ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے - ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے - Book 132 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 132 of Musnad Ahmad, with 22 chapters and 149 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے سال فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت کوحرام قرار دیا ہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے، کیونکہ اس کے ساتھ کشتیوں اور چمڑوں کو وارنش کیا جاتا ہے اور لوگ چراغوں میں بھی اس کو جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ حرام ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت کرے، اللہ تعالی نے جب ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلایا، پھر اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کھا گئے۔
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں حرّہ مقام پر ایک گھر کے لوگ تھے، وہ بڑے محتاج تھے، ان کی یا کسی اور کی ایک اونٹنی مر گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وہ مردار کھانے کی رخصت دے دی، اس سے ان کا باقی موسم سرما یا قحط سالی محفوظ ہو گئی۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اونٹنی کے مالک سے پوچھا: کیا تیرے پاس اس مردار کے لیے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جا اور اس کو کھا لے۔
Takhreej
(۷۳۴۷) تخریج: حسن الاسناد، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۳۸۱۶(انظر: ۲۰۸۱۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ ایک آدمی حرہ زمین میں اپنے والد کے ساتھ رہتا تھا، اس سے ایک آدمی نے کہا: میری اونٹنی کہیں چلی گئی ہے، جب تو اسے پا لے تو اپنے پاس روک لینا، وہ اونٹنی تو واقعی اس نے پا لی، مگر اس کا مالک نہ آیا، یہاں تک وہ اونٹنی بیمار پڑ گئی، اس آدمی سے اس کی بیوی نے کہا: اسے ذبح کر لو تاکہ ہم اس کو کھا لیں، لیکن اس آدمی نے ایسا نہ کیا، حتیٰ کہ وہ خود مر گئی، اس کی بیوی نے کہا: اب اس کی کھال اتارو، ہم اس کے گوشت اور چربی کے ٹکڑے اور پارچے کرتے ہیں اور کھاتے ہیں، اس آدمی نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا، جب تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ پوچھ لوں، پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی چیز اس مردہ اونٹنی کے علاوہ ہے، جو کھانے میں تجھے کفایت کرے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے کھا لو۔ بعد میں جب اس اونٹنی کا مالک آیا تو اس نے اس آدمی سے کہا: تونے اسے ذبح کیوں نہیں کر لیا تھا، اس نے کہا:بس مجھے تجھ سے شرم آئی تھی (کہ اجازت کے بغیر کیسے ذبح کروں)۔
۔ سیدنا ابو واقدلیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں کہ وہاں بھوک کا غلبہ رہتا ہے، ہمارے لیے مردار میں سے کیا کیا حلال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نہ تمہیں صبح کو کچھ کھانے کو ملے،نہ شام کو کچھ ملے اور نہ تمہیں کوئی ترکاری ملے تو پھر تم مردار کھا سکتے ہو۔
فوائد:… ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیَتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَا اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔} … تم پر مردہ اور (بہایا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوادوسروں کا نام پکارا گیا ہو، حرام ہے، پھر جو مجبور ہو جائے، اس حال میں کہ وہ سرکشی کرنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو تو اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں، بیشک اللہ تعالی بہت بخشش کرنے والا بہت مہربان ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۱۷۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں لوگوں نے اونٹ ذبح کئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا کہ لوگ ان کے لیے گوشت برتن میں ڈال رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے عمدہ گوشت جانور کی پشت کا گوشت ہے۔
Takhreej
(۷۳۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، الشیخ من فھم، واسمہ محمد بن عبد الرحمن، فی عداد المجھولین، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۳۰۸ (انظر: ۱۷۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: آخری کام جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیکھا، وہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک ہاتھ میں تازہ کھجوریں تھیں اور دوسرے ہاتھ میں ککڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کھاتے تھے اورساتھ ہی اس ککڑی سے ٹکڑا کاٹتے اور کھاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکری کا سب سے عمدہ گوشت پشت کا گوشت ہے۔
Takhreej
(۷۳۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، نصر بن باب الخراسانی ترکہ جماعۃ، وقال البخاری: یرمونہ بالکذب، وحجاج بن ارطاۃ مدلس وقد عنعن، وقتادۃ لم یسمع من احد من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الا من انس وابی الطفیل (انظر: ۱۷۴۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھا کہ تر کھجوروں کے ساتھ ککڑی کھا رہے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت والی ہڈی میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ دستی تھی اور دستی بھی بکری کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری کی دستی میں زہر ملایا گیا تھا اور یہودیوں نے زہر دیا تھا۔
Takhreej
(۷۳۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، سعد بن عیاض الثمالی فی عداد المجھولین، أخرجہ ابوداود: ۳۷۸۰(انظر: ۳۷۳۳)
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:مجھے ایک بکری کا تحفہ دیا گیا، اسے ذبح کرکے اس کا گوشت ہنڈیا میں رکھ کر پکایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! اس کی دستی مجھے پکڑا دو۔ پس میں نے پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اس کی دوسری دستی بھی مجھے دے دو۔ میں نے دوسری دستی بھی پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: مجھے ایک اور دستی دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بکری کی دو ہی دستیاں تھیں، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک خاموش رہتا تو مجھے دستیاں پکڑاتا ہی رہتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگواکر اپنے منہ مبارک میں گھمایا اور انگلیاں دھوئیں پھرکھڑے ہوئے اور نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے اور ہمارے پاس ٹھنڈا گوشت پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کھایا اور پھر مسجد میں داخل ہوئے اور دوسری نماز پڑھی اور پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔
Takhreej
(۷۳۵۴) تخریج: حسن لغیرہ فی قصۃ مناولۃ الذراع، وھذا اسناد ضعیف لضعف شرحبیل بن سعد، وابو جعفر الرازی مختلف فیہ، وقد اختلف عنہ فی ھذا الاسناد، أخرجہ بن حبان: ۱۱۴۹، ۵۲۴۴، والطبرانی فی الکبیر : ۹۸۶ (انظر: ۲۷۱۹۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری کا گوشت بھونا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لایا گیا، سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے دستی پکڑائو۔)) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے ایک اور دستی پکڑائو۔ میں نے وہ بھی پکڑا دی، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے ایک اور دستی پکڑائو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بکری کی صرف دو ہی دستیاں ہوتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک میں دستی طلب کرتا رہتا، تو مجھے پکڑاتا رہتا۔ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا۔
Takhreej
(۷۳۵۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن سعد: ۱/ ۳۹۳، والطبرانی فی الکبیر : ۹۷۰ (انظر: ۲۳۸۵۹)
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ ہنڈیا سے دو سے زیادہ دستیاں نکالی جاتیں۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سنگریزوں کا ایک برتن بنایا ہوا تھا، میں وہ برتن آپ کے پاس لایا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں جھانکا اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ اس میں گوشت ہے۔ میں نے اس چیز کا ذکر گھر والوں سے کیا (اور ہم سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت کھانے کی خواہش ہے) پس انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری ذبح کی۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فاغیہ بہت پسند تھا اور کھانوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو کا سالن تھا۔
Takhreej
(۷۳۵۸) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۱۲۵۴۶)
Explanation
فوائد:… فاغیہ کے تین معانی ہیں: خوشبو، حنا کی کلی، ہر خوشبودار پودے کی کلی۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک پیالہ پیش کیا گیا، جس میں کدو تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کدو بہت پسند فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کے ساتھ پیالے میں سے کدو تلاش کرنا شروع کر دیئے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو بہت پسند تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایسا شوربا لایا جاتا، جس میں کدو ہوتا تو برتن کی کدو والی جانب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کر دی جاتی۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ تر کھجوروں اورتربوز کو ملا کرکھا رہے تھے۔
فوائد:… سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَأْکُلُ الْبِطِّیْخَ بِالرُّطَبِ، فَیَقُوْلُ: ((نُکَسِّرُ حَرَّ ھٰذَا بِبَرْدِ ھٰذَا وَبَرْدَ ھٰذَا بِحَرِّ ھٰذَا))۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تازہ کھجوروں کے ساتھ تربوز کھاتے اور فرماتے تھے: ہم اس (تربوز) کی ٹھنڈک کے ذریعے اس (کھجور) کی گرمائش کو اور اس کی گرمائش کے ذریعے اس کی ٹھنڈک کے اثر کو ختم کر رہے ہیں۔ (ابوداود: ۳۸۳۵، ترمذی: ۱/۳۳۸،صحیحہ:۵۷)
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سرکہ بہترین سالن ہے، وہ گھر (سالن سے) خالی نہیں ہے، جس میں سرکہ ہو۔
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن طلب کیا، انہوں نے کہا: سالن تو نہیں، البتہ سرکہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرکہ منگوایا اور اس کے ساتھ کھانا کھانا شروع کر دیا اور فرمایا: سرکہ توبہترین سالن ہے۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر اپنے گھر کی جانب چل دیئے، جب گھرپہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کوئی دوپہر کا یا شام کا کھانا ہے؟ انہوں نے روٹی کے چند ٹکڑے دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سالن نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، البتہ سرکہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ، سرکہ تو بہترین سالن ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے اس وقت سے لے کر میں نے سرکہ پسند کرنا شروع کر دیا اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سرکہ کے بارے میں یہ بات سنی، اس وقت سے میں نے بھی سرکہ پسند کرنا شروع کر دیا۔