اس شخص کا بیان جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنا چاہے
۔ (۶۳۷۷)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ غَیْلَانَ بْنَ سَلَمَۃَ الثَّقَفِیَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَہُ عَشْرُ نِسْوَۃٍ،
فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِخْتَرْ مِنْہُنَّ أَرْبَعًا۔)) فَلَمَّا کَانَ فِیْ عَہْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَائَہُ وَقَسَّمَ مَالَہُ بَیْنَ بَنِیْہِ فَبَلَغَ ذٰلِکَ عُمَرَ، فقَالَ: اِنِّیْ لَأَظُنُّ الشَّیْطَانَ فِیْمَایَسْتَرِقُ مِنَ السَّمْعِ سَمِعَ بِمَوْتِکَ فَقَذَفَہُ فِیْ نَفْسِکَ وَلَعَلَّکَ أَنْ لَاتَمْکُثَ اِلَّا قَلِیْلًا، وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَتُرَاجِعَنَّ نِسَائَکَ وَلَتَرْجِعْنَ فِیْ مَالِکَ أَوْ لَاُوَرِّثُہُنَّ مِنْکَ، وَلَآمُرَنَّ بِقَبَرِکَ فَیُرْجَمُ کَمَا رُجِمَ قَبْرُ اَبِیْ رِغَالٍ۔ (مسند احمد: ۴۶۳۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوا تو ان کی دس بیویا ںتھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: تم ان میں سے کل چار بیویاں منتخب کر لو۔ عہد فاروقی میں سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ نے تمام بیویوں کو طلاق دے دی اور سارا مال بیٹوں میں تقسیم کر دیا، جب یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انھوں نے ان کو بلایا اور کہا: میرا خیال ہے کہ شیطان نے فرشتوں سے تیری موت کی خبر سن کر تیرے دل میں ڈال دی ہے، اب شاید تیری تھوڑی زندگی باقی رہ گئی ہو۔اللہ کی قسم ہے! یا تو تو اپنی بیویوں سے رجوع کرکے ان کو مال واپس کرے گا، یا میں خود ان بیویوں کو تیرا وارث بناؤں گا اور تیری قبر کے بارے میں حکم دوں گا کہ اس کو ایسے رجم کیا جائے، جیسے ابو رِغال کی قبر کو کیا گیا تھا۔
Takhreej
(۶۳۷۷) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ مختصرا الترمذی: ۱۱۲۸، وابن ماجہ: ۱۹۵۳ (انظر: ۴۶۳۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا غیلانbدراصل جاہلیت کی عادات وا طوار کی طرف لوٹنا چاہتے تھے۔
ابو رغال کون تھا؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (أ)یہ ثمود سے تھا، جب اس کی قوم پر عذاب نازل ہوا تو یہ حرم میں تھا، لیکن جب حرم سے نکلا تو قوم کے عذاب میں پھنس گیا۔ (ب) ابتدائے زمانہ میں ٹیکس وصول کرنے والا ایک آدمی تھا، اس کی قبر مکہ اور طائف کے درمیان ہے، کہا جاتا ہے کہ اس کی قبر کو رجم کیا جائے گا۔
6377
Sahih