۔ (۱۱۶۷۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَضَعَ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِی الْمَسْجِدِ یُنَافِحُ عَنْہُ
بِالشِّعْرِ، ثُمَّ یَقُولُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ، یُنَافِحُ عَنْ رَسُولِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۴۱)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھوایا تاکہ وہ اس پر بیٹھ کر (کفار کے ہجو والے اشعار کے جواب میں) اشعار پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: حسان جب تک اللہ کے رسول کا دفاع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس وقت تک روح القدس یعنی جبریل علیہ السلام کے ذریعے اس کی مدد فرماتا ہے۔
Takhreej
(۱۱۶۷۸) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ دون قولہ: ’وضع لحسان منبرا فی المسجد وھذا اسناد ضعیف لضعف ابن ابی الزناد أخرج مسلم: ۲۴۹۰ عن عائشۃ مرفوعا ضمن حدیث طویل: ان روح القدس لا یزال یؤیدک ما نافحت عن اللہ ورسولہ (انظر: ۲۴۴۳۷)
11678
Sahih