TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فرائض کے ابواب - فرائض کے ابواب - Book 106 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 106 of Musnad Ahmad, with 14 chapters and 49 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

49 Hadith · 14 Chapters
بہنوں کا بیٹیوں کی وجہ سے عصبہ بننے اورپوتی کے ساتھ بیٹی کا حصہ مقرر ہونے کا بیان
۔ (۶۳۵۷)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلٰی اَبِیْ مُوْسٰی وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِیْعَۃَ فَسَأَلَھُمَا عَنِ ابْنۃٍ وَابْنَۃِ ابْنٍ وَاُخْتٍ لِأَبٍ فَقَالَ: لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، وَأْتِ ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَإِنَّہُ سَیُتَابِعُنَا، قَالَ: فَاَتَی ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَسَأَلَہُ وَأَخْبَرَہُ بِمَا قَالَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: لَقَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ، سَأَقْضِیْ بِمَا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، لِلْاِبْنَۃِ النِّصْفُ وَلِاِبْنَۃِ الْاِبْنِ السُّدُسُ تَکْمِلَۃً لِلَّثُلُثَیْنِ وَمَا بَقِیَ فَلِلْأُخْتِ۔ (مسند احمد: ۴۱۹۵)
۔ ہزیل بن شرحبیل سے روایت ہے کہ ایک آدمی سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا سلمان بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اوران سے سوال کیا کہ وارثین میں ایک بیٹی،ایک پوتی اور ایک علاتی بہن ہے؟ انہوں نے کہا: نصف مال بیٹی کو اور نصف بہن کو ملے گا اور سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جاؤ، وہ بھی ہمارے اس فتویٰ کی موافقت کریں گے۔ لیکن جب سائل سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور ان کو ان دونوں کے فتویٰ کی خبر دی تو سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں بھی اسی طرح فیصلہ کروں تو میں راہ راست سے بھٹک جائوں گا، میں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم والا فیصلہ کروں گا اور وہ یہ ہے کہ نصف بیٹی کو، چھٹا حصہ پوتی کو، تاکہ دو تہائی پورا ہو جائے اور جو مال بچے گا، وہ بہن کو ملے گا۔
Takhreej
(۶۳۵۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۴۲ (انظر: ۴۱۹۵)
Explanation
فوائد:… اس مسئلہ میں بہن عصبہ مع الغیر ہے، اس لیے بیٹی اور پوتی سے بچ جانے والا ترکہ اس کو مل جائے گا۔
6357
Sahih
عینی بھائیوں کی وجہ سے علاتی بھائیوں کے ساقط ہو جانے کا بیان
۔ (۶۳۵۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّکُمْ تَقْرَؤُونَ: {مِنْ بَعْدِ وَصِیِّۃِیُّوْصٰی بِہَا أَوْ دَیْنٍ} واَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ وَأَنَّ أَعْیَانَ بَنِی الْأُمِّ یَتَوَارَثُوْنَ دُوْنَ بَنِی الْعَلَّاتِ، یَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاہُ لِاَبِیْہِ وَأُمِّہِ دُوْنَ أَخِیْہِ لِاَبِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو کہ (ترکہ تقسیم کیا جائے گا)میت کی طرف سے کی گئی وصیتیا قرض کے بعد جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وصیت کو نافذ کرنے سے پہلے قرض ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ فیصلہبھی کیا ہے کہ (جب عینی اور علاتی بہن بھائی جمع ہو جائیں تو) حقیقی بہن بھائی وارث ہوں گے، نہ کہ علاتی، آدمی اپنے عینی بھائی کا وارث بنے گا، نہ کہ علاتی۔
Takhreej
(۶۳۵۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف الحارث الاعور۔ أخرجہ الترمذی: ۲۰۹۵، ۲۱۲۲، وابن ماجہ: ۲۷۳۹ (انظر: ۱۲۲۲)
Explanation
فوائد:… عینی اور علاتی بھائی عصبہ ہیں اور عصبہ کے وارث بننے کے دو قوانین ہیں، ایک درجۂ قرابت اور دوسرا قوت قرابت، سب سے پہلے درجۂ قرابت کو دیکھا جائے گا، ہر قریبی دور والے کو محجوب کر دے گا، اگر دو یا زائد فریقوں کا درجۂ قرابت ایک ہو تو قوتِ قرابت کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا، اگر سب افراد قوت میں برابر ہوئے تو سب کو وارث بنایا جائے گا، بصورتِ دیگر ہر قوی القرابہ، ضعیف القرابہ کو محجوب کر دے گا۔ عینی بھائی قوی القرابہ ہیں اور علاتی ضعیف القرابہ۔
6358
Zaeef
دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
۔ (۶۳۵۹)۔ عَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ قَالَ: جَائَتِ الْجَدَّۃُ اِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ فَسَأَلَتْہُ مِیْرَاثَہَا، فَقَالَ: مَا اَعْلَمُ لَکِ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ شَیْئًا وَلَا اَعْلَمُ لَکِ فِیْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ شَیْئٍ حَتّٰی أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ، فَقَالَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ لَھَا السُّدُسَ، فَقَالَ: مَنْ یَشْہَدُ مَعَکَ؟ أوْ مَنْ یَعْلَمُ مَعَکَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ، فَقَالَ: مِثْلَ ذٰلِکَ فَأَنْفَذَہُ لَھَا۔ (مسند احمد: ۱۸۱۴۳)
۔ سیدنا قبیصہ بن ذئویب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک جدہ ،سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئی اور اپنی میراث کامطالبہ کیا، لیکن انہوں نے کہا: میں اللہ تعالی کی کتاب اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت میں تو کوئی ایسی دلیل نہیں جانتا تو تیرے حق میں ہو، البتہ میں اس بارے میں لوگوں سے دریافت کرتا ہوں، پھر آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے پوچھا، سیدنا مغیرہبن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جدہ کے لئے چھٹا حصہ مقرر فرمایا تھا۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس پر تیرے ساتھ کون گواہی دے گا، پس سیدنا محمد بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور وہی بات کی جو سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کی، پس سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے لیےیہ حصہ نافذ کر دیا۔
Takhreej
(۶۳۵۹) الحدیث صحیح بالشواھد۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۹۴، والترمذی: ۲۱۰۱، وابن ماجہ: ۲۷۲۴ (انظر: ۱۷۹۸۰)
Explanation
فوائد:… عربی زبان میں دادی اور نانی دونوںکو ’’جَدَّۃ‘‘ کہتے ہیں، علم میراث میں’’جَدَّۃ‘‘کی دو قسمیں ہیں: (۱)جدہ صحیحہ اور (۲) جدہ فاسدہ، صرف اول الذکر یعنی جدہ صحیحہ وارث بن سکتی ہے۔ جدہ صحیحہ:… وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسد نہ آئے۔مثلا: نانی، دادی، پڑدادی جدہ فاسدہ:… وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسدآ جائے۔ مثلانانے کی ماں۔ اگلے باب کے شروع میں جد فاسد کی وضاحت دیکھیں۔
6359
Sahih
دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
۔ (۶۳۶۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ فَقَالَ: شَھِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْضِیْ لَھَا بِالسُّدُسِ فَأَعْطَاھَا أَبُوْبَکْرٍ السُّدُسَ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۴۱)
۔ (دوسری سند)اس میں ہے : سیدنا محمد بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جدّہ کے لیے چھٹے حصے کا فیصلہ کیا، پس سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کے لیے چھٹا حصہ نافذ کر دیا۔
Takhreej
(۶۳۶۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6360
Sahih
دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
۔ (۶۳۶۱)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی لِلْجَدَّتَیْنِ مِنَ الْمِیْرَاثِ بِالسُّدُسِ بَیْنَہُمَا بِالسَّوَائِ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دادی اور نانی دونوں کو وراثت میں سے چھٹا حصہ برابر برابر تقسیم کر کے دینے کا فیصلہ فرمایا۔
Takhreej
(۶۳۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، الفضیل بن سلیمان النمیری لین الحدیث، واسحاق بن یحیی بن الولید مجھول الحال، ثم روایتہ عن جدہ عبادۃ مرسلۃ۔ أخرجہ الحاکم: ۴/ ۳۴۰، والبیھقی: ۶/ ۲۳۵(انظر: ۲۲۷۷۸)
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ جدہ صحیحہ کا حصہ چھٹا ہے۔
6361
Zaeef
جدّ کی وراثت کا بیان
۔ (۶۳۶۲)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ ابْنَ اِبْنِیْ مَاتَ فَمَالِیْ مِنْ مِیْرَاثِہِ؟ قَالَ: ((لَکَ السُّدُسُ۔)) قَالَ: ((فَلَمَّا اَدْبَرَ دَعَاہُ۔)) قَالَ: ((لَکَ سُدُسٌ آخَرُ۔)) فَلَمَّا اَدْبَرَ دَعَاہُ قَالَ: ((اِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۵۷)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میرا پوتا فوت ہو چکا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے لئے چھٹا حصہ ہے۔ جب وہ واپس جانے کے لئے مڑا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: تجھے چھٹا حصہ بھی ملے گا۔ پھر جب وہ جانے لگا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: یہ چھٹا حصہ تیرے لیے زائد ہے، (یہ حصہ کے طور پر نہیں دیا گیا)۔
Takhreej
(۶۳۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحسن البصری لم یمسع من عمران بن حصین۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۹۶، والترمذی: ۲۰۹۹(انظر: ۱۹۹۱۵)
Explanation
فوائد:… عربی زبان میں دادے اور نانے دونوںکو ’’جَدّ‘‘ کہتے ہیں، علم میراث میں’’جَدّ‘‘کی دو قسمیں ہیں: (۱)جد صحیح اور (۲) جد فاسد، صرف اول الذکر یعنی جد صحیح وارث بن سکتا ہے۔ جد صحیح:… وہ جد کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں عورت نہ آئے۔مثلا: دادا، پڑدادا۔ جد فاسد:… وہ جد کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں کوئی عورت آ جائے۔ مثلا نانا، دادی کا باپ۔ باپ اور جد صحیح اصحاب الفروض بھی ہیں اور عصبہ بھی،یہ پہلے اپنا مقررہ حصہ لیتے ہیں، اس کے بعد ترکہ کی کچھ مقدار ان کو بطورِ عصبہ بھی مل سکتی ہے۔ مسئلے کی صورت یہ ہے کہ سائل کا پوتا فوت ہوا ہے اور اس نے دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی (۳/۲) حصہ ہے اور (سائل) دادے کے لیے چھٹا (۶/۱) حصہ ہے۔ عصبہ چونکہ اور کوئی نہیں، اس لیے دادا (سائل) باپ کی جگہ پر ہوکر عصبہ بھی بن رہا ہے اور اسے باقی (۶/۱) بھی مل جائے گا اس بعد والے چھٹے حصہ کے بارے نبی کریمa نے فرمایا کہ یہ زائد ہے یعنییہ مقرر و فرض حصے کے علاوہ عصبہ کے طور پر دیا گیا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
6362
Zaeef
جدّ کی وراثت کا بیان
۔ (۶۳۶۳)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: اَنْشُدُ اللّٰہَ رَجُلًا سَمِعَ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْجَدِّ شَیْئًا؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: شَھِدْتُّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْطَاہُ الثُّلُثُ، قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا اَدْرِیْ، قَالَ: لَا دَرَیْتَ۔ (مسند احمد: ۲۰۲۳۶)
۔ سیدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے جدّ کی میراث کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث سنی ہو؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: جی میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اِس کو ایک تہائی حصہ دیا تھا، انھوں نے کہا: کن وارثوں کے ساتھ؟ اس نے کہا: یہ تو میں نہیں جانتا، آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر تونے سمجھا ہی نہیں۔
Takhreej
(۶۳۶۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان۔ أخرجہ الحمیدی: ۸۳۳، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۶۳۳۶(انظر: ۱۹۹۹۴)
Explanation
فوائد:… جد صحیح کا حصہ چھٹا ہے، نہ کہ ایک تہائی، البتہ یہ ممکن ہے کہ جب جد صحیح کو دو طرف سے ترکہ ملے، یعنی فرضی حصہ بھی اور بطورِ عصبہ بھی، تو اس کا مجموعی حصہ ایک تہائی بن جائے۔
6363
Zaeef
جدّ کی وراثت کا بیان
۔ (۶۲۶۴) عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُوْنٍ شَھِدْتُّ عُمَرَ قَالَ: وَقَدْ کَانَ جَمَعَ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَیَاتِہِ وَصِحَّتِہِ فَنَاشَدَھُمُ اللّٰہَ مَنْ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ فِی الْجَدِّ شَیْئًا، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِفَرِیْضَۃٍ فِیْہَا جَدٌّ فَأَعْطَاہُ ثُلُثًا أَوْ سُدُسًا، قَالَ: وَمَا الْفَرِیْضَۃُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِیْ، قَالَ: مَا مَنَعَکَ أَنْ تَدْرِیَ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۷۵)
۔ عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھے، آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی زندگی اور صحت کی حالت میں صحابہ کرام کو جمع کیا اور ان کو اللہ تعالی کا واسطہ دے کر پوچھا کہ آیا کسی نے جدّ کی میراث کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک مسئلہ لایا گیا اور اس میں دادا بھی تھا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دادے کو چھٹا یا تیسرا حصہ دیا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: وہ مسئلہ کیا تھا، یعنی اس مسئلے کے افراد کون تھے؟ انھوں نے کہا: یہ تو میں نہیں جانتا، آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تجھے یہ جاننے سے کس چیز نے منع کر دیا تھا؟
Takhreej
(۶۳۶۴) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۷۲۲ (انظر: ۲۰۳۰۹)
Explanation
فوائد:… کسی وارث کا حصہ معلوم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ضروری ہے کہ وہ حصہ اس کو دوسرے کن وارثوں کی موجودگی میں ملتا ہے، وگرنہ بات ادھوری رہ جائے گی اور کوئی علمی فائدہ نہیں ہو گا، مثلا دادے کی مندرجہ ذیل مختلف صورتیں ہیں:(۱) جب باپ موجود ہو تو جد کو کچھ نہیں ملتا۔ (۲) ہر قریبی جد دور والے جد کو ساقط کر دیتا ہے۔ (۳) جب باپ موجود نہ ہو اور میت کی وارث بننے والی نرینہ اولاد ہو تو جد کو چھٹا حصہ ملے گا۔ (۴) جب باپ موجود نہ ہو اور میت کی وارث بننے والی صرف مؤنث اولاد ہو تو جد کو چھٹا حصہ بھی ملے گا اور وہ عصبہ بھی بنے گا۔ (۵) جب نہ باپ موجود ہو اور نہ میت کی وارث بننے والی اولاد تو جد صرف عصبہ بنے گا۔ آپ غور کریں کہ پانچ صورتوں میں سے صرف ایک صورت میں جد صرف چھٹے حصے کا مستحق ٹھہرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وارث کے حصے کا بھی علم ہو اور اس چیز کا بھی علم ہو کہ دوسرے کن وارثوں کی موجودگی میںیہ حصہ ملے گا۔
6364
Sahih
جدّ کی وراثت کا بیان
۔ (۶۳۶۵)۔ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ عَنْ فَرِیْضَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْجَدِّ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ الْمُزَنِیُّ، فَقَالَ: قَضٰی فِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: مَاذَا؟ قَالَ: السُّدُسُ، قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا اَدْرِیْ، قَالَ: لَا دَرَیْتَ فَمَا تُغْنِیْ إِذًا۔ (مسند احمد: ۲۰۵۷۶)
۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وراثت سے جدّ کے فرضی حصے کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، سیدنا معقل بن یسار مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک فیصلہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا: کیا؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھٹا حصہ دیا تھا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کن افراد کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو نے مسئلہ سمجھا ہی نہیں، تجھے یہ کیا کفایت کرے گا۔
Takhreej
(۶۳۶۵) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۹۷، وابن ماجہ: ۲۷۲۳(انظر: ۲۰۳۱۰)
6365
Sahih
جدّ کی وراثت کا بیان
۔ (۶۳۶۶)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُوْدٍ وَکَانَ ابْنُ الزُّبَیْرِ جَعَلَہُ عَلٰی الْقَضَائِ إِذْ جَائَ ہُ کِتَابُ ابْنِ الزُّبَیْرِ: سَلَامٌ عَلَیْکَ، أَمَّا بَعْدُ: فَاِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِیْ عَنِ الْجَدِّ وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ خَلَیْلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ اَبِیْ قُحَافَۃَ وَلٰکِنَّہُ أَخِیْ فِی الدِّیْنِ وَصَاحِبِیْ فِی الْغَارِ۔)) جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا وَ أَحَقُّ مَا أَخَذْنَاہُ قَوْلُ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۱۶۲۰۶)
۔ سعید بن جبیرسے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے قضاء کا عہدہ ان کے سپرد کیا ہوا تھا، ان کو سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ خط موصول ہوا: السلام علیکم، اما بعد! تم نے جدّ کی میراث معلوم کرنے کے لیے مجھے خط لکھا ہے، تو گزارش ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں نے اس امت سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابن ابی قحافہ کا انتخاب کرتا، لیکن وہ میرا دینی بھائی اور غار کا ساتھی ہے۔ اور سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جدّ کو باپ کے قائم مقام قرار دیا تھا اور سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قول اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ ہم اس پر عمل کریں۔
Takhreej
(۶۳۶۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ مختصرا البخاری: ۳۶۵۸ (انظر: ۱۶۱۰۷)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو بکر b نے حدیث کی روشنی میں جد کو چھٹا حصہ دیا تھا۔
6366
Sahih
جدّ کی وراثت کا بیان
۔ (۶۳۶۷)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: اِنَّ الَّذِیْ قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیْلًا سِوَی اللّٰہِ حَتّٰی اَلْقَاہُ لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ۔)) جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا۔ (مسند احمد: ۱۶۲۱۹)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک وہ شخصیت کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس کے بارے میں فرمایا تھا: اگر میں نے اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر کو بناتا۔ اس ذات نے جدّ کو باپ کے قائم مقام قرار دیا۔
Takhreej
(۶۳۶۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6367
Sahih
ذوی الارحام کی میراث کا بیان
۔ (۶۳۶۸)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ الْکِنْدِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ، وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا أَوْضَیْعَۃً فَإِلَیَّ، وَأَنَا وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّ لَہُ، أَفُکُّ عَنْہُ وَأَرِثُ مَالَہُ، وَالْخَالُ وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّ لَہُ، یَفُکُّ عَنْہُ وَیَرِثُ مَالَہُ (وَفِیْ لَفْظٍ) وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَاوَارِثَ لَہُ وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَاوَارِثَ لَہُ أَرِثُہُ وَأَعْقِلُ عََنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۳۱)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ترکہ میں مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کا ہوگا اور جس نے قرض یا چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے، تو میں اس کا ذمہ دار ہوں گا، جس کا کوئی سرپرست نہیں ہو گا، میں اس کا سرپرست ہوں،میں اس کی طرف سے ادائیگی کروں گا اور اس کاوارث بنوں گا، اور جس کا کوئی وارث نہیں ہوگا، اس کا ماموں اس کا وارث بنے گا اور وہی اس کی طرف سے ادائیگی کرے گا، اور اس کا وارث بنے گا۔ ایک روایت میں ہے: ماموں اس کا وارث ہو گا، جس کا کوئی وارث نہیں ہو گا اورجس کا بالکل کوئی وارث نہیں ہو گا، میں اس کا وارث بنوں گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔
Takhreej
(۶۳۶۸) تخریج: حدیث جیّد۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۹۹، وابن ماجہ: ۲۷۳۸(انظر: ۱۷۱۹۹)
Explanation
فوائد:… ’’میں اس کی طرف سے ادائیگی کروں گا۔‘‘ سے مراد یہ ہے کہ میت کے بعض جرائم کی وجہ سے جو ادائیگیاں اس کے ذمے تھیں اور عصبہ نے جن کو ادا کرنا ہوتا ہے، وہ آپ a ادا کریں گے۔ فوائد:… ذوی الارحام وہ رشتہ دار ہیں جو نہ اصحاب الفروض ہوں اور نہ عصبہ، مثلا: ماموں، خالہ، پھوپھی، نواسی وغیرہ۔ جب میت کے رشتہ داروں میں اصحاب الفروض، عصبہ نسبی اور عصبہ سببی میں سے کوئی بھی نہ ہو تو اس کا ترکہ ذوی الارحام میں تقسیم کیا جائے گا، ان کی کیفیت ِ توریث میں بڑا اختلاف ہے، اس فن سے متعلقہ کسی کتاب کا مطالعہ کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ جب میت کا کوئی وارث موجود نہ ہو تو اس کا ترکہ ماموں کو دے دیا جائے گا، جبکہ ماموں ذوی الارحام میں سے ہے۔
6368
Sahih
ذوی الارحام کی میراث کا بیان
۔ (۶۳۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ قَالَ: کَتَبَ عُمَرُ اِلٰی اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَنْ عَلِّمُوْا غِلْمَانَکُمُ الْعَوْمَ وَمُقَاتِلَتَکُمُ الرَّمْیَ، فَکَانُوْا یَخْتَلِفُوْنَ اِلَی الْأَغْرَاضِ فَجَائَ سَہْمٌ غَرْبٌ اِلٰی غُلَامٍ فَقَتَلَہُ فَلَمْ یُوْجَدْ لَہُ أَصْلٌ وَکَانَ فِیْ حَجْرِ خَالٍ لَہُ فَکَتَبَ فِیْہِ اَبُوْ عُبَیْدَۃَ اِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِلٰی مَنْ أَدْفَعُ عَقْلَہُ؟ فَکَتَبَ اِلَیْہِ عُمَرُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ مَوْلٰی مَنْ لَا مَوْلٰی لَہُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۳۲۳)
۔ سیدنا ابو امامہ بن سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہ طرف یہ تحریری حکم بھیجا کہ اپنے لڑکوں کو تیراکی اور جنگجوؤں کو تیر اندازی کی تعلیم دو،پس وہ لوگ اپنے اہداف کو سامنے رکھ کر نشانہ بازی کرتے تھے، ایک دن ایک تیر ایک لڑکے کو لگا اور وہ فوت ہو گیا، کوئی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کس کی نسل سے ہے، البتہ وہ اپنے ایک ماموں کی پرورش میں تھا، سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لکھا کہ اس لڑکے کی دیت کس کے سپرد کروں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی سرپرست نہ ہو، اللہ اور اس کا رسول اس کے سرپرست ہوں گے اور ماموں اس کا وارث بنے گا، جس کا کوئی وارث نہ ہو۔
Takhreej
(۶۳۶۹) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۷۳۷، والترمذی: ۲۱۰۳(انظر: ۳۲۳)
6369
Sahih
غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
۔ (۶۳۷۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ مَاتَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَتْرُکْ وَارِثًا اِلَّا عَبْدًا ھُوَ اَعْتَقَہُ فَأَعْطَاہُ مِیْرَاثَہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں ایک آدمی فوت ہو گیا اور کوئی وارث نہیں چھوڑا، البتہ اس کا ایک آزاد کیا ہوا غلام تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی میراث اس کو دے دے۔
Takhreej
(۶۳۷۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، عوسجہ لایعرف۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۰۵، وابن ماجہ: ۲۷۴۱، والترمذی: ۲۱۰۶ (انظر: ۱۹۳۰)
Explanation
فوائد:… غلام کے آزاد کنندہ کو عصبہ سببی کہتے ہیں، عصبہ نسبی کی عدم موجودگی میں عصبہ سببی ان کے قائم مقام ہوتے ہیں۔
6370
Zaeef
غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
۔ (۶۳۷۱)۔ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ فَلَمْ یَدَعْ وَارِثًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلْتَمِسُوْا لَہُ وَارِثًا، اِلْتَمِسُوْا لَہُ ذَا رَحِمٍ۔)) قَالَ: فَلَمْ یُوْجَدْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِدْفَعُوْہُ اِلٰی أَکْبَرِ خُزَاعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۳۲)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ از دقبیلے کا ایک آدمی فوت ہو گیا اور اس کا کوئی وارث نہ تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا کوئی وارث تلاش کرو، اس کا کوئی رشتہ دار تلاش کرو۔ لیکن کوئی قرابتدار نہ مل سکا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خزاعہ قبیلے کے سب سے بڑے کو یہ میراث دے دو۔
Takhreej
(۶۳۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو بکر جبریل بن احمر الجملی لیس بالقوی۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۰۴، والنسائی: ۶۳۹۶ (انظر: ۲۲۹۴۴)
Explanation
فوائد:… یہ روایت ضعیف ہے، جب میت کا کوئی رشتہ دار نہیں ہو گا تو مال بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا، یا حکمران کسی مصلحت کو سامنے رکھ کر مال کو تقسیم کر دے گا، جیسا کہ اگلی حدیث ِ مبارکہ میں ہے۔
6371
Zaeef
غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
۔ (۶۳۷۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ مَوْلٰی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَعَ مِنْ نَخْلَۃٍ فَمَاتَ وَتَرَکَ شَیْئًا وَلَمْ یَدَعْ وَلَدًا وَ لَاحَمِیْمًا فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَعْطُوْا مِیْرَاثَہُ رَجُلًا مِنْ أَھْلِ قَرْیَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۶۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک غلام کھجور سے گر کر فوت ہو گیا، اس کا کچھ ترکہ تو تھا، لیکن اس کی اولاد تھی نہ رشتہ دار، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی میراث کے بارے میں فرمایا: اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔
Takhreej
(۶۳۷۲) اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۰۲، وابن ماجہ: ۲۷۳۳، والترمذی: ۲۱۰۵ (انظر: ۲۵۰۵۴)
Explanation
فوائد:… بستی کے آدمی کا نہ ترکہ کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ وہ مستقل طور پر وارث بنتا ہے، دراصل جب آپa نے دیکھا کہ اس کا کوئی وارث موجود نہیں ہے تو یہ فیصلہ کر دیا کہ یہ ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دیا جائے، آپa کا یہ فیصلہ بیت المال میں ترکہ جمع کروا دینے کے مترادف ہے، یعنی حکمران کویہ حق حاصل ہو گا کہ وہ جیسے چاہے فیصلہ کر دے۔
6372
Sahih
غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
۔ (۶۳۷۳)۔ عَنْ تَمِیْمِ نِ الدَّارِیِّ قَالَتْ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا السُّنْۃُ فِی الرَّجُلِ مِنْ أَھْلِ الْکُفْرِ یُسْلِمُ عَلٰییَدِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ؟ قَالَ: ((ھُوَ أَوْلَی النَّاسِ بِحَیَاتِہِ وَمَوْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۷۷)
۔ سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ کافروں میں سے ایک آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے، اس کے بارے میں کیا طریقہ ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مسلمان دوسروں کی بہ نسبت اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ حقدار ہو گا۔
Takhreej
(۶۳۷۳) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۱۸، والترمذی: ۲۱۱۲، وابن ماجہ: ۲۷۵۲ (انظر: ۱۶۹۵۳)
Explanation
فوائد:… سعید بن منصور کی روایت میںیہ الفاظ زیادہ ہیں: ((یَرِثُہٗ وَیَعْقِلُ عَنْہُ))… ’’وہ اس کا وارث بنے گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا۔‘‘ لیکن اس کی سند میں احوص بن حکیم راوی ضعیف الحفظ ہے، لیکن اس کے بارے میں امام البانی نے کہا: فیستشھد بہ۔ (صحیحہ: ۲۳۱۶) امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: دوسرے ورثاء کی عدم موجودگی میں ایسا شخص وارث بنے گا۔ امام ثوری نے کہا: یہ وارث بنے گا اور یہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۶/ ۲۰، ۹/ ۳۹) یاد رہے کہ سیدنا تمیم داریb ۹؁ھمیں مسلمان ہوئے، اس لیے اس حدیث کے منسوخ ہونے کا دعوی نہیں کرنا چاہیے۔
6373
Sahih
لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
۔ (۶۳۷۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَیْنِ أَنَّہُ یَرِثُ أُمَّہُ وَتَرِثُہُ، وَمَنْ قَفَاھَا بِہٖجُلِدَثَمَانِیْنَ، وَمَنْ دَعَاہُ وَلَدَ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِیْنَ۔ (مسند احمد: ۷۰۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کی اولاد کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ماں کی وارث بنے گی اور اس کی ماںاس اولاد کی، لیکن جس نے اس عورت پر زنا کی تہمت لگائی، اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے اور جس نے اس کی اولاد کو زنا کی اولاد کہا، اس کو بھی اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔
Takhreej
(۶۳۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن (انظر: ۷۰۲۸)
6374
Zaeef
لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
۔ (۶۳۷۵)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ اللَّیْثِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْأَۃُ تَحُوْزُ ثَلَاثَ مَوَارِیْثَ، عَتِیْقَہَا وَلَقِیْطَہَا وَوَلَدَہُ الَّذِیْ تُلَاعِنُ عَلِیْہِ)) (مسند احمد: ۱۶۱۰۷)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت تین قسم کی میراثیں سمیٹتی ہے، اپنے آزاد کر دہ غلام کی، گرے پڑے بچے کی اور اس بچے کی جس پر اس نے لعان کیا ہو۔
Takhreej
(۶۳۷۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عمرو بن رؤبۃ، وفیہ بقیۃ بن الولید مدلس تدلیس التسویۃ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۰۶، والترمذی: ۲۱۱۵، وابن ماجہ: ۲۷۴۲ (انظر: ۱۶۰۱۱)
Explanation
فوائد:… مذکورہ بالا دو روایات ضعیف ہیں، درج ذیل دو احادیث ملاحظہ ہوں: سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص b سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّV جَعَلَ مِیْرَاثَ ابْنِ الْمُلَاعَنَۃِ لِأُمِّہٖوَلِوَرَثَتِھَامِنْبَعْدِھَا۔…نبی کریمa نے لعان والے بیٹے کی میراث اس کی ماں کے لیے اور اس کے بعد اس کے ورثاء کے لیے مقرر فرمائی۔ (ابوداود: ۲۹۰۷) لعان والے ایک قصے کے بارے میں سیدنا سہل بن سعد b نے کہا: وَکَانَ ابْنُھَا یُنْسَبُ اِلٰی اُمِّہٖ،فَجَرَتِالسُّنَّۃُ اَنَّہٗیَرِثُھَا وَتَرِثُ مِنْہُ مَا فَرَضَ اللّٰہُ لَھَا۔… اس لعان والی عورت کے بیٹے کو صرف اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا، پس یہ سنت جاری ہو گئی کہ ایسا بیٹا اپنی ماں کا وارث بنے گا اور اس کی ماں اس کی وارث بنے گی۔ (صحیح بخاری: ۵۳۰۹، صحیح مسلم: ۱۴۹۲) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس بچے پر میاں بیوی میں لعان ہو جائے، وہ صرف اپنی ماں کی طرف منسوب ہو گا اور اس کی میراث کا سلسلہ بھی صرف ماں سے ہو گا، زنا کے بچے کا بھییہی حکم ہو گا۔
6375
Zaeef
لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
۔ (۶۳۷۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَامُسَاعَاۃَ فِیْ الْاِسْلَامِ، مَنْ سَاعٰی فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَقَدْ اَلْحَقْتُہُ بِعَصَبَتِہِ وَمَنِ ادَّعٰی وَلَدَہُ مِنْ غَیْرِ رِشْدَۃٍ فَلَایَرِثُ وَ لَایُوْرَثُ۔)) (مسند احمد: ۳۴۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اسلام میں کوئی زنا نہیں ہے اور جس نے جاہلیت میں زنا کیا، میں نے (اس کے سبب پیدا ہونے والی اولاد کو) اس کے عصبہ کے ساتھ ملا دیا ہے اور جس نے بغیر نکاح کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو وہ آدمی نہ اس بچے کا وارث ہوگا اور نہ یہ بچہ اس کا وارث ہوگا۔
Takhreej
(۶۳۷۶) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۲۶۴ (انظر: ۳۴۱۶)
Explanation
فوائد:… باپ اور بیٹا نسب کی وجہ سے ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں، جبکہ زنا سے نسب ثابت نہیں ہوتا، نسب کے لیے نکاحِ شرعی ضروری ہے، لہذا زنا کے نتیجے میں جنم لینے والی اولاد باپ کی طرف نسبت سے محروم ہو جائے گی اور ان کا باپ سے میراث کا سلسلہ بھی منقطع ہو جائے گا، ایسی اولاد کی نسبت اور میراث کا سلسلہ صرف ان کی ماں سے ہو گا۔
6376
Sahih

Chapters

14
01
میراث کے موانع کا بیان
6 Hadith
02
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
4 Hadith
03
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
5 Hadith
04
اصحاب الفروض سے ابتداء کرنے اور ان سے بچ جانے والی میراث کو عصبہ میں تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
05
بہنوں کا بیٹیوں کی وجہ سے عصبہ بننے اورپوتی کے ساتھ بیٹی کا حصہ مقرر ہونے کا بیان
2 Hadith
06
عینی بھائیوں کی وجہ سے علاتی بھائیوں کے ساقط ہو جانے کا بیان
1 Hadith
07
دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
3 Hadith
08
جدّ کی وراثت کا بیان
6 Hadith
09
ذوی الارحام کی میراث کا بیان
2 Hadith
10
غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
4 Hadith
11
لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
3 Hadith
12
اس شخص کا بیان جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنا چاہے
1 Hadith
13
ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
5 Hadith
14
کلالہ کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.