TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے - ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے - Book 132 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 132 of Musnad Ahmad, with 22 chapters and 149 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

149 Hadith · 22 Chapters
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
۔
۔ مولائے ابو بکر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھجوریں پیش کیں، لوگوں نے دو تین تین کھجوریں اکٹھی منہ میں ڈالنا شروع کر دیں، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح ملا کر نہ کھاؤ (یعنی ایک ایک کھجور منہ میں ڈال کر کھاؤ، نہ کہ دو تین تین)۔
Takhreej
(۷۴۰۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۳۳۲(انظر: ۱۷۱۶)
7405
Sahih
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
۔
۔ جبلہ بن سحیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے، یہ اہل عراق کی جانب ایک لشکر بھیجنے کے دور کی بات ہے، ہم قحط سالی سے دو چار ہو گئے۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں کھجوریں دیں، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے قریب سے گزرے اور کہا: دو تین تین ملا کر نہ کھانا، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے الا کہ آدمی اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: یہ اجازت دینے والا جملہ میرے خیال میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنا کلام ہے، (حدیث کا حصہ نہیں ہے)۔
Takhreej
(۷۴۰۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۴۵(انظر: ۵۴۳۵)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: یہ امام شعبہ کا اپنا گمان ہے، اس سے حدیث کا مرفوع ہونا متاثر نہیں ہو گا، کیونکہ امام سفیان نے دوسری روایت کے مطابق یہ حدیث اس طرح بیان کی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَقْرِنَ الرَّجُلُ بَیْنَ التَّمْرَتَیْنِ حَتّٰی یَسْتَأْذِنَ اَصْحَابَہٗ۔ … رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے، الا یہ کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔
7406
Sahih
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوٹ مار سے منع کیا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے لوٹ مار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Takhreej
(۷۴۰۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۷/ ۵۷، والبزار: ۱۷۳۳، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۱۳۱۶ (انظر: ۱۲۵۹۸)
Explanation
فوائد: اس حدیث کو یہاں لانے کا مقصد یہ ہے کہ کھانے کی چیز بکھیر دینا اور پھر اس پر جھپٹ پڑنا، جیسا کہ بعض علاقوں میں شادیوں کے موقع پر ہوتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۷۰۵۲)
7407
Sahih
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانے اور پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع کیا ہے۔
Takhreej
(۷۴۰۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ ابوداود: ۳۷۲۸، وابن ماجہ: ۳۴۲۹، والترمذی: ۱۸۸۸ (انظر: ۲۸۱۷)
7408
Sahih
کھانے والے کا پلیٹ کے اس حصے سے کھانا، جو اس کے سامنے ہو
۔
۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پروردہ سیدنا عمر بن ابی سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کھانے کے لیے بلایا، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھا رہے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہو جائو ، اللہ تعالی کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھائو اور اپنے سامنے سے کھائو۔
Takhreej
(۷۴۰۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۳۷۸، ومسلم: ۲۰۲۲ (انظر: ۱۶۳۳۹)
7409
Sahih
کھانے والے کا پلیٹ کے اس حصے سے کھانا، جو اس کے سامنے ہو
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا، آپ نے فرمایا: اس کے ارد گرد یا کناروں سے کھائو اور اس کے درمیان سے نہ کھاؤ، کیونکہ درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے۔
Takhreej
(۷۴۱۰) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۷۷۲ وأخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۳۲۷۷(انظر: ۲۷۳۰)
7410
Sahih
کھانے والے کا پلیٹ کے اس حصے سے کھانا، جو اس کے سامنے ہو
۔
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں صفہ والوں میں سے تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن روٹی منگوائی، اس کے ٹکڑے کئے، ان کو ایک پیالہ میں ڈالا، پھر اس میں پانی ،چربی اور چھنا ہوا آٹا ڈالا، پھر اسے خوب مکس کیا، پھر آپ نے اس کو کناروں سے ملا کر اونچا ڈھیر سا بنا دیا اور پھر مجھ سے فرمایا: جاؤ اور اپنے سمیت دس آدمیوں کو میرے پاس لاؤ۔ میں انہیںلے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھائو اور اس پیالہ کی نچلی جانب سے کھائو، اس کی اوپر والی جانب سے نہیں کھانا، کیونکہ اوپر والی جانب سے برکت نازل ہوتی ہے، پھر انہوں نے کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔
Takhreej
(۷۴۱۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ مختصرا ابن ماجہ: ۳۲۷۶(انظر: ۱۶۰۰۶)
Explanation
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ میں کھانے کے مختلف آداب کا بیان ہے، پلیٹ کی اس طرف سے کھانا کھانا شروع کیا جائے، جو آدمی کے سامنے ہو اور درمیان سے بھی کھانا شروع نہ کیا جائے، وگرنہ بے برکتی ہو جاتی ہے۔
7411
Sahih
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم گوشت پکائو تو اس میں پانی زیادہ ڈال کر شوربا وافر بنایا کرو، اس سے پڑوسیوں کو دینے کے لیے بھی کافی گنجائش نکل آتی ہے۔
Takhreej
(۷۴۱۲) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ، والبزار: ۱۹۰۱، والطبران فی الاوسط : ۳۶۱۵(انظر: ۱۵۰۳۰)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر پڑوسیوں سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے، اس کی حکم بجا آوری کا طریقہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سکھایا ہے کہ گوشت وغیرہ یا جو ہنڈیا بھی شوربا والی ہو اس میں پانی ڈال کر زیادہ شوربا بنا لیا جائے اور اگر ہمسایہ مانگنے آئے یا نہ بھی مانگنے آئے تو اسے دیا جائے یہ حسن سلوک معاشرتی زندگی میں ایک سنہری اصول ہے۔
7412
Sahih
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
۔
۔ عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت میں میرے باپ نے میری شادی کی اور انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کرام میں سے کچھ افراد کو بھی مدعو کیا، سیدنا صفوان بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریف لائے، جو بہت بوڑھے ہو چکے تھے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گوشت دانتوں سے نوچ کر کھائو اس طرح کھانا زیادہ لذیز اور زود ہضم اور طبیعت و تمنا کے زیادہ موافق ہے۔
Takhreej
(۷۴۱۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۸۳۵(انظر: ۱۵۳۰۰)
7413
Sahih
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
۔
۔ سیدنا صفوان بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ میں ہڈی سے گوشت ہاتھ کے ساتھ اتار رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے صفوان! میں نے کہا: جی میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گوشت اپنے منہ کے قریب کر لو اور اسے دانتوں سے نوچ کرکھائو، یہ زیادہ لذیز بھی ہے اور زود ہضم بھی ہے۔
Takhreej
(۷۴۱۴) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۳۷۷۹(انظر: ۲۷۶۴۳)
Explanation
فوائد:… گوشت کی حقیقی لذت اسی میں ہے کہ اس کو نوچ کر کھایا جائے، اس طریقے سے کھانا زود ہضم بھی ہو جاتا ہے۔
7414
Sahih
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
۔
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ ثرید بناتیں تو اسے کچھ دیر کے لیے ڈھانپ دیتیں تاکہ اس کی گرمی کا جوش کم ہو جائے اور فرماتیں، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس طرح سے کھانے میں بہت زیادہ برکت آ جاتی ہے۔
Takhreej
(۷۴۱۵) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الدارمی: ۲۰۴۷، والحاکم: ۴/ ۱۱۸، وابن حبان: ۵۲۰۷(انظر: ۲۶۹۵۸)
7415
Sahih
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کے ہاتھ سے لقمہ گر پڑے تو وہ اسے اٹھا ئے اور اس کے ساتھ لگی ہوئی چیز صاف کرکے اسے کھا لے اور اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔
Takhreej
(۷۴۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۳۵(انظر: ۱۱۹۶۴)
7416
Sahih
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھانے سے فارغ ہو تو رومال کے ساتھ اس وقت تک ہاتھ صاف نہ کرے، جب تک اسے چاٹ یا چٹوا نہ لے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وہ اپنے ہاتھ اس وقت تک صاف نہ کرے جب تک کہ انہیں چوس نہ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصہ میں اس کے لیے برکت دی گئی ہے۔
Takhreej
(۷۴۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۳۳(انظر: ۱۴۲۲۱)
7417
Sahih
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک کھانا کھائے تو اپناہاتھ صاف نہ کرے۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: رومال کے ساتھ صاف نہ کرے یہاں تک کہ انہیں چاٹ لے یا چٹوا لے۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: پیالہ اٹھانے سے پہلے ہاتھوں کوچاٹے یا چٹوائے، کیونکہ کھانے کے آخری حصہ میں برکت ہوتی ہے۔
Takhreej
(۷۴۱۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن حبان: ۳۲۵۳، والنسائی فی الکبری : ۶۷۶۷(انظر: ۲۶۷۲)
7418
Sahih
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
۔
۔ مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی انگلیاں چاٹا کرتے اور کہتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تمہارے کھانے کے کون سے حصہ میں برکت ہے۔
Takhreej
(۷۴۱۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البزار: ۲۸۸۵(انظر: ۴۵۱۴)
7419
Sahih
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو ضرورضرور اپنی انگلیوں کوچاٹے، کیونکہ اسے پتہ نہیں کہ اس کی کون سی انگلی میں برکت ہے۔
Takhreej
(۷۴۲۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۳۵(انظر: ۹۳۶۹)
7420
Sahih
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی تین انگلیوں کو کھانا کھانے کی وجہ سے چاٹا کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۴۲۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۳۲(انظر: ۱۵۷۶۷)
7421
Sahih
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین انگلیوں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اوراپنے ہاتھ کو صاف کرنے سے پہلے انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۴۲۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7422
Sahih
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا نبشیہ الخیر ہذلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب ام عاصم نے کہا کہ ہم ایک پیالہ میں کھا رہے تھے کہ یہ نبیشہ ہذلی ہمارے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہم سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کیا کہ جو آدمی پیالہ میں کھائے اور پھر اسے (انگلی سے یا چاٹ کر) صاف کرتا ہے تو وہ پیالہ اس کے لیے بخشش طلب کرتا ہے۔
Takhreej
(۷۴۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال ام عاصم جدۃ ابی الیمان المعلی، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۲۷۱، ۳۲۷۲، والترمذی: ۱۸۰۴(انظر: ۲۰۷۲۴)
7423
Zaeef
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور عطاء سے مروی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خلال والے کتنے ہی اچھے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا وہ خلال والے کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں۔
Takhreej
(۷۴۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، واصل الرقاشی و ابو سورۃ مجمع علی تضعیفھما، وابوسورۃ لا یعرف لہ سماع من ابی ایوب، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۲، وعبد بن حمید: ۱۲۷۱، والطبرانی فی فی الکبیر : ۴۰۶۱(انظر: ۲۳۵۲۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا پہلا جملہ ثابت ہے، جیسا کہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((حَبَّذَا الْمُتْخَلِّلُوْنَ مِنْ أُمَّتِی۔)) بہت خوب ہیں میری امت کے وہ لوگ، جو خلال کرتے ہیں۔ (معجم اوسط: ۱/۳۹ـ ، صحیحہ:۲۵۶۷)
7424
Zaeef

Chapters

22
01
گھوڑے اورجنگلی گدھے کی حلت کا بیان
3 Hadith
02
سانڈا کھانے کا بیان
15 Hadith
03
بجو کے حلال ہونے کا بیان
3 Hadith
04
خرگوش ‘ سیہی اور مرغی کے گوشت کا حکم
4 Hadith
05
مچھلی اور ٹڈی کابیان
5 Hadith
06
لہسن اور پیاز اور ان جیسی چیز کھانے کا بیان
10 Hadith
07
اہل کتاب کے کھانے کا حکم
10 Hadith
08
گھریلو گدھے کے گوشت اور جلالہ کے گوشت کا بیان
12 Hadith
09
مجبوراً مردارکھانے کی رخصت کی کا بیان
3 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
19 Hadith
11
اجتماعی کھانے میں برکت ہے
9 Hadith
12
کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے اور نہ دھونے کے جواز کا بیان
5 Hadith
13
جب کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت ہو تو کھانا پہلے کھانا
2 Hadith
14
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
7 Hadith
15
کھڑے ہو کر اور ٹیک لگا کرکھانا کھانے کے مکروہ ہونے کا حکم
4 Hadith
16
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
9 Hadith
17
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
18
کھانے والے کا پلیٹ کے اس حصے سے کھانا، جو اس کے سامنے ہو
3 Hadith
19
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
4 Hadith
20
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
9 Hadith
21
کھانے کے بعد کی دعاؤں کا بیان
6 Hadith
22
اس شخص کا بیان، جس کو کھانے کی دعوت دی گئی اور اس نے کھانے سے فراغت کے بعد اپنے ساتھیوں کے لیے دعا کی
3 Hadith
No chapter matched that.