ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس - ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس - Book 162 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 162 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 112 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جہاد کے لیے جانے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا جہاد حج ہے یا تمہیں حج کافی ہے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بیت اللہ کو لازم پکڑو، یہی تمہارا جہاد ہے۔
Takhreej
(۹۶۴۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… خواتین، جہاد بالسیف کے حکم سے مستثنی ہیں، اتفاقاً اور ضرورت کے پیش نظر کسی مسلم خاتون کا کسی کافر کو قتل کر دینا اور بات ہے، مزید اگلی حدیث دیکھیں۔
حج مشقت کے اعتبار سے جہاد سے ملتا جلتا عمل ہے، اس لیےیہ خواتین کے لیے حج کا حکم رکھتا ہے۔
۔ حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: ہم اپنی نوجوان عورتوں کو نکلنے سے منع کرتی تھیں، ایک خاتون آئی، بنوخلف کے محل میں اتری اور یہ بیان کیا کہ اس کی بہن، ایک صحابی کی بیوی تھے، اس صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوے کیے تھے، میری بہن نے کہا: میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چھ غزوے کیے، ہم زخمیوں کا علاج اور بیماروں کی نگہداشت کرتی تھیں، میری بہن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: جس عورت کے پاس اوڑھنی نہ ہو تو عید کے لیے نہ جانے کی صورت میں اس پر کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کوئی سہیلیاس کو چادر دے دے اور وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شرکت کرے۔ پھر جب سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو ہم نے ان سے سوال کیا کہ کیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ایسے فرماتے ہوئے سنا تھا، انھوں نے کہا: جی ہاں ، وہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتی تھیں تو بِیْبًا کہتی تھیں، اس لیے انھوں نے کہا: بِیْبًا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوجوان اور پردہ نشین، بلکہ حائضہ عورتیں بھی نکلیں اور خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ خواتین جائے نماز سے دور رہیں۔ میں نے سیدہ ام عطیہ سے کہا: حائضہ بھی؟ انھوں نے کہا: کیا حائضہ عورت حج کے موقع پر عرفہ اور فلاں فلاں مقام میں نہیں جاتی۔
فوائد:… مجاہدین اور ان میں سے زخمی اور بیمار ہو جانے والے افراد کی خدمت کے لیے بعض خواتین جا سکتی ہے۔
بِیْبًا کے معانی ہیں:میں ان پر اپنا باپ قربان کرتا ہوں یا میرا باپ ان پر قربان ہو۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات اپنی بیویوں کو ایک بات بیان کی، ایک ام المؤمنین نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لگ رہا ہے کہ یہ بات تو حدیث ِ خرافہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کیا تم جانتی ہو کہ خرافہ کیا ہے؟ خرافہ عذرہ قبیلے کاآدمی تھا، جنوں نے اس کو جاہلیت میں قید کر لیا تھا، وہ کافی عرصہ تک جنوںمیں رہا، پھر وہ اس کو انسانوں میں چھوڑ گئے تھے، تب وہ لوگوں کو جنوں کی عجیب عجیب باتیں بیان کرتا تھا، اس کو لوگ حدیث ِ خرافہ کہتے تھے۔
۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے جو کلام پہلے والی جاہلیت میں پایا، اس میں یہ بات بھی تھی: جب تو شرمائے نہیں تو جو چاہے کر گزر۔
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے، اور آخری چیز جو اہلِ جاہلیت نے نبوت کے کلام سے حاصل کی ہے، وہ یہ ہے: جب تو شرم و حیا کو چھوڑ دے تو جو چاہے کر گزر۔
Takhreej
(۹۶۵۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی خلاف فی صحابیہ (انظر: ۲۳۴۴۱)
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کم ہو رہی ہے، ما سوائے شرّ کے، اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
Takhreej
(۹۶۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف محمد بن مصعب ، وابی بکر ابن ابی مریم، ولابھام الراوی عن ابی الدرداء (انظر: ۲۷۴۸۳)
Explanation
فوائد:… مشاہدہ یہی ہے کہ شرّ بڑھ رہا ہے اور خیر کم ہوتی جا رہی ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ جب خبر آنے میں دیر ہوتی تو آپ طرفہ (بن عبد بکری) شاعر کا یہ مصرعہ پڑھتے: جس پر تو نے کچھ نہیں خرچا، وہ خبر لائے گا۔
Takhreej
(۹۶۵۵) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۷۱۲، والنسائی فی الکبری : ۱۰۸۳۴ (انظر: ۲۴۰۲۳)
Explanation
فوائد:… پورا شعر یوں ہے:
سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ جَاہِلًا
وَیَأْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدٖ
امام مبارکپوری نے اس شعر کا یہ مفہوم بیان کیا ہے: سَتُظْھِرُ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ غَافِلًا عَنْہُ وَیَنْقُلُ لَکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَمْ تُعْطِیْہِ الزَّادَ… (ایام ان چیزوں کو تیرے لیے ظاہر کر دیں گے، جن سے تو غافل ہے وہ لوگ تیرے پاس خبریں لائیں گے، جن کو تونے زادِ راہ نہیں دیا)۔
فوائد:… یہ خبر بمعنی نہی ہے، یعنی مؤمن کو محتاط اور دور رس ہونا چاہیے، نہ کہ جذباتی،، غافل اور نا عاقبت اندیش ، دینی معاملہ ہو یا دنیوی، ہر ایک اقدام کرتے وقت اس کے مثبت اور منفی پہلو پر غور کرنا چاہیے۔
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب آدمی کسی سے محبت کرنے لگتا ہے تو نہ اس کو اس کے معائب نظر آتے ہیں اور نہ اس کو اس کی قباحتیں سنائی دیتی ہیں، بس وہ ہر وقت اس کے گن گاتے ہوئے نظر آتا ہے، مسلمان کو کبھی بھی اعتدال اور میانہ روی کی راہ سے دور نہیں ہونا چاہیے۔
۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: سیدنا ابو عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے یا سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبد اللہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زَعَمُوْ ا کے متعلق کیا فرماتے سنا ؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زَعَمُوا آدمی کی بری سواری ہے، (یعنی براتکیہ کلام ہے)۔
Takhreej
(۹۶۵۸) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی (انظر: ۱۷۰۷۵)
Explanation
فوائد:… زَعَمُوْا کے لفظی معانییہ ہیں: انھوں نے گمان کیا، ان کا خیال ہے،انھوں نے جھوٹ بولا، انھوں نے کہا، انھوں نے بے حقیقت دعوی کیا، انھوں نے یقین رکھا۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان کو وہی بات یا حدیث بیان کرنی چاہیے جس کے سچا ہونے کا یقین ہو، ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے ، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَفٰی بِالْمَرْئِ کَذِبًا اَنْیُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ۔)) … آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیےیہ بات کافی ہے کہ وہ جو سنے، اسے (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کردے۔ (مسلم)
چونکہ عصر حاضر میں لوگوں میں گپ شپ لگانے، باتوں کے بتنگڑ بنانے اور دنیا کے مختلف خطوں اور ان کے باسیوں کے تذکرے کرنے کی جنون کی حد تک رغبت پائی جاتی ہے، اس لیے وہ اپنی بات کو سہارا دینے کے لیےیوں کہتے ہیں: آج بازار میں یہ بات ہو رہی تھی، لوگوں کو یہ بات کہتے ہوئے سنا گیا ہے، فلاں اخبار میں اس قسم کی بات شائع ہوئی ہے۔ یہ انداز زَعَمُوا کا مصداق ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اس حدیث میں زَعَمُوْا کے کلمے کے استعمال کی مذمت کی گئی ہے، اگرچہ یہ قَالَ کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ قرآن مجید میں جہاں مذموم اقوام کے مذمت والے امور کا تذکرہ کیا گیا، وہاں اس لفظ کا استعمال ہوا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا } (سورۂ تغابن: ۷) اس کے بعد کہا گیا: {بَلٰی وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ} (سورۂ تغابن: ۷) اس قسم کی کئی آیات ہیں۔
امام طحاوی نے بعض آیات ذکر کرنے کے بعد کہا: ان تمام آیات میں اللہ تعالیٰ نے مذموم قوموں کے مذموم حالات اور ان کی جھوٹی باتوں کا ذکر کیا۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے اس چیز کو ناپسند کیا گیا ہے کہ وہ اخلاق و ادیان اور اقوال و افعال میں قابل مذمت لوگوں کی عادات کو اپنائیں۔ اہل ایمان کو تو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے اخلاق، ان کے قابل تعریف منہج اور سچے اقوال کو اسوہ بنائیں جو ایمان کی حالت میں سبقت لے جا چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔
امام بغوی نے شرح السنۃ: ۱۲/ ۳۶۲ میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ زَعَمُوا کی مذمت اس لیے کی ہے،
کہ زیادہ تر اس لفظ کا استعمال ایسی باتوں کے لیے ہوتا ہے، جو زبانوں پر مشہور ہوتی ہیں، لیکن ان کی کوئی سند یا ثبوت نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ زَعَمُوا کو سواری سے تشبیہ دی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی اس لفظ کے ذریعے اپنی مقصود بات تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ ماحصلیہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث میں بیانات و روایات میں تحقیق کرنے کا حکم دے رہے ہیں،یعنی اگر کوئی شخص حدیث بیان کرنا چاہتا ہے تو صرف ثقہ راویوں کی بیان کردہ احادیث روایت کرنی چاہئیں، وگرنہ وہ اس ارشادِ نبوی کا مصداق بن جائے گا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیےیہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیال ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔ (صحیحہ: ۸۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اطلاع دینا، مشاہدے کی طرح نہیں ہے، جب اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو خبر دی کہ اس کی قوم نے بچھڑے کے ساتھ یہ کچھ کر دیا ہے، تو انھوں نے تختیوں کو نہیں پھینکا، لیکن جب انھوں نے اپنی قوم کے کیے کو دیکھا تو پھر تختیاں ڈال دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔
فوائد:… کوئی مانے یا نہ مانے، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان دیکھنے اور سننے میں فرق محسوس کرتا ہے، ابراہیم علیہ السلام کتنے جلیل القدر پیغمبر تھے، ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ ان کی ایمانی اور اعتقادی کیفیت و کمیت کیا ہو گی، لیکن انھوں نے بھی اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے، اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان کیا: {وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُرَبِّاَرِنِیْ کَیْفَ تُـحْیِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَیِنَّ قَلْبِیْ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْھُنَّ اِلَیْکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْہُنَّ جُزْئً ا ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاْتِیْنَکَ سَعْیًا وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔} … اور جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ فرمایا اور کیا تو نے یقین نہیں کیا؟ کہا کیوں نہیں اور لیکن اس لیے کہ میرا دل پوری تسلی حاصل کر لے۔ فرمایا پھر چار پرندے پکڑ اور انھیں اپنے ساتھ مانوس کر لے، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دے، پھر انھیں بلا، دوڑتے ہوئے تیرے پاس آجائیں گے اور جان لے کہ بے شک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔(سورۂ بقرہ: ۲۶۰)
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۳۸۰)