TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2409 - فصل اول: سفر میں ان کی ادائیگی کے بارے میں روایات - سفر میں سنن مؤکدہ کا حکم - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 3 in this chapter
فصل اول: سفر میں ان کی ادائیگی کے بارے میں روایات
۔ (۲۴۰۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَصَلَّی الظُّہْرَ فِی الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَھَا رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّی الْعَصْرِ أَرْبَعًا وَلَیْسَ بَعْدَھَا شَیْئُ، وَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثَـلَاثًا وَبَعْدَھَا رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّی الْعِشَائَ أَرْبَعًا، وَصَلَّی فِی الْسَّفَرِ الْظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ وَبَعْدَھَا رَکْعَتَیْنِ، وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ وَلَیْسَ بَعْدَھَا شَیْئُ، وَالْمَغْرِبَ ثَـلَاثًا وَبَعْدَھَا رَکْعَتَیْنِ، وَالْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ وَبَعْدَھَا رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۵۶۳۴)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر وحضر میں نماز پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حضر میں ظہر کی نماز چار رکعات پڑھی اور اس کے بعد بھی دو رکعتیں ادا کیں، نماز عصر چار رکعات ادا کی او راس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی، نمازمغرب کی تین رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں اور عشاء کی چار رکعات پڑھیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر میں ظہردو اور اس کے بعد بھی دو رکعات پڑھیں، عصر کی نماز دو رکعات ادا کیں اور اس کے بعد مزید کوئی نماز نہیں پڑھی، نماز مغرب کی تین رکعات اور اس کے بعد دو رکعتیں ادا کیں اور عشاء کی دو اور اس کے بعد مزید دو رکعات پڑھیں۔
2409
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۲۴۰۹) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف عطیۃ بن سعد العوفی ومتابعۃ نافع لا تشدّہ فان الراوی عن نافع، وھو ابن ابی لیلی، ضعیف لسوء حفظہ أخرجہ الترمذی: ۵۵۱، ۵۵۲ (انظر: ۵۶۳۴)

Related Chapters

468
1
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
2
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
Musnad Ahmad
3
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
Musnad Ahmad
4
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
Musnad Ahmad
5
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
Musnad Ahmad
6
فصل اوّل: اس کے آداب کے بارے میں
Musnad Ahmad
7
عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
Musnad Ahmad
8
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
Musnad Ahmad
9
فصل اول:ظہر وعصر اور مغرب و عشاء کو تقدیم و تاخیر کے ساتھ جمع کر کے ادا کرنا
Musnad Ahmad
10
فصل دوم:سفر میں رات کو وتر اور تہجد کی نماز مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
11
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
12
قراء توں کے بارے میں عام روایات اور اس مسئلہ میں صحابہ کے اختلاف کا بیان
Musnad Ahmad
13
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطوط اور کاتبین کا بیان اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: غیر مسلم حکمرانوں کے نام رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مکتوبات کا بیا ن
Musnad Ahmad
14
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
Musnad Ahmad
15
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
Musnad Ahmad
16
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
Musnad Ahmad
17
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت لینے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
19
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
Musnad Ahmad
20
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
21
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
Musnad Ahmad
22
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
23
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
Musnad Ahmad
25
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
26
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
Musnad Ahmad
27
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
28
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
Musnad Ahmad
29
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
Musnad Ahmad
30
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
31
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
32
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
Musnad Ahmad
33
(10) CHAPTER. When going on a journey, pray Zuhr prayer when it becomes cooler.
اس بارے میں کہ سفر میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنا
Sahih Bukhari
34
(32) CHAPTER. What is said about the Umra and Ruqba.
عمریٰ اور رقبیٰ کے بارے میں روایات
Sahih Bukhari
35
(25) CHAPTER. What is said regarding the Statement of Allah: “... Surely, Allah's Mercy is (ever) near unto the good-doers.” (V.7:56)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں روایات کہ ” بلاشبہ اللہ کی رحمت نیکو کاروں سے قریب ہے “ ۔
Sahih Bukhari
36
(53)Chapter: Severe Warning Against Not Shielding Oneself From Urine
باب: پیشاب کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Charity On What Is Watered By Rivers Or Otherwise
باب: نہر وغیرہ سے سینچائی کر کے پیدا کی گئی فصل کی زکاۃ کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What has been related about the one who has uttered Zihar and has intercourse (with his wife) before atoning
باب: ظہار کرنے والے کا بیان جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جماع کر بیٹھے
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Rich Person's Procrastination (Paying Debt) Is Oppression
باب: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About One Who Farms A Prople's Land Without Their Permission
باب: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About One Who Kills A Mu'ahid
باب: ذمی اور معاہدہ والوں کے قاتل کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Ghulul
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
44
Chapter: The Reign of a Man among the Mawali called Jahjah
باب: جہجاہ نامی غلام کی حکمرانی کے بارے میں پیش گوئی
Jam e Tirmazi
45
باب: خواب کے بارے میں جھوٹ بولنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Narrations From The Children of Isra'il
باب: اسرائیلی روایات کے بیان کرنے کی اجازت
Jam e Tirmazi
47
باب: سورۃ حم سجدہ (سورۃ فصلت) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
48
Chapter:
باب: ادائیگی قرض کے لیے دعا کا باب
Jam e Tirmazi
49
بَاب الشَّفَاعَة فِي الْحُدُود
حدود کے بارے میں سفارش کرنے کا بیان
Mishkat
50
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

64
Jam e Tirmazi
552
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ يَعْنِي الْكُوفِيَّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، وَنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي الْحَضَرِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَغْرِبَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ سَوَاءً ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ لَا تَنْقُصُ فِي الْحَضَرِ وَلَا فِي السَّفَرِ هِيَ وِتْرُ النَّهَارِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. سَمِعْت مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا رَوَى ابْنُ أَبِي لَيْلَى حَدِيثًا أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا.
Ibn Umar narrated: I prayed with the Prophet both, while a resident and while traveling. So I prayed four for Zuhr with him as a resident, and two Rak'ah after it. I prayed two Rak'ah for Zuhr with him while traveling and two Rak'ah after it, and two Rak'ah for Asr, and he did not pray anything after it. Maghrib while a resident and traveling is the same; three Rak'ah, it is not decreased as a resident nor while traveling. It is Witr of the day, and after it are two Rak'ah.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضر اور سفر دونوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے آپ کے ساتھ حضر میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں، اور اس کے بعد دو رکعتیں، اور سفر میں آپ کے ساتھ ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور عصر کی دو رکعتیں، اور اس کے بعد کوئی چیز نہیں پڑھی۔ اور مغرب کی سفر و حضر دونوں ہی میں تین رکعتیں پڑھیں۔ نہ حضر میں کوئی کمی کی نہ سفر میں، یہ دن کی وتر ہے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابن ابی لیلیٰ نے کوئی ایسی حدیث روایت نہیں کی جو میرے نزدیک اس سے زیادہ تعجب خیز ہو، میں ان کی کوئی روایت نہیں لیتا۔
Musnad Ahmad
2354
۔ (۲۳۵۴) عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ سَافَرَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ وَحِیْنَ قَامَ أَرْبَعًا، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَنْ صَلّٰی فِی الْسَّفَرِ أَرْبَعًا کَمَنْ صَلّٰی فِی الْحَضَرِ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاۃُ اِلَّا مَرَّۃً حَیْثُ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ وَصَلَّی النَّاسُ رَکْعَۃً رَکْعَۃً۔ (مسند احمد: ۳۲۶۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر پر ہوتے تو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور جب مقیم ہوتے تو چار رکعتیں پڑھتے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جس نے سفر میں چار رکعتیں پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حضر میں دو رکعتیں پڑھتا ہے۔سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مزید کہا: صرف ایک دفعہ نماز کو (ایک رکعت پر) قصر کر کے پڑھا گیا، (اور وہ بھی اس طرح تھا کہ) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں اور لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کی تھی۔
Musnad Ahmad
2360
۔ (۲۳۶۰) عَنْ مُوْسَی بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ: کُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَکَّۃَ، فَقُلْتُ: اِذَا کُنَّا مَعَکُمْ صَلَّیْنَا أَرْبَعًا، وَاِذَا رَجَعْنَا اِلٰی رِحَالِنَا صَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: سُنَّۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۲)
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں:ہم مکہ میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، میں نے کہا: جب ہم تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور جب اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹتے ہیں تو دو رکعت(قصر نماز) پڑھتے ہیں، سیّدنا عبد اللہ نے کہا: یہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔
Musnad Ahmad
2371
۔ (۲۳۷۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَافَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقَامَ تِسْعَ عَشْرَۃَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَحْنُ اِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَ عَشْرَۃَ صَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، فَاِذَا أَقَمْنَا أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ صَلَّیْنَا أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۱۹۵۸)
سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک سفر کیا اور (اس کے دوران مکہ میں) انیس دن قیام کیا، اور دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی سفر میں انیس دن ٹھہرتے ہیں تو دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، لیکن جب اس سے زیادہ دنوں تک ٹھہرتے ہیں تو چار چار رکعتیں ادا کرتے ہیں۔
Musnad Ahmad
12126
۔ (۱۲۱۲۶)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: عَنِ الْقَاسِمِ، وَقَالَیَزِیدُ فِی حَدِیثِہِ: حَدَّثَنِی الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّیْبَانِیُّ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: کُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِی ذَرٍّ شَیْئًا نُرِیدُ أَنْ نُعْطِیَہُ إِیَّاہُ، فَأَتَیْنَا الرَّبَذَۃَ، فَسَأَلْنَا عَنْہُ، فَلَمْ نَجِدْہُ، قِیلَ: اسْتَأْذَنَ فِی الْحَجِّ، فَأُذِنَ لَہُ، فَأَتَیْنَاہُ بِالْبَلْدَۃِ وَہِیَ مِنًی، فَبَیْنَا نَحْنُ عِنْدَہُ إِذْ قِیلَ لَہُ: إِنَّ عُثْمَانَ صَلّٰی أَرْبَعًا، فَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَبِی ذَرٍّ، وَقَالَ قَوْلًا شَدِیدًا، وَقَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّیْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ، ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلّٰی أَرْبَعًا، فَقِیلَ لَہُ: عِبْتَ عَلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ شَیْئًا، ثُمَّ صَنَعْتَ، قَالَ: الْخِلَافُ أَشَدُّ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَقَالَ: ((إِنَّہُ کَائِنٌ بَعْدِی سُلْطَانٌ، فَلَا تُذِلُّوہُ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ یُذِلَّہُ، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہِ، وَلَیْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْہُ تَوْبَۃٌ حَتّٰییَسُدَّ ثُلْمَتَہُ الَّتِی ثَلَمَ، وَلَیْسَ بِفَاعِلٍ۔)) ثُمَّ یَعُودُ فَیَکُونُ فِیمَنْیُعِزُّہُ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا یَغْلِبُونَا عَلٰی ثَلَاثٍ، أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَنْہٰی عَنِ الْمُنْکَرِ، وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۹۲)
قاسم بن عوف شیبانی، ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، اس نے کہا:ہم ابوذر کو کوئی چیز بطور ہدیہ دینا چاہتے تھے، ہم وہ اٹھا کر لے گئے اور ربذہ مقام میں پہنچے، جب ہم نے ان کے متعلق دریافت کیا تو بتلایا گیا کہ انہوں نے حج کے لیے جانے کی اجازت مانگی تھی اور انہیںمل گئی تھی، پھر ہم منیٰ میں ان سے ملے، ہم ان کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کو بتایا گیا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مِنی میں چاررکعت پڑھی ہے، یہ بات ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر بہت گراں گزری اور انہوں نے سخت باتیں کہہ دیں اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یہاں نماز پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ یہاں مِنی میں نماز پڑھی ہے (انھوں نے بھی دو رکعتیں پڑھائی ہیں)، اس کے بعد سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اٹھ کر چار رکعات پڑھیں۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم نے جس با ت کو امیر المومنین کے لیے معیوب سمجھا ہے، اس پر خود عمل کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اختلاف کرنا بہت برا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک بادشاہ آئے گا، تم اسے رسوانہ کرنا، جس نے اسے رسواکرنے کا ارادہ کیا، اس نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے اتار پھینکا، اور اس کی توبہ اس وقت تک قبول نہ ہوگی، جب تک اس کی ڈالی ہوئی دراڑ ختم نہ ہو گی، مگر وہ ایسا نہ کرسکے گا۔ یعنی اپنی ڈالی ہوئی دراڈ کو پر نہ کر سکے گا۔ اس کے بعد وہ اس بادشاہ کی عزت کرے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ یہ حکمران تین باتوں میں ہم پر غالب نہ آجائیں یعنی وہ ہمیں ان تین کاموں سے روک نہ سکیں، بلکہ ہم یہ کام برابر کرتے رہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر او رلوگوں کو سنتوں کی تعلیم دینا۔
Musnad Ahmad
1230
۔ (۱۲۳۰)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَعَرَّسَ مِنَ اللَّیْلِ فَرَقَدَ وَلَمْ یَسْتَیْقِظْ اِلَّا بِِالشَّمْسِ، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، قَالَ (الرَّاوِیْ): فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا تَسُرُّنِی الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا بِھَا یَعْنِی الرُّخْصَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۴۹)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک سفر میں تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے رات کو پڑاؤ ڈالا اور سو گئے اور سورج کی گرمی کے ساتھ ہی بیدار ہوئے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا، انھوں نے اذا ن دی اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: اس رخصت کے مقابلے میں مجھے دنیا وما فیہا بھی خوش نہیں کر سکتی۔
Musnad Ahmad
1232
۔ (۱۲۳۲)۔عَنْ جُبَیْرٍ بْنِ مُطْعِمٍؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ فِیْ سَفَرٍ لَہُ قَالَ: ((مَنْ یَکْلَؤُنَا اللَّیْلَۃَ لَا نَرْقُدُ عَنْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ؟)) قَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَاسْتَقْبَلَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ فَضُرِبَ عَلٰی آذَانِہِمْ فَمَا أَیْقَظَہُمْ اِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَقَامُوْا فَأَدَّوْہَا ثُمَّ تَوَضَّؤُا فَأَذَّنَ بِلَالٌ فَصَلَّوْا الرَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۶۷)
سیدنا جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: آج رات کون ہمارا پہرہ دے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نمازِ فجر سے سو جائیں۔ سیدنا بلالؓ نے کہا: جی میں، پس وہ سورج طلوع ہونے کی جگہ کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے، تو ان پر نیند ڈال دی گئی اور ان کو سورج کی گرمی نے بیدار کیا، پس لوگ کھڑے ہوئے اور اس نماز کو ادا کرنا چاہا، پس وضوکیا، پھر سیدنا بلالؓ نے اذان دی، پھر لوگوں نے دو دو سنتیں ادا کیں اور پھر نماز فجر ادا کی۔
Musnad Ahmad
1241
۔ (۱۲۴۱)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ بَیْتِیْ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! صَلَّیْتَ صَلَاۃً لَمْ تَکُنْ تُصَلِّیْہَا؟ فَقَالَ: ((قَدِمَ عَلَیَّ مَالٌ فَشَغَلَنِیْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَدِمَ عَلَیَّ وَفْدُ بَنِیْ تَمِیْمٍ فَحَبَسُوْنِیْ) عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ کُنْتُ أَرْکَعُہُمَا بَعْدَ الظُّہْرِ فَصَلَّیْتُہُمَا الْآنَ۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَفَنَقْضِیْہِمَا اِذَا فَاتَتَا؟ قَالَ: ((لَا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۲۱۳)
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ عصر ادا کی، پھر میرے گھر تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسی نماز پڑھی، جو آپ نہیں پڑھتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کچھ مال آ گیا تھا، بس اس نے مشغول کیے رکھا، ایک روایت میں ہے: میرے پاس بنو تمیم کا وفد آیا تھا، اس نے مجھے ان دو رکعتوں سے روک دیا، جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا، پس میں نے ان کو اب ادا کیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر یہ دو رکعتیں ہم سے رہ جائیں تو ہم ان کی قضائی دیا کریں؟ آپ نے فرمایا: جی نہیں۔
Musnad Ahmad
1384
۔ (۱۳۸۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُصَلِّیَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! إِنِّیْ لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ، فَصَنَعَ لَہُ طَعَامًا وَدَعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْہِ وَبَسَطُوْا لَہُ حَصِیْراً وَنَضَحُوْہٗفَصَلّٰی عَلَیْہِ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُوْدِ، أَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ الضُّحٰی؟ قَالَ مَارَأَیْتُہُ صَلَّاھَا إِلاَّ یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۴۷)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی موٹا تھا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! مجھ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کی سکت نہیں ہے۔ پھر اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دی اور آپ کے لیے ایک چٹائی بچھائی اور اس پر پانی چھڑکا۔ آپ نے اس پر دو رکعت نماز پڑھی۔ آل جارود کے ایک آدمی نے اس سے پوچھا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ اس نے جواب دیاکہ میں نے تو اس دن کے علاوہ آپ کو نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔