TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12111 - فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان - خلافت و امارت کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 13 in this chapter
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
۔ (۱۲۱۱۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُہْلِکُ أُمَّتِی ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ قُرَیْشٍ۔)) قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوہُمْ۔)) و قَالَ أَبِی فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ: اضْرِبْ عَلٰی ہٰذَا الْحَدِیثِ فَإِنَّہُ خِلَافُ الْأَحَادِیثِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَعْنِی قَوْلَہُ: ((اسْمَعُوا وَأَطِیعُوا وَاصْبِرُوا۔)) (مسند احمد: ۷۹۹۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریش کا قبیلہ میری امت کو ہلاک کرے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ان سے الگ تھلک رہیں گے( تو وہ ان کے شرّ سے بچے رہیں گے۔ امام احمد نے مرض الموت کے دنوں میں کہا: اس حدیث کو مٹا دو، کیونکہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف ہے، جن میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حکمرانوں کی بات سنو، ان کی اطاعت کرو اور صبر کرو۔
12111
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۱۱۱) تخریج: اخرجہ البخاری: ۳۶۰۴، ومسلم: ۲۹۱۷(انظر: ۸۰۰۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… یہ دو الگ الگ احادیث ہیں اور دونوں کے مصداق الگ الگ حکمران ہیں، ایسے حکمران بھی گزر چکے ہیں کہ ہر حال میں جن کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا ضروری تھا، لیکن ایسے حکمران بھی ہو گزرے ہیں کہ جن سے اجتناب کرنا بہتر تھا۔

Related Chapters

61
1
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطوط اور کاتبین کا بیان اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: غیر مسلم حکمرانوں کے نام رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مکتوبات کا بیا ن
Musnad Ahmad
2
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
Musnad Ahmad
3
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
Musnad Ahmad
5
غزوۂ احد میں مقامِ جنگ، صفوں کی تنظیم وترتیب، قائدین کا تقرر، امام کی اطاعت کے وجوب اور اس کے امر کی مخالفت کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
6
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
Musnad Ahmad
7
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
Musnad Ahmad
8
Chapter: Obeying Rulers even if they withhold the people's rights
امراء (حکمرانوں ) کی اطاعت چاہے وہ حقوق ادا نہ کرتے ہو
Sahih Muslim
9
Chapter: Whoever Vows To Obey Allah, Then He Should Obey Him
باب: جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانے تو اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہئے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related Abou Obeying The Imam
باب: امام کی اطاعت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About: No Obedience To The Created In Disobedience To The Creator
باب: خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Misguiding A'immah
باب: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: When The Surface Of The Earth Is Better Than Its Belly, And When It Is Worse
باب: حکمراں جب تک نماز کی پابندی کرے اس کی اطاعت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
بَاب مَا يُوجب الْوضُوء
وجوب وضو کے اسباب کا بیان
Mishkat
15
بَاب وُجُوبهَا
وجوب جمعہ کا بیان
Mishkat
16
بَاب رزق الْوُلَاة وهداياهم
حکمرانوں کے وظائف اور ان کے تحائف کا بیان
Mishkat
17
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَالِ وَالْعُمُرِ لِلطَّاعَةِ
اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان
Mishkat
18
پانی اور مٹی نہ ہونے کے باوجود نماز کے وجوب کے قائلین کی حجت کا بیانپانی اور مٹی نہ ہونے کے باوجود نماز کے وجوب کے قائلین کی حجت کا بیان
Musnad Ahmad
19
ستر کو چھپانے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
20
فرض نماز میں قبلہ رخ ہونے کا وجوب
Musnad Ahmad
21
فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
22
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
23
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
Musnad Ahmad
25
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
26
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
27
اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
28
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
29
حوالہ اور ضمان کا بیان مالدار پر حوالہ قبول کر لینے کے وجوب اور غنی کے ٹال مٹول کرنے کی حرمت کا بیان
Musnad Ahmad
30
ظالم حاکموں کی مذمت اور مُنصِف حکمرانوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
31
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
Musnad Ahmad
32
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
Musnad Ahmad
33
لعان کے حکم کے نزول سے پہلے اس خاوند پر تہمت کی حد نافذ کرنے کے وجوب کا بیان، جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے
Musnad Ahmad
34
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
35
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
36
یزید بن عبدالملک کی خلافت یزید بن عبد الملک کی اطاعت سے یزید بن مہلب کا خروج
Musnad Ahmad
37
(1) CHAPTER. The obligation of performing Umrah and its superiority.
عمرہ کا وجوب اور اس کی فضیلت
Sahih Bukhari
38
(108) CHAPTER. Listening to and obeying the Imam (i.e., Muslim ruler) (if he abides by Allah's Orders).
امام ( بادشاہ یا حاکم ) کی اطاعت کرنا
Sahih Bukhari
39
(111) CHAPTER. The Imam should order the people to do only those things that are within their ability.
بادشاہ اسلامی کی اطاعت لوگوں پر واجب ہے جہاں تک وہ طاقت رکھیں
Sahih Bukhari
40
(37) CHAPTER. Whoever compelled himself to obey Allah.
جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کو دبائے اس کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
41
(29) CHAPTER. If somebody vowed or took an oath that he would not speak to anybody, during the Pre-Islamic Period of Ignorance, and then he embraces Islam (should he fulfil his vow)?.
اسی نذر کا پورا کرنا لازم ہے جو عبادت اور اطاعت کے کام کے لیے کی جائے نہ کہ گناہ کے لیے
Sahih Bukhari
42
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
Sahih Muslim
43
Chapter: The obligation of obeying leaders in matters that do not involve sin, but it is forbidden to obey them in sinful matters
گناہ کے کاموں کے علاوہ دوسرے کاموں میں حکام کی اطاعت اور گناہ کے کاموں میں اطاعت کی حرمت
Sahih Muslim
44
Chapter: The obligation to denounce rulers for that in which they go against Shari'ah, but they should not be fought so long as they pray regularly, etc
خلاف شرع امور میں حکام کے سامنے انکار کرنے کا وجوب اور جب تک وہ نماز پڑھنے رہیں ان خلاف جنگ کی ممانعت اور اس طرح کے دیگر امور
Sahih Muslim
45
Chapter: The Prophet (SAW) Acquired A Ring When He Wanted To Send Letters To The Non-Arabs
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عجم(کے حکمرانوں) کی طرف خط لکھنے کاارادہ فرمایا تو آپ نے انگوٹھی بنوائی
Sahih Muslim
46
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
Silsila Sahih
47
CHAPTER: Regarding Fighting Against The Tyrant Rulers.
باب: ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: Regarding Obedience.
باب: امیر لشکر کی اطاعت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: What Has Been Reported Regarding The Obligation Of The Sacrifices.
باب: قربانی کے وجوب کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Regarding the prohibition of wronging others.
باب: ظلم و زیادتی اور بغاوت منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

2
Musnad Ahmad
11608
۔ (۱۱۶۰۸)۔ عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: صَلّٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ صَلَاۃَ الْعِشَاء ِ فِی آخِرِ حَیَاتِہِ، فَلَمَّا قَامَ قَالَ: ((أَرَأَیْتُمْ لَیْلَتَکُمْ ہٰذِہِ عَلٰی رَأْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ مِنْہَا لَا یَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ۔)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَہِلَ النَّاسُ فِی مَقَالَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تِلْکَ فِیمَا یَتَحَدَّثُونَ مِنْ ہٰذِہِ الْأَحَادِیثِ عَنْ مِائَۃِ سَنَۃٍ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یَبْقَی الْیَوْمَ مِمَّنْ ہُوَ عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ یُرِیدُ أَنْ یَنْخَرِمَ ذٰلِکَ الْقَرْنُ۔)) (مسند احمد: ۶۰۲۸)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی کے اواخر میں ایک رات عشاء کی نماز پڑھائی اور پھر کھڑے ہو کر فرمایا: آج رات جو بھی جان دار اس روئے زمین پر موجود ہے، سو سال بعد ان میں سے ایک بھی زندہ باقی نہیں رہے گا۔ سیدنا عبداللہ (بن عمر) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات سن کر سب لوگ دم بخود رہ گئے اور سو سال سے متعلقہ ان احادیث کے متعلق مختلف باتیں کرنے لگے، حالانکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ آج جو لوگ روئے زمین پر موجود ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ رہے گا، یعنییہ طبقہ اور زمانہ ختم ہو جائے گا۔
Musnad Ahmad
11967
۔ (۱۱۹۶۷)۔ عَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ: قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّکُمْ تَقُولُوْنَ أَکْثَرَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاللّٰہُ الْمَوْعِدُ! إِنَّکُمْ تَقُولُوْنَ: مَا بَالُ الْمُہَاجِرِینَ لَا یُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِہٰذِہِ الْأَحَادِیثِ؟ وَمَا بَالُ الْأَنْصَارِ لَا یُحَدِّثُونَ بِہٰذِہِ الْأَحَادِیثِ؟ وَإِنَّ أَصْحَابِی مِنَ الْمُہَاجِرِینَ کَانَتْ تَشْغَلُہُمْ صَفَقَاتُہُمْ فِی الْأَسْوَاقِ، وَإِنَّ أَصْحَابِی مِنَ الْأَنْصَارِ کَانَتْ تَشْغَلُہُمْ أَرْضُوہُمْ وَالْقِیَامُ عَلَیْہَا، وَإِنِّی کُنْتُ امْرَأً مُعْتَکِفًا، وَکُنْتُ أُکْثِرُ مُجَالَسَۃَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحْضُرُ إِذَا غَابُوْا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا، وَإِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَنَا یَوْمًا فَقَالَ: ((مَنْ یَبْسُطُ ثَوْبَہُ حَتّٰی أَفْرُغَ مِنْ حَدِیثِی، ثُمَّ یَقْبِضُہُ إِلَیْہِ فَإِنَّہُ لَیْسَ یَنْسٰی شَیْئًا سَمِعَہُ مِنِّی أَبَدًا۔)) فَبَسَطْتُ ثَوْبِیْ أَوْ قَالَ: نَمِرَتِی، ثُمَّ قَبَضْتُہُ إِلَیَّ فَوَاللّٰہِ! مَا نَسِیتُ شَیْئًا سَمِعْتُہُ مِنْہُ، وَایْمُ اللّٰہِ لَوْلَا آیَۃٌ فِی کِتَابِ اللّٰہِ مَا حَدَّثْتُکُمْ بِشَیْئٍ أَبَدًا، ثُمَّ تَلَا: {إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ وَالْہُدٰی} الْآیَۃَ کُلَّہَا [البقرۃ: ۱۵۹]۔ (مسند احمد: ۷۶۹۱)
اعرج سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم لوگ اعتراض کرتے ہو اور کہتے ہو کہ ابو ہریرہ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بہت احادیث روایت کرتا ہے، اللہ گواہ ہے، تم کہتے ہو کہ ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیان کردہ احادیث ایسی ہوتی ہیں، جو نہ تو مہاجرین بیان کرتے ہیں اور نہ انصاری۔ (اب سنو،) حقیقتیہ ہے کہ میرے مہاجر بھائی بازاروں میں خرید و فروخت میں مصروف رہتے اور میرے انصاری بھائی اپنی کھیتی باڑی اور اپنے اموال وغیرہ میں مشغول رہتے اور میں ایک گوشہ نشین بن کر رہا اور میرا بیشتر وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بسر ہوتا۔ لوگ اپنے کاموں کی وجہ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفلوں سے غیر حاضر رہتے اور میں حاضر ہوتا۔ وہ لوگ احادیث بھول جاتے مگر میںیاد رکھتا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کے دوران ایک دن ہم سے فرمایا: کون ہے جو اپنا کپڑا بچھائے یہاں تک کہ جب میں اپنی بات مکمل کرکے فارغ ہو جائوں تو وہ اپنے کپڑے کو اپنی طرف سمیٹ لے، اس کی برکت اس قدر ہوگی کہ وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بھی بات کبھی بھی نہ بھلا سکے گا۔ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا بچھا دیااور پھر اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ اللہ کی قسم! اس کی برکت سے میں آپ سے سنی ہوئی کوئی بھی بات نہیں بھولا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں کبھی کچھ بیان نہ کرتا، پھر انہوںنے یہ آیت تلاوت کی:{اِنّ الّذینیَکْتُمُونَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیّنَاتِ وَالْھُدیٰ مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَّاہُ لِلنَّاسِ فِیْ الْکِتَابِ اُولٰئِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَیَلْعَنُھُمُ اللَّاعِنُوْنَ} … بے شک جو لوگ ہمارے نازل کردہ صریح دلائل اور ہدایت کی باتوں کو چھپاتے ہیں بعد اس کے کہ ہم نے لوگوں کے لیے ان کو کتاب میں کھول کر بیان کر دیا ہے ان لوگوں پر اللہ اور سب لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔