TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان

Chapter 4 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 43 · 18 Hadith
۔ (۱۲۸۰۴)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ وَابِصَۃَ الْاَسَدِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: اِنِّیْ بِالْکُوْفَۃِ فِی دَارِیْ اِذْ سَمِعْتُ عَلٰی بَابِ الدَّارِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَلِجُ قُلْتُ :عَلَیْکُمُ السَّلَامُ فَلِجْ، فَلَمَّا دَخََلَ فَاِذَا ھُوَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قُلْتُ: یَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! اَیَّۃَ سَاعَۃِ زِیَارَۃٍ ہٰذِہٖوَذٰلِکَفِی نَحْرِ الظَّہِیْرَۃِ؟ قَالَ: طَالَ عَلَّی النَّہَارُ فَذَکَرْتُ مَنْ اَتَحَدَّثُ اِلَیْہِ، قَالَ: فَجَعَلَ یُحَدِّثُنِیْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاُحَدِّثُہٗ قَالَ: ثُمَّ اَنْشَاَ یُحَدِّثُنِیْ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:(( تَکُوْنُ فِتْنَۃٌ، النِّائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ وَالْمُضْطَجِعُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ وَالْقَاعِدُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ‘ وَالْقَائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ خَیْرٌ مِنَ الرَّاکِبِ وَالرَّّاکِبُ خَیْرٌ مِنَ الْمُجْرِیْ، قَتْلَاھَا کُلُّہَا فِی النَّارِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَتٰی ذٰلِکَ؟ قَالَ:((ذٰلِکَ اَیَّامَ الْھَرْجِ۔)) قُلْتُ: وَمَتٰی اَیَّامُ الْھَرْجِ؟ قَالَ:((حِیْنَ لَا یَاْمَنُ الرَّجُلُ جَلِیْسَہٗ۔)) قَالَ قُلْتُ : فَمَا تَاْمُرُنِیْ اِنْ اَدْرَکْتُ ذٰلِکَ ؟قَالَ:((اُکْفُفْ نَفْسَکَ وَیَدَکَ وَادْخُلْ دَارَکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ اِنْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَیَّ دَارِیْ؟ قَالَ:((فَادْخُلْ بَیْتَکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: اَفَرَاَیْتَ اِنْ دَخَلَ عَلَیَّ بَیْتِیْ؟ قَالَ:((فَادْخُلْ مَسْجِدَکَ وَاصْنَعْ ہٰکَذَا،وَقَبَضَ بِیَمِیْنِہٖ عَلَی الْکَوْعِ وَقُلْ رَبِّیَ اللّٰہُ حَتّٰی تَمُوْتَ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۴۲۸۶)
سیدنا وابصہ اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں کوفہ والے اپنے گھر میں تھا کہ دروازے پر یہ آواز سنائی دی:السلام علیکم، میں اندر آ جاؤں، میں نے کہا: وعلیکم السلام، جی تشریف لے آئیں، وہ آدمی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! یہ ملاقات کا کونسا وقت ہے؟ یہ عین دوپہر کا وقت تھا۔ انہوں نے کہا: دن مجھ پر لمبا ہو رہا تھا، میں سوچنے لگا کہ کس کے ساتھ باتیں کر کے وقت گزارا جائے، (اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا)۔ پھر وہ مجھے احادیث ِ نبویہ بیان کرنے لگے اور میں ان کو، انھوں نے یہ حدیث بھی بیان کی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتنے بپا ہوں گے، ان حالات میں سویا ہو اآدمی لیٹے ہوئے سے،لیٹا ہوا بیٹھنے والے سے، بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑے ہونے والا چلنے والے سے، چلنے والا سوار سے اور اونٹ سوار گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگنے والے آدمی سے بہتر ہو گا، ان لڑائیوں میں قتل ہونے والے سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! ایسے حالات کب پیدا ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتلِ عام کے دنوں میں۔ میں نے کہا:قتلِ عام کب ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب انسان اپنے ساتھ بیٹھنے والے آدمی پر اعتماد نہیں کرے گا۔ میں نے کہا: اگر میں ایسے زمانے کو پا لوں تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے نفس اور ہاتھ کو روک لینا اور گھر کے اندر ہی رہنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی جھگڑالو میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم اپنے گھر کے کسی کمرے میں چلے جانا۔ میں نے کہا: اگر وہ میرے کمرے کے اندر بھی گھس آئے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں داخل ہو جانا اور اس طرح کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی بند مٹھی کا انگوٹھے والا کنارہ پکڑ لیا اور فرمایا: اور کہنا کہ اللہ ہی میرا رب ہے، حتی کہ اسی حالت پر مر جانا۔
Takhreej
(۱۲۸۰۴) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود باختصار (انظر: ۴۲۸۶)
Explanation
فوائد:… ان لڑائیوں میں قتل ہونے والے سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔ اس کو مسلمانوں کے مابین ہونے والی ان لڑائیوں پر محمول کیا جائے گا، جن کی دونوں طرف سے بنیاد عصبیت، حمیت اور جاہلیت پر ہو گی اور ان میں کوئی شرعی سبب نہیں ہو گا۔
12804
Sahih
۔ (۱۲۸۰۵)۔ وَعَنْ مُسْلِمٍ بْنِ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ، اَلْمُضْطِجِعُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْجَالِسِ وَالْجِالِسُ خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیُ خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ۔)) قَالََ: فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا تَاْمُرُنِیْ؟ قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ لَہٗاِبِلٌفَلْیَلْحَقْ بِاِبِلِہٖ‘وَمَنْکَانَتْ لَہٗغَنَمٌ،فَلْیَلْحَقْ بِغَنَمِہٖ،وَمَنْکَانَتْلَہٗاَرْضٌفَلْیَلْحَقْ بِاَرْضِہِ وَمَنْ لَّمْ یَکُنْ لَہٗشَیْ ئٌ مِنْ ذٰلِکَ فَلْیَعْمَدْ اِلٰی سَیْفِہِ فَلْیَضْرِبْ بِحَدِّہٖصَخْرَۃً ثُمَّ لِیَنْجُ اِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاۃَ ثُمَّ لْیَنْجُ اِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۸۳)
سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں لیٹے والا آدمی بیٹھے ہوئے سے ، بیٹھا ہوا کھڑے ہونے والے ،،کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا فتنوں میں بھاگ کر شامل ہونے والے سے بہتر ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حالات کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں، وہ اپنے اونٹوں میں مشغول ہو جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ ان میں مصروف ہو جائے، جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں لگ جائے اور جس کے پاس ایسی کوئی مصروفیت نہ ہو وہ اپنی تلوار کو کسی پتھر پر مار کر اس کی دھار کو ناکارہ کر لے اور جس قدر ممکن ہو ان فتنوں سے دور رہے، اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔
Takhreej
(۱۲۸۰۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۸۷ (انظر: ۲۰۴۱۲)
12805
Sahih
۔ (۱۲۸۰۶)۔ (وَعَنْہٗاَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ) وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہٖ ثُمَّلِیَنْجُ اِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاۃَ ((اَللّٰہُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ‘ اَللّٰہُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ۔)) اِذْ قَالَ رَجُلٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، اَرَاَیْتَ اِنْ اَخَذَ بِیَدِیْ مُکْرَھًا حَتّٰییَنْطَلِقَ بِیْ اِلٰی اَحَدِ الصَّفَّیْنِ اَوْ اِحْدٰی الْفِئَتَیْنِ،عُثْمَانُیَشُکُّ، فَیَحْذِفُنِیْ رَجُلٌ بِسَیْفِہِ فَیَقْتُلُنِیْ مَاذَا یَکُوْنُ مِنْ شَاْنِیْ؟ قَال: ((یَبُوئُ بِاِثْمِکَ وَاِثمِہٖوَیَکُوْنُ مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۶۴)
۔ (دوسری سند) اوپر والی حدیث کے آخری الفاظ اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔ کے بعد اس میں یہ اضافہ ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! تحقیق میں نے تیری بات پہنچا دی‘ اے اللہ! تحقیق میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے‘ اگر کوئی آدمی میرے ہاتھ کو پکڑ لیتا ہے اور مجبور کر کے کسی ایک صف یا گروہ کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے، پھرکوئی آدمی تلوار کی ضرب لگا کر مجھے قتل کر دیتا ہے، تو میرا کیا بنے گا، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اپنے گناہوں اور تیرے گناہوں کے ساتھ لوٹے گا اور وہ جہنمی لوگوں میں سے ہو جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۸۰۶) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم، أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۵۵۴۸ (انظر:۲۰۴۹۰)
12806
Sahih
۔ (۱۲۸۰۷)۔ وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیْدٍ اَنَّ سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال عِنْدَ فِتْنَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَشْہَدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّہَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ، اَلْقَاعِدُ فِیْھَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیُ خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ۔)) قَالَ: اَفَرَاَیْتَ اِنْ دَخَلَ عَلَّی بَیْتِیْ فَبَسَطَ یَدَہٗ اِلَیَّ لِیَقْتُلَنِیَْ قَالَ: ((کُنْ کَابْنِ آدَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۹)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں برپا ہونے والے فتنے کے موقع پر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ: عنقریب فتنہ برپا ہوگا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا اس فتنہ میں بھاگ کر حصہ لینے والے سے بہتر ہو گا۔ ایک شخص نے کہا: اگر کوئی شخص زبردستی میرے گھر میں داخل ہو کر مجھے قتل کر نے کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میں کیا کروں؟ آ پ نے فرمایا: آدم علیہ السلام کے اس بیٹے والا طرز عمل اختیار کرنا (جو خود تو قتل ہوگیا لیکن اس نے دوسرے پر ہاتھ نہ اٹھایا تھا)۔
Takhreej
(۱۲۸۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۲۵۷(انظر: ۱۶۰۹)
12807
Sahih
۔ (۱۲۸۰۸)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنْ عَنَزَۃَیُقَالُ لَہٗزَائِدَۃُ اَوْ مَزِیْدَۃُ بْنُ حَوَالَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ مِنْ اَسْفَارِہِ فَنَزَلَ النَّاسُ مَنْزِلًا وَنَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ظِلِّ دَوْحَۃٍ فَرَآنِیْ وَاَنَا مُقْبِلٌ مِنْ حَاجَۃٍ لِیْ وَلَیْسَ غَیْرُہٗ وَغَیْرُ کَاتِبِہٖفَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((اَنَکْتُبُکَیَا ابْنَ حَوَالَۃَ!؟)) قُلْتُ: عَلاَمَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: فَلَہَا عَنِّیْ وَاَقْبَلَ عَلَی الْکَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ دَنَوْتُ دُوْنَ ذٰلِکَ قَالَ: فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَکْتُبُکَ یَا ابْنَ حَوَالَۃَ!؟)) قُلْتُ: عَلَامَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: فَلَہٰی عَنِّیْ وَاَقْبَلَ عَلٰی الْکَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَلَیْہِمَا فَاِذَا فِیْ صَدْرِ الْکِتَابِ اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ فَظَنَنْتُ اَنَّہُمَا لَنْ یُکْتَبَا اِلَّافِیْ خَیْرٍ فَقَالَ: ((اَنَکْتُبُکَ یَا ابْنَ حَوَالَۃَ!؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا ابْنَ حَوَالَۃَ! کَیْفَ تَصْنَعُ فِیْ فِتْنَۃٍ تَثُوْرُ فِیْ اَقْطَارِالْاَرْضِ کَاَنَّہَا صَیَاصِی بَقَرٍ؟))قَالَ: قُلْتُ: اَصْنَعُ مَاذَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکَ بِالشَّامِ۔)) ثُمَّ قَالَ: کَیْفَ تَصْنَعُ فِیْ فِتْنَۃٍ کَاَنَّ الْاُوْلٰی فِیْہَا نَفْجَۃُ اَرْنَبٍ؟)) قَالَ: فَلَاأدْرِیْ کَیْفَ قَالَ فِیْ الآخِرَۃِ وَلَاَنْ اَکُوْنَ عَلِمْتُ کَیْفَ قَالَ فِیْ الآخِرَۃِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ کَذَاوَکَذَا۔ (مسند احمد: ۲۰۶۲۳)
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں:زائدہ یا مزیدہ بن حوالہ نامی عنزہ قبیلے کے ایک آدمی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، لوگ ایک مقام پر ٹھہرے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ایک بڑے درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے، میں اپنے کسی کام سے فارغ ہو کر آرہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھ لیا، آپ کے پاس صرف کاتب (لکھنے والے) تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! کس سلسلہ میں؟ پھر آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، جب میں مزید قریب ہوا، تو آپ نے دوبارہ فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا:اللہ کے رسول! کس سلسلہ میں؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بالکل قریب آگیااور دیکھا کہ تحریر کے آغاز میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نام لکھے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر میںجان گیا کہ ان کے نام کسی اچھے کام کے لیے ہی لکھے گئے ہوں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ابن حوالہ! کیا ہم تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے نبی! پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن حوالہ! تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جوزمین کے اطراف میں اس طرح پھیل جائے گا، جیسے وہ گائے کے سینگ ہوں؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی بتلا دیں کہ مجھے اس دوران کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا : تم شام کی سرزمین میں چلے جانا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جو خرگوش کی چھلانگ کی مانند یعنی پہلے فتنہ کے بعد جلد ہی بپا ہو جائے گا؟ سیدنا زائدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ نے دوسرے فتنہ کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا، وہ مجھے یاد نہیں رہا، لیکن جو کچھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسرے فتنے میں بارے میں فرمایا تھا ، اگر وہ مجھے یاد ہوتا تو وہ مجھے اتنے اتنے خزانوں سے بھی محبوب ہوتا۔
Takhreej
(۱۲۸۰۸) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۱۲۴۹ (انظر: ۲۰۳۵۴)
12808
Sahih
۔ (۱۲۸۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ قَالَ: مَرَرْتُ بِالرَّبْذَۃِ فَاِذَا فُسْطَاطٌ فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا؟ فَقِیْلَ: لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ، فَاسْتَاْذَنْتُ عَلَیْہِ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقُلْتُ: رَحِمَکَ اللّٰہُ اِنَّکَ مِنْ ہٰذَا الْاَمْرِبِمَکَانٍ، فَلَوْ خَرَجْتَ اِلَی النَّاسِ فَاَمَرْتَ وَنَہَیْتَ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّہُ سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ وَفُرْقَۃٌ وَاخْتِلَافٌ فَاِذَا کَانَ ذٰلِکَ فَأْتِ بِسَیْفِکَ اُحُدًا فَاضْرِبْ بِہٖعَرْضَہٗوَاکْسِرْنَبْلَکَوَاقْطَعْوَتَرَکَوَاجْلِسْ فِیْ بَیْتِکَ۔)) فَقَدْ کَانَ ذٰلِکَ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَاضْرِبْ بِہٖحَتّٰی تَقْطَعَہٗثُمَّاجْلِسْفِیْ بَیْتِکَ حَتّٰی تَاْتِیَکَیَدٌ خَاطِئَۃٌ اَوْ یُعَافِیَکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) فَقَدْ کَانَ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَفَعَلْتُ مَا اَمَرَنِیْ بِہٖ،ثُمَّاسْتَنْزَلَسَیْفًا کَانَ مُعَلَّقًا بِعَمُوْد الْفُسْطَاطِ فَاخْتَرَطَہُ فَاِذَا سَیْفٌ مِنْ خَشَبٍ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ مَا اَمَرَنِیْ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاتَّخَذْتُ ہٰذَا اُرَھِّبُ بِہٖالنَّاسَ۔ (مسنداحمد: ۱۶۱۲۵)
سیدنا ابوبردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ربذہ مقام سے میرا گزر ہوا، وہاں ایک خیمہ لگا ہوا تھا،میں نے پوچھا کہ یہ خیمہ کس کا ہے؟ کسی نے کہا کہ یہ محمدبن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہے، پس میں نے ان کے پاس خیمہ میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور اندر چلا گیا، میں نے کہا : آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ کا اس جنگل میں کیا کام؟ بہتر ہوتا کہ آپ لوگوں میں رہتے اور ان کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے۔انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنہ، تفرقہ بازی اور اختلاف پیدا ہو گا، اور اگر ایسے حالات پیدا ہوجائیں تو تم اپنی تلوار لے کر اس احد پہاڑ پر مار کر اسے کند کر دینا‘ تیر کو توڑ ڈالنا اور کمان کی تندی کاٹ دینا اوراپنے گھر میں بیٹھ جانا۔ اب ایسے ہی ہو چکا ہے، (اس لیے میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں)۔ ایک روایت میں ہے: اپنی تلوار کو پہاڑ پر مار کر توڑ دینا، پھر اپنے گھر میں بیٹھ جانا، یہاں تک کہ کوئی ظالم آدمی تمھارے گھر کے اندر گھس آئے یا اللہ تعالیٰ تمہیں محفوظ رکھے۔ جو کچھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا، وہ ہو چکا ہے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے جو حکم دیا تھا، میں نے اسی پر عمل کیا ہے۔ پھر انھوں نے خیمہ کے ستون سے لٹکی ہوئی تلوار اتروائی، لیکن جب اسے میان سے نکالا تو وہ تو لکڑی کی تلوار تھی، پھر انھوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم پر عمل کر کے اپنے تلوار توڑ ڈالی ہے اور لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے یہ رکھی ہوئی ہے۔
Takhreej
(۱۲۸۰۹) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۶۲(انظر: ۱۶۰۲۹)
12809
Sahih
۔ (۱۲۸۱۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ عِمْرَانَ عَنْ ذِی الْاَصَابِعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِ ابْتُلِیْنَا بَعْْدَکَ بِالْبَقَائِ اَیْنَ تَاْمُرُنَا؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکَ بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ فَلَعَلَّہٗاَنْیَّنْشَاَ لَکَ ذُرِیَّۃٌیَغْدُوْنَ اِلٰی ذٰلِکَ الْمَسْجِدِ وَ یَرُوْحُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۴۹)
سیدنا ذو اصابع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد ہم اتنی زندگی پائیں کہ ہماری آزمائشیں شروع ہو جائیں تو آپ ہمیں کس مقام کی طرف چلے جانے کا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بیت المقدس چلے جانا، کیونکہ ممکن ہے کہ وہاں تمہاری اولاد بڑھے اور وہ صبح شام مسجد میں جا سکیں۔
Takhreej
(۱۲۸۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عثمان بن عطاء الخراسانی، وقد اختلف علیہ فیہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۲۳۸، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۳/ ۲۶۴ (انظر: ۱۶۶۳۲)
12810
Zaeef
۔ (۱۲۸۱۱)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِمَارًا وَاَرْدَفَنِیْ خَلْفَہٗوَقَالَ:((یَا اَبَا ذَرٍّ! اَرَاَیْتَ اِنْ اصَابَ النَّاسَ جُوْعٌ شَدِیْدٌ لَا تَسْتَطِیْعُ اَنْ تَقُوْمُ مِنْ فِرَاشِکَ اِلٰی مَسْجِدِکَ، کَیْفَ تَصْنَعُ؟)) قَالَ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ۔قَالَ: ((تَعَفَّفْ۔)) قَالَ: یَا اَبَاذَرٍّ! اَرَاَیْتَ اِنْ اَصَابَ النَّاسُ مَوْتٌ شَدِیْدٌیَکُوْنُ الْبَیْتُ فِیْہِ بِالْعَبْدِ یَعْنِیْ الْقَبْرَ، کَیْفَ تَصْنَعُ؟)) قُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ،قَالَ: ((اِصْبِرْ۔)) قَالَ: یَا اَبَاذَرٍّ! اَرَاَیْتَ اِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا یَعْنِیْ حَتّٰی تَغْرَقَ حِجَارَۃُ الزِّیْتِ مِنَ الدِّمَائِ، کَیْفَ تَصْنَعُ؟)) قَالَ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗاَعْلَمُ۔قَالَ: ((اُقْعُدْ فِیْ بَیْتِکَ وَاغْلِقْ عَلَیْکَ بَابَکَ۔)) قَالَ: فَاِنْ لَمْ اُتْرَکْ! قَالَ: ((فَائْتِ مَنْ اَنْتَ مِنْہُمْ فَکُنْ فِیْہِمْ۔)) قَالَ: فَآخُذُ سِلَاحِیْ؟ قَالَ:((اِذًا تُشَارِکُہُمْ فِیْمَا ھُمْ فِیْہِ وَلٰکِنْ اِنْ خَشِیْتُ اَنْ یَّرُوْعَکَ شُعَاعُ السِّیْفِ فَاَلْقِ طَرَفَ رِدَاِئکَ عَلٰی وَجْہِکَ حَتّٰییَبُوْئَ بِاِثْمِہٖوَاِثْمِکَ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۶۵۱)
سیدناابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا: اے ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر لوگ شدید بھوک کی آزمائش سے دوچار ہو جائیں اورتم اپنے بستر سے مسجد تک جانے کی بھی استطاعت نہ رکھتے ہو تو تم کیا کرو گے؟ انہوںنے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا : ایسے حالات میں تم کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنا۔ آپ نے پھر پوچھا: ابوذر ! کیا خیال ہے کہ اگر لوگوں میںموت اس قدر عام ہوجائے کہ ایک قبر ایک غلام کے عوض ملے تو تم کیا کروگے؟ میںنے کہا :اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسے حالات میں تم صبر کرنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید پوچھا: ابوذر! کیا خیال ہے کہ اگر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں اور اس قدر خون بہا دیا جائے کہ حجارۃ الزیت مقام خون میںڈوب جائے تو تم کیا کرو گے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : تم گھر کے اندر بیٹھ جانا اور دروازہ بھی بند کیے رکھنا۔ میں نے کہا: اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اپنی قوم کے پاس جا کر انہی میں رہنا۔ میں نے کہا :کیا میں اپنے ہتھیار اٹھالوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہتھیار اٹھانے کی صورت میں تو تم بھی لوگوں کی لڑائی میں شریک ہو جاؤ گے۔، تمہاری صورتحال یہ ہونی چاہیے کہ جب تم تلوار کی شعاع سے ڈرنے لگو تو اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لینا، تاکہ (قاتِل) اپنے اور تمہارے گناہ کے ساتھ واپس لوٹے۔
Takhreej
(۱۲۸۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۲۶۱، ۴۴۰۹، وابن ماجہ: ۳۹۵۸ (انظر: ۲۱۳۲۵)
Explanation
فوائد:… حجارۃ الزیت، مدینہ منورہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
12811
Sahih
۔ (۱۲۸۱۲)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((کَیْفَ اَنْتَ اِذَا بَقِیْتَ فِیْ حُثَالَۃٍ مِنَ النَّاسِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ ذٰلِکَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا مَرِجَتْ عُہُوْدُھُمْ وَاَمَانَاتُہُمْ وَکَانُوْا ہٰکَذَا۔)) وَشَبَّکَ یُوْنُسُ (اَحَدُالرُّوَاۃِ) بَیْنَ اَصَابِعِہٖیَصِفُ ذَاکَ ‘ قَالَ:قُلْتُ: مَا اَصْنَعُ عِنْدَ ذَاکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((اِتَّقِ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْکِرُ وَعَلَیْکَ بِخَاصَّتِکَ وَاِیَّاکَ وَعَوَامَّہُمْ۔)) (مسند احمد:۶۵۰۸)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا : تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم گھٹیا لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے؟ میںنے کہا: اللہ کے رسول! ایسے حالات کب پیدا ہوں گے؟ آپ نے فرمایا : جب مسلمانوں کے وعدوں اور امانتوں میں کھوٹ پیدا ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہو جائیں گے۔ یونس راوی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے انگلیوں میں تشبیک دی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس وقت کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا‘ اچھے عمل کرنا، غلط کاموں سے بچ کر رہنا اور اپنے مخصوص لوگوں کا خیال کرنا اور عام لوگوں سے بچ کر رہنا۔
Takhreej
(۱۲۸۱۲) تخریج: أخرجہ البخاری عن ابن عمر أو ابن عمرو: ۴۷۸، ۴۷۹(انظر: ۶۵۰۸)
12812
Sahih
۔ (۱۲۸۱۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((یَاْتِیْ عَلٰی النَّاسِ زَمَانٌ یُغَرْبَلُوْنَ فِیْہِ غَرْبَلَۃً،یَبْقٰی مِنْہُمْ حُثَالَۃٌ قَدْ مَرِجَتْ عُہُوْدُھُمْ وَاَمَانَاتُہُمْ وَاخْتَلَفُوْا فَکَانُوْا ہٰکَذَا۔)) وَشَبَّکَ بَیْنَ اَصَابِعِہِ قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((تَاْخُذُوْنَ مَا تَعْرِفُوْنَ وَتَدَعُوْنَ مَا تُنْکِرُوْنَ وَتُقْبِلُوْنَ عَلٰی اَمْرِخَاصَّتِکُمْ وَتَدَعُوْنَ اَمْرَ عَامَّتِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۰۴۹)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ اس میں لوگوں کی اس طرح چھان بین کی جائے گی کہ صرف گھٹیا اور ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے وعدوں اور امانتوں میں کھوٹ پید اہو جائے گی اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے اختلاف کر یں گے اور اس طرح ہو جائیں گے۔ راوی نے اپنی انگلیوں میں تشبیک ڈالی۔ صحابہ کرام نے کہا: اللہ کے رسول! ایسے حالات سے نکلنے کی صورت کیا ہوگی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اچھے کام کرنا، برے کاموں سے بچنا اور مخصوص لوگوں پر توجہ دینا اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دینا۔
Takhreej
(۱۲۸۱۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
12813
Sahih
۔ (۱۲۸۱۴)۔ وَعَنْ رِبْعِیٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا فِیْ جَنَازَۃِ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: سَمِعْتُ صَاحِبَ ہٰذَا السَّرِیْرِیَقُوْلُ: مَا بِیْ بَاْسٌ مَاسَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَلَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لَاَدْخُلَنَّ بَیْتِیْ، فَلَئِنْ دَخَلَ عَلَیَّ لَاَقُوْلَنَّ ھَا بُوْئَ بِاِثْمِیْ وَاِثْمِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۹۶)
ربعی کہتے ہیں: میںنے سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے اس چار پائی پر لیٹے ہوئے آدمی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا، وہ ایک دفعہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث سننے کے بعد مجھے کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، اگر تم آپس میں لڑ پڑو گے تو میںاپنے گھر میں داخل ہو جاؤں گا اور اگر کوئی (ظالم) میرے گھر میں گھس آیا تو میں کہوں گا: لیجئے(کر لے قتل) اور پھر میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ واپس چلا جا۔
Takhreej
(۱۲۸۱۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن حذیفۃ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۲۱، والطیالسی: ۴۱۷ (انظر: ۲۳۳۰۷)
12814
Zaeef
۔ (۱۲۸۱۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((اِنَّہُ سَیَکُوْنُ بَعْدِیْ اِخْتِلَافٌ اَوْ اَمْرٌ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَکُوْنَ السِّلْمَ فَافْعَلْ۔)) (مسند احمد:۶۹۵ )
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب اختلافات وغیرہ ہوں گے، اگر تجھ میں ان سے بچ کر رہنے کی استطاعت ہوئی تو ایسے ہی کرنا۔
Takhreej
(۱۲۸۱۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، فضیل بن سلیمان کثیر الخطأ، وایاس بن عمرو لم یرو عنہ غیر محمد بن ابی یحیی ولم یوثقہ غیر ابن حبان (انظر: ۶۹۵)
12815
Zaeef
۔ (۱۲۸۱۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:((یَاْتِیْ عَلَیْکُمْ زَمَانٌ یُخَیَّرُ فِیْہِ الرَّجُلُ بَیْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُوْرِ فَمَنْ اَدْرَکَ ذٰلِکَ الزَّمَانَ فَلْیَخْتَرِ الْعَجْزَ عَلٰی الْفُجُوْرِ۔)) (مسند احمد: ۷۷۳۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تمہارے اوپر ایک ایسا دور آئے گا کہ اس میں آدمی کو دو میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے گا، یا تو وہ (لوگوں کی طعن و تشنیع اور ظلم و تعدّی) برداشت کرے یا پھر گناہ میں شریک ہوجائے، جس آدمی کو ایسا زمانہ ملے تو وہ گناہ میں شریک ہونے کی بجائے (طعن و تشنیع) کو برداشت کرلے۔
Takhreej
(۱۲۸۱۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، لجھالۃ الراوی المبھم، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۳۸، واسحاق بن راہویہ: ۱۵۰ (انظر: ۷۷۴۴)
12816
Zaeef
۔ (۱۲۸۱۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((اِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیْہَا مُوْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا اَلْقَاعِدُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِیْ وَالْمَاشِیْ فِیْہَا خَیْرٌ مِنَ السَّاعِیْ، فَاکْسِرُوْا قِسِیَِّکُمْ وَاقْطَعُوْا اَوْتَارَکُمْ وَاضْرِبُوْا بِسُیُوْفِکُمُ الْحِجَارَۃَ، فَاِنْ دُخِلَ عَلٰی اََحَدِکُمْ بَیْتَہٗفَلْیَکُنْ کَخَیْرِ ابْنَیْ آدَمَ۔)) (مسند احمد:۱۹۹۶۸ )
سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : قیامت سے پہلے اندھیری رات میں اترنے والے اندھیروں کی طرح فتنے بپا ہوں گے، (اورحالات اس قدر شدید ہوجائیں گے کہ) ایک آدمی صبح کے وقت تو مومن ہوگا، مگر شام کو کافر ہوچکا ہوگا ، اسی طرح ایک آدمی شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا۔ ایسے حالات میں بیٹھا ہوا آدمی کھڑے ہونے والے سے ،کھڑا ہونے والاچلنے والے سے اور چلنے والا آدمی اس فتنہ میں بھاگنے والے یعنی حصہ لینے والے سے بہتر ہوگا۔ ایسے حالات میں تم اپنی کمانیں توڑ ڈالنا‘ ان کی تندیوں کو کاٹ ڈالنا اور اپنی تلواروں کو پتھر پر مار کر توڑ ڈالنا اور اگر کوئی ظالم تمہارے گھر میں گھس کر زیادتی کرنے لگے تو تم آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے بہتر ِبیٹے کی طرح ہو جانا۔
Takhreej
(۱۲۸۱۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۲۵۹، وابن ماجہ: ۳۹۶۱ (انظر: ۱۹۷۳۰)
12817
Sahih
۔ (۱۲۸۱۸)۔ وَعَنِ الْحَسَنِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ :صَحِبْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَمِعْنَاہُ یَقُوْلُ: ((اِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیْہَا مُؤْمِنًا یُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُوْمِنًا ثُمَّ یُصْبِحُ کَافِرًا، یَبِیْعُ اَقْوَامٌ خَلَاقَہُمْ بِعَرَضِ مِنَ الدُّنْیَایَسِیْرٍ اَوْ بِعَرَضِ الدُّنْیَا۔)) قَالَ الْحَسَنُ: وَاللّٰہِ لَقَدْ رَاَیْنَاھُمْ صُوَرًا وَلَاعُقُوْلَ، اَجْسَامًا وَلَااَحْلَامَ فِرَاشَ نَارٍ،وَ ذَبَّانَ طَمْعٍ، یَغْدُوْنَ بِدِرْھَمَیْنِ وَیَرُوْحُوْنَ بِدِرْھَمَیْنِیَبِیْعُ اَحَدُھُمْ دِیْنَہٗ بِثَمَنِ الْعَنْزِ۔ (مسند احمد:۱۸۵۹۴ )
سیدنانعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہے ہیں، ہم نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا جائیں گے، (حالات اس قدر شدید ہوں گے کہ) آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کو کافر یا شام کے وقت مومن اور صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، لوگ دنیا کے معمولی سامان کے عوض اپنا حصہ (دین) بیچ دیں گے۔ حسن کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں، ان کی صورتیں تو انسانوں جیسی ہیں، مگر عقل سے کورے ہیں اور ان کے جسم تو ہیں‘ لیکن سمجھ بوجھ سے عاری ہیں، وہ آگ کے پروانو ں کی طرح بے عقل اور مکھیوں کی طرح حریص ہیں، وہ دو درہم صبح کو لیتے ہیں اوور دو درہم شام کو اور ایک بکری کی قیمت کے عوض میں اپنے دین کو بیچ دیتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۸۱۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۲۴۶۰، والحاکم: ۳/ ۵۳۱ (انظر: ۱۸۴۰۴)
Explanation
فوائد:… جامع ترمذی کی روایت میں ان فتنوں سے پہلے پہلے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بوقت ِ صبح مومن اور شام کو کافر… اس کا مفہوم یہ ہے کہ صبح کو ایمان سے متصف ہو گا اور اعمال صالحہ سے مزین گا، لیکن شام کو کفر کی دلدل میںپھنسا ہوااور کفریہ اعمال کرتا ہوا نظر آئے گا اور یہ معنی بھی کیا گیا ہے صبح کو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھے گا، لیکن شام کو ان کو حلال تصور کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ حالات ایسا رخ اختیار کرلیں گے کہ انسان کو اپنے بدل جانے کی کوئی سمجھ نہیں آئے گی، اس معاملے میں وہ لا شعوری کا اظہار کرے گا۔ اب ایسے ہو رہا ہے کہ ایک انسان اچھا بھلا نیک پرہیزگار نظر آتا ہے، لیکن کچھ دنوں کے بعد جب اس سے ملاقات ہوتی ہے تو اس کی روحانی کیفیت بگڑ چکی ہوتی ہے اور نماز جیسے فریضے کو ترک کر چکا ہوتا ہے، کوئی سود کھانے کی وجہ سے گر چکا ہو تا ہے تو کسی سے اچانک قتل ہو جاتا ہے، کوئی دوسرے خاندان کی بچی کی حرمتوں کو پامال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کوئی دوسرے کے مال کو ہڑپ کر جانے کی سوچ رہا ہوتا ہے۔ تاجروں کو کوئی شعور نہیں کہ ان کی تجارت شرعی اصولوں پر مبنی ہے یا نہیں، اپریل ۲۰۰۹ ء کی بات ہے کہ ایک تاجر نے ایک شرعی قاعدے کو نظر انداز کر کے سودا کیا، اسے اس وجہ سے دو دنوں کے اندر اڑتالیس لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ لوگ دنیا میں بہت زیادہ دلچسپی لینے والے اور اس کے حریص ہوں گے اور ان کے دینی معاملات بگڑ جائیں گے۔
12818
Sahih
۔ (۱۲۸۱۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْلٌ لِّلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِیْ کَافِرًا یَبِیْعُ قَوْمٌ دِیْنَہُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَاقَلِیْلٍ‘ اَلْمُتَمَسِّکُ یَوْمَئِذٍ بِدِیْنِہٖ کَالْقَابِضِ عَلٰی الْجَمَرِ)) اَوْ قَالَ:((عَلٰی الشَّوْکِ۔)) قَالَ حَسَنٌ: فِیْ حَدِیْثِہِ: خَبَطِ الشَّوْکَۃِ۔ (مسند احمد:۹۰۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عربوں کے لیے ہلاکت ہے، اس شرّ کی وجہ سے، جو قریب آ چکا ہے، یعنی اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے برپا ہو جائیں گے، (ان فتنوں کی شدت کی وجہ سے) ایک آدمی صبح کو مومن ہو گا او رشام کو کافر، لوگ معمولی متاعِ دنیا کے عوض دین بیچ ڈالیں گے، ان دنوں میں دین پر عمل کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہو گی، جس نے اپنی مٹھی میں انگارا یا کانٹا پکڑ رکھا ہو۔ حسن نے اپنی حدیث میں کہا: کانٹے کے پتے۔
Takhreej
(۱۲۸۱۹) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: اَلْمُتَمَسِّکُ یَوْمَئِذٍ بِدِیْنِہٖ کَالْقَابِضِ … فحسن لغیرہ (انظر: ۹۰۷۳)
Explanation
فوائد:… سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یَأتِيْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِیْھِمْ عَلٰی دِیْنِہِ کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ۔)) … لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ اپنے دین پر صبر کرنے والا دہکتے ہوئے انگارے کو مٹھی میں بند کرنے والے کے مترادف ہو گا۔ (ترمذی: ۲/ ۴۲، صحیحہ:۹۵۷)
12819
Sahih
۔ (۱۲۸۲۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((لَیَاْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُوْنُ اَفْضَلَ النَّاسِ فِیْہِ مَنْزِلَۃً رَجُلٌ اَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، کُلَّمَا سَمِعَ بِھَیْعَۃٍ اِسْتَوٰی عَلٰی مَتْنِہٖثُمَّطَلَبَ الْمَوْتَ مَظَانَّہُ وَرَجُلٌ فِیْ شِعْبٍ مِنْ ہٰذِہِ الشِّعَابِ یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤْ تِی الزَّکَاۃَ وَیَدَعُ النَّاسَ اِلَّا مِنْ خَیْرٍ۔)) (مسند احمد: ۹۷۲۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں سب سے افضل مرتبے کا حامل وہ آدمی ہوگا، جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے تیار کھڑا ہو، جہاد کی پکار سنتے ہی گھوڑے کی پشت پر سیدھا ہوجائے اور موت کو ایسے مقامات میں تلاش کرے،جہاں اس کے امکانات زیادہ ہوں، یا پھر وہ آدمی جو کسی پہاڑی گھاٹی میں مقیم ہو کر نماز باقاعدگی سے پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اور لوگوں کے ساتھ صرف خیر والا معاملہ کرے۔
Takhreej
(۱۲۸۲۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۸۹(انظر: ۹۷۲۳)
12820
Sahih
۔ (۱۲۸۲۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْشِکُ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرُ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا یَتْبَعُ بِہَاشَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ یَفِرُّ بِدِیْنِہِ مِنَ الْفِتَنِ۔)) (مسند احمد:۱۱۰۴۶)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : قریب ہے کہ ایسا وقت آ جائے کہ جس میں مسلمان آدمی کا بہترین مال بکریاں ہوںگی، جنہیں وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چراتا پھرتا رہے گا اوراس طرح اپنے دین کو فتنوں سے بچا لے گا۔
Takhreej
(۱۲۸۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۰۰، ۶۴۹۵ (انظر: ۱۱۰۳۲)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث کو سمجھنے اور اپنے آپ کو ان کا مصداق بنانے یا نہ بنانے کے لیے بہت زیادہ فہم و فراست اور حکمت و دانائی کی ضرورت ہے۔
12821
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.