TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6751 - Chapter: Everything Is Decided And Decreed - The book of destiny - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
Chapter: Everything Is Decided And Decreed
ہر چیز (اللہ کے) اندازے پر ہے (جو مکمل اور حتمی ہوتا ہے)
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ أَوْ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ
Tawus reported: I found some Companions of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Everything is by measure. And he further said: I heard Abdullah b. 'Umar as saying: There is a neasure for everything-even for incapacity and-capability.
عمرو بن مسلم نے طاوس سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صحابہ کو پایا وہ سب کے سب یہ کہتے تھے کہ ہر چیز ( اللہ کی مقرر کردہ ) مقدار سے ہے اور میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر چیز ( اللہ کی مقرر کردہ ) مقدار سے ہے یہاں تک کہ ( کسی کام کو ) نہ کر سکنا اور کر سکنا بھی ، یا کہا : ( کسی کام کو ) کر سکنا اور نہ کر سکنا ( بھی اسی مقدار سے ہے ۔ ) "
6751
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

1,998
1
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Ate Upon
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What has been Related About 'Whoever Prays Subh Then He is Under A Covenant of Allah The Mighty and Sublime'
باب: فجر پڑھ لینے والا اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
3
Chapter: Regarding Refraining From What Was Prohibited By The Messenger of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ
Jam e Tirmazi
4
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
5
وضو کو مکمل طور پر کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان ایڑھیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے کا بیان
Musnad Ahmad
6
رسول اللہaکا باوجود نماز مکمل کرنے کے لوگوں کو ہلکی نماز پڑھانے کا بیان
Musnad Ahmad
7
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
Musnad Ahmad
8
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
9
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی نے کسی حادثے یا ضرورت کی بنا پر قرضہ لیا، جبکہ وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو اور ادا نہ کر سکے تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا کر دے گا
Musnad Ahmad
10
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
Musnad Ahmad
11
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
12
اس چیز کا بیان جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
Musnad Ahmad
13
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
Musnad Ahmad
14
سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
Musnad Ahmad
15
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
16
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
Musnad Ahmad
17
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
Musnad Ahmad
18
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے
Musnad Ahmad
19
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
Musnad Ahmad
20
کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا
Musnad Ahmad
21
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
Musnad Ahmad
22
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
Musnad Ahmad
23
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
Musnad Ahmad
24
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
Musnad Ahmad
25
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
Musnad Ahmad
26
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
Musnad Ahmad
27
سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
Musnad Ahmad
28
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اپنی ازواج کے درمیان ہر چیز میں انصاف کرنے اور دن کے کسی حصہ میں سب کے ہاں چکر لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
29
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
Musnad Ahmad
30
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
Musnad Ahmad
31
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
Musnad Ahmad
33
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
Musnad Ahmad
34
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
Sahih Bukhari
35
(51) CHAPTER. The one whom Allah gives something without his asking for it, or without avarice for it.
اگر اللہ پاک کسی کو بن مانگے اور بن دل لگائے اور امیدوار رہے کوئی چیز دلا دے ( تو اس کو لے لے )
Sahih Bukhari
36
(24) CHAPTER. The eyes of the Prophet (p.b.u.h) used to sleep, but his heart used not to sleep.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ظاہر میں سوتی تھیں لیکن دل غافل نہیں ہوتا تھا
Sahih Bukhari
37
(2) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “But for the emigration, I would have been one of the Ansar.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں نے مکہ سے ہجرت نہ کی ہوتی میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا
Sahih Bukhari
38
(8) CHAPTER. “O Prophet! Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you…?” (V.66:1)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ” اے پیغمبر ! جو چیز اللہ نے تیرے لیے حلال کی ہے اسے تو اپنے اوپر کیوں حرام کرتا ہے “ ۔
Sahih Bukhari
39
(31) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “If I were to stone any person to death without witnesses.”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں بغیر گواہی کے کسی کو سنگسار کرنے والا ہوتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا ۔
Sahih Bukhari
40
(3) CHAPTER. There is cure in three things.
( اللہ نے ) شفاء تین چیزوں میں ( رکھی ) ہے
Sahih Bukhari
41
(20) CHAPTER. Refraining from doing things Allah has made illegal.
اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا
Sahih Bukhari
42
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Our (i.e., Messengers') property is not to be inherited, and whatever we leave (after our death), is Sadaqa (to be spent in charity).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ۔ جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے
Sahih Bukhari
43
(14) CHAPTER. (The Statement of Allah:) “They ask you for a legal verdict. Say; ‘Allah directs (thus) about Al-Kalalah (those who leave neither decendants nor ascendants as heirs). If it is a man that dies, leaving a sister, but no child, she shall have half the inheritance. If (such a deceased was) a woman, who left no child, her brother takes her inheritance. If there are two sisters, they shall have two-thirds of the inheritance; if there are brothers and sisters, then the male will have twice the share of the female.' (Thus) dose Allah makes clear to you (His Law), lest you go astray. And Allah is the All-Knower of everything. (V.4:176)
سورۃ نساء میں اللہ کا یہ فرمان کہ لوگ وراثت کے بارے میں آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں
Sahih Bukhari
44
(3) CHAPTER. Good dreams are from Allah.
اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے
Sahih Bukhari
45
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): “If I had formerly known what I came to know lately...”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ اگر مجھے پہلے سے وہ معلوم ہوتا جو بعد کو ہوا
Sahih Bukhari
46
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): “If I had formerly known what I came to know lately...”
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ کاش ایسا اور ایسا ہوتا
Sahih Bukhari
47
(7) CHAPTER. The statement of a man, “Without Allah, we would not have been guided.”
کسی شخص کا کہنا کہ اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم کو ہدایت نہ ہوتی
Sahih Bukhari
48
(27) CHAPTER. Something forbidden, by the Prophet (p.b.u.h.) is legally prohibited unless there is a proof that (later on) it was (made) legal. Similarly, his orders render things obigatory, as he said (to his Companions) when they finished their Ihram, Sleep with your wives.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے لوگوں کو منع کریں تو وہ حرام ہو گا مگر یہ کہ اس کی اباحت دلائل سے معلوم ہو جائے ۔
Sahih Bukhari
49
(16) CHAPTER. The Statement of Allah: “... Everytl1ing will perish save His Face...” (V.28:88) [That means that Allah will never perish].
سورۃ قصص میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اللہ کے منہ کے سوا تمام چیزیں مٹ جانے والی ہیں “ ۔
Sahih Bukhari
50
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “He is Allah, the Creator, the Inventor of all things, the Bestower of forms…” (V.59:24)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الحشر میں ” وہی اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا نقشہ کھینچنے والا ہے “ ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,146
Silsila Sahih
1072
عَنْ طَاوس اليَماني أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ قَالَ طاوس: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ أَوْ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ.
طاؤس یمانی رحمۃ اللہ علیہ سےمروی ہےانہوں نےكہاكہ میں نےرسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابہ كوپایا،فرماتےتھے: ہر چیز تقدیر سے ہے،طاؤس نے کہا:اور میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ فرما رہے تھےکہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہرچیز تقدیر سے ہے،حتی كہ عاجزی اوردانشمندی بھی یا دانشمندی اور عاجزی بھی۔( )
Jam e Tirmazi
519
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِ:‏‏‏‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ. عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ:‏‏‏‏ كَاتِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
Ubaidullah bin Abi Rafi the freed slave of Allah's Messenger said: Marwan left Abu Hurairah in charge of Al-Madinah and he went to Makkah. So Abu Hurairah led us in Salat in Friday, reciting Surah Al-Jumuah (in the first Rak'ah) and in the second prostration (Rak'ah): When the hypocrites come to you. Ubaidullah said: So I caught up with Abu Hurairah and said to him: 'You recited two Surah that Ali recited in Al-Kufah. Abu Hurairah said: 'Indeed I heard Allah's Messenger reciting them.'
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں: مروان نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو مدینے میں اپنا نائب مقرر کیا اور وہ خود مکہ کی طرف نکلے، ابوہریرہ رضی الله عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن نماز پڑھائی تو انہوں نے ( پہلی رکعت میں ) سورۃ الجمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں «إذا جاءك المنافقون»،‏‏‏‏ عبیداللہ کہتے ہیں: تو میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملا، میں نے ان سے کہا: آپ نے دو ایسی سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی رضی الله عنہ کوفہ میں پڑھتے ہیں، اس پر ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے ان دونوں سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، نعمان بن بشیر اور ابوعنبہ خولانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ جمعہ کی نماز میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
Jam e Tirmazi
533
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِ:‏‏‏‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَيَقْرَأُ بِهِمَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي وَاقِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَمِسْعَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فَيُخْتَلَفُ عَلَيْهِ فِي الرِّوَايَةِ، ‏‏‏‏‏‏يُرْوَى عَنْهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَلَا نَعْرِفُ لِحَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ رِوَايَةً عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ هُوَ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ. وَرَوَى عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَحَادِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ نَحْوُ رِوَايَةِ هَؤُلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ بِ قَافٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيّ.
An-Numan bin Bashir narrated: For the two Eid and the Friday prayer, the Prophet would recite: Glorify the Name of your Lord, the Most High, and Has there come to you the narration of the overwhelming? And sometimes they would occur on he same day, so he would recite the two of them.
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور بسا اوقات دونوں ایک ہی دن میں آ پڑتے تو بھی انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوواقد، سمرہ بن جندب اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی طرح سفیان ثوری اور مسعر نے بھی ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ابو عوانہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۴- رہے سفیان بن عیینہ تو ان سے روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان کی ایک سند یوں ہے: «عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن حبيب بن سالم عن أبيه عن النعمان بن بشير» ‏‏‏‏ اور ہم حبیب بن سالم کی کسی ایسی روایت کو نہیں جانتے جسے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہو۔ حبیب بن سالم نعمان بن بشیر کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے نعمان بن بشیر سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ اور ابن عیینہ سے ابراہیم بن محمد بن منتشر کے واسطہ سے ان لوگوں کی طرح بھی روایت کی گئی ہے ۲؎ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ عیدین کی نماز میں «سورة ق» اور «اقتربت الساعة» پڑھتے تھے ۳؎ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
709
وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ. قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلُ مِصْرَ يَقُولُونَ:‏‏‏‏ مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلُ الْعِرَاقِ يَقُولُونَ:‏‏‏‏ مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ وَهُوَ مُوسَى بْنُ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيُّ.
Amr bin Al-As narrated : (similar to no. 708) from the Prophet.
اس سند سے عمرو بن عاص رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل مصر موسى بن عَلِيّ ( عین کے فتحہ کے ساتھ ) : کہتے ہیں اور اہل عراق موسى بن عُليّ ( عین کے ضمہ کے ساتھ ) کہتے ہیں اور وہ موسیٰ بن عُلَيّ بن رباح اللخمی ہیں۔
Jam e Tirmazi
884
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ كَانَ عَلَى دِينِهَا وَهُمْ الْحُمْسُ يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُونَ:‏‏‏‏ نَحْنُ قَطِينُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مَنْ سِوَاهُمْ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ مِنْ الْحَرَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَرَفَةُ خَارِجٌ مِنْ الْحَرَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلُ مَكَّةَ كَانُوا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ نَحْنُ قَطِينُ اللَّهِ يَعْنِي سُكَّانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سِوَى أَهْلِ مَكَّةَ كَانُوا يَقِفُونَ بِعَرَفَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199. وَالْحُمْسُ هُمْ:‏‏‏‏ أَهْلُ الْحَرَمِ.
Aishah narrated: The Quraish and those who followed their religion - and they were called Al-Hums - would stand at Al-Muzdalifah, and they would say: 'We are the people of Allah.' The others would stand at Arafat, so Allah the Mighty and Sublime revealed: Then depart from where the people depart.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ - اور یہ «حمس» ۱؎ کہلاتے ہیں - مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم تو اللہ کے خادم ہیں۔ ( عرفات نہیں جاتے ) ، اور جوان کے علاوہ لوگ تھے وہ عرفہ میں وقوف کرتے تھے تو اللہ نے آیت کریمہ «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ”اور تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں“ ( البقرہ: ۱۹۹ ) نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اہل مکہ حرم سے باہر نہیں جاتے تھے اور عرفہ حرم سے باہر ہے۔ اہل مکہ مزدلفہ ہی میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم اللہ کے آباد کئے ہوئے لوگ ہیں۔ اور اہل مکہ کے علاوہ لوگ عرفات میں وقوف کرتے تھے تو اللہ نے حکم نازل فرمایا: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ”تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں“ «حمس» سے مراد اہل حرم ہیں۔
Jam e Tirmazi
1104
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَهَذَا أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ مَرْفُوعًا، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثُ مَوْقُوفًا، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَوْلُهُ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَى أَصْحَابُ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَ هَذَا مَوْقُوفًا، ‏‏‏‏‏‏وَفِي هَذَا الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِشُهُودٍ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي ذَلِكَ مَنْ مَضَى مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا قَوْمًا مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا إِذَا شَهِدَ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ لَا يَجُوزُ النِّكَاحُ حَتَّى يَشْهَدَ الشَّاهِدَانِ مَعًا عِنْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ:‏‏‏‏ إِذَا أُشْهِدَ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ جَائِزٌ إِذَا أَعْلَنُوا ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا قَالَ إِسْحَاق فِيمَا حَكَى عَنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ يَجُوزُ شَهَادَةُ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فِي النِّكَاحِ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
(Another chain) from Sa'eed bin Abi Arubah, with similar (narration), : And he did not narrate it in Marfu form, and this is more correct.
اس سند سے بھی سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، ۲- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو سوائے اس کے جو عبدالاعلیٰ سے مروی ہے انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے اور سعید نے قتادہ سے مرفوعاً روایت کی ہے، ۳- اور عبدالاعلیٰ سے سعید بن ابی عروبہ کے واسطے سے یہ موقوفا بھی مروی ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو ابن عباس کے قول سے مروی ہے کہ بغیر گواہ کے نکاح نہیں، خود ابن عباس کا قول ہے، ۴- اسی طرح سے اور کئی لوگوں نے بھی سعید بن ابی عروبہ سے اسی طرح کی روایت موقوفاً کی ہے، ۵- اس باب میں عمران بن حصین، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۶- صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر گواہ کے نکاح درست نہیں۔ پہلے کے لوگوں میں اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن متاخرین اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے، ۷- اہل علم میں اس سلسلے میں اختلاف ہے جب ایک دوسرے کے بعد گواہی دے یعنی دونوں بیک وقت مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوں تو کوفہ کے اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ نکاح اسی وقت درست ہو گا جب عقد نکاح کے وقت دونوں گواہ ایک ساتھ موجود ہوں، ۸- اور بعض اہل مدینہ کا خیال ہے کہ جب ایک کے بعد دوسرے کو گواہ بنایا گیا ہو تو بھی جائز ہے جب وہ اس کا اعلان کر دیں۔ یہ مالک بن انس وغیرہ کا قول ہے۔ اسی طرح کی بات اسحاق بن راہویہ نے بھی کہی ہے جو اہل مدینہ نے کہی ہے، ۹- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نکاح میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت جائز ہے، یہ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
1150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ:‏‏‏‏ الصَّحِيحُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ دِينَارٍ وَزَادَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هُوَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ َلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ. (حديث موقوف) وَقَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ أُنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ، ‏‏‏‏‏‏فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ خَمْسٌ، ‏‏‏‏‏‏وَصَارَ إِلَى خَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا كَانَتْ عَائِشَةُ تُفْتِي، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ، ‏‏‏‏‏‏إِلَى قَوْلِ عَائِشَةَ فِي خَمْسِ رَضَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ وَجَبُنَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَقُولَ فِيهِ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ يُحَرِّمُ قَلِيلُ الرَّضَاعِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَثِيرُهُ إِذَا وَصَلَ إِلَى الْجَوْفِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَوَكِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدِ اسْتَقْضَاهُ عَلَى الطَّائِفِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَدْرَكْتُ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abdullah bin Az-Zubair narrated from Aishah from the Prophet who said: “One sip or two sips do not make a prohibition.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار یا دو بار چھاتی سے دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام فضل، ابوہریرہ، زبیر بن عوام اور ابن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کو دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ایک یا دو بار دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی“۔ اور محمد بن دینار نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس میں محمد بن دینار بصریٰ نے زبیر کے واسطے کا اضافہ کیا ہے۔ لیکن یہ غیر محفوظ ہے، ۳- محدثین کے نزدیک صحیح ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے جسے انہوں نے بطریق: «عبد الله بن الزبير عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح ابن زبیر کی روایت ہے جسے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے اور محمد بن دینار کی روایت جس میں: زبیر کے واسطے کا اضافہ ہے وہ دراصل ہشام بن عروہ سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے زبیر سے روایت کی ہے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ۶- عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قرآن میں ( پہلے ) دس رضعات والی آیت نازل کی گئی پھر اس میں سے پانچ منسوخ کر دی گئیں تو پانچ رضاعتیں باقی رہ گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو معاملہ انہیں پانچ پر قائم رہا ۲؎، ۷- اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دوسری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اسی کا فتویٰ دیتی تھیں، اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ ۸- امام احمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ”ایک بار یا دو بار کے چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی“ کے قائل ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی عائشہ رضی الله عنہا کے پانچ رضعات والے قول کی طرف جائے تو یہ قوی مذہب ہے۔ لیکن انہیں اس کا فتویٰ دینے کی ہمت نہیں ہوئی، ۹- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ جب پیٹ تک پہنچ جائے تو اس سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ یہی سفیان ثوری، مالک بن انس، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، وکیع اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
2282
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي شُرَيْحٍ، ‏‏‏‏‏‏وَوَاثِلَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
(another chain) from Abu 'Abdur-Rahman As-Sulami who narrated from 'Ali from the Prophet with similar narrations. [He said: This narration is Hasan.] There are narration on this topic from Ibn 'Abbas, Abu Hurairah, Abu Shuraih and Wathilah bin Al-Asqa'.
اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، ابوشریح اور واثلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2557
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَلَا يَتْبَعُ كُلُّ إِنْسَانٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيُمَثَّلُ لِصَاحِبِ الصَّلِيبِ صَلِيبُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلِصَاحِبِ التَّصَاوِيرِ تَصَاوِيرُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلِصَاحِبِ النَّارِ نَارُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَتْبَعُونَ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَبْقَى الْمُسْلِمُونَ فَيَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ ؟ فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ اللَّهُ رَبُّنَا هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَتَوَارَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَطَّلِعُ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ ؟ فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ اللَّهُ رَبُّنَا وَهَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَهَلْ نَرَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ تِلْكَ السَّاعَةَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَتَوَارَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَطَّلِعُ فَيُعَرِّفُهُمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّبِعُونِي، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُومُ الْمُسْلِمُونَ وَيُوضَعُ الصِّرَاطُ فَيَمُرُّونَ عَلَيْهِ مِثْلَ جِيَادِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ وَقَوْلُهُمْ عَلَيْهِ سَلِّمْ سَلِّمْ، ‏‏‏‏‏‏وَيَبْقَى أَهْلُ النَّارِ فَيُطْرَحُ مِنْهُمْ فِيهَا فَوْجٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُقَالُ:‏‏‏‏ هَلِ امْتَلَأْتِ ؟ فَتَقُولُ:‏‏‏‏ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ ثُمَّ يُطْرَحُ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ:‏‏‏‏ هَلِ امْتَلَأْتِ ؟ فَتَقُولُ:‏‏‏‏ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى إِذَا أُوعِبُوا فِيهَا وَضَعَ الرَّحْمَنُ قَدَمَهُ فِيهَا وَأَزْوَى بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ قَطْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَطْ قَطْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَدْخَلَ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلَ النَّارِ النَّارَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُتِيَ بِالْمَوْتِ مُلَبَّبًا فَيُوقَفُ عَلَى السُّورِ بَيْنَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُقَالُ:‏‏‏‏ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُقَالُ:‏‏‏‏ يَا أَهْلَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ يَرْجُونَ الشَّفَاعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ:‏‏‏‏ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ:‏‏‏‏ قَدْ عَرَفْنَاهُ هُوَ الْمَوْتُ الَّذِي وُكِّلَ بِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَيُضْجَعُ فَيُذْبَحُ ذَبْحًا عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُقَالُ:‏‏‏‏ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِوَايَاتٌ كَثِيرَةٌ مِثْلُ هَذَا مَا يُذْكَرُ فِيهِ أَمْرُ الرُّؤْيَةِ أَنَّ النَّاسَ يَرَوْنَ رَبَّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَذِكْرُ الْقَدَمِ وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ وَالْمَذْهَبُ فِي هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ الْأَئِمَّةِ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَوَكِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ رَوَوْا هَذِهِ الْأَشْيَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالُوا:‏‏‏‏ تُرْوَى هَذِهِ الْأَحَادِيثُ وَنُؤْمِنُ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُقَالُ:‏‏‏‏ كَيْفَ ؟ وَهَذَا الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْحَدِيثِ أَنْ تُرْوَى هَذِهِ الْأَشْيَاءُ كَمَا جَاءَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلَا تُفَسَّرُ وَلَا تُتَوَهَّمُ وَلَا يُقَالُ كَيْفَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَمْرُ أَهْلِ الْعِلْمِ الَّذِي اخْتَارُوهُ وَذَهَبُوا إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى قَوْلِهِ فِي الْحَدِيثِ فَيُعَرِّفُهُمْ نَفْسَهُ يَعْنِي يَتَجَلَّى لَهُمْ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Allah will gather mankind on the Day of Resurrection on a single plane, then the Lord of the Worlds will come to them and say: 'Let every person follow what they used to worship.' SO to the worshipper of the cross, his cross shall be symbolized to him, and to the worshipper of images his images, and to the worshipper of fire his fire. They will follow what they used to worship, and the Muslims will remain. Then the Lord of the Worlds will come to them and say: 'Do you not follow the people?' So they will say: 'We seek refuge in Allah from you, we seek refuge in Allah from you, Allah is our Lord, and we shall remain here until we see our Lord.' And He orders them and makes them firm.' Thy said: And you will see Him, O Messenger of Allah? He said: Are you harmed in seeing the moon on the night of a full moon? They said: No, O Messenger of Allah. He said: So you will not be harmed in seeing Him at that hour. Then He will conceal Himself, then He will come, and He will make them recognize Him, then He will say: I am your Lord, so follow Me. So the Muslims will arise and the Sirat shall be placed, and they shall be placed, and they shall pass by it the like of excellent horses and camels and their statement upon it shall be, Grant them safety, grant them safety. And the people of Fire shall remain, then a party of them shall be cast down into it, and it shall be said (to the Fire): 'Have you become full?' So it shall say: Is there more? Then a party of them shall be cast down into it, and it shall be said: 'Have you become full?' So it shall say: Is there more? Until when they are all included into it, Ar-Rahman (the Most-Merciful) shall place His foot in it and its sides shall be all brought together, then He will say: 'Enough.' It will say 'Enough, enough.' So when Allah, the Exalted, has admitted the people of Paradise into Paradise and the people of Fire into Fire - [He said:]- Death shall be brought in by the collar and stood on the wall that is between the people of Paradise and the people of the Fire, then it will be said: 'O people of Paradise!' They will come near, afraid. Then it will be said: 'O people of the Fire!' They will come rejoicing, hoping for intercession. Then it will be said to the people of Paradise and the people of the Fire: 'Do you recognize this?' So they will-both of them-say: 'We recognize it. It is Death which was given charge of us,' so it will be laid down and slaughtered upon the wall [the one that is between Paradise and the Fire], then it will be said: 'O people of Paradise! Everlasting life without death!' And 'O people of the Fire! Everlasting life without death!'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک وسیع اور ہموار زمین میں جمع کرے گا، پھر اللہ رب العالمین ان کے سامنے اچانک آئے گا اور کہے گا: کیوں نہیں ہر آدمی اس چیز کے پیچھے چلا جاتا ہے جس کی وہ عبادت کرتا تھا؟ چنانچہ صلیب پوجنے والوں کے سامنے ان کی صلیب کی صورت بن جائے گی، بت پوجنے والوں کے سامنے بتوں کی صورت بن جائے گی اور آگ پوجنے والوں کے سامنے آگ کی صورت بن جائے گی، پھر وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے لگ جائیں گے اور مسلمان ٹھہرے رہیں گے، پھر رب العالمین ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے، ہم یہیں رہیں گے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے گا اور ان کو ثابت قدم رکھے گا اور چھپ جائے گا، پھر آئے گا اور کہے گا: تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارا رب اللہ ہے اور ہماری جگہ یہی ہے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں، اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے گا اور انہیں ثابت قدم رکھے گا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل ہوتی ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کے دیکھنے میں اس وقت کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں کرو گے۔ پھر اللہ تعالیٰ چھپ جائے گا پھر جھانکے گا اور ان سے اپنی شناخت کرائے گا، پھر کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، میرے پیچھے آؤ، چنانچہ مسلمان کھڑے ہوں گے اور پل صراط قائم کیا جائے گا، اس پر سے مسلمان تیز رفتار گھوڑے اور سوار کی طرح گزریں گے اور گزرتے ہوئے ان سے یہ کلمات ادا ہوں گے «سلم سلم» ”سلامت رکھ، سلامت رکھ“، صرف جہنمی باقی رہ جائیں گے تو ان میں سے ایک گروہ کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ جہنم کہے گی: «هل من مزيد» اور زیادہ، پھر اس میں دوسرا گروہ پھینکا جائے گا اور پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی: «هل من مزيد» اور زیادہ، یہاں تک کہ جب تمام لوگ پھینک دیے جائیں گے تو رحمن اس میں اپنا پیر ڈالے گا اور جہنم کا ایک حصہ دوسرے میں سمٹ جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: بس۔ جہنم کہے گی: «قط قط» بس، بس۔ جب اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں اور جہنمیوں کو جہنم میں داخل کر دے گا، تو موت کو کھینچتے ہوئے اس دیوار تک لایا جائے گا جو جنت اور جہنم کے درمیان ہے، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! تو وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے، پھر کہا جائے گا: اے جہنمیو! تو وہ شفاعت کی امید میں خوش ہو کر جھانکیں گے، پھر جنتیوں اور جہنمیوں سے کہا جائے گا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ تو یہ بھی کہیں گے اور وہ بھی کہیں گے: ہم نے اسے پہچان لیا، یہ وہی موت ہے جو ہمارے اوپر وکیل تھی، پھر وہ جنت اور جہنم کی بیچ والی دیوار پر لٹا کر یکبارگی ذبح کر دی جائے گی، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! ہمیشہ ( جنت میں ) رہنا ہے موت نہیں آئے گی۔ اے جہنمیو! ہمیشہ ( جہنم میں ) رہنا ہے موت نہیں آئے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی بہت سی احادیث مروی ہیں جس میں دیدار الٰہی کا ذکر ہے کہ لوگ اپنے رب کو دیکھیں گے، قدم اور اسی طرح کی چیزوں کا بھی ذکر ہے، ۳- اس سلسلے میں ائمہ اہل علم جیسے سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک، ابن عیینہ اور وکیع وغیرہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کی روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ حدیثیں آئی ہیں اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں، لیکن صفات باری تعالیٰ کی کیفیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جائے گا، محدثین کا مسلک یہ یہی کہ یہ چیزیں ویسی ہی روایت کی جائیں گی جیسی وارد ہوئی ہیں، ان کی نہ ( باطل ) تفسیر کی جائے گی نہ اس میں کوئی وہم پیدا کیا جائے گا، اور نہ ان کی کیفیت وکنہ کے بارے میں پوچھا جائے گا، اہل علم نے اسی مسلک کو اختیار کیا ہے اور لوگ اسی کی طرف گئے ہیں، ۴- حدیث کے اندر «فيعرفهم نفسه» کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے تجلی فرمائے گا۔