TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فرائض کے ابواب - فرائض کے ابواب - Book 106 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 106 of Musnad Ahmad, with 14 chapters and 49 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

49 Hadith · 14 Chapters
اس شخص کا بیان جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنا چاہے
۔ (۶۳۷۷)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ غَیْلَانَ بْنَ سَلَمَۃَ الثَّقَفِیَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَہُ عَشْرُ نِسْوَۃٍ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِخْتَرْ مِنْہُنَّ أَرْبَعًا۔)) فَلَمَّا کَانَ فِیْ عَہْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَائَہُ وَقَسَّمَ مَالَہُ بَیْنَ بَنِیْہِ فَبَلَغَ ذٰلِکَ عُمَرَ، فقَالَ: اِنِّیْ لَأَظُنُّ الشَّیْطَانَ فِیْمَایَسْتَرِقُ مِنَ السَّمْعِ سَمِعَ بِمَوْتِکَ فَقَذَفَہُ فِیْ نَفْسِکَ وَلَعَلَّکَ أَنْ لَاتَمْکُثَ اِلَّا قَلِیْلًا، وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَتُرَاجِعَنَّ نِسَائَکَ وَلَتَرْجِعْنَ فِیْ مَالِکَ أَوْ لَاُوَرِّثُہُنَّ مِنْکَ، وَلَآمُرَنَّ بِقَبَرِکَ فَیُرْجَمُ کَمَا رُجِمَ قَبْرُ اَبِیْ رِغَالٍ۔ (مسند احمد: ۴۶۳۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب مسلمان ہوا تو ان کی دس بیویا ںتھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو فرمایا: تم ان میں سے کل چار بیویاں منتخب کر لو۔ عہد فاروقی میں سیدنا غیلان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تمام بیویوں کو طلاق دے دی اور سارا مال بیٹوں میں تقسیم کر دیا، جب یہ بات سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے ان کو بلایا اور کہا: میرا خیال ہے کہ شیطان نے فرشتوں سے تیری موت کی خبر سن کر تیرے دل میں ڈال دی ہے، اب شاید تیری تھوڑی زندگی باقی رہ گئی ہو۔اللہ کی قسم ہے! یا تو تو اپنی بیویوں سے رجوع کرکے ان کو مال واپس کرے گا، یا میں خود ان بیویوں کو تیرا وارث بناؤں گا اور تیری قبر کے بارے میں حکم دوں گا کہ اس کو ایسے رجم کیا جائے، جیسے ابو رِغال کی قبر کو کیا گیا تھا۔
Takhreej
(۶۳۷۷) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ مختصرا الترمذی: ۱۱۲۸، وابن ماجہ: ۱۹۵۳ (انظر: ۴۶۳۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا غیلانbدراصل جاہلیت کی عادات وا طوار کی طرف لوٹنا چاہتے تھے۔ ابو رغال کون تھا؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (أ)یہ ثمود سے تھا، جب اس کی قوم پر عذاب نازل ہوا تو یہ حرم میں تھا، لیکن جب حرم سے نکلا تو قوم کے عذاب میں پھنس گیا۔ (ب) ابتدائے زمانہ میں ٹیکس وصول کرنے والا ایک آدمی تھا، اس کی قبر مکہ اور طائف کے درمیان ہے، کہا جاتا ہے کہ اس کی قبر کو رجم کیا جائے گا۔
6377
Sahih
ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
۔ (۶۳۷۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْوَلَائُ لِمَنْ اَعْتَقَ۔)) (مسند احمد: ۴۸۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ولا ء ، آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔
Takhreej
(۶۳۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۵۹(انظر: ۴۸۱۷)
Explanation
فوائد:… وَلاء وہ رشتہ ٔ وراثت ہے،جس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔ آزاد کنندہ اور اس کے عصبہ بنفسہ کو عصبہ سببی کہتے ہیں، جب اصحاب الفروض سے مال بچ جائے یا اصحاب الفروض سرے سے موجود نہ ہوں تو عصبہ نسبی وارث بنتے ہیں،اگر عصبہ نسبی نہ ہوں تو عصبہ سببی ترکہ کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ یہ ولائ، نسب کی طرح کا ایک حق ہے ، اس لیے نسب کی طرح ہی نہ اس کی خرید و فروخت کی جا سکتی ہے اور نہ اس کو ہبہ کیا جا سکتاہے۔
6378
Sahih
ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
۔ (۶۳۷۹)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۵۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۳۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۵۶، ومسلم: ۱۵۰۴(انظر: ۲۴۱۵۰)
6379
Sahih
ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
۔ (۶۳۸۰)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَلْمٰی بِنْتِ حَمْزَۃَ اِنَّ مَوْلَاھَا مَاتَ وَتَرَکَ اِبْنَۃً، فَوَرَّثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِبْنَتَہُ النِّصْفَ وَوَرَّثَ یَعْلَی النِّصْفَ وَکَانَ ابْنَ سَلْمٰی۔ (مسند احمد: ۲۷۸۲۷)
۔ سیدہ سلمیٰ بنت حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ان کا آزاد کردہ غلام فوت ہو گیا اور اس نے ایک بیٹی وارث چھوڑی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نصف مال کا اس کی بیٹی کو اور نصف مال کا یعلی کو وارث بنایا۔ یہیعلی ، سلمی کا بیٹا تھا۔
Takhreej
(۶۳۸۰) اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، قتادۃ لم یسمع من سلمی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۷۳۴(انظر: ۲۷۲۸۴)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ایسی صورت میں مسئلہ ایسے ہی ہو گا۔
6380
Zaeef
ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
۔ (۶۳۸۱)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُقَادُ وَالِدٌ مِنْ وَلَدٍ)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَرِثُ الْمَالَ مَنْ یَرِثُ الْوَلَائَ)) (مسند احمد: ۱۴۷)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اولاد کے عوض والد سے قصاص نہ لیا جائے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ولاء کاوارث ہوگا، وہی مال کا وارث بنے گا۔
Takhreej
(۶۳۸۰) اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، قتادۃ لم یسمع من سلمی۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۷۳۴(انظر: ۲۷۲۸۴)
6381
Sahih
ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
۔ (۶۳۸۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ عَمْرٌو جَائَ بَنُوْ مَعْمَرِ بْنِ حَبِیْبٍیُخَاصِمُوْنَہُ فِیْ وَلَائِ اُخْتِہِمْ اِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: أَقْضِیْ بَیْنَکُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ وَالْوَالِدُ فَہُوَ لِعَصَبَتِہِ مَنْ کَانَ۔)) فَقَضٰی لَنَا بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۳)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (شام سے) واپس آئے تو معمر بن حبیب کے بیٹے ان کے پاس آکر اپنی بہن کی ولاء کے بارے میں جھگڑنے لگے، مقدمہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچا دیا گیا اور انہوں نے کہا: میں تمہارے درمیان رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اولاد یا والدین جس مال کا احاطہ کر لیں، وہ ان کے عصبہ کو ملے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی حدیث کی روشنی میں ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا۔
Takhreej
(۶۳۸۲) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۱۷، وابن ماجہ: ۲۷۳۲ (انظر: ۱۸۳)
Explanation
فوائد:… اس کا پس منظر یہ ہے کہ رئاب بن حذیفہ نے ام وائل سے شادی کی، اس سے تین بچے پیدا ہوئے، پھر ام وائل وفات پاگئی، اس کے بیٹے اس کے وارث تھے۔ سیدنا عمرو بن عاص b ان کو لے کر شام چلے گئے، جہاں وہ طاعون کی وجہ سے فوت ہوگئے، سیدنا عمرو b ان کے عصبہ کی حیثیت سے ان کے وارث ہوئے، جب اس متوفی خاتون کے قبیلہ والے دعویٰ لے کر سیدنا عمر b کی عدالت پہ پہنچے تو تب انھوں نے اس حدیث کی روشنی میں فیصلہ کیا اور عصبہ کی حیثیت سے سیدنا عمرو b کو مستحق قرار دیا۔
6382
Sahih
کلالہ کا بیان
۔ (۶۳۸۳)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْکَلَالَۃِ، فَقَالَ: ((تَکْفِیْکَ آیَۃُ الصَّیْفِ۔)) فَقَالَ: لَأَنْ اَکُوْنَ سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہَا أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ یَکُوْنَ لِیْ حُمْرُ النَّعْمِ۔ (مسند احمد: ۲۶۲)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کلالہ کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بارے میں موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت تجھے کفایت کرتی ہے۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہیقینی بات ہے کہ میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کر لیا ہوتا تو یہ چیز مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسند ہوتی۔
Takhreej
(۶۳۸۳) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۶۲)
Explanation
فوائد:… کلالہ سے مراد وہ میت ہے، جس کے والدین ہوں نہ اولاد۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے، اکلیل ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کہ سر کو اس کے اطراف یعنی کناروں سے گھیر لے، کلالہ کو بھی کلالہ اس لیے کہتے ہیں کہ اصول و فروع کے اعتبار سے تو اس کا وارث نہ بنے، لیکن اطراف و جوانب سے وارث قرار پا جائے، جیسے بہن بھائی وغیرہ۔ سورۂ نساء میں دو مقامات پر کلالہ کا ذکر ہے، آیت نمبر (۱۲) اور آیت نمبر (۱۷۶) میں، اول الذکر آیت موسم سرما میں اور آخر الذکر موسم گرما میں نازل ہوئی تھی۔
6383
Sahih
کلالہ کا بیان
۔ (۶۳۸۴)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: اِنِّیْ لَا أَدَعُ شَیْئًا أَھَمَّ اِلَیَّ مِنَ الْکَلَالَۃِ، وَمَا اَغْلَظَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ شَیْئٍ مُنْذُ صَاحَبْتُہُ مَا اَغْلَظَ لِیْ فِی الْکَلَالَۃِ، وَمَا رَاجَعْتُہُ فِیْ شَیْئٍ مَا رَجَعْتُہُ فِی الْکَلَالَۃِ حَتّٰی طَعَنَ بِاِصْبَعِہِ فِیْ صَدْرِیْ وَقَالَ: ((یَا عُمَرُ! اَلَا تَکْفِیْکَ آیَۃُ الصَّیْفِ الَّتِیْ فِیْ آخِرِ سُوْرَۃِ النِّسَائِ۔)) فَاِنْ أَعْشِ أَقْضِی فِیْہَا قَضِیَّۃًیَقْضِیْ بِہَا مِنَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا یَقْرَأُ الْقُرْآنَ۔ (مسند احمد: ۱۸۶)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا، جو میرے نزدیک کلالہ کی بہ نسبت زیادہ اہم ہو، اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مسئلے کے بارے میں مجھ پر اتنی سختی کی کہ جب سے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتھ ملا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ پر اتنی سختی نہیں کی تھی اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جتنا مراجعہ کلالہ کے بارے میں کیا، اتنا کسی اور مسئلے میں نہیں کیا،یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سینے میں اپنی انگلی ماری اور فرمایا: اے عمر! کیا تجھے سورۂ نساء کے آخر والی آیت کافی نہیں ہے، جو موسم گرما میں نازل ہوئی تھی؟ پھر انھوں نے کہا: اگر میری زندگی رہی تو میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ بیان کروں گا کہ ہر شخص اس کو سمجھ جائے گا، وہ قرآن پڑھتا ہو یا نہ پڑھتا ہو۔
Takhreej
(۶۳۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۶۷، ۱۶۱۷ (انظر: ۱۸۶)
Explanation
فوائد:… سورۂ نساء کی آیت نمبر (۱۲) میں کلالہ کے اخیافی بہن بھائیوں کا اور آیت نمبر (۱۷۶) میں عینی اور علاتی بہن بھائیوں کا ذکر ہے، اگر دونوں مقامات کو غور کے ساتھ پڑھا جائے تو کلالہ سے متعلقہ مسائل سمجھ آ جاتے ہیں۔
6384
Sahih
کلالہ کا بیان
۔ (۶۳۸۵)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنِ الْکَلَالَۃِ، فَقَالَ: ((تَکْفِیْکَ آیَۃُ الصَّیْفِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۹۰)
۔ سیدنا براء بن عاز ب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسم گرما والی آیت تیرے لیے کافی ہے۔
Takhreej
(۶۳۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، سماع ابی بکر بن عیاش من أبی اسحاق لیس بذاک القوی وثبت الحدیث عن عمرB کما سلف۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۸۹، والترمذی: ۳۰۴۲(انظر: ۱۸۵۸۹)
6385
Zaeef

Chapters

14
01
میراث کے موانع کا بیان
6 Hadith
02
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
4 Hadith
03
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
5 Hadith
04
اصحاب الفروض سے ابتداء کرنے اور ان سے بچ جانے والی میراث کو عصبہ میں تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
05
بہنوں کا بیٹیوں کی وجہ سے عصبہ بننے اورپوتی کے ساتھ بیٹی کا حصہ مقرر ہونے کا بیان
2 Hadith
06
عینی بھائیوں کی وجہ سے علاتی بھائیوں کے ساقط ہو جانے کا بیان
1 Hadith
07
دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
3 Hadith
08
جدّ کی وراثت کا بیان
6 Hadith
09
ذوی الارحام کی میراث کا بیان
2 Hadith
10
غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
4 Hadith
11
لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
3 Hadith
12
اس شخص کا بیان جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنا چاہے
1 Hadith
13
ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
5 Hadith
14
کلالہ کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.