TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 11874 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
۔ (۱۱۸۷۴)۔ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: بَعَثَ إِلَیَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ فِی مَرَضِہِ، فَأَتَیْتُہُ فَقَالَ لِی: إِنِّی کُنْتُ أُحَدِّثُکَ بِأَحَادِیثَ لَعَلَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَنْفَعُکَ بِہَا بَعْدِی، وَاعْلَمْ أَنَّہُ کَانَ یُسَلَّمُ عَلَیَّ، فَإِنْ عِشْتُ فَاکْتُمْ عَلَیَّ وَإِنْ مِتُّ فَحَدِّثْ إِنْ شِئْتَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَاِنَّہُ کَانَ یُسَلَّمُ عَلَیَّ فَلَمَّا اکْتَوَیْتُ أَمْسَکَ عَنِّیْ فَلَمَّا تَرَکْتُہُ عَادَ اِلَیَّ)، وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ جَمَعَ بَیْنَ حَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ، ثُمَّ لَمْ یَنْزِلْ فِیہَا کِتَابٌ وَلَمْ یَنْہَ عَنْہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ رَجُلٌ فِیہَا بِرَأْیِہِ مَا شَائَ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۸۰)
مطرف بن عبداللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انہوںنے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا، جب میں ان کی خدمت میں آیا تو انہوںنے مجھ سے کہا: میں آپ کو احادیث سنایا کرتا تھا، امید ہے کہ میرے بعد اللہ تعالیٰ ان احادیث سے فائدہ پہنچائے گا، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شدت مرض کے دوران میرے صبر کرنے کی وجہ سے اللہ کے فرشتے آکر مجھے سلام کہا کرتے تھے، اگر میںزندہ رہوں تو تم میری اس بات کا لوگوں کے سامنے اظہار نہ کرنا اور اگر میرا انتقال ہو جائے تو چاہو تو لوگوں کو بتلا دینا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ کے فرشتے مجھے سلام کہا کرتے تھے، مگر جب میں نے اپنے زخم کو داغ لگوایا تو سلام کا یہ سلسلہ مجھ سے رک گیا، پھر جب میں نے اس عمل کو ترک کیا تو یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ تم یہ بھی جان رکھو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج اور عمرہ کو ایک ہی احرام میں جمع کیا تھا اور اس کے بعد نہ کتاب اللہ میں اس سے منع کیا گیا اور نہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود اس سے منع فرمایا، بس ایک آدمی اس بارے میںاپنی رائے سے اس سے منع کرتا ہے۔
11874
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۸۷۴) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۲۲۶(انظر: ۱۹۸۴۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہجرت کے ساتویں سال خیبر کے موقع پر مشرف با سلام ہوئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ متعدد غزوات میں حصہ لیا، فتح مکہ کے موقعہ پر بنو خزاعہ کے علم بردار تھے، دین کے بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے، امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں بصرہ کی طرف روانہ کیا تھا تاکہ وہاں کے لوگوں کو دین کے احکام سکھا یا کریں، مستجاب الدعوات تھے، اہل بصرہ کہا کرتے تھے کہ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حفاظت کرنے والے فرشتوں دکھائی دیا کرتے تھے اور وہ ان سے ہم کلام بھی ہوا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی حفاظت میں رکھا اور صحابۂ کرام کے مابین جو اختلافات اور لڑائیاں ہوتی رہیں،یہ ان میں ملوث نہ ہوئے۔بصرہ میں (۵۲) سن ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔ اس حدیث کے آخر میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جوحج افراد کو افضل سمجھتے تھے اور حج تمتع سے منع کیا کرتے تھے، سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا اور اس سے منع بھی نہیں کیا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کیاحق حاصل ہے کہ وہ لوگوں کو اس سے منع کریں، حج کے مسائل میں یہ حکم اور اس کی وجہ گزر چکی ہے۔

Related Chapters

354
1
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
2
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف روانہ کئے جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
3
خادم رسول سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور دیگر خدام رسول کا تذکرہ
Musnad Ahmad
4
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
5
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
6
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
7
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
8
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
9
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
10
مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
11
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
12
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
13
سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
14
سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
15
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
16
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ماموں حرام بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
17
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
18
سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
19
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
20
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
21
سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
22
سیدنا خریم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
23
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
24
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
25
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
26
سیدنا زاہر بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
27
سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
28
سیدنا زید بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
29
سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
30
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
Musnad Ahmad
31
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
32
سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
33
سیدنا سعد بن ابی ذباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
34
سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی کہا جاتا ہے
Musnad Ahmad
35
خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
36
اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
37
سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
38
سیدنا سمرہ بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
39
سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
40
سیدنا ضرار بن ازور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
41
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
42
سیدنا طارق بن شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
43
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
44
سیدنا عامر بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
45
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
46
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
47
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
48
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
49
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
50
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

47
Musnad Ahmad
5046
۔ (۵۰۴۶)۔ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ، قَالَ: قَالَ أَبُو قَتَادَۃَ: رَأَیْتُ رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلَانِ مُسْلِمٌ وَمُشْرِکٌ، وَإِذَا رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِینَ یُرِیدُ أَنْ یُعِینَ صَاحِبَہُ الْمُشْرِکَ عَلَی الْمُسْلِمِ، فَأَتَیْتُہُ فَضَرَبْتُ یَدَہُ فَقَطَعْتُہَا وَاعْتَنَقَنِی بِیَدِہِ الْأُخْرٰی، فَوَاللّٰہِ! مَا أَرْسَلَنِی حَتّٰی وَجَدْتُ رِیحَ الْمَوْتِ، فَلَوْلَا أَنَّ الدَّمَ نَزَفَہُ لَقَتَلَنِی فَسَقَطَ فَضَرَبْتُہُ فَقَتَلْتُہُ وَأَجْہَضَنِی عَنْہُ الْقِتَالُ، وَمَرَّ بِہِ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ، فَسَلَبَہُ فَلَمَّا فَرَغْنَا وَوَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ قَتِیلًا فَسَلَبُہُ لَہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ قَتَلْتُ قَتِیلًا وَأُسْلِبَ فَاَجْھَضَنِیْ عَنْہُ الْقِتَالُ، فَلَا اَدْرِیْ مَنِ اسْتَلَبَہُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ: صَدَقَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنَا سَلَبْتُہُ فَارْضِہِ عَنِّی مِنْ سَلَبِہِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ: تَعْمِدُ إِلٰی أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللّٰہِ، یُقَاتِلُ عَنِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، تُقَاسِمُہُ سَلَبَہُ ارْدُدْ عَلَیْہِ سَلَبَ قَتِیلِہِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ فَارْدُدْ عَلَیْہِ سَلَبَ قَتِیلِہِ)) قَالَ أَبُو قَتَادَۃَ: فَأَخَذْتُہُ مِنْہُ فَبِعْتُہُ فَاشْتَرَیْتُ بِثَمَنِہِ مَخْرَفًا بِالْمَدِینَۃِ، وَإِنَّہُ لَأَوَّلُ مَالٍ اعْتَقَدْتُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۹۸۱)
۔ سیدنا ابو قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا کافر، ایک مشرک آدمی چاہتا تھا کہ وہ مسلمان کے خلاف اپنے مشرک ساتھی کی مدد کرے، لیکن اُدھر سے میں آیا اور اس کے ہاتھ پر ضرب لگا کر اس کو کاٹ دیا، اس نے دوسرے ہاتھ سے مجھے اس طرح پکڑا جیسے معانقہ کرتے ہیں، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے اس وقت تک نہ چھوڑا، یہاں تک کہ میں نے اس سے موت کی بو محسوس کر لی، اگر اس کا خون نہ بہتا تو وہ مجھے قتل کر دیتا، پھر وہ گر پڑا اور میں نے اس کو ضرب لگائی اور قتل کر دیا، پھر میں قتال کی مصروفیت کی وجہ سے اس کا سلب نہ لے سکا، اور اس کے پاس سے اہل مکہ کا ایک آدمی گزرا اور اس نے اس کا سلب لے لیا، پس جب ہم فارغ ہوئے اور لڑائی ختم ہو گئی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی شخص کو قتل کیا، اس کا سلب اس کے لیے ہو گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک شخص کو قتل کیا ہے، لیکن پھر لڑائی میں مصروف ہو گیا، اب میں نہیں جانتا کہ کس نے اس کا سلب لے لیا ہے، اہل مکہ کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہا ہے، میں نے اس کا سلب لے لیا ہے، تو آپ اس کو میری طرف سے راضی کر دیں، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو اللہ تعالیٰ کے شیروں میں سے ایک شیر کی طرف قصد کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتا ہے اور پھر تو اس کا سلب تقسیم کرتا ہے، تو اس کے مقتول کا سلب اس پر لوٹا دے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو بکر سچ کہہ رہے ہیں، تو اس کے مقتول کا سلب اس پر لوٹا دے۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اس سے وہ سامان لیا اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے مدینہ منورہ میں ایک باغ خریدا، یہ پہلا مال تھا، جس کا میں مالک بنا تھا۔
Musnad Ahmad
11950
۔ (۱۱۹۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ، فَقَالَ: (( إِنَّکُمْ إِنْ لَا تُدْرِکُوْا الْمَائَ غَدًا تَعْطَشُوْا، وَانْطَلَقَ سَرَعَانُ النَّاسِ یُرِیدُونَ الْمَائَ، وَلَزِمْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَالَتْ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاحِلَتُہُ فَنَعَسَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَمْتُہُ فَأَدْعَمَ، ثُمَّ مَالَ فَدَعَمْتُہُ فَأَدْعَمَ، ثُمَّ مَالَ حَتّٰی کَادَ أَنْ یَنْجَفِلَ عَنْ رَاحِلَتِہِ فَدَعَمْتُہُ فَانْتَبَہَ، فَقَالَ: ((مَنِ الرَّجُلُ؟)) قُلْتُ: أَبُو قَتَادَۃَ، قَالَ: ((مُذْ کَمْ کَانَ مَسِیرُکََ۔)) قُلْتُ: مُنْذُ اللَّیْلَۃِ، قَالَ: ((حَفِظَکَ اللّٰہُ کَمَا حَفِظْتَ رَسُولَہُ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ عَرَّسْنَا۔)) فَمَالَ إِلٰی شَجَرَۃٍ فَنَزَلَ فَقَالَ: ((انْظُرْ ہَلْ تَرٰی أَحَدًا؟)) قُلْتُ: ہٰذَا رَاکِبٌ ہٰذَانِ رَاکِبَانِ حَتّٰی بَلَغَ سَبْعَۃً، فَقَالَ: ((احْفَظُوْا عَلَیْنَا صَلَاتَنَا۔)) فَنِمْنَا فَمَا أَیْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَانْتَبَہْنَا فَرَکِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَارَ وَسِرْنَا ہُنَیْہَۃً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ: ((أَمَعَکُمْ مَائٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، مَعِی مِیضَأَۃٌ فِیہَا شَیْئٌ مِنْ مَائٍ، قَالَ: ((ائْتِ بِہَا؟)) فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَقَالَ: ((مَسُّوْا مِنْہَاَ، مَسُّوْا مِنْہَا۔)) فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ وَبَقِیَتْ جَرْعَۃٌ فَقَالَ: ((ازْدَہِرْ بِہَا یَا أَبَا قَتَادَۃَ! فَإِنَّہُ سَیَکُونُ لَہَا نَبَأٌ۔)) ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ وَصَلَّوُا الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّوُا الْفَجْرَ، ثُمَّ رَکِبَ وَرَکِبْنَا فَقَالَََََ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: فَرَّطْنَا فِی صَلَاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا تَقُولُونَ؟ إِنْ کَانَ أَمْرَ دُنْیَاکُمْ فَشَأْنُکُمْ، وَإِنْ کَانَ أَمْرَ دِینِکُمْ فَإِلَیَّ۔)) قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَرَّطْنَا فِی صَلَاتِنَا، فَقَالَ: ((لَا تَفْرِیطَ فِی النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِیطُ فِی الْیَقَظَۃِ، فَإِذَا کَانَ ذٰلِکَ فَصَلُّوہَا وَمِنَ الْغَدِ وَقْتَہَا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((ظُنُّوْا بِالْقَوْمِ۔)) قَالُوْا: إِنَّکَ قُلْتَ بِالْأَمْسِ: ((إِنْ لَا تُدْرِکُوا الْمَائَ غَدًا تَعْطَشُوا۔)) فَالنَّاسُ بِالْمَائِ، فَقَالَ: أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ فَقَدُوا نَبِیَّہُمْ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْمَائِ وَفِی الْقَوْمِ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَا: أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَکُنْ لِیَسْبِقَکُمْ إِلَی الْمَائِ وَیُخَلِّفَکُمْ، وَإِنْ یُطِعِ النَّاسُ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ یَرْشُدُوْا قَالَہَا ثَلَاثًا، فَلَمَّا اشْتَدَّتِ الظَّہِیرَۃُ رَفَعَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہَلَکْنَا عَطَشًا تَقَطَّعَتِ الْأَعْنَاقُ، فَقَالَ: ((لَا ہُلْکَ عَلَیْکُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا قَتَادَۃَ ائْتِ بِالْمِیضَأَۃِ۔)) فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَقَالَ: ((احْلِلْ لِی غُمَرِی۔)) یَعْنِی قَدَحَہُ، فَحَلَلْتُہُ فَأَتَیْتُہُ بِہِ فَجَعَلَ یَصُبُّ فِیہِ وَیَسْقِی النَّاسَ فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَیْہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! أَحْسِنُوا الْمَلَأَ فَکُلُّکُمْ سَیَصْدُرُ عَنْ رِیٍّ۔)) فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتّٰی لَمْ یَبْقَ غَیْرِی وَغَیْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَبَّ لِیََََ فَقَالَ: ((اشْرَبْ یَا أَبَا قَتَادَۃَ!۔)) قَالَ: قُلْتُ: اشْرَبْ أَنْتَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((إِنَّ سَاقِیَ الْقَوْمِ آخِرُہُمْ۔)) فَشَرِبْتُ وَشَرِب بَعْدِی وَبَقِیَ فِی الْمِیضَأَۃِ نَحْوٌ مِمَّا کَانَ فِیہَا، وَہُمْ یَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَۃٍ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَسَمِعَنِی عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ وَأَنَا أُحَدِّثُ ہٰذَا الْحَدِیثَ فِی الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ، فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِیُّ، قَالَ الْقَوْمُ: أَعْلَمُ بِحَدِیثِہِمْ انْظُرْ کَیْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّی أَحَدُ السَّبْعَۃِ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ، فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ: مَا کُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ أَحَدًا یَحْفَظُ ہٰذَا الْحَدِیثَ غَیْرِیْ، قَالَ حَمَّادٌ: وَحَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِثْلِہِ وَزَادَ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا عَرَّسَ وَعَلَیْہِ لَیْلٌ تَوَسَّدَ یَمِینَہُ، وَإِذَا عَرَّسَ الصُّبْحَ وَضَعَ رَأْسَہُ عَلٰی کَفِّہِ الْیُمْنٰی وَأَقَامَ سَاعِدَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۱۳)
سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا: اگر تمہیں کل پانی نہ ملا تو تم پیاسے رہو گے۔ تیز رفتار لوگ آگے چلے گئے تاکہ پانی تلاش کریں۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری آپ کو لیے راستے سے ایک طرف ہٹ گئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سواری پر ہی اونگھ آگئی، میں نے آپ کو ذراآسرا دے کر سیدھا کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدھے ہوگئے، اس کے بعد پھر جھک گئے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدھا کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدھے ہوگئے، اس کے بعد پھر اونگھ کی وجہ سے اس قدر جھکے یا آپ کو جھٹکا لگا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری سے گرنے کے قریب ہوگئے، میں نے آپ کو سیدھا کیا تو آپ متنبہ ہوئے اور دریافت کیا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا: جی میں ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کب سے اس طرح میرے ساتھ چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: ساری رات اسی طرح گزر گئی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے جس طرح اللہ کے رسول کی حفاظت کی، اللہ تمہاری حفاظت کرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہتر ہوگا کہ ہم کہیں رک کر آرام کر لیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک درخت کی طرف گئے اور وہاں اترے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ذرا دیکھو کوئی آدمی دکھائی دیتا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ ایک سوار آرہا ہے، یہ دو سوار آرہے ہیں،یہاں تک کہ آنے والوں کی تعداد سات ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہمارے لیے نماز کے وقت کا خیال رکھنا۔ پھر ہم سو گئے اور اس قدر سوئے کہ سورج کی تمازت نے ہمیں بیدار کیا، ہم بیدار ہوئے، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر سوار ہو کر روانہ ہوئے، ہم بھی آپ کے ساتھ کچھ دور تک گئے، اس کے بعد آپ سواری سے نیچے اترے اور دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی موجود ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، میرے پاس وضو کے برتن میں کچھ پانی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہی لے آئو۔ میں پانی کا برتن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے کر آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے پانی لے کر وضو کر لو۔ چنانچہ لوگوں نے وضو کیا، برتن میں ایک گھونٹ جتنا پانی باقی رہ گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابو قتادہ! اسے محفوظ کرلو، عنقریب اس گھونٹ کی بڑی شان ہوگی۔ پھر سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اذان کہی اور سب نے فجر سے پہلی د ورکعتیں ادا کیں اور پھر فجر کی نماز با جماعت ادا کی۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوگئے، ہم میں سے بعض لوگوں نے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے نماز کے بارے میں بڑی کوتاہی سرزد ہو گئی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: کیا باتیں کر رہے ہو؟ اگر دنیاوی باتیں ہیں توتم جانو اور تمہارا کام اور اگر دین کی کوئی بات ہے تو مجھ سے کرو۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!ہم سے نماز کے بارے میں بہت بڑی کوتاہی سر زد ہوئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیند کے سبب نماز میںتاخیر ہو جانا کوتاہی نہیں، کوتاہی تو اس صورت میں ہوتی ہے جب آدمی بیدار ہو اور نماز کو لیٹ کر دے، جب ایسی صورت حال پیش آجائے تو اسی وقت نماز ادا کر لو اور آئندہ اس نماز کو اس کے اپنے مقرر وقت پر ادا کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ آگے گئے ہوئے ہیں، ان کے بارے میں اندازہ کرو کہ وہ اس وقت کہاں پہنچ چکے ہوں گے؟ صحابۂ کرام نے گزارش کی کہ آپ ہی نے توکل ارشاد فرمایا تھا کہ اگر کل تمہیں پانی نہ ملا تو پیاسے رہو گے۔ اس لیے لوگ پانی کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں۔ صبح ہوئی تو لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے پاس موجود نہ پایا، پس وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی پانی والے مقام پر ہوں گے۔ ان لوگوں میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، ان دونوں حضرات نے کہا: لوگو! یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تمہیں پیچھے چھوڑ کر خود پہلے پانی کے مقام پر چلے جائیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے تین بار فرمایا کہ اگر لوگ ابو بکر اور عمر کی بات مان لیں تو اچھے رہیں گے۔ جب دھوپ خوب چڑھ گئی اور گرمی شدید ہوگئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے سامنے نمودار ہوئے تو لوگ چیخ اٹھے کہ: اے اللہ کے رسول! ہم تو پیاسے مر گئے اور پیاس کی شدت سے ہماری گردنیں کٹنے کو ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی بات سن کر فرمایا: تمہارے اوپر ہلاکت نہیں آئے گی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اے ابو قتادہ! پانی والا برتن لے آئو۔ میں وہ برتن لے کر آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا کہ تم میرا پیالہ کھول کر لے آئو۔ میں نے اسے کھول کر آپ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ اس برتن میں سے پانی کو اس پیالے میں انڈیل انڈیل کر لوگوں کو پلانے لگے۔ آپ کے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہوگیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے اچھا برتائو کرو عنقریب تم میں سے ہر کوئی سیراب ہو کر جائے گا۔ چنانچہ سب لوگوں نے پانی نوش کر لیا صرف میں اور اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی باقی رہ گئے۔ تو آپ نے میرے لیے پیالے میں انڈیلا اور فرمایا ابو قتادہ! ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لو یہ نوش کرو۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! پہلے آپ نوش فرمائیں۔ آپ نے فرمایا دوسروں کو پلانے والا آخر میں پیتا ہے۔ چنانچہ میں نے پانی پیا اور میرے بعد آپ نے نوش کیا۔ اوربرتن میں پانی اتنا بچ رہا جتنا اس میں پہلے سے تھا۔ اس دن لوگوں کی تعداد تین سو تھی۔عبداللہ سے مروی ہے کہ میں جامع مسجد میں یہ حدیث بیان کر رہا تھا کہ عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میری آواز سن لی۔ انھوں نے کہا کہ بیان کرنے والا آدمی کون ہے؟میں نے عرض کیا کہ میں عبداللہ بن رباح انصاری ہوں۔ تو انہوںنے فرمایا کہ قوم کے افراد ہی اپنی بات کو بہتر طور پر جانتے ہوتے ہیں۔ بہر حال تم ذرا خیال کرکے بیان کرو۔ اس رات جمع ہونے والے سات افراد میں سے ایک میں بھی ہوں جب میں حدیث بیان کرکے فارغ ہوا تو انہوںنے فرمایا کہ میں نہیں سمجھتا تھا کہ اس حدیث کو میرے سوا کوئی دوسرا بھییاد رکھتا ہوگا۔ حماد بن سلمہ نے بیان کیا کہ ہم سے اس حدیث کو حمید طویل نے بکر بن عبداللہ مزنی سے انہوںنے عبداللہ بن رباح سے انہوںنے ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسے اسی طرح بیان کیا۔ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو آرام کی غرض سے کہیں ٹھہرتے اور رات کا کچھ حصہ باقی ہوتا تو اپنے داہنے ہاتھ کو تکیہ کے طور پر استعمال کرتے اورجب صبح بالکل قریب ہوتی تو اپنا سر اپنی داہنی ہتھیلی پر رکھ کر اپنے بازو کو سیدھا اوپر کو کھڑا کر لیتے۔
Musnad Ahmad
419
۔ (۴۱۹)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلیِّ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَائٍ فَأَتَیْتُ خِبَائً فَاِذَا فِیْہِ امْرَأَۃٌ أَعْرَابِیَّۃٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: اِنَّ ہَذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُرِیْدُ مَائً یَتَوَضَّأُ، فَھَلْ عِنْدَکِ مِنْ مَائٍ؟ قَالَتْ: بِأَبِیْ وَأُمِّیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَوَاللّٰہِ! مَا تُظِلُّ السَّمَائُ وَلَا تُقِلُّ الْاََرْضُ رُوْحًا أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ رُوْحِہِ وَلَا أَعَزَّ، وَلَکِنَّ ہٰذِہِ الْقِرْبَۃَ مَسْکُ مَیْتَۃٍ وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِہِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَرَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((ارْجِعْ اِلَیْہَا، فَاِنْ کَانَتْ دَبَغَتْہَا فَہِیَ طَہُوْرُہَا۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ اِلَیْہَا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہَا فقَالَتْ: اَیْ وَاللّٰہِ! لَقَدْ دَبَغْتُہَا، فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ مِنْہَا وَعَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ وَعَلَیْہِ خُفَّانِ وَ خِمَارٌ، قَالَ: فَأَدْخَلَ یَدَہُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ، قَالَ: مِنْ ضِیْقِ کُمِّہَا، قَالَ: فتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَی الْخِمَارِ وَالْخُفَّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴۱۲)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے پانی کے ساتھ طلب کیا، پس میں ایک خیمہ میں گیا، اس میں ایک بدّو خاتون تھی، میں نے اس سے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہیں اور آپ وضو کرنے کے لیے پانی چاہ رہے ہیں، تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ اس نے کہا:میرے ماں باپ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قربان ہوں، پس اللہ کی قسم! نہ آسمان نے ایسی روح پر سایہ کیا اور نہ زمین نے ایسی روح کو اٹھایا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی روح کی بہ نسبت مجھے محبوب اور معزَّز ہو، لیکن بات یہ ہے کہ یہ مشکیزہ تو مردار کے چمڑے کا ہے اور میں یہ پسند نہیں کروں گی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس کے ذریعے ناپاک کر دوں، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا اور یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم اس کی طرف واپس جاؤ، اگر تو اس نے اس کو رنگا تھا تو یہی اس کو پاک کرنا ہے۔ پس میں اس کی طرف لوٹا اور اس کو یہ فرمان بتایا، اس نے کہا: جی اللہ کی قسم! میں نے اس کو رنگا تھا، پس میں پانی لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، اس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شامی جُبّہ زین تن کیا ہوا تھا اور دو موزے بھی پہنے ہوئے اور پگڑی بھی باندھی ہوئی تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آستینیں تنگ ہونے کی وجہ سے جُبّہ کے نیچے سے ہاتھ نکال لیے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔
Musnad Ahmad
526
۔ (۵۲۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: خَرَجَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِحَاجَتِہِ فَقَالَ: ((الْتَمِسْ لِیْ ثَـلَاثَۃَ أَحْجَارٍ۔)) قَالَ: فَأَتَیْتُہُ بِحَجَرَیْنِ وَرَوْثَۃٍ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَجَرَیْنِ وَأَلْقَی الرَّوْثَۃَ وَقَالَ: ((اِنَّہَا رِکْسٌ۔)) (مسند أحمد: ۳۹۶۶)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قضائے حاجت کے لیے نکلے اور فرمایا: میرے لیے تین پتھر تلاش کر کے لاؤ۔ پس میں دو پتھر اور ایک لید لے کر آیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو پتھر لے لیے اور لید پھینک دی اور فرمایا: یہ گندی ہے۔
Musnad Ahmad
530
۔ (۵۳۰)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ اَنَا دَاوُدُ وَابْنُ أَبِیْ زَائِدَۃَ الْمَعْنٰی، قَالَا: ثَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِاِبْنِ مَسْعُوْدٍ(ؓ): ھَلْ صَحِبَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ الْجِنِّ مِنْکُمْ أَحَدٌ؟ فَقَالَ: مَا صَحِبَہُ مِنَّا أَحَدٌ وَلَکِنَّا قَدْ فَقَدْنَاہُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، فَقُلْنَا: اُغْتِیْلَ؟ اُسْتُطِیْرَ؟ مَا فَعَلَ؟ قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَیْلَۃٍ بَاتَ بِہَا قَوْمٌ، فَلَمَّا کَانَ فِیْ وَجْہِ الصُّبْحِِ أَوْ قَالَ: فِی السَّحَرِ اِذَا نَحْنُ بِہِ یَجِیْئُ مِنْ قِبَلِ حِرَائَ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَذَکَرُوْا الَّذِیْ کَانُوْافِیْہِ فَقَالَ: ((اِنَّہُ أَتَانِیْ دَاعِیْ الْجِنِّ فَأَتَیْتُہُمْ فَقَرَأْتُ عَلَیْہِمْ۔)) قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانِیْ آثَارَہُمْ وَآثَارَ نِیْرَانِہِمْ، قَالَ: وقَالَ الشَّعْبِیُّ: سَأَلُوْہُ الزَّادَ، قَالَ ابْنُ أَبِی الزَّائِدَۃَ: قَالَ عَامِرٌ: فَسَأَلُوْہُ لَیْلَتَئِذٍالزَّادَ وَکَانُوْا مِنْ جِنِّ الْجَزِیْرَۃِ فَقَالَ: ((کُلُّ عَظْمٍ ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ یَقَعُ فِیْ أَیْدِیْکُمْ أَوْفَرَمَا کَانَ عَلَیْہِ لَحْمًا، وَکُلُّ بَعْرَۃٍ أَوْ رَوْثَۃٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّکُمْ، فَلَا تَسْتَنْجُوْا بِہِمَا فَاِنَّہَا زَادُ اِخْوَانِکُمْ مِنَ الْجِنِّ)) (مسند أحمد: ۴۱۴۹)
علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے کہا: کیا جنّوں والی رات کو تم میں سے کوئی آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ تھا؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نہیں تھا، ہوا یوں کہ ہم نے ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو گم پایا، ہم نے کہا: کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو مخفی انداز میں قتل کر دیا گیا ہے؟ کیاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو کہیں لے جایا گیا ہے؟ آخر ہوا کیا ہے؟ ہم نے انتہائی بدترین رات گزاری، جب صبح سے پہلے کا یا سحری کا وقت تھا تو ہم نے اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو غارِ حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!، پھر ہم نے ساری بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جنّوں کا داعی میرے پاس آیا، اس لیے میں ان کے پاس چلا گیا اور ان پرقرآن مجید کی تلاوت کی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں لے کر گئے اور ان کے اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ وہ جزیرۂ عرب کے جنّوں میں سے تھے اور انھوں نے اس رات کو اپنے زاد کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر ہڈی جس پر اللہ تعالی کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ ایسی حالت میں لگے گی کہ اس پر بہت زیادہ گوشت ہو گا، (وہ تمہارا زاد ہے) اور ہر مینگنی اور لید تمہارے چوپائیوں کا چارہ ہے، پس تم لوگ ان دو چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو، کیونکہ یہ چیزیں تمہارے جن بھائیوں کا زاد ہیں۔
Musnad Ahmad
740
۔ (۷۴۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَضِّئْنِیْ۔)) فَأَتَیْتُہُ بِوَضُوئٍ فَاسْتَنْجٰی ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی التُّرَابِ فَمَسَحَہَا ثُمَّ غَسَلَہَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رِجْلَاکَ لَمْ تَغْسِلْہُمَا، قَالَ: ((اِنِّی أَدْخَلْتُہُمَا وَہُمَا طَاہِرَتَانِ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۸۰)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے وضوء کرواؤ۔ پس میں وضو کا پانی لے کر آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا اور اس کے ساتھ ملا،پھر اس کو دھویا اور وضو کیا، وضو میں موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے پاؤں نہیں دھوئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جب میں نے موزے پہنے تھے تو پاؤں پاک تھے۔ یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس وقت باوضو تھے۔
Musnad Ahmad
823
۔ (۸۲۳)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَکَلَ طَعَامًا ثُمَّ أُقِیمَتِ الصَّلٰوۃُ فَقَامَ وَقَدْ کَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَالِکَ فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ یَتَوَضَّأُ مِنْہُ فَانْتَہَرَنِیْ وَ قَالَ: ((وَرَائَ کَ۔)) فَسَائَ نِیْ وَاللّٰہِ ذَالِکَ، ثُمَّ صَلّٰی فَشَکَوْتُ ذَالِکَ اِلَی عُمَرَ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنَّ الْمُغِیْرَۃَ قَدْ شَقَّ عَلَیْہِ انْتِہَارُکَ اِیَّاہُ وَخَشِیَ أَنْ یَکُوْنَ فِی نَفْسِکَ عَلَیْہِ شَیْئٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَیْسَ عَلَیْہِ فِی نَفْسِیْ شَیْئٌ اِلَّا خَیْرٌ، وَلَکِنْ أَتَانِیْ بِمَائٍ لِأَتَوَضَّأَ وَاِنَّمَا أَکَلْتُ طَعَامًا، وَلَوْ فَعَلْتُہُ فَعَلَ ذَالِکَ النَّاسُ بَعْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۰۶)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کھانا کھایا، پھر نماز کیلئے اقامت کہہ دی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھ کھڑے ہوئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کھانے سے پہلے وضو کر چکے تھے، میں پھر پانی لے آیا، (میرے خیال میں یہ تھا کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پھر وضو کریں گے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے جھڑک دیا اور فرمایا: پیچھے ہٹ جا۔ اللہ کی قسم! یہ بات مجھ پر تو بڑی گراں گزری، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی، میں نے سیدنا عمرؓ کے سامنے اپنی شکایت رکھی (کہ آج میرے ساتھ یہ کچھ ہوا ہے)۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا مغیرہ کو جھڑکنا، یہ چیز ان پر بڑی گراں گزری ہے اور وہ ڈر رہے ہیں کہ ان کے بارے میں آپ کے دل میں کوئی بات ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرے دل میں ان کے بارے میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ میرے وضو کیلئے پانی لے آئے تھے، جبکہ میں نے تو صرف کھانا ہی کھایا تھا، اب اگر میں وضو کر دیتا تو میرے بعد لوگوں نے بھی کرنا تھا۔
Musnad Ahmad
1379
۔ (۱۳۷۹) عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَفَدْنَا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا وَدَّعَنَا أَمَرَنِیْ فَأَتَیْتُہُ بِإِدَاوَۃٍ مِنْ مَائٍ فَحَثَا مِنْہَا ثُمَّ مَجَّ فِیْھَا ثَـلَاثًا ثُمَّ أَوْکَأَھَا ثُمَّ قَالَ: ((اذْھَبْ بِہَا وَانْضَحْ مَسْجِدَ قَوْمِکَ وَأْمُْرْھُمْ أَنْ یَّرْفَعُوْا بِرُؤُوْسِہِمْ أَنْ رَفَعَہَا اللّٰہُ۔)) قَلْتُ: إِنَّ الْأَرْضَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ بَعِیْدَۃٌ وَإِنَّھَا تَیْبَسُ۔ قَالَ: ((فَإِذَا یَبِسَتْ فَمُدَّھَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۰۲)
سیّدنا طلق بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم وفد کی صورت میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں الوداع کیا تو مجھے حکم دیا، پسمیں پانی کا ایک لوٹا لے کر آپ کے پاس آیا،آپ نے اس سے چلو بھر کر تین دفعہ اسمیں کلی کی، پھر اس کو تسمہ سے باندھ کر فرمایا: یہ پانیلے جائو، اسے اپنی قوم کی مسجد پر چھڑک دینا اور لوگوں کو حکم دینا کہ اب وہ اپنے سر اٹھالیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا دیا ہے۔ سیّدنا طلق بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمارا اور آپ کا زمینی فاصلہ توبہت زیادہ ہے، اس لیےیہ پانی تو خشک ہو جائے گا۔ (یہ سن کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب یہ خشک ہونے لگے تو (اسمیں اور پانی ڈال کر) اسے بڑھا لینا۔
Musnad Ahmad
1938
۔ (۱۹۳۸) عَنْ جَابِرٍ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَرْسَلَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ مُنْطَلِقٌ إِلٰی بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَأَتَیْتُہُ وَھُوَ یُصَلِّیْ عَلٰی بَعِیْرِہ فَکَلَّمْتُہُ فَقَالَ بِیَدِہِ ھٰکَذَا، ثُمَّ کَلَّمْتُہُ فَقَالَ بِیَدِہِ ھَکَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُہُ یَقْرَأُ وَیُومِیئُ بِرَأْسِہِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((مَا فَعَلْتَ فِی الَّذِی أَرْسَلْتُکَ؟ فَإِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی إِلاَّ أَنِّی کُنْتُ أُصَلِّیْ۔)) (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) وَھُوَ مُوَجِّہٌ حِیْنَئِذٍ إِلَی الْمَشْرِقِ۔ (مسند احمد: ۱۴۶۹۷)
سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (کسی کے لئے کام) بھیجا، جبکہ آپ خود بنو مصطلق کی طرف جارہے تھے، جب میں آپ کے پاس واپس آیا جبکہ آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے اسی حالت میں آپ سے بات کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں نے پھر بات کرنا چاہی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا، جبکہ میں سن رہا تھا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلاوت کررہے تھے اور سر سے اشارہ کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: جس کام کیلئے میں نے تجھے بھیجا تھا، اس کا کیا بنا؟ مجھے بولنے سے روکنے والی چیز صرف یہ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مشرق کی طرف متوجہ تھے۔