TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - Book 28 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 28 of Musnad Ahmad, with 13 chapters and 79 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

79 Hadith · 13 Chapters
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۱۷۳۷) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَعْظُمٍ، الْجَبْہَۃِ وَأَشَارَ بِیَدِہِ إِلٰی أَنْفِہِ وَالْیَدَیْنِ وَالرُّکْبَتَیْنِ وَأَطْرَافِ الْأَصَابِعِ وَلاَ أَکُفَّ الثِّیَابَ وَلاَ الشَّعْرَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۷)
۔ (تیسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان سات اعضا پر سجدہ کروں: پیشانی، اس کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ناک کی طرف اشارہ کیا،دو ہاتھ، دو گھٹنے اور (دونوں پاؤں کی) انگلیوں کے کنارے اور اس بات کا بھی حکم دیا گیا کہ میں کپڑوں اور بالوں کو نہ لپیٹوں۔
Takhreej
(۱۷۳۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… بالوں کو نہ لپیٹنا، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر بال لمبے ہیں تو ان کوپگڑی کے نیچے نہ دبایا جائے اور نہ پیچھے سے باندھا جائے، اسی طرح نماز میں آستین وغیرہ کو نہ چڑھایا جائے اور اس طرح بلاضرورت کپڑے کو لپیٹنے سے باز رہا جائے۔
1737
Sahih
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۱۷۳۸) عَنِ الْعَبَّاسِ (بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا سَجَدَ الرَّجُلُ سَجَدَ مَعَہُ سَبْعَۃُ آرَابٍ وَجْہُہُ وَکَفَّاہُ وَرُکْبَتَاہُ وَقَدَمَاہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۰)
سیدناعباس بن عبد المطلب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی سجدہ کرتا ہے تواس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: چہرہ، دونوں ہتھیلیاں،دونوں گھٹنے اوردونوں پاؤں۔
Takhreej
(۱۷۳۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۹۱ (انظر: ۱۷۸۰)
1738
Sahih
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۱۷۳۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیٰی عَنْ أَبِیْہِ أَوْ عَمِّہِ قَالَ: کَانَتْ لِیْ جُمَّۃٌ کُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ رَفَعْتُہَا، فَرَآنِیْ أَبُو حَسَنِ الْمَاِزنِیُّ فَقَالَ: تَرْفَعُہَا لاَ یُصِیْبُہَا التُّرَابُ؟ وَاللّٰہِ! لَأَحْلِقَنَّہَا فَحَلَقَہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۸۳۳)
عمر بن یحییٰ اپنے باپ یا چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میرے کندھوں تک لمبے بال تھے، اس لیے جب میں سجدہ کرتا تو انہیں اٹھالیتا تھا، ابو حسن مازنی نے مجھے ایسے کرتا دیکھ کرکہا: تو ان کو اٹھا لیتا ہے تاکہ انہیں مٹی نہ لگے؟ اللہ کی قسم! میں انہیں ضرور مونڈ دوںگا پھر انہوں نے ان بالوں کو مونڈ دیا تھا۔
Takhreej
(۱۷۳۹) تخریج: ھذا الأثر ضعیف، للشک بین والد عمرو بن یحییٰ أو عمہ، ولم یتبین لنا من ھو۔
Explanation
فوائد:… ابو حسن مازنی، عمرو بن یحییٰ کا دادا تھا، اس نے اپنے پوتے کو ایک سنت کی مخالفت کرنے کی وجہ سے اور اس کی تربیت کرنے کے لیے اس کا سر منڈوا دیا تھا، آج بھی بڑوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔
1739
Zaeef
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
۔ (۱۷۴۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِیْ ثَوْبٍ وَّاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِہِ یَتَّقِیْ بِفُضُولِہِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَھَا۔ (مسند احمد: ۲۳۲۰)
سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک کپڑا لپیٹ کر اس میں نماز پڑھتے اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی اور سردی سے بچتے تھے۔
Takhreej
(۱۷۴۰) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابو یعلی: ۲۴۴۶، والطبرانی: ۱۱۵۲۰، وعبد الرزاق: ۱۳۶۹ (انظر: ۲۳۲۰)
1740
Sahih
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
۔ (۱۷۴۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّیْ مَعَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی شِدَّۃِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ أَحْدُنَا أَنْ یُمَکِّنَ وَجْہَہٗمِنَالْأَرْضِبَسَطَثَوْبَہُفَیَسْجُدُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۹۲)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم گرمی کی شدت میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، جب ہم سے کوئی شخص اپنے چہرے کو زمین پر رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا تو وہ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرلیتا۔
Takhreej
(۱۷۴۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۵، ۱۲۰۸، ومسلم: ۶۲۰ (انظر: ۱۱۹۷۰)
Explanation
فوائد:… ان احادیث کا معنییہ ہوا کہ نمازی نے جو لباس پہنا ہوا ہو، اگر وہ دورانِ سجدہ پیشانی، ناک اور ہاتھوں کے سامنے حائل ہو جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
1741
Sahih
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
۔ (۱۷۴۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: جَائَ نَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی بِنَا فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ عَبْدِ الْأَشْہَلِ فَرَأَیْتُہُ وَاضِعًا یَدَیْہِ فِیْ ثَوْبِہِ إِذَا سَجَدَ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۶۱)
عبد اللہ بن عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس مسجد بنی عبد الاشہل میں تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی، میں نے دیکھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے میں رکھے۔
Takhreej
(۱۷۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، وقد وھم فیہ عبد العزیز بن محمد الدراوری، فرواہ عن اسماعیل بن ابی حبیبۃ، عن عبد اللہ بن عبد الرحمن، قال: جاء نا النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم …۔ ولم یقل: عن ابیہ، عن جدہ، والاولی بالصواب ما رواہ ابراہیم بن اسماعیل بن ابی حبیبۃ الاشھلی، عن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ثابت بن الصامت عن ابیہ عن جدہ۔ ثم ان ابراہیم الاشھلی ضعیف، وعبد اللہ بن عبد الرحمن مجھول، وابوہ عبد الرحمن لاتصح صحبتہ، وھو مجھول کذالک۔ ثم انہ قد اختلف فی اسنادہ، وانظر للتفصیل: ۱۸۹۵۳۔
1742
Zaeef
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
۔ (۱۷۴۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْیَوْمٍ مَطِیْرٍ وَھُوَ یَتَّقِی الطِّیْنَ إِذَا سَجَدَ بِکِسَائٍ عَلَیْہِیَجْعَلُہُُ دُوْنَ یَدَیْہِ إِلَی الْأَرْضِ إِذَا سَجَدَ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ میں نے بارش والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ کیچڑ سے بچتے تھے اور وہ اس طرح کہ جب آپ سجدہ کرتے تو جو چادر پہنی ہوئی تھی اس کا بعض حصہ زمین پر ہاتھوں کے نیچے رکھتے۔
Takhreej
(۱۷۴۳) تخریج: حسن، وھذا اسناد ضعیف لضعف حسین بن عبد اللہ (انظر: ۲۳۸۵)
1743
Sahih
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
۔ (۱۷۴۴) عَنْ سَیَّارِ بْنِ الْمَعْرُوْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ وَھُوَ یَخْطُبُیَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَنٰی ھٰذَا الْمَسْجِدَ وَنَحْنُ مَعَہُ الْمُہَاجِرُوْنَ وَالْأَ نْصَارُ فَإِذَا اشْتَدَّ الزِّحَامُ فَلْیَسْجُدِ الرَّجُلُ مِنْکُمْ عَلَی ظَہْرِ أَخِیْہِ، وَرَاٰی قَوْمًا یُصَلُّوْنُ فِی الطَّرِیقِ فَقَالَ صَلُّوْا فِی الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷)
سیار بن معرور کہتے ہیں: میں نے سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوخطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: بلاشبہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ مسجد بنائی، جبکہ ہم مہاجر اور انصار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، پس جب ہجوم زیادہ ہو جائے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کی پیٹھ پر سجدہ کرلے۔پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کچھ لوگوں کو راستہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر ان کو کہا: مسجد میں نماز پڑھو۔
Takhreej
(۱۷۴۴) تخریج: حدیث صحیح، وقد توبع سیار بن معرور۔ أخرجہ الطیالسی: ۷۰،والبیھقی: ۳/ ۱۸۲ (انظر: ۲۱۷)
1744
Sahih
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
۔ (۱۷۴۵) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَکَا أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْہِ مَشَقَّۃَ السُّجُوْدِ عَلَیْہِمْ إِذَا تَفَرَّجُوْا قَالَ: ((اِسْتَعِیْنُوا بِالرُّکَبِ۔)) قَالَ ابْنُ عَجْلاَنَ: وَ ذٰلِکَ أَنْ یَضَعَ مِرْفَقَہٗعَلٰی رُکْبَتَبْہِ إِذَا طَالَ السُّجُودُ وَأَعْیٰی۔ (مسند احمد: ۸۴۵۸)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کہ اگر کشادگی اختیار کریں تو سجدے میں مشقت ہوتی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر گھٹنوں سے مدد حاصل کر لیا کرو۔ ابن عجلان کہتے ہیں: اس کی صورت یہ ہے کہ جب سجدہ لمبا ہو جائے اور بندہ تھک جائے تو اپنی کہنیاںگھٹنوں پر رکھ لے۔
Takhreej
(۱۷۴۵) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابوداود: ۹۰۲، والترمذی: ۲۸۶ (انظر: ۸۴۷۷)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں جو مسائل بیان کیے گئے ہیں، وہ تو انتہائی واضح ہیں، اب تو اللہ تعالیٰ نے وسعت کر دی ہے اور ہر آدمی کے پاس اتنی سہولت موجود ہے کہ وہ نماز کے لیے علیحدہ کپڑا بچھا سکتا ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی سخت گرمی اور گرم زمین کے باوجود صحابہ کرام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قیادت میں طویل نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔
1745
Sahih
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
۔ (۱۷۴۶) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا سَجَدَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ فَصَوَّرَہُ فَأَحْسَنَ صُوَرَہُ فَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ فَصَوَّرَہُ فَأَحْسَنَ صُوَرَہُ فَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ (اے اللہ! میں نے تیرے لئے ہی سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرے لئے فرمانبردار ہوا، میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا، جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کی شکل بنائی اورخوبصورت شکل بنائی اور اس کے کان اور آنکھ کو کھولا، اللہ بہت با برکت ہے، جو سب سے اچھا بنانے والا ہے۔)
Takhreej
(۱۷۴۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۷۱ (انظر: ۷۲۹)
1746
Sahih
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
۔ (۱۷۴۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَصِفُ صَلاَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی التَّہَجُّدِ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَصَلّٰی وَجَعَلَ یَقُوْلُ فِیْ صَلاَتِہِ أَوْفِیْ سُجُوْدِہِ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَ فِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَمِیْنِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَسَارِیْ نُوْرًا، وَأَمَامِیْ نُوْرًا، وَخَلْفِیْ نُوْرًا، وَفَوْقِیْ نُوْرًا، وَتَحْتِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا، قَالَ شُعْبَۃُ أَوْقَالَ اِجْعَلْ لِیْ نُوْرًا۔ الحدیث۔ (مسند احمد: ۲۵۶۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نمازِ تہجد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لئے نکلے اور نماز پڑھی اور نماز میںیا سجدے میں یہ دعا کرنے لگے: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَعَنْیَمِیْنِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَسَارِیْ نُوْرًا، وَأَمَامِیْ نُوْرًا، وَخَلْفِیْ نُوْرًا، وَفَوْقِیْ نُوْرًا، وَتَحْتِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا۔ شعبہ کہتے ہیں:یاآخری جملہ اس طرح ہے: اِجْعَلْ لِیْ نُوْرًا (اے اللہ! میرے دل میں نور کردے،میرے کان میں نور،میری نظر میں نور،ر میری دائیں طرف نور۔ میری بائیں نور، میرے آگے نور، میرے پیچھے نور، میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور بنا دے اور مجھے نور ہی بنا دے۔)
Takhreej
(۱۷۴۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۶۳ (انظر: ۲۵۶۷)
Explanation
فوائد:… مسند احمد مین یہ ایک لمبی حدیث ہے۔ اس حدیث میں نور سے مراد کیا ہے؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ حقیقی نور ہی ہے، جو قیامت کے اندھیروں میں روشنی پیدا کرے گا اور (۲) اس سے مراد علم، ہدایت، حق کی وضاحت اور اس کی روشنی مراد ہے، تاکہ کہیں سے بھیضلالت نہ گھسنے پائے۔
1747
Sahih
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
۔ (۱۷۴۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہَا فَقَدَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَضْجَعِہِ فَلَمَسَتْہُ بِیَدِھَا فَوَقَعَتْ عَلَیْہِ وَھُوَ سَاجِدٌ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ أَعْطِ نَفْسِیْ تَقْوَاھَا، زَکِّہَا أَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا، أَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلاَ ھَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۷۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بستر سے گم پایا، اس لیے ہاتھ کے ساتھ آپ کو تلاش کیا، جب ان کا ہاتھ آپ کو لگا تو (ان کو پتا چلتا ہے کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے کی حالت میں ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں: رَبِّ أَعْطِ نَفْسِیْ تَقْوَاھَا، زَکِّہَا أَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا، أَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلاَ ھَا۔ (اے میرے رب! میرے نفس کو اس کا تقوی دے دے ، اسے پاک کردے تو سب سے بہتر ذات ہے، جو اسے پاک کرنے والی ہے، توہی اس کا ولی ہے اورمولی ہے۔)
Takhreej
(۱۷۴۸) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین غیر صالح بن سعید، فقد روی عنہ نافع بن عمر الجمحی، وذکرہ ابن حبان فی الثقات ۔ وانظر الشرح
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا ایک سیاق درج ذیل ہے: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بستر پر گم پایا، (چونکہ اندھیرا تھا، اس لیے) میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہاتھ سے تلاش کیا، جب میرا ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاؤں کے تلووں پر پڑا تو میں نے محسوس کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاؤں گڑھے ہوئے ہیں اور آپ اپنی مسجد میں ہیں اور یہ دعا پڑھ رہے ہیں: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ (مسلم: ۴۸۶، مسند احمد: ۲۵۶۵۵) البتہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی اس حدیث میں جس دعا رَبِّ اَعْطِنِیْ تَقْوَاھَا … کا ذکر ہے، یہ الفاظ زید بن ارقم کی حدیث سے ثابت ایک دعا میں موجود ہیں۔ (دیکھیں: مسلم: ۲۷۲۲، مسند احمد: ۱۹۳۰۸)
1748
Sahih
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
۔ (۱۷۴۹) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: اِفْتَقَدْتُّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَظَنَنْتُ أَنَّہُ ذَھَبَ إِلٰی بَعْضِ نِسَائِہِ فَتَحَسَّسْتُ (وِفِیْ رِوَایَۃٍ فَطَلَبْتُہُ) ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا ھُوَ رَاکِعٌ أَوْسَاجِدٌ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَکَ وَ بِحَمْدِکَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ أَنْتَ)) (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ فَإِذَا ھُوَ سَاجِدٌ یَقُوْلُ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ مَاأَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ)) فَقُلْتُ: بِأَبِیْ أَنْتَ وَأُمِّیْ إِنَّکَ لَفِیْ شَأْنٍ وَأَنَا فِیْ شَأْنٍ آخَرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۹۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: یک رات میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گم پایا، مجھے یہ خیال آیا کہ آپ کسی دوسری بیوی کی طرف چلے گئے ہیں، پس میں نے ٹوہ لگائی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تلاش کیا۔لیکن جب واپس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع یا سجدے کی حالت میں یہ دعا پڑھ رہے ہیں: سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ أَنْتَ (تو پاک ہے اور اپنی حمد کے ساتھ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے۔) اورایک روایت میں ہے: آپ سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ مَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ (اے میرے رب! میرے لیے میرے مخفی اور اعلانیہ گناہ بخش دے۔) یہ دیکھ کر میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،بیشک میں کسی اور وہم و گمان میں تھی اور آپ کسی اور کام میں ہیں۔
Takhreej
(۱۷۴۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۸۵ (انظر: ۲۵۱۷۸، ۲۵۱۸۰)
1749
Sahih
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
۔ (۱۷۵۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ أَقْرَبُ مَایَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہِ وَھُوَ سَاجِدٌ فَأَکْثِرُوْا الدُّعَائَ ۔ (مسند احمد: ۹۴۴۲)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے اس لیے تم اس میں کثرت سے دعا کیا کرو۔
Takhreej
(۱۷۵۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۸۲ (انظر: ۹۴۶۱)
Explanation
فوائد:… سجدہ کے بعض اذکار کا ذکر پیچھے رکوع میں ذکر کا بیان کے باب میں ہو چکا ہے، اس وقت عوام و خواص کییہ صورتحال ہے کہ وہ سجدہ میں صرف سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہنے کو کافی سمجھتے ہیں اور وہ بھی جلدی جلدی اور اس کے معنی پر غور کیے بغیر۔ جواز کی حد تک تو یہ ذکر کرنا درست ہے، لیکن ہماری صورتحال کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ عدم رغبت کی علامت ہے اور لوگوں نے عبادات کے سلسلے میں گزارا کرنے کو کافی سمجھ لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدوں میں مختلف اذکار اور دعاؤں کی تعلیم دی ہے تو اس میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ ہے نمازی اس کے معانی کو سمجھے، اس میں زیادہ عاجزی و انکساری پیدا ہو اور نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہو۔
1750
Sahih
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
۔ (۱۷۵۱) عَنْ عَائِشَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَارَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ لَمْ یَسْجُدْ حَتّٰییَسْتَوِیَ قَاعِدًا۔ (مسند احمد: ۲۶۱۳۵)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے سے سر اٹھاتے تودوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کر تے جب تک برابر ہو کر بیٹھ نہ جاتے۔
Takhreej
(۱۷۵۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۹۸ (انظر: ۲۴۰۳۰)
1751
Sahih
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
۔ (۱۷۵۲) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بِنْ أَبْزٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ صَلّٰییَصِفُ صَلاَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَجَدَ حَتّٰی أَخَذَ کُلُّ عُضْوٍمَأْخَذَہُ، ثُمَّ رَفَعَ حَتّٰی أَخَذَ کُلُّ عُضْوٍ مَأْ خَذَہُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتّٰی أَخَذَ کُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَہُ، ثُمَّ رَفَعَ فَصَنَعَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ کَمَا ضَنَعَ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی، ثُمَّ قَالَ: ھٰکَذَا صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۴۵)
سیدناعبد الرحمن بن ابزی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز بیان کرتے ہوئے نماز پڑھی تو سجدہ کیا (اور اتنی دیر ٹھہرے رہے کہ)ہر عضو اپنے مقام پر ٹھہر گیا، پھر اٹھے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر ٹھہر گئی، پھر دوسرا سجدہ کیا حتی کہ ہر ہڈی نے اپنی جگہ کو پکڑلیا، پھر اٹھے اوردوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا جیسے پہلی رکعت میں کیاتھا، پھر کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز اس طرح کی تھی۔
Takhreej
(۱۷۵۲) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۵/ ۱۷۴ (انظر: ۱۵۳۷۱)
1752
Sahih
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
۔ (۱۷۵۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ فِیْ صَلاَۃِ اللَّیْلِ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۸۹۵)
سیدناعبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رات کی نماز میں دو سجدوں کے درمیانیہ دعا پڑھی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)
Takhreej
(۱۷۵۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۸۵۰، وابن ماجہ: ۸۹۸، والترمذی: ۲۸۴ (انظر: ۲۸۹۵)
Explanation
فوائد:… اسی حدیث کے ایک طریق میں اس دعا میں وَاجْبُرْنِیْ کے الفاظ کا اضافہ بھی مروی ہے، دیکھیں حدیث نمبر: ۶۳۹، اس طرح پوری دعا اس طرح بنتی ہے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔) فوائد:… جلسہ میں درج ذیل دعا تکرار کے ساتھ پڑنا بھی ثابت ہے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ (ابوداود: ۸۷۴، نسائی: ۱۰۷۰، ۱۱۴۶، ابن ماجہ: ۸۹۷) اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے۔ ایک دو دفعہ پڑھنا بھی ان شاء اللہ درست ہے۔ اس جلسہ میں بیٹھنے کی کم از کم مقدار تو یہ ہے کہ نمازی کے اعضاء اپنی جگہ پرٹھہر جائیں، زیادہ سے زیادہ مقدارکا انحصار نمازی کی مرضی پر ہے، سیدنابراء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز پڑھتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا ہونا، سجدہ اور سجدوں سے سر اٹھا کر بیٹھنایعنی دو سجدوں کے درمیان والا جلسہ تقریباًبرابر برابر ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۹۲، صحیح مسلم: ۴۷۱) صحیح مسلم کی روایت میں ان امور کے ساتھ قیام اور تشہد کا بھی ذکر ہے، یعنی یہ تمام چیزیں برابر برابر ہوتی تھیں، بہرحال اس صورت کو بعض حالات پر محمول کریں گے، کیونکہ زیادہ تر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قیام طویل ہوتا تھا، جیسا کہ نمازوں کی قراء ت والے ابواب مین یہ تفصیل گزر چکی ہے۔ لیکن اکثر لوگوں کییہ صورتحال ہے کہ روایتی جلد بازی اور دین کے بارے میں عدم سنجیدگی کی وجہ سے وہ دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھ جانے سے بھی عاجز آ چکے ہیں، بلکہ بعض نمازیوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ زمین سے آٹھ نو انچ کے بقدر سر اٹھانے کے بعد دوسرے سجدے کے لیے گر پڑتے ہیں، جبکہ ان کی تربیت کرنے والے لوگ بھی خاموش رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ۔
1753
Sahih
جلسہ استراحت کا بیان
۔ (۱۷۵۴) عَنْ أَبِیْ قِلاَبَۃَ قَالَ: جَائَ أَبُوْ سُلَیْمَانَ مَالِکُ بْنُ الْحُوَیْرِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلٰی مَسْجِدِنَا فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنِّیْ لَأُصَلِّیْ وَمَا أُرِیْدُ الصَّلاَۃَ، وَلٰکِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أُرِیَکُمْ کَیْفَ رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ، قَالَ فَقَعَدَ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی حِیْنَ رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ السَّجْدَۃِ الْأَخِیْرَۃِ ثُمَّ قَامَ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۸۴)
ابو قلابہ کہتے ہیں: سیدنا ابو سلیمان مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہماری مسجد میں آئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور نماز پڑھوں گا، حالانکہ میرا ارادہ نماز پڑھنے کا نہیں ہے، میں تو تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا، پھر انھوں نے (نماز پڑھی اور اس میں) جب انھوں نے پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اٹھا تو وہ ایک دفعہ بیٹھ گئے، پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے۔
Takhreej
(۱۷۵۴) تخریج: أخرجہ ابوداود: ۸۴۳، والنسائی: ۲/ ۲۲۳، وأخرجہ البخاری مختصرا وبالفاظ متقارب منہ: ۸۲۳ (انظر: ۱۵۵۹۹)
1754
Sahih
جلسہ استراحت کا بیان
۔ (۱۷۵۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ قَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ فَصَلّٰی صَلاَۃً کَصَلاَۃِ شَیْخِنَا ھٰذَا یَعْنِیْ عَمْرَو بْنَ سَلِمَۃَ الْجَرْمِیَّ، وَکَانَ یَؤُمُّ عَلٰی عَھْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ أَیُّوْبُ فَرَأَیْتُ عَمْرَو بْنَ سَلِمَۃَیَصْنَعُ شَیْئًا لاَ أَرَاکُمْ تَصْنَعُونَہُ، کَانَ إِذَا رَفَعَ مِنَ السَّجْدَتَیْنِ اسْتَوٰی قَاعِدًا ثُمَّ قَامَ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْأُولٰی وَالثَّالِثَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۱۳)
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے: ابو قلابہ نے کہتے ہیں: پس انہوں نے ہمارے اس شیخ سیدنا عمرو بن سلمہ جرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو عہدِ نبوی میں امامت کرواتے تھے، کی نماز کی طرح نماز پڑھی۔ ایوب کہتے ہیں: میںنے عمر وبن سلمہ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا جو تم لوگوں کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، جب وہ دو سجدوں سے اٹھتے تو بیٹھ کر برا بر ہو جاتے پھر پہلی اور تیسری رکعت سے کھڑے ہوتے۔
Takhreej
(۱۷۵۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۰۲، ۸۱۸، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۰۵۳۹)
Explanation
فوائد:… پہلی سند والی روایت کے صحیح بخاری مین یہ الفاظ ہیں: سیدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز کی طاق رکعات میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے، جب تک برابر ہو کر بیٹھ نہ جاتے۔ (صحیح بخاری: ۸۲۳) فوائد:… جلسۂ استراحت مسنون عمل ہے، ایک دلیل کا ذکر اوپر ہو چکا ہے، مزید دو دلائل درج ذیل ہیں: (۱)سیدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث، جس کے مطابق انھوں نے دس صحابہ میں نماز پڑھی تھی، میں ہے: ثُمَّ یَسْجُدُ ثُمَّ یَقُوْلُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَیَرْفَعُ وَیُثْنِیْ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی فَیَقْعُدُ عَلَیْھَا ثُمَّ یَعْتَدِلُ حَتّٰییَرْجِعَ کُلُّ عَظْمٍ اِلٰی مَوْضِعِہٖ ثُمَّ یَنْھَضُ۔ یعنی: پھر انھوں نے (دوسرا) سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے اس سے اٹھے اور اپنے دائیں پاؤں کو مروڑ کر اعتدال کے ساتھ بیٹھ گئے، حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی، پھر کھڑے ہوئے۔ (ابوداود، دارمی، وروی الترمذی وابن ماجہ معناہ) (۲)سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث ہے، جس میں صلوۃ التسبیح کا بیان ہے، اس کے مطابق اس نماز والا کلمہ آخری بار دس دفعہ اسی جلسۂ استراحت میں ہی پڑھا جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس مقام میں جلسہ کیا جاتا ہے۔ جلسۂ استراحت کی نفی کے دلائل اور ان کی حقیقت: (۱)سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْھَضُ فِیْ الصَّلَاۃِ عَلٰی صُدُوْرِ قَدَمَیْہِ۔ یعنی: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں سیدھے قدموں پرہی کھڑے ہو جاتے تھے۔ لیکنیہ حدیث ضعیف ہے، اس میں خالد بن ایاس متروک الحدیث ہے اور صالح مولی التؤمہ کو آخر میں اختلاط ہو گیا تھا۔ چونکہ احناف اس جلسہ کو تسلیم نہیں کرتے، اس لیے جناب طحاوی حنفی نے کہا: یہ احتمال ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اس حدیث میں جس جلسۂ استراحت کا بیان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بیماری کی وجہ سے کیا ہو، نہ کہ نماز کی سنت ہونے کی وجہ سے، اگر یہ مشروع ہوتا تو اس کے لیے کوئی مخصوص ذکر ہوتا۔ بڑی حیران کن بات ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کو نقل کرنے والے صحابی سیدنامالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس جلسہ کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا طریقہ اور سنت سمجھ کر اور اس پر عمل کرتے ہوئے آگے بیان کر رہے ہیں، لیکن بعد والے اذہان اپنی مخصوص ذہنیت کی وجہ سے مختلف احتمالات کا اظہار کر کے اس کو ردّ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اب فقہ حنفی کا وہ قانون کہاں گیا کہ راوی کی رائے کو معتبر سمجھا جائے نہ کہ اس کی روایت کو۔ رہا مسئلہ مخصوص ذکر کا، تو یہ بتانا شارع کا حق ہے کہ کس مقام پر کون ساذکر کرنا ہے اور کس مقام پر نہیں کرنا،یہ ہمارے اپنے دماغ کی اختراع ہے کہ ہر بیٹھک کے لیے ذکر ضروری ہوتا ہے، پھر اس اختراع کی روشنی میں سنت کو ردّ کرنا شروع کردیا۔ اصل قانون یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہر سنت اصل الاصول اور قابلِ عمل ہوتی ہے، کسی بیمارییا علت کو وجہ قرار دینے کے لیے واضح دلیل کی ضرورت ہے۔
1755
Sahih

Chapters

13
01
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
5 Hadith
02
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
6 Hadith
03
جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان
2 Hadith
04
رکوع میں ذکر کا بیان
8 Hadith
05
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
06
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
6 Hadith
07
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
9 Hadith
08
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
19 Hadith
09
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
10
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
6 Hadith
11
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
5 Hadith
12
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
3 Hadith
13
جلسہ استراحت کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.