کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
۔
۔ ابن اعبد کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابن اعبد تجھے معلوم ہے کہ کھانے کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اے ابن ابی طالب! آپ ہی بیان کر دیں کہ اس کا کیا حق ہے؟ انہوں نے کہا: جب تو کھانا کھائے تو کہے: بِسْمِ اللّٰہِ، اللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیمَا رَزَقْتَنَا (بسم اللہ! اے اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت کر دے جو تونے ہمیں دیا ہے ) پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا تجھے یہ پتہ ہے جب کھانے سے فراغت پائیں تو کیا کہنا ہے کہ اس کا شکر ادا ہو جائے، میں نے کہا: اس کے شکر کے لیے کیا کہنا چاہے؟ انھوں نے کہا: تو یہ کہا کر: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا۔ (تمام تعریف اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا۔)
Takhreej
(۷۳۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ علی بن اعبد، وابوالورد لیس بالمعروف، أخرجہ الطبرانی فی الدعائ : ۲۳۵، وابن ابی شیبۃ: ۸/ ۳۱۰ (انظر: ۱۳۱۳)
7385
Zaeef