TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو - دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of نکاح کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 17 · 4 Hadith
۔ (۶۸۵۷)۔ عَنْ ثَابِتِ نِ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَطَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی جُلَیْبِیْبٍ امْرَأَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلٰی أَبِیْہَا، فَقَالَ: حَتّٰی اسْتَأْمِرَ أُمَّہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَنَعَمْ إِذًا۔))، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَی امْرَأَتِہِ فَذَکَرَ ذَالِکَ لَھَا فَقَالَتْ: لَا، ھَا اللّٰہِ! إِذَا مَا وَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا جُلَیْبِیْبًا وَقَدْ مَنَعقنَاھَا مِنْ فُلَانٍ وَفُلانٍ، قَالَ: وَالْجَارِیَۃُ فِی سِتْرِھَا تَسْتَمِعُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ یُرِیْدُ أَنْیُخْبِرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِذٰلِکَ، فَقَالَتِ الْجَارِیَۃُ: أَ تُرِیْدُوْنَ أَنْ تَرُدُّوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمْرَہُ؟ إِنْ کَانَ قَدْ رَضِیَہُ لَکُمْ فَأَنْکِحُوْہُ، فَکَأَنَّہَا جَلَّتْ عَنْ أَبَوَیْہَا وَقَالَا: صَدَقْتِ، فَذَھَبَ أَبُوْھَا إِلَی النَّبِیّف ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنْ کُنْتَ قَدْ رَضِیْتَہُ فَقَدْ رَضِیْنَا، قَالَ: ((فَإِنِّی قَدْ رَضِیْتُہُ۔)) فَزَوَّجَہَا، ثُمَّ فَزِعَ أَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ فَرَکِبَ جُلَیْبِیْبُ فَوَجَدُوْہُ قَدْ قُتِلَ وَحَوْلَہُ نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَدْ قَتَلَہُمْ، قَالَ اَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَیْتُہَا وَإِنَّہَا لَمِنْ اَنْفَقِ بَیْتٍ فِی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۲۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کیلئے ایک انصاری عورت کے باپ کو منگنی کا پیغام بھیجا، اس کے باپ نے کہا: میں اس کی ماں سے مشورہ کرلوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے اس بات کا ذکر کیا، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! یہ نہیں ہوسکتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہمارے لئے صرف جلیبیب ہی ملا ہے، ہم نے تو فلاں فلاںسے بھی رشتہ نہیں کیا،یہ بات لڑکی پردے کے پیچھے سن رہی تھی، وہ آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دینے کیلئے چل پڑا، لڑکی نے کہا:کیا تم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کو ردّ کر رہے ہو، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پسند کرلیا ہے تو پھر نکاح کر دو، یہ کہہ کر لڑکی نے گویا اپنے ماں باپ پر مخفی معاملہ کھول دیا، انہوں نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، اس کے والد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اگر آپ راضی ہیں تو اس رشتہ میں ہم بھی راضی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں راضی ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جلیبیب کی اس لڑکی سے شادی کر دی۔ بعد ازاں ایک دفعہ اہل مدینہ خوفزدہ ہوگئے، سیدنا جلیبیب اس کو دور کرنے کیلئے سوار ہوئے لیکن جب مسلمان وہاں پہنچے تو انھوں نے جلیبیب کو اس حال میں پایا کہ وہ قتل ہو چکے تھے اور ان کے ارد گرد کچھ مشرک بھی قتل ہوئے پڑے تھے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اس عورت کو دیکھا کہ اس کا گھر مدینہ کے گھروں میں سے سب سے زیادہ بارونق تھا۔
Takhreej
(۶۸۵۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ عبد الرزاق: ۱۰۳۳۳، والبزار: ۲۷۴۱، وابن حبان: ۴۰۵۹ (انظر: ۱۲۳۹۳)
Explanation
فوائد:… سیدنا جلبیبb خوبصورت نہیں تھے، اس لیے ان کے بارے میںیہ باتیں کی گئیں، لیکن جب اِس انصاری خاتون نے رسول اللہ a کی رائے کو ترجیح دی تو اس کی قسمت ہری ہو گئی۔ ’’مدینہ میں اس خاتون کا گھر سب سے زیادہ بارونق تھا‘‘: اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا جلبیبb کی شہادت کے بعد بہت سارے لوگ اس خاتون کے ساتھ نکاح کرنے کا پیغام لے کر آئے، اس اعزاز کی وجہ یہ تھی کہ لوگ جس جلیبیب کو پسند نہیں کرتے تھے، اس خاتون نے رسول اللہ a کی رائے کا لحاظ کرتے ہوئے اس سے شادی کی تھی اور آپ a نے اس کے لیے برکت کی دعا بھی کی تھی۔ سیدنا ابو برزہ b سے مروی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ! ہَا ہُوَ ذَا إِلٰی جَنْبِ سَبْعَۃٍ، قَدْ قَتَلَہُمْ ثُمَّ قَتَلُوہُ فَأَتَاہُ النَّبِیُّV فَقَامَ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((قَتَلَ سَبْعَۃً وَقَتَلُوہُ ہٰذَا مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ ہَذَا مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ۔)) مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ وَضَعَہُ رَسُولُ اللَّہِV عَلَی سَاعِدَیْہِ وَحُفِرَ لَہُ، مَا لَہُ سَرِیرٌ إِلَّا سَاعِدَا رَسُولِ اللَّہِV ثُمَّ وَضَعَہُ فِی قَبْرِہِ وَلَمْ یُذْکَرْ أَنَّہُ غَسَّلَہُ۔… صحابۂ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ جلیبیبیہ پڑا ہے ، سات کافروں کے پہلومیں،یعنی اِس نے اُن سات کو قتل کیا اور انھوں نے اس ایک کو قتل کیا، نبی کریمa اس کے پاس آئے اور اس کی میت پر کھڑے ہو کر فرمایا: ’’اس نے سات کافروں کو قتل کیا اور انھوں نے اس ایک کو قتل کیا، پس یہ جلیبیب مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔‘‘ دو یا تین بار ارشاد فرمایا، پھر آپ a نے اس کو اپنے بازوؤں پر رکھا اور اس کے لیے قبر کھودی گئی، اس صحابی کی میت کے لیے کوئی چارپائی نہیں تھی، ما سوائے رسول اللہ a کے بازوؤں کے، پھر آپ a نے اس کو قبر میں رکھ دیا،یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ آپ a نے اس کو غسل دیا ہو۔ (صحیح مسلم: ۴۵۱۹)
6857
Sahih
۔ (۶۸۵۸)۔ وَعَنْ اَبِی بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ، مُطَوِّلًا، وَفِی آخِرِہِ قَالَ ثَابِتٌ: فَمَا کَانَ فِی الْاَنْصَارِ اَیِّمٌ اَنْفَقُ مِنْہَا، وَحَدَّثَ اِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ ثَابِتًا، قَالَ: ھَلْ تَعْلَمُ مَا دَعَا لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ صُبَّ عَلَیْہَا الْخَیْرَ صَبًّا وَلَا تَجْعَلْ عَیْشَہَا کَدًّا کَدًّا۔)) قَالَ: فَمَا کَانَ فِی الْأَنْصَارِ اَیِّمٌ اَنْفَقَ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۰۰۲۲)
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، مذکورہ بالا روایت کی طرح، البتہ اس کے آخر میں ہے: سیدنا ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: انصار میں سے خاوند کے بغیر کوئی ایسی خاتون نہیں تھی، جو اس سے زیادہ خرچ کرنے والی ہو۔اسحق بن عبد اللہ نے سیدناثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بیان کیا اور کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کیلئے کیا دعاء فرمائی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی تھی: اے اللہ! اس پر بکثرت بھلائی ڈال دے اور اس کی زندگی کو محنت و مشقت والا نہ بنا۔ انصاریوں میں خاوند کے بغیر کوئی ایسی خاتون نہیں تھی، جو اس سے زیادہ مشہور اور خیر وبرکت والا ہو۔
Takhreej
(۶۸۵۸) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ البغوی فی ’’شرح السنۃ‘‘: ۳۹۹۷ (انظر: ۱۹۷۸۴)
Explanation
فوائد:… ’’اَیِّم‘‘ اس خاتون کو کہتے ہیں، جس کا فی الحال خاوند نہ ہو، وہ بیوہ ہو یا کنواری۔ یہ نبی کریمa کے فرمودات کا پاس و لحاظ رکھنے کے فیوض اور برکات ہیں۔
6858
Sahih
۔ (۶۸۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: تَأَیَّمَتْ حَفْصَۃُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَیْسِ بْنِ حُذَافَۃَ أَوْ حُذَیْفَۃَ شَکَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّیَ بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: فَلَقِیْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَیْہِ حَفْصَۃَ فَقُلْتُ: اِنْ شِئْتَ اَنْکَحْتُکَ حَفْصَۃَ، قَالَ: سَأَنْظُرُ فِیْ ذَالِکَ، فَلَبِثْتُ لَیَالِی فَلَقِیَنِی فَقَالَ: مَا اُرِیْدُ اَنْ أَتَزَوَّجَ یَوْمِی ھٰذَا، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِیْتُ أَبَا بَکْرٍ فَقُلْتُ: اِنْ شِئْتَ أَنْکَحْتُکَ حَفْصَۃَ ابْنَۃَ عُمَرَ، فَلَمْ یَرْجِعْ اِلَیَّ شَیْئًا، فَکُنْتُ أَوْجَدَ عَلَیْہِ مِنِّی عَلٰی عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَیَالِی فَخَطَبَہَا اِلَیَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَنْکَحْتُہَا اِیَّاہ،، فَلَقِیَنِی أَبُوْبَکْرٍ فَقَالَ: لَعَلَّکَ وَجَدْتَ عَلَیَّ حِیْنَ عَرَضْتَ عَلَیَّ حَفْصَۃَ فَلَمْ أَرْجِعْ اِلَیْکَ شَیْئًا؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَرْجِعَ اِلَیْکَ شَیْئًا حِیْنَ عَرَضْتَہَا عَلَیَّ اِلَّا أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُھَا وَلَمْ أَکُنْ لِاُفْشِیَ سِرَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَوْ تَرَکَہَا لَنَکَحْتُہَا۔ (مسند احمد: ۷۴)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری بیٹی سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سیدنا خنیس بن حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد بیوہ ہوگئی،یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور غزوئہ بدر میں حاضر ہوئے تھے اور انھوں نے مدینہ میں وفات پائی تھی، میں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان پر حفصہ کو پیش کیا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں حفصہ سے تمہارا نکاح کر دیتا ہوں؟ انہوں نے کہا: میں اس بارے میں غور کروں گا، میں نے کچھ دنوں تک انتظار کیا، پھر وہ مجھے ملے اور کہا: میں ان دنوں شادی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا تم سے نکاح کر دیتا ہوں، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، اس وجہ سے ان پر مجھے عثمان سے بھی زیادہ افسوس ہوا، بہرحال میں چند دن ٹھہرا رہا ، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب سے میری بیٹی کے نکاح کا پیغام آگیا اور میں نے اس کا نکاح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کر دیا، بعد میں جب سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے ملے تو انہوں نے کہا: جب تم نے مجھ پر حفصہ کو پیش کیا تھا اور میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا تو تم مجھ سے ناراض ہوئے ہو گے؟ میں نے کہا: جی بالکل، انھوں نے کہا: مجھے آپ کی پیشکش کا جواب دینے میں صرف ایک چیز رکاوٹ تھی کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، یہ ایک راز تھا اور میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا راز افشا نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ رشتہ نہ کرتے تو میں حفصہ سے نکاح کر لیتا۔
Takhreej
(۶۸۵۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۲۹، ۴۰۰۵، ۵۱۲۲ (انظر: ۷۴)
Explanation
فوائد:… کتنی بڑی بات ہے کہ سیدنا عمر b نے سیدنا عثمان b اورسیدنا ابو بکر b کو عظیم سمجھ کر ان پر اپنی بیٹی پیش کی، لیکن ان کو کیا پتہ ہے کہ ان کی بیٹی ام المومنین بننے والی ہے، یہ سب شریعت کا پاس و لحاظ کرنے کی برکتیں ہیں۔ غور کریں کہ سیدنا ابو بکر b نے کس انداز میں رسول اللہ a کے راز کی حفاظت کی، وہ کس قدر گہرائی سے آپ a کی شان و عظمت کو سمجھتے تھے۔
6859
Sahih
۔ (۶۸۶۰)۔ عَنْ ثَابِتِ نِ الْبُنَانِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ جَالِسًا وَعِنْدَہُ ابْنَۃٌ لَہُ، فَقَالَ اَنَسٌ: جَائَ تِ امْرَأَۃٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! ھَلْ لَکَ فِیَّ حَاجَۃٌ؟ فَقَالَتِ ابْنَتُہُ: مَا کَانَ أَقَلَّ حَیَائَ ھَا، فَقَالَ: ھِیَ خَیْرٌ مِنْکِ، رَغِبَتْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَرَضَتْ عَلَیْہِ نَفْسَہَا۔ (مسند احمد: ۱۳۸۷۱)
۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے پاس ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا : ایک عورت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میرے ساتھ شادی کرنے کی رغبت رکھتے ہیں؟ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیٹی کہنے لگی کہ اس عورت میں کس قدر حیا کی کمی تھی۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے بیٹی! وہ تجھ سے بہتر تھی، کیونکہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں رغبت کا اظہار کیا تھا اور اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کیا تھا۔
Takhreej
(۶۸۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۲۰، ۶۱۱۲۳ (انظر: ۱۳۸۳۵)
Explanation
فوائد:… سبحان اللہ! اس خاتون نے اپنی ذات کے لیے محمد رسول اللہ a جیسی عظیم ہستی کا انتخاب کیا۔ اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کو لڑکی درکار ہو یا لڑکا، ہر ایک کی ترجیح دینداری ہونی چاہیے۔
6860
Sahih

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.