TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - Book 28 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 28 of Musnad Ahmad, with 13 chapters and 79 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

79 Hadith · 13 Chapters
رکوع میں ذکر کا بیان
۔ (۱۶۹۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَاَلَتِیْ مِیْمُوْنَۃَ، قَالَ: فَانْتَبَہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ، قَالَ: فَرَأَیْتُہُ قَالَ فِیْ رُکُوْعِہِ ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ)) ثُمَّ رَفَعَ رَأَسَہُ فَحَمِدَ اللّٰہَ مَاشَائَ أَنْ یَحْمَدَہُ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْ سُجُوْدِہِ ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی))، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأَسَہُ قَالَ: فَکَانَ یَقُوْلُ فِیْمَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۱۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس رات گزاری، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو بیدارہوئے، پھر مکمل حدیث ذکر کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیارکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی، جب تک اس نے چاہا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی)) کہا، پھر سر اٹھایا اور دو سجدوں کے درمیانیہ دعا کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)
Takhreej
(۱۶۹۷) تخریج: حسن۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۲۶۷۹، وأخرجہ ابوداود: ۸۵۰، وابن ماجہ: ۸۹۸، والترمذی: ۲۸۴ بذکر الدعاء بین السجدتین فقط (انظر: ۲۸۹۵، ۳۵۱۴)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع میں مختلف اذکار کا اہتمام کرتے تھے، ہمیں بھی اس ورائٹی کا خیال رکھنا چاہیے، اس سے نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہوتا ہے۔
1697
Sahih
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۱۶۹۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَقْرَأَ الرَّجُلُ وَھُوَ رَاکِعٌ أَوْسَاجِدٌ۔ (مسند احمد: ۶۱۹)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی رکوع یا سجدے میں تلاوت کرے۔
Takhreej
(۱۶۹۸) تخریج: حسن لغیرہ، وھذا اسنادہ ضعیف لضعف الحارث بن عبد اللہ الاعور۔ أخرجہ البزار: ۸۴۳۔ وأخرج مسلم بلفظ مطول منہ: ۲۰۷۸ وفیہ: نھانی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عن التختم بالذھب… وعن القراء ۃ فی الرکوع و السجود…۔ (انظر: ۶۱۹، ۹۲۴)
1698
Sahih
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۱۶۹۹) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلَہُ رَجُلٌ: أَأَقْرَأُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّیْ نُہِیْتُ أَنْ أَقْرَأَ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُودِ، فَإِذَا رَکَعْتُمْ فَعَظِّمُوْا اللّٰہَ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَہِدُوْافِی الْمَسْأَلَۃِ فَقَمِنٌ أَنْ یُسْتَجَابَ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۷)
عمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا میں رکوع و سجود میں تلاوت کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے رکوع و سجود میں قراء ت کرنے سے منع کیا گیا ہے، جب تم رکوع کرو تو اللہ کی عظمت بیان کیا کرو اور جب سجدہ کرو تو دعا کرنے کوشش کرو، پس زیادہ لائق ہے کہ تمہارے لیے قبول کیا جائے۔
Takhreej
(۱۶۹۹) تخریج: حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف عبد الرحمن بن اسحاق، ولجھالۃ النعمان بن سعد۔ أخرجہ ابویعلی: ۲۹۷، والبزار: ۶۹۷، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۲۴۹ (انظر: ۱۳۳۰، ۱۳۳۸) وفی الباب حدیث ابن عباس الآتی
1699
Sahih
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۱۷۰۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلاَ إِنِّیْ نُہِیْتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاکِعًا أَوْسَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّکُوْعُ فَعَظِّمُوْا فِیْہِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُوْدُ فَاجْتَہِدُ وْافِی الدُّعَائِ فَقَمِنٌ أَنْ یُسْتَجَابَ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبر دار! یقینا مجھے رکوع وسجود میں تلاوت کرنے سے منع کر دیا گیا ہے، لہٰذا تم رکوع میں ربّ تعالیٰ کی تعظیم بیان کیا کرو اور سجدہ میں دعا کرنے میں کوشش کیا کرو، بہت لائق ہے کہ تمہارے لیے قبول کیا جائے۔
Takhreej
(۱۷۰۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۷۹ (انظر: ۱۹۰۰)
Explanation
فوائد:… سجدہ یا رکوع میں قرآن مجید کا تلاوت کرنا منع ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے رکوع و سجود کی مختلف دعائیں منقول ہیں، رکوع کی دعاؤں کا ذکر ہو چکا ہے، سجدے کی دعائیں اگلے ابواب میں آئیں گی، اس باب کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ میں کوئی بھی دعا کی جا سکتی ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا کرنے کا عام حکم دیا ہے۔
1700
Sahih
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۷۰۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ یَنْظُرُ اللّٰہُ إِلٰی صَلاَۃِ رَجُلٍ لاَ یُقِیْمُ صُلْبَہٗبَیْنَ رُکُوْعِہٖوَسُجُوْدِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۱۲)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز کی طرف نہیں دیکھتا، جو رکوع و سجود میںاپنی کمر سیدھی نہیںکرتا۔
Takhreej
(۱۷۰۱) تخریج: حدیث حسن، ویشھد لھذا الحدیث ما فی قصۃ المسیء صلاتہ: ((ثم ارکع حتی تطمئن راکعا، ثم ارفع حتی تعتدل قائما، ثُمَّ اسْجُدْ حتی تطمئن ساجدا)) رواہ البخاری ومسلم (انظر: ۱۰۷۹۹)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کا اس کی نماز کی طرف نہ دیکھنا، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی نماز کو قبولیت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اس کی نماز کو باطل اور مردود قرار دے کر اس پر لوٹا دی جاتی ہے۔
1701
Sahih
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۷۰۲) عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ الْحَنْـفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۰۵)
طلق بن علی حنفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۷۰۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، لکن یشہد لہ ما قبلہ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۸۲۶۱ (انظر: ۱۶۲۸۳)
1702
Zaeef
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۷۰۳) عَنْ عَلَیِّ بِنْ شَیْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ خَرَجَ وَافِدًا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَصَلَّیْنَا خَلْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَحَ بِمُؤْخِرِ عَیْنَیْہِ إِلٰی رَجُلٍ لاَ یُقِیْمُ صُلْبَہُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ! إِنَّہُ لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لاَ یُقِیْمُ صُلْبَہُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۰۶)
سیدنا علی بن شیبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں وفد کی صورت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، پس ہم نے نبی کریم کی اقتدا میں نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیح گوشۂ چشم سے ایک ایسے آدمی کی طرف دیکھا، جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کر رہا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! بیشک اس آدمی کی کوئی نماز نہیں ہے، جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔
Takhreej
(۱۷۰۳) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ مطولا و مختصرا ابن ماجہ: ۸۷۱، ۱۰۰۳، وابن خزیمۃ: ۵۹۳، ۶۶۷، ۸۷۲، ۱۵۶۹، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۱۹۳، ۱۴/ ۱۵۶ (انظر: ۱۶۲۹۷)
1703
Sahih
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۷۰۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ أَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَۃً الَّذِیْیَسْرِقُ مِنْ صَلاَتِہِ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَیَسْرِقُ مِنْ صَلاَتِہِ؟ قَالَ: ((لَایُتِمُّ رُکُوْعَہَا وَلاَ سُجُوْدَھَا أَوْ قَالَ لَایُقِیْمُ صُلْبَہُ فِی الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۱۹)
سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چوری کے لحاظ سے سب سے برا شخص وہ ہے جو اپنی نماز سے چوری کرتا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ نماز سے کیسے چوری کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ رکوع و سجود پورا نہیں کرتا، یا فرمایا کہ وہ رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا ۔
Takhreej
(۱۷۰۴) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن حبان: ۱۸۸۸، والحاکم: ۱/ ۲۹۲، والبیھقی: ۲/ ۳۸۶ (انظر: ۲۲۶۴۲)
1704
Sahih
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۷۰۵) وَعَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ ۔ (مسند احمد: ۱۱۵۵۳)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
Takhreej
(۱۷۰۵) تخریج: حدیث حسن، وھذا اسناد ضیعف لضعف علی بن زید بن جدعان۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۲۸۸، وابو یعلی: ۱۳۱۱، والبزار: ۵۳۶ (انظر: ۱۱۵۳۲)
1705
Sahih
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
۔ (۱۷۰۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ السَّجْدَۃِ أَوِ الرَّکْعَۃِ فَیَمْکُثُ بَیْنَہُمَا حَتّٰی نَقُوْلَ: أَنَسِیَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۸۲)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سجدہ یا رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت اتنی دیر تک ٹھہرتے کہ ہم یہ کہتے کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھول گئے ہیں؟
Takhreej
(۱۷۰۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۰۰، ومسلم: ۴۷۲ ۹(انظر: ۱۲۷۶۰، ۱۳۳۶۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لاتجزیء صلاۃ لا یقیم فیھا الرجل صلبہ فی الرکوع والسجود۔)) (سنن اربعہ) یعنی: اس آدمی کی نماز اسے کفایت نہیں کرتی جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔ اگر عوام الناس کی عادت کو دیکھا جائے تو درج بالا احادیث انتہائی قابلِ غور ہیں، کیونکہ اکثر لوگ بالخصوص احناف بہت جلد بازی سے نماز ادا کرنے کے مستقل عادی بن چکے ہیں،یوں لگتا ہے کہ رکوع کے بعد قومہ میں اور پہلے سجدے کے بعد جلسہ میں اعتدال کے ساتھ کمر کو سیدھا کرنا ان لوگوں کو گوارا ہی نہیں ہے۔ مجھے اس بات پر حیرانی اور تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ رکوع و سجود میں تین دفعہ تسبیحات کہنے کا دعوی کرتے ہیں، لیکن کوے کی طرح ٹھونگ لگانے کی مقدار مین یہ عمل پورا کر لیا جاتا ہے۔ درج بالا اور اس موضوع کی دیگر احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ رکوع، قومہ، سجدہ اور جلسہ میں اطمینان کرنا ضروری ہے۔ امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور کثیر اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ قومہ اور جلسہ وغیرہ میں اطمینان اختیار کرناواجب ہے اور اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہے۔ امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق نے کہا ہے کہ جو نمازیرکوع و سجود میں کمر کو سیدھا نہیں کرتا، اس کی نماز فاسد ہے۔ کثیر احناف کا مشہور قول یہی ہے کہ یہ اطمینان اور اعتدال سنت ہے، واجب نہیں ہے، ان کے اکثر عوام میں عملی طور پر اس سنت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا، بہرحال اس معاملے میں شرعی دلائل کا فیصلہ احناف کے حق میں نہیں ہے۔
1706
Sahih
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
۔ (۱۷۰۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ قَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَماَ بَیْنَہُمَا وَمِلْ ئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْ ئٍ بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹)
سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ پڑھتے تھے: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَماَ بَیْنَہُمَا وَمِلْ ئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْ ئٍ بَعْدُ۔ ( اللہ نے اس کو سن لیا، جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اورتیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والے خلا کے بھرنے کے بقدر اور اس چیز کے بھراؤ کے برابر، جو تو چاہے۔
Takhreej
(۱۷۰۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۷۱ (انظر: ۷۲۹)
1707
Sahih
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
۔ (۱۷۰۸) عَنْ سَعِیْدِ بِنْ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَحْسِبُہُ رَفَعَہُ قَالَ: إِذَا کَانَ رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، راوی کہتا ہے کہ میرا گمان ہے کہ انھوں نے مرفوعاً بیان کیا تھا، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔ (اللہ نے اس کو سن لیا،جس نے اس کی تعریف کی،اے اللہ! اے ہمارے رب!تیرے ہی لئے تعریف ہے، آسمان کے بھراؤ اور زمین کے بھراؤ کے بقدر اور اس چیز کے بھرنے کے بقدر، جسے تو چاہے۔)
Takhreej
(۱۷۰۸) تخریج: أخرجہ مسلم مرفوعا: ۴۷۸ (انظر: ۲۴۹۹)
1708
Sahih
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
۔ (۱۷۱۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ (وَفِیْ لَفْظٍ یَدْعُوْ إِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ): ((اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، اللَّہُمَّ طَہِّرْنِیْ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدَ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، اَللّٰہُمَّ طَہِّرْنِیْ مِنَ الذُّنُوْبِ وَنَـقِّنِیْ مِنْہَا کَمَایُنَـقَّی الثَّوْبُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْوَسَخِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۲۸)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، اللَّہُمَّ طَہِّرْنِیْ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدَ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، اَللّٰہُمَّ طَہِّرْنِیْمِنَ الذُّنُوْبِ وَنَـقِّنِیْ مِنْہَا کَمَایُنَـقَّی الثَّوْبُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْوَسَخِ۔ )) (اے اللہ! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمان کے بھرنے اور زمین کے بھرنے کے بقدر اوراس چیز کے بھراؤ کے بقدر، جو تو چاہے، اے اللہ! مجھے برف،اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ پاک کردے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے پاک کردے اور ان سے اس طرح صاف کردے جیسے سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔)
Takhreej
(۱۷۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۷۶ (انظر: ۱۹۱۱۸)
1710
Sahih
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
۔ (۱۷۱۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَالَ الْقَارِیئُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقَالَ مَنْ خَلْفَہُ: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ غُفِرَلَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ۔)) (مسند احمد: ۹۳۹۰)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ن ے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتا ہے اور اس کے بعد اس کے پیچھے والا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہتا ہے تواس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۷۱۱)تخریج:أخرجہ مسلم: ۴۰۹ (انظر: ۹۴۰۱)
1711
Sahih
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
۔ (۱۷۱۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا قَالَ الإِْمَامُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ فَإِنَّ مَنْ وَافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَلَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۹۲۵)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہو، پس جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
Takhreej
(۱۷۱۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۹۶، ۳۲۲۸، ومسلم: ۴۰۹، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۹۹۲۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ مقتدی کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ نہیں کہنا چاہئے، کیونکہیہاں مقتدی کو یہ کلمہ کہنے سے منع نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے لیے رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہنے کے وقت کا تعین کیا گیا ہے۔ درج ذیل دلائل کی بنا پر ہر کسی کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہناچاہئے: سَمِعَاللّٰہُلِمَنْحَمِدَہٗ نمازنبوی کی ترتیب میں شامل ہے اور امام کی اقتدا میں اس کے نہ پڑھنے پر دلالت کرنے والی کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہااورفرمایا: ((صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ۔)) (بخاری) … تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ سیّدنا رفاعہ بن رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَاتَتِمُّ صَلَاۃٌ لِاَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَتّٰی … یُکَبِّرَ… ثُمَّ یَرْکَعَ… ثُمَّ یَقُوْلَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗحَتّٰییَسْتَوِیَ قَائِمًا۔))… کسی آدمی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ تکبیر نہ کہے … رکوع نہ کرے … اور پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ نہکہے… (ابوداود،حاکم) یہ حدیث واضح نص ہے کہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کےبغیر نماز مکمل نہیں ہوتی، لہٰذا اس کلمہ سے مقتدیوں کو روکنے کے لیے واضح دلیل کی ضرورت ہے۔یہی معاملہ وَلَا الضَّالِّیْنَ اور آمِیْن کا ہے، کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کی فرضیت دوسری نصوص سے ثابت ہو چکی ہے۔
1712
Sahih
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
۔ (۱۷۱۳) عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّانُصَلِّیْیَوْمًا وَرَائَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ وَقَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) قَالَ رَجُلٌ وَرَائَ ہُ: رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَ کًافِیْہِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ الْمُتَکَلِّمُ آنِفًا؟)) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ رَأَیْتُ بِضْعَۃً وَّثَلاَثِیْنَ مَلَکًا یَبْتَدِرُوْنَہَا أَیُّہُمْیَکْتُبُہَا أَوَّلًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۰۵)
سیدنارفاعہ بن رافع زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ایک دن ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو آپ کے پیچھے ایک آدمی نے یہ کلمہ کہا: رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَ کًا فِیْہِ۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: ابھی ابھی کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں نے چونتیس پینتیس فرشتے دیکھے، وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کو سب سے پہلے لکھتا ہے۔
Takhreej
(۱۷۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۹۹(انظر: ۱۸۹۹۶)
Explanation
فوائد:… اتنی بڑی فضیلت کے باوجود نمازی لوگوں کی اکثریت جلد بازی اور اپنی عادت کے سامنے عاجز ہو کر یہ کلمہ دوہرانے سے غافل ہے۔ حدیث میں ثلاثین (تیس) کے ساتھ بِضْعَۃٌ کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق تین سے نو تک کے کسی بھی عدد پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہماری زبان میں بضعۃ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے چند کا لفظ مناسب رہے گا یعنی تیس سے چند زائد فرشتے۔ (عبداللہ رفیق)
1713
Sahih
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
۔ (۱۷۱۴) عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَنَا أَشْبَہُکُمْ صَلاَۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) قَالَ ((اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ)) قَالَ وَکَانَ یُکَبِّرُ إِذَا رَکَعَ وَإِذَا قَامَ مَنْ السُّجُودِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السَّجَْدَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۸۳۶)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نماز میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تو اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہتے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کرتے، سجدے سے کھڑے ہوتے اور دو سجدوں سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے۔
Takhreej
(۱۷۱۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۹۵ (انظر: ۸۲۵۳)
1714
Sahih
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
۔ (۱۷۱۵) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) قَالَ ((اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، أَھْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَ کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، لَامَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۵۰)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد یہ کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، أَھْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَ کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، لَامَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں کے بھراؤ جتنی، زمین کے بھراؤ جتنی اور ان کے بعد اس چیز کے بھراؤ جتنی جو تو خود چاہے۔ تعریف اور بزرگی والے! جو کچھ بندہ کہتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور سب تیرے بندے ہیں، جو تو دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اورکسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے کوئی فائدہ نہیں دیتی۔)
Takhreej
(۱۷۱۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۷۷ (انظر: ۱۱۸۲۸)
Explanation
فوائد:… عام طور پر لوگ رکوع کے بعد قومہ میں رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کو ہی کافی سمجھتے ہیں اور عرصۂ دراز سے ان کییہی روٹین بھی ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عدمِ رغبت کی علامت ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے بہترین انداز میں اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ہے، لیکن ہمارا نفس ہمیں ایسا کرنے پر آمادہ ہی نہیں کرتا۔
1715
Sahih
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
۔ (۱۷۱۶) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا سَجَدَ أَحَدُ کُمْ فَلاَ یَبْرُکْ کَمَا یَبْرُکُ الْجَمَلُ، وَلْیَضَعْیَدَیْہِ ثُمَّ رَکْبَتَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۴۲)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی سجدہ کرے تو وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ پہلے اپنے ہاتھوں کو رکھے اور پھر گھٹنوں کو۔
Takhreej
(۱۷۱۶) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابوداود: ۸۴۰، والنسائی: ۲/ ۲۰۷، والترمذی: ۲۶۹ والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۱۸۲، وفی شرح معانی الآثار : ۱/ ۲۵۴، والبیھقی: ۲/۹۹ (انظر: ۸۹۵۵)
Explanation
فوائد:… شرح میں سنن کی وائل بن حجرکی سند کو حسن لغیرہ کہا، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فعل پہلے گھٹنے رکھنا ہے۔ ترمذی نے کہا یہ روایت شریک کے واسطہ سے مروی ہے۔ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: شریک حافظہ کے لحاظ سے یہ ضعیف ہے۔ دارقطنی نے کہا: شریک اس کے ساتھ منفرد ہے اور شریک کی متفرد روایت قوی نہیں ہوتی۔
1716
Sahih

Chapters

13
01
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
5 Hadith
02
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
6 Hadith
03
جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان
2 Hadith
04
رکوع میں ذکر کا بیان
8 Hadith
05
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
06
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
6 Hadith
07
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
9 Hadith
08
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
19 Hadith
09
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
10
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
6 Hadith
11
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
5 Hadith
12
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
3 Hadith
13
جلسہ استراحت کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.