TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12104 - فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان - خلافت و امارت کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 13 in this chapter
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
۔ (۱۲۱۰۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((عَلَیْکَ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ فِی عُسْرِکَ وَیُسْرِکَ، وَمَنْشَطِکَ وَمَکْرَہِکَ، وَأَثَرَۃٍ عَلَیْکَ وَلَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَہْلَہُ، وَإِنْ رَأَیْتَ أَنَّ لَکَ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((مَالَمْ یَاْمُرُوْکَ بِاِثْمٍ بَوَاحٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۱۵)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشکل ہویا آسانی،خوشی ہو یا غمی اور خواہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، تم پر لازم ہے کہ تم حکمران کی بات سنو اور اس کو تسلیم کرو اور حکومت کے بارے میں حکومت والوں سے جھگڑا نہ کرواور تم ان کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہیں صریح گناہ کا حکم نہ دیں۔
12104
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۱۰۴) تخریج: اخرجہ البخاری: ۷۰۵۵، ۷۰۵۶، ومسلم: ص ۱۴۷۰ (انظر: ۲۲۷۳۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… غور کریں کہ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا غمی، حق تلفی ہو یا حق کی ادائیگی، ہر حال میں حکمران کی بات سننے اور اس کو تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہاں جب حکمران صریح گناہ کا حکم دیں گے تو تب ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔

Related Chapters

61
1
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطوط اور کاتبین کا بیان اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: غیر مسلم حکمرانوں کے نام رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مکتوبات کا بیا ن
Musnad Ahmad
2
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
Musnad Ahmad
3
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
Musnad Ahmad
5
غزوۂ احد میں مقامِ جنگ، صفوں کی تنظیم وترتیب، قائدین کا تقرر، امام کی اطاعت کے وجوب اور اس کے امر کی مخالفت کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
6
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
Musnad Ahmad
7
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
Musnad Ahmad
8
Chapter: Obeying Rulers even if they withhold the people's rights
امراء (حکمرانوں ) کی اطاعت چاہے وہ حقوق ادا نہ کرتے ہو
Sahih Muslim
9
Chapter: Whoever Vows To Obey Allah, Then He Should Obey Him
باب: جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانے تو اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہئے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related Abou Obeying The Imam
باب: امام کی اطاعت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About: No Obedience To The Created In Disobedience To The Creator
باب: خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Misguiding A'immah
باب: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: When The Surface Of The Earth Is Better Than Its Belly, And When It Is Worse
باب: حکمراں جب تک نماز کی پابندی کرے اس کی اطاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
بَاب مَا يُوجب الْوضُوء
وجوب وضو کے اسباب کا بیان
Mishkat
15
بَاب وُجُوبهَا
وجوب جمعہ کا بیان
Mishkat
16
بَاب رزق الْوُلَاة وهداياهم
حکمرانوں کے وظائف اور ان کے تحائف کا بیان
Mishkat
17
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَالِ وَالْعُمُرِ لِلطَّاعَةِ
اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان
Mishkat
18
پانی اور مٹی نہ ہونے کے باوجود نماز کے وجوب کے قائلین کی حجت کا بیانپانی اور مٹی نہ ہونے کے باوجود نماز کے وجوب کے قائلین کی حجت کا بیان
Musnad Ahmad
19
ستر کو چھپانے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
20
فرض نماز میں قبلہ رخ ہونے کا وجوب
Musnad Ahmad
21
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
22
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
23
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
Musnad Ahmad
25
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
26
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
27
اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
28
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
29
حوالہ اور ضمان کا بیان مالدار پر حوالہ قبول کر لینے کے وجوب اور غنی کے ٹال مٹول کرنے کی حرمت کا بیان
Musnad Ahmad
30
ظالم حاکموں کی مذمت اور مُنصِف حکمرانوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
31
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
Musnad Ahmad
32
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
Musnad Ahmad
33
لعان کے حکم کے نزول سے پہلے اس خاوند پر تہمت کی حد نافذ کرنے کے وجوب کا بیان، جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے
Musnad Ahmad
34
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
35
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
36
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
Musnad Ahmad
37
(1) CHAPTER. The obligation of performing Umrah and its superiority.
عمرہ کا وجوب اور اس کی فضیلت
Sahih Bukhari
38
(108) CHAPTER. Listening to and obeying the Imam (i.e., Muslim ruler) (if he abides by Allah's Orders).
امام ( بادشاہ یا حاکم ) کی اطاعت کرنا
Sahih Bukhari
39
(111) CHAPTER. The Imam should order the people to do only those things that are within their ability.
بادشاہ اسلامی کی اطاعت لوگوں پر واجب ہے جہاں تک وہ طاقت رکھیں
Sahih Bukhari
40
(37) CHAPTER. Whoever compelled himself to obey Allah.
جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کو دبائے اس کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
41
(29) CHAPTER. If somebody vowed or took an oath that he would not speak to anybody, during the Pre-Islamic Period of Ignorance, and then he embraces Islam (should he fulfil his vow)?.
اسی نذر کا پورا کرنا لازم ہے جو عبادت اور اطاعت کے کام کے لیے کی جائے نہ کہ گناہ کے لیے
Sahih Bukhari
42
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
Sahih Muslim
43
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
Sahih Muslim
44
Chapter: The obligation to denounce rulers for that in which they go against Shari'ah, but they should not be fought so long as they pray regularly, etc
خلاف شرع امور میں حکام کے سامنے انکار کرنے کا وجوب اور جب تک وہ نماز پڑھنے رہیں ان خلاف جنگ کی ممانعت اور اس طرح کے دیگر امور
Sahih Muslim
45
Chapter: The Prophet (SAW) Acquired A Ring When He Wanted To Send Letters To The Non-Arabs
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عجم(کے حکمرانوں) کی طرف خط لکھنے کاارادہ فرمایا تو آپ نے انگوٹھی بنوائی
Sahih Muslim
46
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
Silsila Sahih
47
CHAPTER: Regarding Fighting Against The Tyrant Rulers.
باب: ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: Regarding Obedience.
باب: امیر لشکر کی اطاعت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: What Has Been Reported Regarding The Obligation Of The Sacrifices.
باب: قربانی کے وجوب کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Regarding the prohibition of wronging others.
باب: ظلم و زیادتی اور بغاوت منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

164
Musnad Ahmad
12105
۔ (۱۲۱۰۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَلَیْکَ السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ فِی عُسْرِکَ وَیُسْرِکَ، وَمَنْشَطِکَ وَمَکْرَہِکَ، وَأَثَرَۃٍ عَلَیْکَ۔)) (مسند احمد: ۸۹۴۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا ناخوشی اور بیشک تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، پھر بھی تم نے حکمران کی بات سننی ہے اور اس کو ماننا ہے۔ ‘
Jam e Tirmazi
93
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:‏‏‏‏ بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ أَتَفْعَلُ هَذَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ. قَالَ إِبْرَاهِيمُ:‏‏‏‏ وَكَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ هَذَا قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي كَانَ يُعْجِبُهُمْ،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَحُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعْدٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَبُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ:‏‏‏‏ ابْنُ عِمَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُبَيُّ بْنُ عِمَارَةَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ جَرِيرٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Hammam bin AI-Harith narrated: Jarir bin Abdullah urinated, then he performed Wudu, wiping over his Khuff. So he was asked, 'You do this?' He replied, 'What prevents me, when I have seen Allah's Messenger doing it? He [Ibrahim] said And they were impressed by the narration of Jarir since he accepted Islam after the revelation Sural Al-Ma'idah. [This is the saying of lbrahim, that is, They were impressed. ] [He said:] There are narrations on this topic from Umar, Ali, Hudhaifah, AI-Mughirah, Bilil, Sa'd, Abu Ayyub, Salman, Buraidah, Amr bin Umayyah, Anas, Sahl bin Sa'd, Ya'la bin Murrah, Ubadah bin As-Samit, Usamah bin Shank, Abu Umamah, Jabir, Usamah bin Zaid, and Ibn Ubadah. They call him Ibn Imarah and Ubayy bin Imarah.
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے کہا گیا: کیا آپ ایسا کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کام سے کون سی چیز روک سکتی ہے جبکہ میں نے خود رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کو جریر رضی الله عنہ کی یہ حدیث اچھی لگتی تھی کیونکہ ان کا اسلام سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد کا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جریر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، حذیفہ، مغیرہ، بلال، ابوایوب، سلمان، بریدۃ، عمرو بن امیہ، انس، سہل بن سعد، یعلیٰ بن مرہ، عبادہ بن صامت، اسامہ بن شریک، ابوامامہ، جابر، اسامہ بن زید، ابن عبادۃ جنہیں ابن عمارہ اور ابی بن عمارہ بھی کہا جاتا ہے رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
176
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا ذَرٍّ أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ صُلِّيَتْ لِوَقْتِهَا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً وَإِلَّا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ . وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّلَاةُ الْأُولَى هِيَ الْمَكْتُوبَةُ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ.
Abu Dharr narrated that : the Prophet said: O Abu Dharr! There will be leaders after me who cause the Salat to die; so perform the Salat during its time. If you pray (with them) during its time, then that will be voluntary Salat for you, if not, then you will have attained your Salat.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! میرے بعد کچھ ایسے امراء ( حکام ) ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے ۱؎، تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا ۲؎ نماز اپنے وقت پر پڑھ لی گئی تو امامت والی نماز تمہارے لیے نفل ہو گی، ورنہ تم نے اپنی نماز محفوظ کر ہی لی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن مسعود اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۳- یہی اہل علم میں سے کئی لوگوں کا قول ہے، یہ لوگ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی نماز اپنے وقت پر پڑھ لے جب امام اسے مؤخر کرے، پھر وہ امام کے ساتھ بھی پڑھے اور پہلی نماز ہی اکثر اہل علم کے نزدیک فرض ہو گی ۳؎۔
Jam e Tirmazi
213
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:‏‏‏‏ فُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ الصَّلَوَاتُ خَمْسِينَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نُقِصَتْ حَتَّى جُعِلَتْ خَمْسًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نُودِيَ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَإِنَّ لَكَ بِهَذِهِ الْخَمْسِ خَمْسِينَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَأَبِي قَتَادَةَ،‏‏‏‏ وَمَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Anas bin Malik narrated: On the Night of Isra, fifty prayers were made obligatory upon the Prophet. Then it was decreased until it was made five. Then it was called out: 'O Muhammad! Indeed My Word does not change; these five prayers will be recorded for you as fifty.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر معراج کی رات پچاس نمازیں فرض کی گئیں، پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ ( کم کرتے کرتے ) پانچ کر دی گئیں۔ پھر پکار کر کہا گیا: اے محمد! میری بات اٹل ہے، تمہیں ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ۲- اس باب میں عبادہ بن صامت، طلحہ بن عبیداللہ، ابوذر، ابوقتادہ، مالک بن صعصہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
247
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَنِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُمْ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ:‏‏‏‏ كُلُّ صَلَاةٍ لَمْ يُقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ:‏‏‏‏ اخْتَلَفْتُ إِلَى ابْنِ عُيَيْنَةَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَنَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْحُمَيْدِيُّ أَكْبَرَ مِنِّي بِسَنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وسَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَجَجْتُ سَبْعِينَ حَجَّةً مَاشِيًا عَلَى قَدَمَيَّ.
Ubadah bin As-Samil narrated that : the Prophet said: There is no Salat for the one who does not recite Fatihatil-Kitab.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم جن میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین وغیرہم رضی الله عنہم شامل ہیں کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر نماز کفایت نہیں کرتی، علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں: جس نماز میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی گئی وہ ناقص اور ناتمام ہے۔ یہی ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
311
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، ‏‏‏‏‏‏فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِي وَاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي قَتَادَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق يَرَوْنَ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ.
Ubadah bin As-Samit narrated: Allah's Messenger prayed the Subh prayer, and he had difficulty with the recitation. When turned (after finishing) he said: 'I think that you are reciting behind your Imam?' He said: We said: 'Yes, Messenger of Allah, by Allah!' He said: 'Do not do that, except for Umm Al-Kitab, for there is no Salat for one who does not recite it.'
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فجر پڑھی، آپ پر قرأت دشوار ہو گئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا: ”مجھے لگ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم ہم قرأت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو سوائے سورۃ فاتحہ کے اس لیے کہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث زہری نے بھی محمود بن ربیع سے اور محمود نے عبادہ بن صامت سے اور عبادہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی، یہ سب سے صحیح روایت ہے، ۳ - اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا امام کے پیچھے قرأت کے سلسلے میں عمل اسی حدیث پر ہے۔ ائمہ کرام میں سے مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے، یہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
312
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَوَاتِ بِالْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عُمَارَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ عَمْرُو بْنُ أُكَيْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ وَذَكَرُوا هَذَا الْحَرْفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا يَدْخُلُ عَلَى مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ فَقَالَ لَهُ حَامِلُ الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَنْ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَاخْتَارَ أَكْثَرُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ أَنْ لَا يَقْرَأَ الرَّجُلُ إِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ يَتَتَبَّعُ سَكَتَاتِ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمُ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالنَّاسُ يَقْرَءُونَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا قَوْمًا مِنَ الْكُوفِيِّينَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرَى أَنَّ مَنْ لَمْ يَقْرَأْ، ‏‏‏‏‏‏صَلَاتُهُ جَائِزَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَشَدَّدَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَرْكِ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحْدَهُ كَانَ أَوْ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَذَهَبُوا إِلَى مَا رَوَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَرَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشافعي،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق وَغَيْرُهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ إِذَا كَانَ وَحْدَهُ ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَيْثُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:‏‏‏‏ فَهَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏تَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ أَنَّ هَذَا إِذَا كَانَ وَحْدَهُ وَاخْتَارَ أَحْمَدُ مَعَ هَذَا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ لَا يَتْرُكَ الرَّجُلُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ.
Abu Hurairah narrated: Allah's Messenger turned (after praying) from a Salat in which he recited aloud and said: 'Has any one of you recite along with me just now?' A man said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'Indeed I said to myself: Why was I being contended with for the Quran?' He (Az-Zuhri one of the narrators) said: So when they heard that from Allah's Messenger, the people stopped reciting with Allah's Messenger in the prayers that Allah's Messenger recited aloud.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی تھی تو فرمایا: ”کیا تم میں سے ابھی کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں اللہ کے رسول! ( میں نے کی ہے ) آپ نے فرمایا: ”تبھی تو میں یہ کہہ رہا تھا: آخر کیا بات ہے کہ قرآن کی قرأت میں میری آواز سے آواز ٹکرائی جا رہی ہے اور مجھ پر غالب ہونے کی کوشش کی جاری ہے“، وہ ( زہری ) کہتے ہیں: تو جب لوگوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو لوگ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں آپ بلند آواز سے قرأت کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابن اکیمہ لیثی کا نام عمارہ ہے انہیں عمرو بن اکیمہ بھی کہا جاتا ہے، زہری کے دیگر تلامذہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن ان لوگوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے «قال الزهري فانتهى الناس عن القراءة حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”زہری نے کہا کہ لوگ قرأت سے رک گئے جس وقت ان لوگوں نے اسے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا“ ۳- اس باب میں ابن مسعود، عمران بن حصین اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ان لوگوں کے لیے رکاوٹ کا سبب بنے جن کی رائے امام کے پیچھے بھی قرأت کی ہے، اس لیے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ ہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے اور انہوں نے ہی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ”جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناتمام ہے“ تو ان سے ایک شخص نے جس نے ان سے یہ حدیث اخذ کی تھی پوچھا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں ( تو کیا کروں؟ ) تو انہوں نے کہا: تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی، ۵- اکثر محدثین نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ جب امام بلند آواز سے قرأت کرے تو مقتدی قرأت نہ کرے، اور کہا ہے کہ وہ امام کے سکتوں کا «تتبع» کرتا رہے، ”یعنی وہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لیا کرے“، ۶- امام کے پیچھے قرأت کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کرتا ہوں اور لوگ بھی کرتے ہیں سوائے کوفیوں میں سے چند لوگوں کے، اور میرا خیال ہے کہ جو نہ پڑھے اس کی بھی نماز درست ہے، ۷- اور اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس سلسلہ میں سختی برتی ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورۃ فاتحہ کا چھوڑنا جائز نہیں اگرچہ وہ امام کے پیچھے ہو، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر سورۃ فاتحہ کے نماز کفایت نہیں کرتی، یہ لوگ اس حدیث کی طرف گئے ہیں جسے عبادہ بن صامت نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور خود عبادہ بن صامت رضی الله عنہ نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بعد امام کے پیچھے قرأت کی ہے، ان کا عمل نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسی قول پر رہا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، ۸- رہے احمد بن حنبل تو وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان ”سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ اکیلے نماز پڑھ رہا ہو تب سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہو گی۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کی حدیث سے یہ استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ ”جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۱؎“۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں ایک شخص ہیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان ”سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو اکیلے پڑھ رہا ہو۔ ان سب کے باوجود احمد بن حنبل نے امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے ہی کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ آدمی سورۃ فاتحہ کو نہ چھوڑے اگرچہ امام کے پیچھے ہو۔
Jam e Tirmazi
338
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ أَوْ كَوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، ‏‏‏‏‏‏قَطَعَ صَلَاتَهُ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ فَقُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ:‏‏‏‏ مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَبْيَضِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتَنِي كَمَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ الَّذِي لَا أَشُكُّ فِيهِ أَنَّ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي نَفْسِي مِنَ الْحِمَارِ وَالْمَرْأَةِ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ إِلَّا الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ.
Abu Dharr said that : Allah's Messenger said: When a man performs Salat, and there is nothing in front of him like the post of a saddle, or a camel saddle, then his Salat is severed by (passing of) a black dog, a woman, and a donkey. It was said to Abu Dharr: What is the problem with the black dog rather than the red or white one? He said: O my nephew! I asked Allah's Messenger just as you have asked me. He said: 'The black dog is a Shaitan (devil).'
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی نماز پڑھے اور اس کے سامنے کجاوے کی آخری ( لکڑی یا کہا: کجاوے کی بیچ کی لکڑی کی طرح ) کوئی چیز نہ ہو تو: کالے کتے، عورت اور گدھے کے گزرنے سے اس کی نماز باطل ہو جائے گی“ ۱؎ میں نے ابوذر سے کہا: لال، اور سفید کے مقابلے میں کالے کی کیا خصوصیت ہے؟ انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! تم نے مجھ سے ایسے ہی پوچھا ہے جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا: ”کالا کتا شیطان ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، حکم بن عمرو بن غفاری، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ گدھا، عورت اور کالا کتا نماز کو باطل کر دیتا ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں: مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا کتا نماز باطل کر دیتا ہے لیکن گدھے اور عورت کے سلسلے میں مجھے کچھ تذبذب ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: کالے کتے کے سوا کوئی اور چیز نماز باطل نہیں کرتی۔
Jam e Tirmazi
339
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ مُشْتَمِلًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ أَبِي أَسِيدٍ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَكَيْسَانَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ هَانِئٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،‏‏‏‏ وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِهِمْ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبَيْنِ.
Umar bin Abi Salamah narrated that he saw : Allah's Messenger performing Salat in the house of Umm Salamah wrapped in one garment.
عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا، کہ آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر بن ابی سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جابر، سلمہ بن الاکوع، انس، عمرو بن ابی اسید، عبادہ بن صامت، ابو سعید خدری، کیسان، ابن عباس، عائشہ، ام ہانی، عمار بن یاسر، طلق بن علی، اور عبادہ بن صامت انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین وغیرہم سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ آدمی دو کپڑوں میں نماز پڑھے۔