۔
(۱۱۷۵۱)۔ عَنْ ضَمْرَۃَ بْنِ ثَعْلَبَۃَ: أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَعَلَیْہِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْیَمَنِ فَقَالَ: ((یَا ضَمْرَۃُ أَتَرٰی ثَوْبَیْکَ ہٰذَیْنِ مُدْخِلَیْکَ الْجَنَّۃَ؟)) فَقَالَ: لَئِنْ اسْتَغْفَرْتَ
لِی یَا رَسُولَ اللّٰہِ، لَا أَقْعُدُ حَتّٰی أَنْزَعَہُمَا عَنِّی، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَۃَ بْنِ ثَعْلَبَۃَ۔)) فَانْطَلَقَ سَرِیعًا حَتّٰی نَزَعَہُمَا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۸)
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو یمنی لباس کے دو بیش قیمت خوبصورت کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ضمرہ! کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے یہ دو کپڑے تمہیں جنت میں لے جائیں گے؟ یہ سن کر سیدنا ضمرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں تو میں جب تک ان کو اتار نہ دوں میں بیٹھوںگا نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: یا اللہ! ضمرہ بن ثعلبہ کی مغفرت فرما۔ تو انہوںنے جلدی سے جا کر ان کپڑوں کو اتار دیا۔
Takhreej
(۱۱۷۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف بقیۃ بن الولید، فانہ کان یدلس عن الضعفاء ویدلس تدلیس التسویۃ، اخرجہ البزار: ۲۴۷۰، والطبرانی فی الکبیر : ۸۱۵۸ (انظر: ۱۸۹۷۹)
Explanation
فوائد:… ایک مسلمان کو بیش قیمت اور فاخرانہ لباس کی بجائے سادہ لباس پہننا چاہیے، ممکن ہے کہ سیدنا ضمرہ رضی اللہ عنہ والے لباس کی وجہ سے خودپسندی اور فخر میںمبتلا ہو جانا ممکن ہو۔
11751
Zaeef