TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس - ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس - Book 162 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 162 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 112 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

112 Hadith · 16 Chapters
رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ بَدَا جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّیْدَ غَفَلَ، وَمَنْ اَتٰی اَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ، مَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا اِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللّٰہِ بُعْدًا۔)) (مسند احمد: ۸۸۲۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جنگل میں اقامت اختیار کی، وہ سخت دل ہو گیا، جو شکار کے پیچھے چل پڑا وہ غافل ہو گیا، جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنے میں پڑ گیا اور جو آدمی بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا، وہ اللہ تعالیٰسے اتنا ہی دور ہوتا جائے گا۔
Takhreej
(۹۶۰۸) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی فی الصحیحۃ (انظر: ۸۸۳۶)
Explanation
فوائد:… بدّو، دیہاتی اور جنگلی لوگوں میں اکھڑ پن اور اجڈ پن جیسی صفات پائی جاتی ہیں، حق قبول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، جبکہ شہری لوگوں میں شائشتگی اور نرمی زیادہ ہوتی ہیں اور ان کے دل و دماغ کی زمین زرخیز ہوتی ہے۔ جو آدمی شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے، اس کا دل نہیں بھرتا، حرص، لالچ اور شغل میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ دور دور تک نکل جاتا ہے، نماز اور دوسرے حقوق کی ادائیگی سے غافل ہو جاتا ہے۔ جو آدمی سلطانوں اور بادشاہوں کی بارگاہوں میں جا پھنسا، وہ حق سے دور اور باطل کے قریب ہو گیا، اب اسے اربابِ حکومت کی آنکھوں کے اشارے پر نقل و حرکت کرنا ہو گی، ان کی خوشامد اور چاپلوسی کرنا ہو گی، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر اپنے اوپر کیے گئے اللہ تعالیٰ کے احسانات کو حقیر سمجھے گا، بڑوں کے درباروں میں ہونے والی معصیات پر خاموش رہے گا، رفتہ رفتہ اسلامی غیرت ختم ہوتی جائے گی اور بالآخر ایسا شخص اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم کا مصداق بن کر دنیا و آخرت میں ذلیل ہو جاتا ہے۔ سلف صالحین نے بادشاہوں سے دور رہنے اور سادہ لوح عوام کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے میں عافیت سمجھی، اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بہترین نتائج سے سرفراز فرمایا اور آج بھی دنیا ان کے گیت گا رہی ہے۔ جو آدمی تبلیغ کے لیے حکمرانوں کے پاس جاتا ہے اور کسی معصیت کا ارتکاب کیے بغیر تبلیغ کے تقاضے پورے کر لیتا ہے، اس کا معاملہ اور ہے۔
9608
Sahih
رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۰۹)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ بَعْضِ بَنِیْ رَافِعِ بْنِ مَکِیْثٍ، وَکَانَ مِمَّنْ شَھِدَ الْحُدَیْبِیَۃَ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((حُسْنُ الْخُلُقِ نَمَائٌ، وَسُوْئُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ، وَالْبِرُّ زَیَادَۃٌ فِیْ الْعُمُرِ، وَالصَّدَقَۃُ تَمْنَعُ مِیْتَۃَ السَّوْئِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۷۷)
۔ رافع بن مکیث کا ایک بیٹا، جو حدیبیہ میں بھی حاضر ہوا تھا، سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حسن اخلاق اضافہ اور بڑھوتری ہے، بداخلاقی نحوست ہے، نیکی سے عمر بڑھتی ہے اور صدقہ بری موت سے بچاتا ہے۔
Takhreej
(۹۶۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، لابھام راویہ عن رافع بن مکیث، ولجھالۃ عثمان بن زفر الجھنی، أخرجہ ابوداود: ۵۱۶۲ (انظر: ۱۶۰۷۹)
9609
Zaeef
رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اسْتَعَاذَ بِااللّٰہِ فَاَعِیْذُوْہُ، وَمَنْ سَأَلَکُمْ بِاللّٰہِ فَاَعْطُوْہُ، وَمَنْ دَعَاکُمْ فَاَجِیْبُوْہُ، وَمَنْ اَتٰی عَلَیْکُمْ مَعُرُوْفًا فَکَافِئُوْہُ، فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا مَاتُکَافِئُوْہُ، فَادْعُوْا لَہُ حَتّٰی تَعْلَمُوْا اَنْ قَدْ کَافَاْتُمُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۵۳۶۵)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ کا واسطہ دے کر پناہ مانگے، اس کو پناہ دے دو، جو اللہ کے نام پر تم سے سوال کرو، اس کو دے دو، جو تمہیں دعوت دے، اس کی دعوت قبول کرو اور جو تم سے کوئی نیکی کرے، اس کو اس کا بدلہ دو، اگر بدلہ دینے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ تمہیں اندازہ ہو جائے کہ تم نے گویا بدلہ دے دیا ہے۔
Explanation
فوائد:… آخری جملے کے مفہوم کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۹۲۴۵)۔
9610
Sahih
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِیْنِِ، اَلتَّعَطُّرُ، وَالنِّکَاحُ، وَالسِّوَاکُ، وَالْحَیَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۷۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار امور رسولوں کی سنتیں ہیں، خوشبولگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور حیا کرنا۔
Takhreej
(۹۶۱۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، حجاج بن ارطاۃ لیس بذاک القوی، وھو مدلس وقد عنعن، ومکحول عن ابی ایوب مرسل، بینھما فی ھذا الحدیث ابو الشمال بن ضباب، وھو مجھول، أخرجہ الترمذی: ۱۰۸۰(انظر: ۲۳۵۸۱)
Explanation
فوائد:… چاروں چیزیں ہماری شریعت میں مطلوب ہیں۔
9611
Zaeef
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۱۲)۔ عَنْ حَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: اَرْبَعٌ لَمْ یَکُنْیَدَعُھُنَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صِیَامَ عَاشُوْرَائَ، وَالْعَشْرِ،وَثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ، وَالرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۹۱)
۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار چیزوں کو نہیں چھوڑتے تھے، عاشوراء کا روزہ، دس دنوں کے روزے اور ہر ماہ سے تین دنوں کے روزے اور فجر سے پہلی والی دو سنتیں۔
Takhreej
(۹۶۱۲) تخریج: حدیث ضعیف، دون قولہ: والرکعتین قبل الغداۃ فصحیح، ابو اسحق الاشجعی مجھول، أخرجہ النسائی: ۴/ ۲۲۰(انظر: )
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فعلی اور قولی صحیح احادیث سے یہ چاروں اعمال ثابت ہیں۔ دس دنوں سے مراد ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کے روزے ہیں، جن میں زیادہ عمل کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، لیکن اس عشرے میں وہ ایام شامل نہیں ہیں، جن کا روزہ رکھنا منع ہے، مثلا دس ذوالحجہ کا روزہ، کیونکہیہ عید کا دن ہوتا ہے۔
9612
Zaeef
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَرْبَعٌ اِذَا کُنَّ فِیْکَ فَـلَا عَلَیْکَ مَافَاتَکَ مِنَ الدُّنْیَا، حِفْظُ اَمَانَۃٍ، وَصِدْقُ حَدِیْثٍٍ، وَحُسْنُ خَلِیْقَۃٍ، وَعِفَّۃٌ فِیْ طُعْمَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۶۶۵۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار نیکیاں ہیں، اگر تجھ میں پائی جائیں، تو دنیا کی کسی چیز کے فوت ہو جانے کا تجھے کوئی غم نہیں ہونا چاہیے، امانت کی حفاظت، سچی بات، حسن اخلاق اور کھانے میںپاکدامنی (یعنی گزارے کے لائق حلال روزی ملتی رہے)۔
Takhreej
(۹۶۱۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، الحارث بن یزید الحضرمی لایعرف لہ سماع من عبد اللہ بن عمرو، انما یروی عنہ بواسطۃ، وقد روی ھذا الحدیث عن عبد الرحمن بن حُجیرۃ عنہ، لکن فی الاسناد ابن لھیعۃ، وھو سییء الحفظ، وروی الحدیث موقوفا وھو اصح، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۳۱۴ (انظر: ۶۶۵۲)
9613
Zaeef
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنّمَا الدُّنْیَا لِاَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، عَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فھُوَ یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ، یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَیَعْلَمُ لِلّّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ حَقَّہُ، قَالَ: فَھٰذَا بِاَفْضَلِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ مَالاً۔)) قَالَ: فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ((فَاَجْرُھُمَا سَوَائٌ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَمْ یَرْزُقْہُ عِلْمًا فَھُوَ یَخْبِطُ فِیْ مالِہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَا یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ، وَلَا یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ، وَلَا یَعْلَمُ فِیْہِ لِلّٰہِ حَقَّہُ، فَھٰذَا اَخْبَثُ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَا عِلْمًا فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ھِیَ نِیَّتُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۹۴)
۔ سیدنا ابو کبشہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل مرتبے والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے۔
Takhreej
(۹۶۱۴) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۳۲۵ (انظر: ۱۸۰۳۲)
Explanation
فوائد:… ہر آدمی آسانی کے ساتھ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کا مقام کیا ہے۔
9614
Sahih
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنَ الْکَلَامِ اَرْبَعًا، سُبَحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، فَمَنْ قَالَ سُبَحَانَ اللّٰہِ کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ عِشْرِیْنَ حَسَنَۃً، أَوْ حَطَّ عَنْہُ عِشْرِیْنَ سَیِّئَۃً، وَمَنْ قَالَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ فَمِثْلُ ذٰلِکَ،فَمَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَمِثْلُ ذٰلِکَ،وَمَنْ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ کُتِبَ لَہُ ثَلَاثُوْنَ حَسَنَۃً، وَحُطَّ اَوْ حُطَّتْ عَنْہُ ثَلَاثُوْنَ سَیِّئَۃً۔)) (مسند احمد: ۷۹۹۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے کلام میں سے یہ چار کلمات پسند کیے ہیں: سُبَحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ، پس جس نے سُبَحَانَ اللّٰہِ کہا، اللہ اس کے لیے بیس نیکیاں لکھ دیتا ہے یا بیس برائیاں مٹا دیتا ہے، جس نے کہ اَللّٰہُ اَکْبَرُاس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا، جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا ، اس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا اور جس نے اپنی طرف سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہا، اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور تیس برائیاں مٹا دی جائیں گی۔
Takhreej
(۹۶۱۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۴۲۸، والبیھقی فی الشعب : ۵۷۶ (انظر: ۸۰۱۲)
9615
Sahih
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِیْ فَقَالَ: ((یَااَبَا سَعِیْدٍ! ثَلَاثَۃٌ مَنْ قَالَھُنَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قُلْتُ: مَاھُنَّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا، وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا اَبَاسَعِیْدٍ! وَالرَّابِعَۃُ لَھَا مِنَ الْفَضْلِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ وَھِیَ الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے ابو سعید! تین کلمات ہیں، جس نے ان کو ادا کیا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے رسول ہونے پر راضی ہوا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو سعید! ایک چوتھی چیز بھی ہے، اس کی اتنی فضیلت ہے، جیسے آسمان سے زمین تک اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کرنا۔
Takhreej
(۹۶۱۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۱۵۲۹ (انظر: ۱۱۱۰۲)
9616
Sahih
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۱۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا: اِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِیْعَۃَ، وَبَیْنَنَا وَبَیْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ، وَلَسْنَا نَسْتَطِیْعُ اَنْ نَأْتِیَکَ اِلَّا فِیْ اَشْھُرِ الْحُرُمِ، فَمُرْنَا بِاَمْرٍ اِذَا نَحْنُ اَخَذْنَا بِہٖدَخَلْنَاالْجَنَّۃَ، وَنَاْمُرُ بِہٖاَوْنَدْعُوْمَنَوَرَائَنَا،فَقَالَ: ((آمُرُکُمْبِاَرْبَعٍ،وَاَنْھَاکُمْعَنْاَرْبَعٍ،اُعْبُدُوْااللّٰہَوَلَاتُشْرِکُوْابِہٖشَیْئًا فَھٰذَا لَیْسَ مِنْ الْاَرْبَعِ، وَاَقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ، وَآتَوُا الزَّکَاۃَ، وَصُوْمُوْا رَمَضَانَ، وَاَعْطُوْا مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ، وَاَنْھَاکُمْ عَنْ اَرْبَعٍِ، عَنِ الدُّبَّائِ، وَالنَّقِیْرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ۔)) قَالُوْا: وَمَا عِلْمُکَ بِالنَّقِیْرِ؟ قَالَ: ((جِذْعٌ یُنْقَرُ ثُمَّ یُلْقُوْنَ فِیْہِ الْقُطَیْعَائَ اَوِ التَّمْرَ وَالْمَائَ، حَتّٰی اِذَا سَکَنَ غَلَیَانُہُ شَرِبْتُمُوُہُ، حَتّٰی اَنَّ اَحَدَکُمْ لَیَضْرِبُ ابْنَ عَمِّہِ بِالسَّیْفِ۔)) وَفِیْ الْقُوْمِ رَجُلٌ اَصَابَتْہُ جَرَاحَۃٌ مِنْ ذٰلِکَ، فَجَعَلْتُ اُخَبِّؤُھَا حَیَائً مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا: فَمَا تَاْمُرُنَا اَنْ نَشْرَبَ؟ قَالَ: ((فِیْ الْاَسْقِیَۃِ الَّتِیْیُلاثُ عَلٰی اَفْوَاھِھَا۔)) قَالَ: اِنَّ اَرْضَنَا اَرْضٌ کَثِیْرَۃُ الْجُرْذَانِ لَاتَبْقٰی فِیْھَا اَسْقِیَۃُ الْاَدَمِ، قَالَ: ((وَاِنْ اَکَلَتْہُ الُجُرْذَانُ۔)) مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا، وَقَالَ لِاَشَجِّ عَبْدِ الْقَیْسِ: ((اِنَّ فِیْکَ خُلَّتَیْنِیُحِبُّھُمَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْحِلْمُ وَالْأَنَاۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۹۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب عبدالقیس کا وفد، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا توکہا: ربیعہ قبیلے سے ہمارا تعلق ہے، آپ کے اور ہمارے مابین مضر قبیلے کے کفار حائل ہیں، ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں آ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں کوئی (ایسا جامع) حکم دیں کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہو جائیں اور ہم اپنے پچھلے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمھیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، یہ چار امور میں سے نہیںہے، اورنماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں کا پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمھیں کدو کے برتن، لکڑی سے بنائے ہوئے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور ہرے رنگ کے گھڑے سے منع کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا: نَقِیْر کے بارے آپ کیا جانتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تنے کو کھود کر یہ برتن بنایا جاتا ہے، پھر لوگ اس میں شہریز کھجوریںیا عام کھجوریں اور پانی ڈالتے ہیں، جب اس کے جوش میں ٹھیراؤ پیدا ہوتا ہے تو پھر تم پیتے ہو (اور نشہ چڑھتا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی اپنے چچا زاد بھائی کو تلوار کے ساتھ قتل کر دیتاہے۔ ان لوگوں میں ایک آدمی ایسا تھا، جو اسی وجہ سے زخمی ہوا تھا، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شرماتے ہوئے اس کو چھپانے لگ گیا۔ ان لوگوں نے کہا: تو پھر آپ ہمیں کن برتنوںمیں پینے کا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان مشکیزوں میں، جن کے منہوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: ہمارے علاقے میں چوہے بہت زیادہ ہیں، اس وجہ سے چمڑے کا تو کوئی مشکیزہ بچتا ہی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس کو چوہے کھا جائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات دو تین بار ارشاد فرمائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عبد القیس کے ایک فرد سیدنا اشج (منذر بن عائذ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آدمی سے کہا: تجھ میں دو خصلتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے، ایک عقل اور بردباری اور دوسری وقار و تمکنت اور جلدی نہ کرنا۔
Takhreej
(۹۶۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸، ۱۹۹۶ (انظر: ۱۱۱۷۵)
Explanation
فوائد:… شہریز کھجورکی ایک قسم ہے، اس کے دانے کا سائز چھوٹا ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے حصول کی خاطر آنے والے عبد القیس کے وفد کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اپنی رسالت کی گواہی دینے کی تعلیم دی۔ جب شراب حرام ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عارضی طور پر ان چار قسم کے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا، بعد میں ان کے استعمال کی اجازت دے دی تھی۔ جیسا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((إِنِّی کُنْتُ نَھَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُوْرِ، فَزُوْرُوْھَا، فَإِنَّھَا تُذَکِّرُکُمُ الآخِرَۃَ، وَنَھَیْتُکُمْ عَنِ الْأَوْعِیَۃِ فَاشْرَبُوْا فِیْھَا، وَاجْتَنِبُوْا کُلَّ مُسْکِرٍ۔))… یعنی: بلاشبہ میں نے تم لوگوں کوقبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، لیکن (اب حکم دیتا ہوں کہ) ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہیہآخرتیاد دلاتی ہیں اور میں نے تم کو (کچھ) برتنوں سے منع کیا تھا، لیکن (اب حکم دیتا ہوں کہ) ان کو مشروبات کے لئے استعمال کیا کرو اور نشہ دینے والی ہر چیز سے اجتناب کرو… (صحیحہ:۸۸۶)
9617
Sahih
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
۔ (۹۶۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِلْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ اَرْبَعُ خِلَالٍ، اَنْ یُّجِیْبَہُ اِذَا دَعَاہُ، وَیُشَمِّتَہُ اِذَا عَطَسَ، واِذَا مَرِضَ اَنْ یَّعُوْدَہَ، وَ اِذَا مَاتَ اَنْ یَشْھَدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۸)
۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، جب وہ چھینکے تو اس کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی تیمارداری کرے اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرے۔
Takhreej
(۹۶۱۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۳۴ (انظر: ۲۲۳۴۲)
9618
Sahih
خماسیات کا بیان
۔ (۹۶۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِلْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ اَرْبَعُ خِلَالٍ، اَنْ یُّجِیْبَہُ اِذَا دَعَاہُ، وَیُشَمِّتَہُ اِذَا عَطَسَ، واِذَا مَرِضَ اَنْ یَّعُوْدَہَ، وَ اِذَا مَاتَ اَنْ یَشْھَدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۸)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے دیا، اللہ تعالیٰ کے لیے روکا، اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کی، اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھا اور اللہ تعالیٰ کے لیے نکاح کیا، پس تحقیق اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔
Takhreej
(۹۶۱۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۵۲۱(انظر: ۱۵۶۳۸)
9619
Sahih
خماسیات کا بیان
۔ (۹۶۲۰)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سِتَّۃُ اَیَّامٍ ثُمَّ اعْقِلْ یَااباذَرٍّ! مَا اَقُوْلُ لَکَ بَعْدُ۔)) فَلَمَّا کَانَ الْیَوْمُ السَّابِعُ، قَالَ: ((اُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فِیْ سِرِّ اَمْرِکَ وَعَلَانِیَتِہِ، وَاِذَا اَسَأْتَ فَاَحْسِنْ، وَلَا تَسْاَلَنَّ اَحَدًا شَیْئًا وَاِنْ سَقَطَ سَوْطُکُ، وَلَا تَقْبِضْ اَمَانَۃً (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَا تُؤْوِیَنَّ اَمَانَۃً) وَلَا تَقْضِ بَیْنَ اثْنَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۰۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھ دن ہیں، پھر اے ابو ذر! اس چیز کو سمجھنا جو میں تجھے بیان کرنے والا ہوں۔ جب ساتواں دن آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے تیرے مخفی اور اعلانیہ امور میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، جب تو برائی کرے تو اس کے بعد نیکی کر، کسی سے کسی چیز کا ہر گز سوال نہ کر، اگرچہ تیرا کوڑا گر جائے، کوئی امانت اپنے پاس نہ رکھ اور دو افراد کے مابین فیصلہ نہ کر۔
Takhreej
(۹۶۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ، ودراج بن سمعان ضعیف صاحب مناکیر (انظر: ۲۱۵۷۳)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اس میں کی گئی پانچ نصیحتوں کا مضمون دوسری احادیث سے ثابت ہے۔ دوسری نصوص میں امانتیں وصول کرنے اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ہاں جو آدمی سمجھتا ہو کہ وہ ان امور کا حق ادا نہیں کر سکے گا تو وہ بیچ میں دخل ہی نہ دے۔
9620
Zaeef
خماسیات کا بیان
۔ (۹۶۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ مَرْیَمَ، اَنَّہُ سَمِعَ اَبَاھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُلْکُ فِیْ قُرَیْشٍ، وَالْقَضَائُ فِیْ الْاَنْصَارِ وَالْاَذَانُ فِیْ الْحَبْشَۃِ، وَالشِّرْعَۃُ فِیْ الْیَمَنِ۔)) وَقَالَ زَیْدٌ مَرَّۃًیَحْفَظُہُ: ((وَ الْاَمَانَۃُ فِیْ الْاَزْدِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۴۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بادشاہت قریشیوں میں، قضا انصاریوں میں، اذان حبشیوں میں، راہِ مستقیمیمنیوں میں اور امانت ازدیوں میں ہے۔
Takhreej
(۹۶۲۱) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۳۹۳۶ دون لفظۃ: الشرعۃ فی الیمن (انظر: ۸۷۶۱)
Explanation
فرمایا: بادشاہت قریشیوں میں، قضا انصاریوں میں، اذان حبشیوں میں، راہِ مستقیمیمنیوں میں اور امانت ازدیوں میں ہے۔
9621
Sahih
عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان
۔ (۹۶۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَاْخُذُ مِنْ اُمَّتِیْ خَمْسَ خِصَالٍ فَیَعْمَلُ بِھِنِّ، اَوْ یُعَلِّمُھُنَّ مَنْ یَفْعَلُ بِھِنَّ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَعَدَّھُنَّ فِیْھَا، ثُمَّ قَالَ: ((اِتَّقِ الْمَحَارِمَ تَکُنْ اَعْبَدَ النَّاسِ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ لَکَ تَکُنْ اَغْنَی النَّاسِ، وَاَحْسِنْ اِلٰی جَارِکَ تَکُنْ مُؤْمِنًا، وَاَحِبَّ لِلنَّاسَ ماتُحِبُّ لِنَفْسِکَ تَکُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تُکْثِرِ الضِّحْکَ فَاِنَّ کَثْرَۃَ الضِّحْکِ تُمِیْتُ الْقَلْبَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۸۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھ سے ان کلمات کی تعلیم حاصل کرے اور خود ان پر عمل کرے یا ان پر عمل کرنے والے کو سکھا دے؟ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اورشمار کرتے ہوئے پانچ چیزیں بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو، لوگوں میں سب سے بڑا عبادت گزار بن جاؤ گے، اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جاؤ، سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے۔ اپنے پڑوسی سے حسن سلوک سے پیش آ ؤ، مومن بن جاؤ گے۔ لوگوں کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، مسلمان بن جاؤ گے اور کثرت سے ہنسنا ترک کر دو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۶۲۲) تخریج: حدیث جیّد، أخرجہ الترمذی: ۲۳۰۵، وابن ماجہ: ۴۲۱۷ (انظر: ۸۰۹۵)
Explanation
فوائد:… محارم سے اجتناب کرنا صبر کی مشقت طلب صورت ہے، یہی عبادت ہے جس کے ذریعے انسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ جب بندے کا نفس کسی برائی کی طرف مائل ہوتا ہے، لیکن دوسری طرف جب وہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے نفسِ اَمّارہ کو شکست دیتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی محبت میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔ مزید اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہونا، اپنے پڑوسیوں سے حسنِ سلوک سے پیش آنا اور اپنے بھائیوں کی خیر خواہی کرتے ہوئے پسند و ناپسند میں ان کو اپنے وجود کے قائم مقام سمجھنا، یہ ایسی نیکیاں ہیں جن سے دلی فرحت و انبساط نصیب ہوتاہے۔ بلاشبہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہنسی اور مسکراہٹ ثابت ہے، سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس جنتی آدمی کو پہچانتا ہوں جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا اور سب سے آخر میں جنت میں جائے گا۔ اس آدمی کو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ حکم دیں گے: اس سے اس کے صغیرہ گناہوں کے بارے میں سوال کر و اور کبیرہ گناہوں کا تذکرہ ہی نہ کرو۔ سو اسے کہا جائے گا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔ پھر اسے کہا جائے گا کہ تیری ہر برائی کے بدلے تجھے نیکی دی جاتی ہے۔ یہ سن کر وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں نے تو بڑے بڑے گناہ بھی کئے تھے، وہ تو مجھے نظر نہیں آ رہے ۔ میں نے دیکھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تو ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ (ترمذی) لیکنیہ واقعات انتہائی شاذ و نادر ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کثرت سے ہنسنے سے منع کیا، کیونکہ اس سے انسان کا دل مردہ ہو جاتا ہے اور خیر و بھلائی کے کاموں سے بے رغبت ہو جاتاہے۔
9622
Sahih
عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان
۔ (۹۶۲۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ، رَدُّ التَّحِیَّۃِ، وَاِجَابَۃُ الدَّعْوَۃِ، وَشُھُوْدُ الْجَنَازَۃِ، وَعِیَادَۃُ الْمَرِیْضِ، وَتَشْمِیْتُ الْعَاطِسِ اِذَا حَمِدَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازے میں شرکت کرنا، مریض کی عیادت کرنا، اَلْحَمْدُ لَلّٰہ کہنے والے چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا۔
Takhreej
(۹۶۲۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۳۵(انظر: ۸۳۹۷)
9623
Sahih
عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان
۔ (۹۶۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَامٍ، عَنْ مَوْلٰی لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَا اَثْقَلَھُنَّ فِیْ الْمِیْزَانِ: (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ رَجُلٌ: مَا ھُنَّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ) لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ،یُتَوَفّٰی فَیَحْتَسِبُہُ وَالِدُہُ۔)) وَقَالَ: ((بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ مُسْتَیْقِنًا بِھِنَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَیُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، وَبِالْجَنَّۃِ، وَالنَّارِ وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْحِسَابِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۴۴)
۔ ابو سلام ، ایک مولائے رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، کیا بات ہے پانچ چیزوں کی، وہ کتنی بھاری ہیں ترازو میں۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِاور نیک بیٹا، جو فوت ہو جائے اور اس کے والدین ثواب کی نیت سے صبر کریں۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ، کیابات ہے پانچ چیزوں کی، جو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ ان پر یقین رکھتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا، وہ اللہ تعالی، آخرت کے دن، جنت، جہنم، موت کے بعد جی اٹھنے اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔
Takhreej
(۹۶۲۴) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۸۰۷۶)
Explanation
فوائد:… بَخٍ بَخٍ (واہ، واہ) یہ تعظیم کا صیغہ ہے، کسی کی تعریف کرنے اور رضامندی کا اظہار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، مبالغہ کے لیے ایک سے زائد مرتبہ کہاجاتا ہے۔
9624
Sahih
عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان
۔ (۹۶۲۵)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: عَھِدَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ خَمْسٍ مَنْ فَعَلَ مِنْھُنَّ وَاحِدَۃً کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللّٰہِ: ((مَنْ عَادَ مَرِیْضًا، اَوْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَۃٍ، أَوْ خَرَجَ غَازِیًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، اَوَ دَخَلَ عَلٰی اِمَامٍیُرِیْدُ بِذٰلِکَ تَعْزِیْزَہُ وَتَوْقِیْرَہُ، اَوْ قَعَدَ فِیْ بَیْتٍ فَیَسْلَمُ النَّاسُ مِنْہُ وَیَسْلَمُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۴۴)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں پانچ چیزوں کی نصیحت کی کہ جو آدمی ان میں سے ایک کام کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ پر ضامن ہو گا، جو مریض کی تیمار داری کرے، یا جنازے کے ساتھ نکلے، یا اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کرنے کے لیے نکلے، یا حکمران کی تائید اور توقیر کے لیے اس کے پاس جائے، یا پھر اپنے گھر میں بیٹھا رہے، تاکہ لوگ اس سے سالم رہیں اور وہ لوگوں سے سالم رہے۔
Takhreej
(۹۶۲۵) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ البزار: ۱۶۴۹، وابن خزیمۃ: ۱۴۹۵، وابن حبان: ۳۷۲، والطبرانی فی الکبیر :۲۰/۵۵ (انظر: ۲۲۰۹۳)
Explanation
فوائد:… حکمران کی تائید و توقیر سے مراد یہ ہے کہ حق پر اس کا ساتھ دیا جائے۔ اگر کسی آدمی میں شرّ کا مقابلہ کرنے اور اس کو ہاتھ یا زبان سے روکنے کی صلاحیت نہیں ہے تو پھر وہ شرّ اور شرّ والوں سے دور ہو جائے، لیکنیہ فیصلہ کرنے والے کے ضروری ہے کہ وہ خود علم و فہم و بصیرت والا ہو یا اہل علم سے مشورہ کرے۔
9625
Sahih
عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان
۔ (۹۶۲۶)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَوْصَانِیْ حِبِّيْ بِخَمْسٍ: اَرْحَمُ الْمَسَاکِیْنَ وَاُجَالِسُھُمْ، وَاَنْظُرُ اِلٰی مَنْ ھُوَ تَحْتِیْ وَلَا اَنْظُرُ اِلٰی مَنْ ھُوَ فَوْقِیْ، وَاَنْ اَصِلَ الرَّحِمَ وَاِنْ اَدْبَرَتْ، وَاَنْ اَقُوْلَ بِالْحَقِّ وَاِنْ کَانَ مُرًّا، وَاَنْ اَقُوْلَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ یَقُوْلُ مَوْلٰی غُفْرَۃَ: لَا اَعْلَمُ بَقِیَ فِیْنَا مِنَ الْخَمْسِ اِلَّا ھٰذِہِ، قَوْلُنَا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ قَالَ اَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنَ الْحَکْمِ بْنِ مُوْسٰی وَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۴۹)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے محبوب نے مجھے پانچ امور کی نصیحت کی،یہ کہ میں مسکینوں پر رحم کروں اور ان کے ساتھ بیٹھو، (دنیا کے معاملے میں) اپنے سے کم تر افراد کی طرف دیکھوں، اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں، صلہ رحمی کروں، اگرچہ وہ پیٹھ پھیر رہی ہو، حق کہوں، اگرچہ وہ کڑوا ہو اور یہ کہ میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہوں۔ غفرہ کا غلام کہتا ہے: میرے علم کے مطابق ہم میں ان پانچ امور میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، ما سوائے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے۔
Takhreej
(۹۶۲۶) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۱۵۱۷)
Explanation
فوائد:… لیکن لوگوں نے مسکینوں کے قریب نہ بیٹھنے دیا، دنیا کے معاملات میں اپنے سے اوپر والے افراد کو دیکھا، صلہ رحمی کو ترک کر دیا اور مصلحت و مداہنت میں پڑ کر حق کا پاس و لحاظ نہ رکھا، سچ کہا غفرہ کے غلام نے کہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر کے علاوہ کوئی چیز باقی نہیں رہی۔
9626
Sahih
عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان
۔ (۹۶۲۷)۔ عَنِ الْحَارِثِ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَ یَحْيَ بْنَ ذَکَرِیَّا، بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ یَعْمَلُ بِھِنَّ وَاَنْ یَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَیَعْمَلُوْا بِھِنِّ، فَکَادَ اَنْ یُبْطِیئَ، فَقَالَ َلہ عِیْسٰی: اِنَّکَ قَدْ اُمِرْتَ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ تَعْمَلَ بِھِنِّ وَاَنْ تَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اَنْ یَعْمَلُوْا بِھِنِّ، فَاِمَّا اَنْ تُبَلِّغَھُنَّ وَاِمَّا اُبَلِّغَھُنَّ، فَقَالَ لَہُ: یَا اَخِیْ! اِنِّیْ اَخْشٰی اِنْ سَبَقْتَنِیْ اَنْ اُعَذَّبَ، اَوْ یُخْسَفَ بِیْ، قَالَ: فَجَمَعَ یَحْيٰ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ فِیْ بَیْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّی اِمْتَلَاَ الْمَسْجِدُ، وَقُعِدَ عَلَی الشُّرَفِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَنِیْ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ اَعْمَلَ بِھِنِّ وَآمُرَکُمْ اَنْ تَعْمَلُوْا بِھِنِّ، اَوَّلُھُنَّ اَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرٰی عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِہِ بِوَرِقٍ، اَوْ ذَھَبٍ، فَجَعَلَ یَعْمَلُ وَیُؤَدِّیْ عَمَلَہُ اِلٰی غَیْرِ سَیِّدِہِ، فَاَیُّکُمْیَسُرُّہُ اَنْ یَکُوْنَ عَبْدُہُ کَذٰلِکَ، وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَکُمْ وَرَزَقَکُمْ فَاعْبُدُوْہُ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا وَآمُرُکم بِالصَّلَاۃِ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَنْصِبُ وَجْھَہَ لِوَجْہِ عَبْدِہِ مَالَمْ یَلْتَفِتْ، فَاِذَا صَلَّیْتُمْ فَـلَا تَلْتَفِتُوْا، وَآمُرُکُمْ بِالصِّیَامِ فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَہُ صُرَّۃٌ مِنْ مِسْکٍ فِیْ عِصَابَۃٍ کُلُّھُمْ یَجِدُ رِیْحَ الْمِسْکِ، وَاِنَّ خَلُوْفَ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللّٰہِ اَطْیَبُ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ، وَآمُرُکُمْ بِالصَّدَقَۃِ فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ اَسَرَہُ الْعَدُوُّ فَشَدُّوْا یَدَیْہِ اِلٰی عُنُقِہِ وَقََرَّبُوْہُ لِیَضْرِبُوْا عُنُقَہُ فَقَالَ: ھَلْ لَکُمْ اَنْ اَفْتَدِیَ نَفْسِیْ مِنْکُمْ ؟ فَجَعَلَ یَفْتَدِیْ نَفْسَہُ مِنْھُمْ بِالْقَلِیْلِ وَ الْکَثِیْرِ حَتّٰی فَکَّ نَفْسَہَ ۔ وَ آمُرُکُمْ بِذِکْرِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کَثِیْرًا، وَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَہُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِیْ اَثَرِہِ فَاَتٰی حِصْنًا حَصِیْنًا فَتَحَصَّنَ فِیْہِ وَاِنَّ الْعَبْدَ اَحْصَنُ مَایَکُوْنُ مِنَ الشَّیْطَانِ اِذَا کَانَ فِیْ ذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ، اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنِّ بِالْجَمَاعَۃِ، وَبِالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، وَالْھِجْرَۃِ، وَالْجِھَادِ فِیْ سِبِیْلِ اللّٰہِ، فَاِنَّہُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَۃِ قِیْدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہِ، اِلٰی اَنْ یَّرْجِعَ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَی الْجَاھِلِیَّۃِ فَھُوَ مِنْ جُثَائِ جَھَنَّمَ۔)) قَالُوْا: یارَسُوْلَ اللہِ! وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی؟ قَالَ: ((وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ، فَادْعُوْا الْمُسْلِمِیْنَ بِمَا سَمَّاھُمُ اللّٰہُ الْمُسْلِمِیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ عِبَادَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۰۲)
۔ سیدنا حارث اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو پانچ کلمات کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، انھوں نے لوگوں کو بتانے میں دیر کی، عیسی علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ کو پانچ کلمات کے بارے میں حکم دیا گیا تھا کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنو اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، اب آپ ان کو بتلائیںیا میں بتلا دیتا ہوں، انھوں نے کہا: اے میرے بھائی! اگر آپ مجھ سے پہلے بتلا دیں تو مجھے یہ ڈر ہو گا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے عذاب دیا جائے یا مجھے دھنسا دیا جائے۔ پس یحییٰ علیہ السلام نے بنو اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا،یہاں تک کہ مسجد بھر گئی، پھر ان کو اونچی جگہ پر بٹھا دیا گیا، پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ کلمات کا حکم دیا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کروں اور تم کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں، پہلا حکم یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، پس بیشک مشرک کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے اپنے خالص مال چاندییا سونے کے عوض غلام خریدا، لیکن ہوا یوں کہ وہ غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے لیے کام کرنے لگا، اب تم میں سے کس کو یہ بات خوش کرے گی کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا ہے اور تم کو رزق دیا ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور میں تم کو نماز کا حکم دیتا ہوں، پس بیشک اللہ تعالیٰ اپنا چہرہ بندے کے چہرے کی خاطر اس وقت تک متوجہ کیے رکھتے ہیں، جب تک وہ اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو، اس لیے جب نماز پڑھو تو اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہوا کرو، اور میں تمہیں روزوں کا حکم دیتا ہوں، ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس کے پاس کستوری کی تھیلی ہو اور سارے لوگ کستوری کی خوشبو محسوس کر رہے ہوں، روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے ، اور میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس کو اس کے دشمن نے قید کر کے اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ دیتے ہوں اور اس کی گردن کاٹنے کے لیے اس کو قریب کر لیا ہو اور وہ آگے سے کہا: اگر میں اپنے نفس کے عوض اتنا فدیہ دے دوں تو کیا تم مجھے چھوڑ دو گے؟ پھر اس نے کم مقدار اور زیادہ مقدار فدیہ دینا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اپنے آپ کو بچا لیا، اور میں تم کو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کا دشمن جلدی کرتے ہوئے اس کا تعاقب کر رہا ہو، لیکن وہ مضبوط قلعے میں پہنچ کر قلعہ بند ہو گیا، اور بیشک بندہ شیطان سے سب سے زیادہ حفاظت میں اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میںمصروف ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں بھی تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے، (وہ پانچ چیزیںیہ ہیں:) جماعت، امیر کی بات سننا اور اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا، پس جو آدمی ایک بالشت کے بقدر جماعت سے نکل گیا، اس نے واپس پلٹنے تک اپنی گردن سے اسلام کا معاہدہ اتار پھینکا اور جس نے جاہلیت کی پکار پکاری، وہ جہنم کی جماعت میں سے ہوگا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزے بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ روزہ بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے اور یہ گمان بھی کرے کہ وہ مسلمان ہے، پس مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے نام سے پکارو، یعنی مسلمان، مؤمن، اللہ تعالیٰ کے بندے۔
Takhreej
(۹۶۲۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۸۶۳، ۲۸۶۴(انظر: ۱۷۱۷۰)
9627
Sahih