
Takhreej
(۴۰۲۰) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی: ۱۲۶۲۱ (انظر: ۲۳۵۲)
Explanation
فوائد:… بھول جانے کی وجہ یہ تھی کہ دو آدمی جھگڑ رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُدھر مصروف ہوئے تو شب ِ قدر کی علامتیں بھلا دی گئیں۔
4020
Sahih
۔ (۴۰۲۱) عَن عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اُطْلُبُوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَإِنْ غُلِبْتُمْ، فَلَا تُغْلَبُوْا عَلَی السَّبْعِ الْبَواقِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱)
۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کیا کرو، اگر تم ایسا کرنے سے مغلوب ہو جاؤ تو آخری سات دنوں میں اس کو تلاش کرنے سے پیچھے نہ رہنا۔
Takhreej
(۴۰۲۱) تخر یـج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۱۱۱)
4021
Sahih

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.