TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے - فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے - خلافت و امارت کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 14 of خلافت و امارت کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 14 of 113 · 10 Hadith
۔ (۱۲۱۱۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا طَاعَۃَ لِبَشَرٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۵)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتو کسی بھی انسان کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
Takhreej
(۱۲۱۱۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، اخرجہ ابویعلی: ۲۷۹، ۳۷۷، والبزار: ۵۸۶ (انظر: ۱۰۶۵)
12115
Sahih
۔ (۱۲۱۱۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتی ہو تو مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
Takhreej
(۱۲۱۱۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ بنحوہ مع القصۃ البخاری ۷۲۵۷، ومسلم: ۱۸۴۰ (انظر: ۱۰۹۵)
Explanation
فوائد:… اصل کلیہ اور ضابطہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی جائے اور ان دونوں کی نافرمانی سے بچا جائے، کوئی تیسری ہستی ایسی نہیں ہے کہ فرمانبرداری و نافرمانی کے سلسلے میں جس کی حیثیت مستقل بالذات ہے۔ دیکھیں: حدیث نمبر (۳۲۹)
12116
Sahih
۔ (۱۲۱۱۷)۔ (وَعَنْہ) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیَّۃً، وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجُوْا، قَالَ: وَجَدَ عَلَیْہِمْ فِی شَیْئٍ، فَقَالَ لَہُمْ: أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تُطِیعُونِی؟ قَالَ: قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: فَقَالَ: اجْمَعُوْا حَطَبًا، ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ، فَأَضْرَمَہَا فِیہِ، ثُمَّ قَالَ: عَزَمْتُ عَلَیْکُمْ لَتَدْخُلُنَّہَا، قَالَ: فَہَمَّ الْقَوْمُ أَنْ یَدْخُلُوہَا، قَالَ: فَقَالَ لَہُمْ شَابٌّ مِنْہُمْ: إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ النَّارِ، فَلَا تَعْجَلُوْا حَتّٰی تَلْقَوُا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،فَإِنْ أَمَرَکُمْ أَنْ تَدْخُلُوہَا فَادْخُلُوْا، قَالَ: فَرَجَعُوْا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرُوہُ، فَقَالَ لَہُمْ: ((لَوْ دَخَلْتُمُوہَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْہَا أَبَدًا، إِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوفِ۔))
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک جہادی لشکر روانہ کیااور ایک نصاری کو ان پر امیر مقر ر فرمایا، وہ کسی بات پر اپنے لشکر سے ناراض ہوگیا، اس نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیں میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں،دیا ہے، پس اس نے کہا: لکڑیاں جمع کرو، پھر اس نے آگ منگوا کر ان کو آگ لگا دی اور کہا:میں تم لوگوں کو تاکیدی حکم دیتا ہو ں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ، بعض لوگوں نے تو واقعی آگ میں گھس جانے کا ارادہ کر لیا، اتنے میں ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: تم آگ سے بچنے کے لیے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آئے ہو، لہٰذا جلدبازی نہ کرو، پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تو مل لو، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آگ میں داخل ہونے کا حکم ہی دیا تو داخل ہوجانا، پس جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارا ماجرہ سنایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو کبھی بھی اس سے نہ نکل سکتے، اطاعت صرف جائز کا م میں ہوتی ہے۔
Takhreej
(۱۲۱۱۷) تخریج: اخرجہ البخاری: ۴۳۴۰، ومسلم: ۱۸۴۰ (انظر: ۶۲۲)
Explanation
فوائد:… کوئی اعلی ہو یا ادنی، حاکم ہو یا محکوم، جس کی بات بھی قرآن و حدیث کے مخالف ہو گی، اس کی کوئی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ کئی فوائد پر مشتمل ہے، ایک فائدہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیںکی جا سکتی، وہ امراء و حکام ہوں یا علماء و مشائخ۔ معلوم ہوا کہ درج ذیل تین گروہ گمراہ ہیں: (پہلا گروہ)… بعض صوفی منش لوگ اپنے پیروں اور شیخوں کی تقلید کرتے ہیں، اگرچہ وہ ان کو واضح نافرمانی کا حکم دیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ درحقیقت نافرمانی نہیں ہوتی، کیونکہ شیخ کی علم و معرفت کی سطح مرید سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور جو کچھ شیخ دیکھتا ہے، وہ مرید کو نظر نہیں آ رہا ہوتا۔ میں ایک ایسے ہی شیخ کو جانتا ہوں، وہ اپنے آپ کو مرشد سمجھتا ہے، وہ ایک دن مسجد میں اپنے مریدوں کے سامنے ایک قصہ بیان کر رہا تھا، جس کا خلاصہ یہ ہے: ایک صوفی شیخ نے ایک رات اپنے مرید کو حکم دیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے، جو اِس وقت بستر پر اپنی بیوی کے ساتھ لیٹا ہوا تھا، سو اس نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور اس بات پر خوش تھا کہ اس نے اپنے شیخ کے حکم کی تعمیل کی ہے۔ جب شیخ نے اس کی طرف دیکھا تو پوچھا: کیا تو اس گمان میں ہے کہ تو نے اپنے حقیقی باپ کو قتل کر دیا؟ نہیں،نہیں۔ وہ تو تیری ماں کا یار تھا، تیرا باپ تو گھر پر موجود ہی نہ تھا۔ اس نے قصہ بیان کر کے اس سے بزعم خودایک شرعی حکم کا استدلال کرتے ہوئے کہا: جب کوئی شیخ اپنے مرید کو ایسا حکم دے،جو شریعت کے مخالف ہو، تو مرید کو چاہیے کہ وہ اس کی پاسداری کرے۔ تم لوگ دیکھتے نہیں کہ اس شیخ نے اپنے مرید سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے۔ دراصل وہ اسے اس کی ماں کے ساتھ زناکرنے والے کو قتل کرنے کا حکم دے رہا تھا اور وہ شرعاً قتل کا ہی مستحق تھا۔ قارئین کرام! غور فرمائیں کہ اس قصہ کے باطل ہونے کی کئی وجوہات ہیں ، مثال کے طور پر: (اول)… حدّ نافذ کرنا شیخ کا حق نہیں ہے، وہ کتنا عظیم ہی کیوں نہ ہو، یہ امیر یا والی کا حق ہے۔ (دوم)… اگر اس شیخ کو نفاذِ حدّ کا حق تھا تو اس نے عورت پر حدّ کیوں نہ لگائی؟ کیونکہ وہ دونوں اس برائی میں برابر کے مجرم اور برابر کے سزا کے حقدار تھے۔ (سوم)… شادی شدہ زانی کی حد رجم یعنی پتھروں سے سنگسار کرنا ہے، نہ کہ صرف قتل۔ واضح ہوا کہ شیخ نے کئی طرح سے شریعت کی مخالفت کی، یہی معاملہ اِ س مرشد کا ہے، جو اس قصے کو بنیاد بنا کر شیخ کی تقلید کو واجب قرار دے رہا ہے، اگرچہ یہ قصہ شریعت کے مخالف ہے۔ اِس مرشد نے اپنے باطل بیان کے دوران مریدوں سے یہ بات بھی کہی تھی کہ اگر تم اپنے شیخ کی گردن میں صلیب دیکھو تو تم اس پر اعتراض کرنے کا کوئی جواز نہیں رکھتے۔ اگرچہ یہ کلام واضح طور پر باطل ہے اور شرع اور عقل کے مخالف ہے، لیکن اس کے باوجود بااعتماد نوجوانوں سمیت بعض لوگوں پر اس کا جادو چل جاتا ہے۔ اسی قسم کے ایک مرید کے ساتھ اس قصہ کے موضوع پر میرا مباحثہ ہونے لگا، اس نے یہ سارا واقعہ اور اس سے کیا جانے والا استدلال اپنے مرشد سے سنا ہوا تھا۔ اس کے خیال کے مطابق یہ اس شیخ کی کرامت تھی اور اس کا اس قصے کے صحیح ہونے پر مکمل اعتماد تھا۔ اس نے مجھے کہا: تم لوگ کرامتوں کا انکار کرتے ہو۔ لیکن جب میں نے اسے کہا: اگر تیرا شیخ تجھے یہ حکم دے کہ تو اپنے والدین کو قتل کر دے تو کیا اس کی اطاعت کرے گا؟ اس نے کہا: میں ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچا۔ ستیاناس ہو اس قیادت کا، کہ جس سے لوگوں کے عقل ماؤف ہو جاتے ہیں اور وہ ضلالت و گمراہی میں پھنسے ہوئے شیخوں کے اس قدر تابع نظر آتے ہیں۔ (دوسرا گروہ)…مقلدین کا گروہ، جو اپنے امام کے قول کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث پر ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کسی مقلِّد سے کہا جاتا ہے کہ اقامت ہو جانے کے بعد فجر کی سنتیں نہ پڑھا کرو، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ اس حدیث کی اطاعت نہیںکرے گا، بلکہ یوں لب کشائی کرے گا: ہمارے مذہب میں جائز ہے۔ اسی طرح جب (حنفی) مقلدوں سے کہا جاتا ہے کہ حلالہ والا نکاح باطل ہے، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کرنے والے پر لعنت کی ہے، تو وہ جواب دے گا: نہیں، نہیں۔ بلکہ فلاں فلاں مذہب کے مطابق جائز ہے۔ اسی طرح کے سینکڑوں مسائل ہیں۔ اکثر محقق علماء و فقہاء کا یہ خیال ہے کہ اس قسم کے مقلد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ فخر الرازی نے اپنے تفسیر میں اس کی خوب وضاحت کی ہے۔ (تیسرا گروہ) …وہ لوگ، جو اپنے حکمرانوں کے وضع کردہ ان قوانین و ضوابط کی پیروی کرتے ہیں، جو شریعت کے مخالف ہوتے ہیں، جیسے کیمونزم اور اس کے ملتے جلنے نظام۔ اور ان سے بدتر وہ لوگ ہیں، جو شریعت کے ان مخالف امور کو شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ایسی مصیبت ہے جس نے عصرِ حاضر کے علم و اصلاح کے دعویداروں کا گھیراؤ کر لیا ہے اور عوام کو ان سے بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ یہ پیروکار اپنے قائدین سمیت اس آیت کا مصداق بنتے ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے حمایت و حفاظت اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔ (صحیحہ: ۱۸۱)
12117
Sahih
۔ (۱۲۱۱۸)۔ (وَعَنْہٗمِنْطَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ) وَفِیْہٖ: ((لَوْ دَخَلْتُمُوْھَا لَمْ تَزَالُوْا فِیْھَا اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) وَقَالَ لِلْاَخَرِیْنْ قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ: ((لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَّۃِ اللّٰہِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۴)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔ اور جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے سے انکار کیا تھا، آپ نے ان کے بارے میں اچھی بات ارشاد فرمائی اور فرمایا: اللہ کی معصیت ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، اطاعت تو صرف جائز کام میں ہوتی ہے۔
Takhreej
(۱۲۱۱۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12118
Sahih
۔ (۱۲۱۱۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ عَلَی الْمَرْئِ فِیمَا أَحَبَّ أَوْ کَرِہَ إِلَّا أَنْ یُؤْمَرَ بِمَعْصِیَۃٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَۃَََََ۔)) (مسند احمد: ۴۶۶۸)
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انسان پر لازم ہے کہ وہ حکمران کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، وہ ان امور کو چاہتا ہو یا نہ چاہتا ہو، ما سوائے اس کے کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اس حکم کو نہ سنے اور نہ اس کی اطاعت کرے۔
Takhreej
(۱۲۱۱۹) تخریج: اخرجہ البخاری: ۲۹۵۵، ۷۱۴۴، ومسلم: ۱۸۳۹(انظر: ۴۶۶۸)
12119
Sahih
۔ (۱۲۱۲۰)۔ وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۴۶)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی کوئی فرمانبرداری نہیںہے۔
Takhreej
(۱۲۱۲۰) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ البزار: ۳۵۹۹(انظر: ۱۹۹۰۴)
12120
Sahih
۔ (۱۲۱۲۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا یُونُسُ وَحُمَیْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ زِیَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَکَمَ الْغِفَارِیَّ عَلٰی جَیْشٍ، فَأَتَاہُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ، فَلَقِیَہُ بَیْنَ النَّاسِ فَقَالَ: أَتَدْرِی لِمَ جِئْتُکَ؟ فَقَالَ لَہُ: لِمَ؟ قَالَ: ہَلْ تَذْکُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ الَّذِی قَالَ لَہُ أَمِیرُہُ: قَعْ فِی النَّارِ، فَأَدْرَکَ فَاحْتَبَسَ، فَأُخْبِرَ بِذٰلِکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَال:َ ((لَوْ وَقَعَ فِیہَا لَدَخَلَا النَّارَ جَمِیعًا لَا طَاعَۃَ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اِنَّمَا اَرَدْتُّ اَنْ اُذَکِّرُکَ ھٰذَا الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۳۵)
حسن سے روایت ہے کہ زیاد نے حکم غفاری کو ایک لشکر پر امیر بنایا، سیدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے اور لوگوں کے ما بین اس سے ملے اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ہاں کس لیے آیا ہوں؟ ا س نے کہا: جی بتائیں، کس لیے آئے ہیں؟ انہو ں نے کہا، کیا تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ بات یاد ہے جوآپ نے اس آدمی سے ارشاد فرمائی تھی، جسے اس کے امیر نے کہا تھا، آگ میں گھس جا، مگر اس آدمی نے یہ بات ماننے سے انکار کیا تھا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: اگر وہ آگ میں داخل ہو جاتا تو وہ دونوں(حکم دینے والا اور اس کو ماننے والا) جہنم میں جاتے، اللہ تعالیٰ کی معصیت ہو رہی ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ حکم غفاری نے کہا: جی ہاں، یاد ہے۔ پھر سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہیں یہ حدیث یاد دلانا چاہتا تھا۔
Takhreej
(۱۲۱۲۱) تخریج: حدیث صحیح، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۱۵۹، والبزار: ۳۵۸۱، والحاکم: ۳/ ۴۴۳ (انظر: ۲۰۶۵۹)
12121
Sahih
۔ (۱۲۱۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَرَادَ زِیَادٌ أَنْ یَبْعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ عَلٰی خُرَاسَانَ فَأَبٰی عَلَیْہِمْ، فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ: أَتَرَکْتَ خُرَاسَانَ أَنْ تَکُونَ عَلَیْہَا؟ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّی وَاللّٰہِ! مَایَسُرُّنِی أَنْ أُصَلِّیَ بِحَرِّہَا، وَتُصَلُّونَ بِبَرْدِہَا، إِنِّی أَخَافُ إِذَا کُنْتُ فِی نُحُورِ الْعَدُوِّ أَنْ یَأْتِیَنِی کِتَابٌ مِنْ زِیَادٍ، فَإِنْ أَنَا مَضَیْتُ ہَلَکْتُ، وَإِنْ رَجَعْتُ ضُرِبَتْ عُنُقِی، قَالَ: فَأَرَادَ الْحَکَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِیُّ عَلَیْہَا، قَالَ: فَانْقَادَ لِأَمْرِہِ، قَالَ: فَقَالَ عِمْرَانُ: أَلَا أَحَدٌ یَدْعُو لِی الْحَکَمَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّسُولُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ الْحَکَمُ إِلَیْہِ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ عِمْرَانُ لِلْحَکَمِ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا طَاعَۃَ لِأَحَدٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ عِمْرَانُ: لِلَّہِ الْحَمْدُ أَوِ اللّٰہُ أَکْبَرُ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۳۰)
سیدنا عبداللہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ زیاد نے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خراسان کی طرف بھیجنے کا اردہ کیا، لیکن انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا، ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: آپ نے خراسان کی امارت کا انکار کر دیا؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ امارت کی مشکلات تو میں برداشت کروں اور اس کے ثمرات سے تم فائدہ اٹھاؤ، دراصل میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اگر میں دشمن کے مقابلے میں ہوں اور زیاد کا خط مجھے ملے، (اس خط کے مطابق) اگر میں آگے بڑھوں تو ہلاک ہوتا ہوں اور اگر پیچھے ہٹوں تومجھے قتل کر دیا جائے، پس زیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس لشکر پر امیر بنانے کا ارادہ کیا اور انھوں نے زیاد کے اس حکم کو تسلیم کر لیا، اُدھر سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:کوئی ہے جو حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو میرے پاس بلا لائے؟ ایک آدمی گیا اور حکم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے،جب وہ ان کے ہا ں پہنچے تو سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتی ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔ ؟ انھوں نے کہا، جی ہاں، عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (نے شکر ادا کرتے ہوئے) لِلّٰہِ الْحَمْدُ یا اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔
Takhreej
(۱۲۱۲۲) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۲۰۶۵۴)
12122
Sahih
۔ (۱۲۱۲۳)۔ وَعَنْ أَنَسِ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَہُ أَنَّ مُعَاذًا قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ عَلَیْنَا أُمَرَائُ لَا یَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِکَ، وَلَا یَأْخُذُونَ بِأَمْرِکَ، فَمَا تَأْمُرُ فِی أَمْرِہِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا طَاعَۃَ لِمَنْ لَمْ یُطِعْ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۳۲۵۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے راویت ہے، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہو جائیں جو آپ کی سنت کی اقتدا نہ کریں اور آپ کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان کے بارے میں ہمارے لیے کیا حکم ہو گا؟رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتا، اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔
Takhreej
(۱۲۱۲۳) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، اخرجہ ابویعلی: ۴۰۴۶، والبخاری فی الکبیر : ۶/ ۳۳۲ (انظر: ۱۳۲۲۵)
12123
Sahih
۔ (۱۲۱۲۴)۔ فَقَالَ عُبَادَۃُ لِأَبِی ہُرَیْرَۃَ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! إِنَّکَ لَمْ تَکُنْ مَعَنَا إِذْ بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، إِنَّا بَایَعْنَاہُ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی النَّشَاطِ وَالْکَسَلِ، وَعَلَی النَّفَقَۃِ فِی الْیُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَعَلَی الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَعَلٰی أَنْ نَقُولَ فِی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَلَا نَخَافَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ فِیہِ، وَعَلٰی َٔنْ نَنْصُرَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ عَلَیْنَایَثْرِبَ فَنَمْنَعُہُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْہُ أَنْفُسَنَا وَأَزْوَاجَنَا وَأَبْنَائَ نَا، وَلَنَا الْجَنَّۃُ، فَہٰذِہِ بَیْعَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّتِی بَایَعْنَا عَلَیْہَا، فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّمَایَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہِ، وَمَنْ أَوْفٰی بِمَا بَایَعَ رَسُولَ اللّٰہِ وَفَّی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِمَا بَایَعَ عَلَیْہِ نَبِیَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَکَتَبَ مُعَاوِیَۃُ إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ قَدْ أَفْسَدَ عَلَیَّ الشَّامَ وَأَہْلَہُ، فَإِمَّا تُکِنُّ إِلَیْکَ عُبَادَۃَ، وَإِمَّا أُخَلِّی بَیْنَہُ وَبَیْنَ الشَّامِ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ أَنْ رَحِّلْ عُبَادَۃَ حَتّٰی تُرْجِعَہُ إِلٰی دَارِہِ مِنَ الْمَدِینَۃِ، فَبَعَثَ بِعُبَادَۃَ حَتّٰی قَدِمَ الْمَدِینَۃَ، فَدَخَلَ عَلٰی عُثْمَانَ فِی الدَّارِ وَلَیْسَ فِی الدَّارِ غَیْرُ رَجُلٍ مِنَ السَّابِقِینَ أَوْ مِنَ التَّابِعِینَ، قَدْ أَدْرَکَ الْقَوْمَ فَلَمْ یَفْجَأْ عُثْمَانَ إِلَّا وَہُوَ قَاعِدٌ فِی جَنْبِ الدَّارِ، فَالْتَفَتَ إِلَیْہِ فَقَالَ: یَا عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ! مَا لَنَا وَلَکَ؟ فَقَامَ عُبَادَۃُ بَیْنَ ظَہْرَیِ النَّاسِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّہُ سَیَلِی أُمُورَکُمْ بَعْدِی رِجَالٌ یُعَرِّفُونَکُمْ مَا تُنْکِرُونَ، وَیُنْکِرُونَ عَلَیْکُمْ مَا تَعْرِفُونَ، فَلَا طَاعَۃ لِمَنْ عَصَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۹)
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوںنے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ابو ہریرہ! تم تو اس وقت موجود نہ تھے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے ہمارے ہاں یثرب میں تشریف لائے، ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ ہم چستی اور سستی یعنی ہر حال میں آپ کی بات سن کر اس کی اطاعت کریںگے، اور خوش حالی ہو یا تنگ دستی، جب بھی ضرورت پڑی تو ہر حال میں خرچ کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے، اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی والی بات کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے سے خوف زدہ نہیں ہوں گے، ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دل وجان سے مدد کریں گے اورجن جن چیزوں سے ہم اپنی جانوں، بیویوں اور بیٹوں کو بچاتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی ان سے بچائیں گے اور اس کے بدلے ہمیں جنت ملے گی۔ یہ وہ امورِ بیعت ہیں، جن پر ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، جو اس کی خلاف ورزی کرے گا، اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اللہ کے بارے میں جو بیعت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لی اور کی ہے، کون ہے جو اپنی بیعت کو ان سے بڑھ کر پورا کرنے والا ہو؟ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لکھا کر سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شام اور اہل شام کو میرے خلاف کر دیا ہے، آپ یا تو عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے ہاں بلالیں، ورنہ میں انہیں شام سے باہر نکلوا دوں گا۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں لکھا کہ آپ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مدینہ واپس بھیج دیں، پس سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو واپس بھجوادیا، پس جب وہ مدینہ واپس آئے تو وہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گھرمیں ان کے ہاں گئے، گھر میں سابقین اولین میں سے صرف ایک آدمی تھا اور وہ بھی لوگوںکے پاس چلا گیا، عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے، وہ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: عبادہ!آپ کا اور ہمارا کیا معاملہ ہے؟ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے ابو القاسم محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے معاملات پر اسے لوگ غالب آجائیں گے کہ تم جن کاموں کو غلط سمجھتے ہو گے، وہ انہیں صحیح سمجھیں گے اور تم جن کاموں کو اچھا سمجھتے ہو گے، وہ انہیں غلط سمجھیں گے، جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے تو اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، تم اپنے رب کے ہاں اس کی کوئی معذرت پیش نہیں کر سکو گے۔
Takhreej
(۱۲۱۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، اسماعیل بن عیاش ضعیف فی روایتہ عن غیر اھل بلدہ، وھذا منھا، واسماعیل بن رفاعۃ الانصاری، روی عنہ اثنان، واحدھما ضعیف، وذکرہ ابن حبان فی الثقات (انظر: ۲۲۷۶۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ہجرت سے قبل مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جا کر اسلام قبول کرنے اور بیعت عقبہ اولیٰ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا، اس موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان میں سے بارہ افراد کو نقیب یعنی ذمہ دار اور نگران مقرر کیا تھا، ان نقباء میں سے ایک سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، حدیث کے شروع میں سیدنا عبادہ اس بیعت والے امور کا ذکر کر رہے ہیں۔
12124
Zaeef

Chapters

113
01
(باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
16 Hadith
02
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
1 Hadith
03
فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
5 Hadith
04
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
8 Hadith
05
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
5 Hadith
06
فصل: اس حکمران کی وعید کا بیان جو رعایاکے امور کے سامنے رکاوٹیں ڈالتا ہے
3 Hadith
07
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
5 Hadith
08
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
11 Hadith
09
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
3 Hadith
10
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
18 Hadith
11
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
4 Hadith
12
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
5 Hadith
13
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
13 Hadith
14
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
10 Hadith
15
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
4 Hadith
16
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
4 Hadith
17
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
11 Hadith
18
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
9 Hadith
19
باب اول: ان احادیث کا بیان جن میں ان کی خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
9 Hadith
20
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
5 Hadith
21
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
2 Hadith
22
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
1 Hadith
23
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
1 Hadith
24
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
4 Hadith
25
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
2 Hadith
26
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
1 Hadith
27
فصل سوم: سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
4 Hadith
28
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
3 Hadith
29
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
1 Hadith
30
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
5 Hadith
31
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
7 Hadith
32
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
7 Hadith
33
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
5 Hadith
34
فصل پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
4 Hadith
35
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
5 Hadith
36
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
1 Hadith
37
فصل: کسریٰ کے خزانوں کی فتح
1 Hadith
38
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مشہور خطاب اور۱۶ھ میں خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
2 Hadith
39
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
1 Hadith
40
فصل پنجم: ۱۹ھ میں سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سرز مین خیبر سے یہودیوں کو جلا وطن کرنا
1 Hadith
41
باب چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات رعایا کے مابین عدل کے بارے میں ان کا خطبہ
2 Hadith
42
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
1 Hadith
43
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
4 Hadith
44
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
4 Hadith
45
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
1 Hadith
46
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
4 Hadith
47
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
8 Hadith
48
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
2 Hadith
49
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے شرم و حیا ء اور فرشتوں کا ان سے شرمانے کا بیان
5 Hadith
50
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
5 Hadith
51
باب سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات اور ان کا دفاع
2 Hadith
52
فصل: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
1 Hadith
53
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
2 Hadith
54
سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ربذہ کی طرف شہربدری
2 Hadith
55
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
3 Hadith
56
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
4 Hadith
57
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
2 Hadith
58
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
2 Hadith
59
فصل پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تاریخ شہادت، ان کی جنازہ، دفن اور مدتِ خلافت کا بیان
7 Hadith
60
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
5 Hadith
61
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
1 Hadith
62
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
20 Hadith
63
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
4 Hadith
64
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
6 Hadith
65
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
3 Hadith
66
فصل ہفتم: شیعہ لو گوں کاسیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے محبت کرنا اور خارجی لوگوں کا ان سے بغض رکھنا
2 Hadith
67
باب سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات کا بیان
7 Hadith
68
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
5 Hadith
69
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
4 Hadith
70
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
7 Hadith
71
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
2 Hadith
72
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
1 Hadith
73
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
7 Hadith
74
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
12 Hadith
75
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
8 Hadith
76
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
1 Hadith
77
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
4 Hadith
78
باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
4 Hadith
79
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
1 Hadith
80
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خطبہ
2 Hadith
81
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
4 Hadith
82
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
5 Hadith
83
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
5 Hadith
84
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
4 Hadith
85
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
1 Hadith
86
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
1 Hadith
87
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
2 Hadith
88
باب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
3 Hadith
89
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
1 Hadith
90
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
1 Hadith
91
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
3 Hadith
92
فصل دوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
1 Hadith
93
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
1 Hadith
94
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
3 Hadith
95
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
1 Hadith
96
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
3 Hadith
97
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
1 Hadith
98
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
1 Hadith
99
فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
2 Hadith
100
فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات
1 Hadith
101
فصل: عبید اللہ بن زیاد کا تذکرہ
1 Hadith
102
باب پنجم: یزید بن معاویہ کی وفات
1 Hadith
103
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
2 Hadith
104
باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
5 Hadith
105
باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
4 Hadith
106
باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا
1 Hadith
107
مختار ثقفی کا ظہور
4 Hadith
108
باب پنجم: عبدالملک بن مروان کا حجاج بن یوسف کو مصعب بن زبیر سے لڑنے کے لیے عراق کی طرف روانہ کرنا
1 Hadith
109
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
5 Hadith
110
امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز i کی خلافت کے ابواب باب اول: عمر بن عبد العزیز کے مناقب
3 Hadith
111
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
1 Hadith
112
ولید بن یزید بن عبدالملک کی خلافت
1 Hadith
113
حکومت عباسیہ کا آغاز اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس سے مطلع کرنا
2 Hadith
No chapter matched that.