ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس - ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس - Book 162 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 162 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 112 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دعوت دینے والی کی دعوت قبول کیا کرو، تحفہ واپس نہ کیا کرو اور مسلمانوں کو نہ مارا کرو۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس نے کسی چیز کو اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا، ثواب کی نیت سے اور دل کی خوشی کے ساتھ زکوۃ ادا کی ہو گی اور حکمران کی بات سن کر اس کی اطاعت کی ہو گی، پس اس کے لیے جنت ہو گییا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ سے مال میں کمی نہیں آتی، لوگوں کو معاف کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت میں ہی اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے تواضع اختیار کرتاہے، اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتا ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مؤمن کسی پیاسے مؤمن کو مشروب پلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو (جنت کی) مہرزدہ صاف و خالص شراب پلائے گا، جو مؤمن کسی بھوکے مؤمن کو کھانا کھلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مؤمن کسی ننگے مؤمن کو کپڑے پہنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو سبز رنگ کا لباس پہنائے گا۔
Takhreej
(۹۵۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عطیۃ بن سعد العوفی، أخرجہ ابوداود: ۱۶۸۲، والترمذی: ۲۴۴۹ (انظر: ۱۱۱۰۱)
۔ سیدنا نافع بن عبد الحارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیک ہمسایہ، پرسکون اور نرم سواری اور کھلا گھر آدمی کی سعادت میں سے ہیں۔
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فضیلت والے اعمال میں سب سے افضل عمل یہ ہے کہ تو اس سے تعلق جوڑے، جو تجھ سے توڑتا ہے، تو اس کو دے جو تجھے محروم کرے اور تو اس سے درگزر کرے، جو تجھے برا بھلا کہے۔
Takhreej
(۹۵۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد، وسھلِ بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۴۱۳ (انظر: ۱۵۶۱۸)
۔ سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوروزے دار ہو اور پھر مریض کی عیادت بھی کرے اور کسی جنازے میں شرکت بھی کرے تو اس کے حرج والے امور (یعنی گناہ) بخش دیئے جاتے ہیں ، الا یہ کہ وہ بعد میں از سرِ نو کوئی گناہ کرے۔
Takhreej
(۹۵۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد، وابنِ لھیعۃ، وسھلِ بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ (انظر: ۱۵۶۴۲)
۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے، تنگی میں مبتلا قرض کے ضامن اور مکاتَب کی گردن چھڑانے کے حوالہ سے مدد کی، اللہ تعالیٰ اس کو اس دن اپنے سائے میںجگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۹۵۷۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن سھل فی عداد المجھولین، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۲۱۷، والبیھقی: ۱۰/ ۳۲۰، والطبرانی فی الکبیر : ۵۵۹۱ (انظر: ۱۵۹۸۶)
۔ سیدناابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھوکے کو کھانا کھلاؤ، غلام کو آزاد کراؤ اور مریض کی عیادت کرو۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ میری امت میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا، چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور صاحب ِ علم کو نہیں پہچانتا۔
Takhreej
(۹۵۷۷) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ ویعرف لعالمنا ، وھذا اسناد منقطع، ابوقبیل لم یسمع من عبادۃ، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۱۲۲، والبزار: ۲۷۱۸(انظر: ۲۲۷۵۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رحمن کی عبادت کرو، سلام کو عام کرو اور کھانا کھلاؤ، جنتوں میں داخل ہو جاؤ گے۔
Takhreej
(۹۵۷۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۹۴ (انظر: ۶۵۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی سخاوت اس کا دین ہے، اس کے نفسیاتی آداب اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کے اخلاق ہیں۔
Takhreej
(۹۵۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، مسلم بن خالد سییء الحفظ کثیر الاوھام، أخرجہ البزار: ۳۶۰۷، والطبرانی فی الاوسط : ۶۶۸۲، وابن حبان: ۴۸۳ (انظر: ۸۷۷۴)
Explanation
فوائد:… مسلمان کا شرف اس کے آباء و اجداد نہیں ہوتا، بلکہ اس کا حسن اخلاق ہوتا ہے، اسی کو اپنا کر وہ بلند مقام حاصل کر سکتا ہے اور اسی کو ترک کر کے وہ تمام دوسری صلاحیتیں ہونے کے باوجود لوگوں کی نگاہوں میں گر سکتا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضعیف مؤمن کی بہ نسبت قوی مؤمن زیادہ بہتر، زیادہ فضیلت والا اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے، بہرحال ہر ایک میں خیر و بھلائی پائی جاتی ہے، نفع بخش چیزوں کی حرص رکھ اور عاجز نہ آ جا، اگر کوئی معاملہ تجھ پر غالب آ جائے تو یہ کہا کر کہ اللہ تعالیٰ کا یہی اندازہ تھا اور جو وہ چاہتا ہے، کر دیتا ہے، اور لَوْ سے بچ ، کیونکہ لَوْ شیطان کا کام کھولتا ہے۔
Takhreej
(۹۵۸۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۶۴ (انظر: ۸۷۹۱)
Explanation
فوائد:… قوی مؤمن اسلام کے تمام ارکان و احکام کو کما حقہ پورا کر سکتا ہے، جیسے جہاد، حج، کمائی وغیرہ، جبکہ کمزور مومن کو رخصتوں پر عمل کرنا پڑتا ہے،بہرحال دونوں میں خیر ہے، کیونکہ دونوں اپنی صلاحیتوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔ صحت و قوت مسلمان کے لیے تب مفید ہے، جب وہ اس سے استفادہ کر رہا ہو۔
دین و دنیا کے لیے جو چیز مفید ہو اور اس کا حصول بندے کے لیے ممکن ہو تو اس کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ کر گھر بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ وہ کچھ ہو گا جو اللہ کو منظور ہو گا، لیکن اسی پاک ذات نے مفید چیزوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کا حکم دیا ہے۔
لَوْ (اگر) کااستعمال اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر عدم رضامندی کی نشاندہی کرتا ہے، اگر اسباب استعمال کرنے کے بعد نقصان ہو جائے تو اس پر صبر کرنا چاہیے اور اس سے متعلقہ صبر کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا، جب تک اُس کا دل درست نہیں ہوتا اور کسی کا دل اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی زبان راہِ راست پر نہیں آ جاتی اور ایسا شخص تو جنت میں داخل نہیں ہوگا کہ جس کے شرور سے اُس کا ہمسایہ امن میں نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۹۵۸۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن مسعدۃ الباھلی، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۵۰۰۵، والطبرانی فی الاوسط : ۶۵۵۹(انظر: ۱۳۰۴۸)
Explanation
فوائد:… دل، زبان اور اعضائ، ہر ایک کے ساتھ ایمان کا تعلق ہے۔
اگر کوئی ہمسایہ اپنے کسی ہمسائے کی بدسلوکی کی وجہ سے تنگ ہے تو اس میں مرکزی کردار ظالم کی زبان کا ہو گا، اس حدیث میں پڑوسی کی خیرو بھلائی کو کامیابی و کامرانی کا معیار قرار دیا گیا ہے، وہ اس طرح کہ ایمان کی بنیاد دل کی راستی پر ہے، دل کی درستی کا دارمدار زبان کی اصلاح پر ہے اور زبان کی خیر و شرّ کا تعلق پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک یا بدسلوکی سے ہے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابتدا کی اور آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مؤمن کی نجات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ ! اپنی زبان کو قابو میں رکھ، تیرا گھر تجھے اپنے اندر سما لے (یعنی ضرورت کے بغیر گھر سے نہ نکل) اور اپنی غلطیوں پر رو۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ابتدا کی اور میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے عقبہ بن عامر! کیا میں تجھے ایسی بہترین سورتوں کی تعلیم دوں کہ ان جیسی سورتیں نہ تورات میں نازل ہوئیں، نہ زبور میں، نہ انجیل میں اور نہ قرآن مجید (کے بقیہ حصے) میں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}، {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَق} اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاس} پڑھائیں اور پھر فرمایا:اے عقبہ! ان کو نہیں بھولنا اور ان کی تلاوت کیے بغیر کوئی رات نہیں گزارنی۔ پس جب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ تونے ان سورتوں کو نہیں بھولنا اس وقت سے میں نہ ان کو بھولا اور نہ میں نے ایسی رات گزاری، جن میں ان کی تلاوت نہ کی ہو۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابتدا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فضیلت والے اعمال کے بارے میں مجھے بتلائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ!جو تجھ سے قطع رحمی کرے، اس سے صلہ رحمی کر، جو تجھے محروم کرے، تو اسے عطا کر اور جو تجھ پر ظلم کرے، تو اسے معاف کر۔
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ انھوں نے کہا: مزید نصیحت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برائی کے بعد نیکی کرو، تاکہ وہ برائی کو مٹا دے۔ انھوں نے کہا: اور زیادہ نصیحت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آ۔
۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی بلیغ و مختصرنصیحت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز ادا کرے تو (اپنی زندگی کی) آخری نماز سمجھ کر ادا کر اور ایسا کلام مت کر کہ جس سے کل تجھے معذرت کرنا پڑے، نیز جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مکمل ناامید (اور غنی) ہو جا۔
فوائد:… محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین نصیحتوں میں پوری زندگی کا سکون جمع کر دیا ہے۔ کوئی بشر اپنی موت سے آگاہ نہیں ہے، اس لیے اسے چاہئے کہ وہ ہر نماز کو اپنی زندگی کی آخری نماز سمجھ کر انتہائی خوبصورت انداز میں ادا کرے، تاکہ اگر اس نماز کے بعد اس کو موت آ جاتی ہے تو وہی نماز اس کی نجات کے لیے کافی ہو جائے۔ دوسری نصیحت میں شارع علیہ السلام نے زبان کی حفاظت کی تعلیم دی ہے ، تاکہ بعد میں کسی قسم کی شرمندگی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے، یہ زبان ہی ہے جس سے آدمی کی شخصیت عیاں ہوتی ہے، اگر زبان میں وقار ہے تو پورے وجود میں سنجیدگی ہو گی اور اگر زبان ہر چراگاہ میں چرنے کی عادی ہو تو جسم بھی بے حیا ہو جاتا ہے۔ تیسری نصیحت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لالچ اور حرص جیسی مذموم صفات سے گریز کرنے کی تلقین کی ہے، کیونکہ ان قبیح صفات کی وجہ سے انسان میں کمینگی اور گھٹیاپن پیدا ہو جاتا ہے، جو اس کے مقام و مرتبہ کو جانوروں سے بھی گھٹا دیتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرے اور اسے رازق سمجھے، لوگوں کے مال و دولت پر نگاہ نہ رکھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی فاقہ میں مبتلا ہو جائے اور لوگوں کے سامنے اس کا اظہار کرے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا اور جو آدمی اس کا اظہار اللہ تعالیٰ کے سامنے کرے تو اللہ تعالیٰ اسے رزق عطا فرمائے گا، وہ جلد ہو یا بہ دیر۔ (ابوداود، ترمذی)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگ قیامت کے روز کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے: (۱) وہ آدمی، جو لوگوں کی امامت کروائے اور وہ اس سے راضی ہوں، (۲) وہ آدمی جو ہر روز پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا ہو اور (۳) وہ غلام، جو اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرتا ہو۔
Takhreej
(۹۵۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف،ابو الیقظان ضعّفہ غیر واحد من الأئمۃ، لکن یکتب حدیثہ فی المتابعات والشواھد، أخرجہ الترمذی: ۱۹۸۶، ۲۵۶۶ (انظر: ۴۷۹۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین افراد کی مدد اللہ تعالیٰ پر حق ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا، پاکدامنی کی خاطر نکاح کرنے والا اور ادائیگی کا ارادہ رکھنے والا مکاتَب۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے تین امور کی نصیحت کی، میں ان کو موت تک نہیں چھوڑوں گا، سونے سے پہلے وتر ادا کرنا، ہر ماہ میں تین دنوں کے روزے رکھنا اور جمعہ کے دن غسل کرنا۔