TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Root words of Surat ul Baqara 2:3, word 3 بِالْغَيْبِ

The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.

Verse 2:3 word by word

Open the verse
PrepositionDeterminerNoun

in the unseen

غیب پر

Tap any part above to see where else it appears

Verb form

غيب
اِغْتَابَ
Perfect
يَغْتَابُ
Imperfect
اِغْتَبْ
Imperative
مُغْتَاب
Active participle
مُغْتَاب
Passive participle
اِغْتِيَاب
Verbal noun

Mufradat ul Quran

Imam Raghib Isfahani

اَلْغَیْبُ: (ض) غَابَتِ الشَّمْسُ وَغَیْرُھَا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں۔ چنانچہ محاورہ ہے۔ غَابَ عَنِّی کَذَا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوگئی۔ قرآن پاک میں ہے۔ (اَمۡ کَانَ مِنَ الۡغَآئِبِیۡنَ ) (۲۷:۲۰) کیا کہیں غائب ہوگیا ہے۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور حواس سے پوشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے یعنی غیب بمعنی غائب ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔ (وَ مَا مِنۡ غَآئِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ) (۲۷:۷۵) اور آسمانوں اور نہ زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔ اور کسی چیز کو غَیْبٌ یا غَائِبٌ لوگوں کے لحاظ سے کہا جاتا ہے ورنہ باری تعالیٰ سے تو کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ جیسے فرمایا: (لَا یَعۡزُبُ عَنۡہُ مِثۡقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ) (۳۴:۳) ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں ۔ لہٰذا آیت کریمہ: (عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ ) (۶:۷۳) وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے۔ میں اَلْغَیْبُ وَالشَّھَادَۃُ سے مراد وہ اشیاء ہیں جو انسان کے علم و حواس سے پوشیدہ ہیں اور جو اس کے سامنے موجود ہیں اور آیت کریمہ: (یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ ) (۲:۳) غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ میں الغیب سے وہ تمام اشیاء اور حقائق مراد ہیں جو انسانی حواس سے ماوراء ہیں اور بداہت عقل سے ان کا علم نہیں ہوسکتا بلکہ انبیاء علیہم السلام کے خبر دینے سے ہی ان کا علم ہوتا ہے اور انہیں نہ ماننے کی وجہ سے انسان ملحد ہوجاتا ہے(1) اور جن لوگوں نے غیب سے قرآن یا تقدیر مراد لی ہے۔ تو انہوں نے اس کے جزوی مفہوم کی طرف اشارہ کیا ہے اور بعض نے یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے معنی یہ کیے یہں کہ ’’تم سے غائب ہونے کی حالت میں بھی وہ ایمان لاتے ہیں،(2) یعنی وہ ان منافقوں کی طرح نہیں ہیں جن کے متعلق ارشاد ہے کہ: (وَ اِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ ۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَہۡزِءُوۡنَ ) (۲:۱۴) اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم (پیروان محمدؐ سے) تو ہنسی کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ مندرجہ ذیل آیات: (الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ) (۳۵:۱۸) جو ب دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے … ہیں۔ (مَنۡ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ ) (۵۰:۳۳) جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔ وغیرہا میں بھی غیب کے معنی خلوت اور تنہائی کے ہیں۔ (وَ لِلّٰہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ) (۱۶:۷۷) اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے۔ (اَطَّلَعَ الۡغَیۡبَ) (۱۹:۷۸) کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے۔ (فَلَا یُظۡہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا) (۷۲:۲۶) اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا۔ (لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ) (۲۷:۶۵) کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے۔ (تِلۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ ) (۱۱:۴۹) یہ (حالات) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں۔ (وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطۡلِعَکُمۡ عَلَی الۡغَیۡبِ) (۳:۱۷۹) اور اﷲ تم کو غیب کی باتوں سے مطلع نہیں کرے گا۔ (اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ) (۵:۱۱۶) بے شک تو عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ہے۔ (اِنَّ رَبِّیۡ یَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ۚ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ) (۳۴:۴۸) میرا پروردگار اوپر سے حق اتارتا ہے (اور وہ) غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ اَغَابَتِ الْمَرئَ ۃُ: وہ عورت جس کا خاوند اس کے پاس موجود نہ ہو۔ چنانچہ آیت کریمہ: (حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ) (۴:۳۴) اور ان کے پیٹھ پیچھے اﷲ کی حفاظت میں (مال و آبرو کی) خبرداری کرتی ہیں۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے خاوندوں کی عدم موجودگی میں وہ کام نہیں کرتیں جسے وہ برا سمجھتے ہوں۔ اَلْغِیْبَۃُ: کے معنی کسی انسان کی عدم موجودگی میں اس کے اس عیب کو بیان کرنے کے ہیں جو اس میں موجود تو ہو لیکن اس کا ذکر کرنا اس پر ناگوار گزرے۔ قرآن پاک میں ہے۔ (وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا) (۴۹:۱۲) اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ اَلْغِیَابَۃُ: کے معنی نشیبی زمین کے ہیں اور اسی سے گھنے جنگل کو غَابَۃٌ کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے۔ (فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ ) (۱۲:۱۰) کسی کنویں کی گہرائی میں …۔ ایک محاورہ ہے۔ ھُمْ یَشْھَدُوْنَ اَحْیَانًا وَیَتَغَایَبُوْنَ اَحْیَانًا کہ وہ کبھی ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی چھپ جاتے ہیں۔ اور آیت کریمہ: وَیَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَکَانٍ بَعِیْدٍ کے معنی یہ ہیں کہ…۔ (وہ یونہی اندھیرے میں تیر چلاتے ہیں اور نگاہ و بصیرت سے اس کا ادراک نہیں کرتے۔(3)

Lemma / Derivative

49 results

غَيْب
2:3
غیب پر
in the unseen
بِالْغَيْبِ
2:33
غیب / بھید
(the) unseen
غَيْبَ
3:44
غیب کی
(of) the unseen -
الْغَيْبِ
3:179
غیب کے
the unseen
الْغَيْبِ
4:34
غیب کے لیئے
in the unseen
لِّلْغَيْبِ
5:94
غائبانہ طور پر
in the unseen
بِالْغَيْبِ
6:50
غیب کو
the unseen
الْغَيْبَ
6:59
غیب کی
(of) the unseen
الْغَيْبِ
6:73
غیب کا
(of) the unseen
الْغَيْبِ
7:188
غیب کو
(of) the unseen
الْغَيْبَ